{i1:1} داؤُد بادشاہ بُڑھاپے میں {1:1} اور داؤُد بادشاہ بُڈّھا اور کُہن سال ہُؤا اور وہ اُسے کپڑے اُڑھاتے پر وہ گرم نہ ہوتا تھا۔ {1:2} سو اُس کے خادِموں نے اُس سے کہا کہ ہمارے مالِک بادشاہ کے لِئے ایک جوان کُنواری ڈُھونڈی جائے جو بادشاہ کے حضُور کھڑی رہے اور اُس کی خبر گِیری کِیا کرے اور تیرے پہلُو میں لیٹ رہا کرے تاکہ ہمارے مالِک بادشاہ کو گرمی پُہنچے۔ {1:3} چُنانچہ اُنہوں نے اِسرا ئیل کی ساری مملکت میں ایک خُوبصُورت لڑکی تلاش کرتے کرتے شُونمِیت ابی شاگ کو پایا اور اُسے بادشاہ کے پاس لائے۔ {1:4} اور وہ لڑکی بُہت شِکیل تھی۔ سو وہ بادشاہ کی خبر گِیری اور اُس کی خِدمت کرنے لگی لیکن بادشاہ اُس سے واقِف نہ ہُؤا۔ {i1:5} ادُونیّاہ تخت کا دعویٰ کرتا ہے {1:5} تب حجِیّت کے بیٹے ادُونیّاہ نے سر اُٹھایااور کہنے لگا مَیں بادشاہ ہوں گااور اپنے لِئے رتھ اور سوار اور پچاس آدمی جو اُس کے آگے آگے دَوڑیں تیّار کِئے۔ {1:6} اور اُس کے باپ نے اُس کو کبھی اِتنا بھی کہہ کر آزُردہ نہیں کِیا کہ تُو نے یہ کیوں کِیا ہے؟ اور وہ بُہت خُوبصُورت بھی تھا اور ابی سلو م کے بعد پَیدا ہُؤا تھا۔ {1:7} اور اُس نے ضرویاہ کے بیٹے یُوآب اور ابی یاتر کاہِن سے گُفتگُو کی اور یہ دونوں ادُونیّاہ کے پَیرو ہوکراُس کی مدد کرنے لگے۔ {1:8} لیکن صدُوق کاہِن اور یہویدع کے بیٹے بِنایاہ اور ناتن نبی اور سِمعی اور ریعی اور داؤُد کے بہادُر لوگوں نے ادُونیّاہ کا ساتھ نہ دِیا۔ {1:9} اور ادُونیّاہ نے بھیڑیں اور بَیل اور موٹے موٹے جانور زحلت کے پتھّر کے پاس جو عَین راجِل کے برابر ہے ذبح کِئے اور اپنے سب بھائیوں یعنی بادشاہ کے بیٹوں کی اور سب یہُوداہ کے لوگوں کی جو بادشاہ کے مُلازِم تھے دعوت کی {1:10} ۔پر ناتن نبی اور بنایاہ اور بہادُر لوگوں اور اپنے بھائی سُلیمان کو نہ بُلایا۔ {i1:11} سُلیما ن کو بادشاہ بنایا جاتا ہے {1:11} تب ناتن نے سُلیمان کی ماں بت سبع سے کہا کیا تُونے نہیں سُنا کہ حجِیّت کا بیٹا ادُونیّاہ بادشاہ بن بَیٹھا ہے اور ہمارے مالِک داؤُد کو یہ معلُوم نہیں؟۔ {1:12} اب تُو آ کہ مَیں تُجھے صلاح دُوں تاکہ تُو اپنی اور اپنے بیٹے سُلیمان کی جان بچاسکے۔ {1:13} تُو داؤُد بادشاہ کے حضُور جاکر اُس سے کہہ اَے میرے مالِک! اَے بادشاہ! کیا تُونے اپنی لَونڈی سے قَسم کھا کر نہیں کہا کہ یقیِناً تیرا بیٹا سُلیمان میرے بعد سلطنت کرے گا اور وُہی میرے تخت پر بَیٹھے گا؟ پس ادُونیّاہ کیوں بادشاہی کرتا ہے؟۔ {1:14} اور دیکھ تُو بادشاہ سے بات کرتی ہی ہوگی کہ مَیں بھی تیرے بعد آپُہنچوں گااور تیری باتوں کی تصدِیق کُروں گا۔ {1:15} سو بت سبع اندر کوٹھری میں بادشاہ کے پاس گئی اور بادشاہ بُہت بُڈّھا تھا اور شُونمِیت ابی شاگ بادشاہ کی خِدمت کرتی تھی۔ {1:16} اور بت سبع نے جُھک کر بادشاہ کو سِجدہ کِیا۔ بادشاہ نے کہا تُو کیا چاہتی ہے؟۔ {1:17} اُس نے اُس سے کہا اَے میرے مالِک! تُونے خُداوند اپنے خُدا کی قَسم کھا کر اپنی لَونڈی سے کہا تھا کہ یقِیناً تیرا بیٹا سُلیمان میرے بعد سلطنت کرے گااور وُہی میرے تخت پر بَیٹھے گا۔ {1:18} پر دیکھ اب تو ادُونیّا ہ بادشاہ بن بَیٹھا ہے اور اَے میرے مالِک بادشاہ تُجھ کو اِس کی خبر نہیں۔ {1:19} اور اُس نے بُہت سے بَیل اور موٹے موٹے جانوراور بھیڑیں ذبح کی ہیں اوربادشاہ کے سب بیٹوں اور ابیاتر کاہِن اور لشکر کے سردار یُوآب کی دعوت کی ہے پر تیرے بندہ سُلیمان کو اُس نے نہیں بُلایا۔ {1:20} لیکن اَے میرے مالِک سارے اِسرائیل کی نِگاہ تُجھ پر ہے تاکہ تُو اُن کو بتائے کہ میرے مالِک بادشاہ کے تخت پر کَون اُس کے بعد بَیٹھے گا۔ {1:21} ورنہ یہ ہو گا کہ جب میرا مالِک بادشاہ اپنے باپ دادا کے ساتھ سو جائے گا تو مَیں اور میرا بیٹا سُلیمان دونوں قصُور وار ٹھہریں گے۔ {1:22} وہ ہنوز بادشاہ سے بات ہی کر رہی تھی کہ ناتن نبی آگیا۔ {1:23} اور اُنہوں نے بادشاہ کوخبردی کہ دیکھ ناتن نبی حاضِر ہے اور جب وہ بادشاہ کے حضُور آیا تو اُس نے مُنہ کے بل گِر کر بادشاہ کو سِجدہ کِیا۔ {1:24} اور ناتن کہنے لگا اَے میرے مالِک بادشاہ! کیا تُونے فرمایاہے کہ میرے بعد ادُونیّاہ بادشاہ ہو اور وُہی میرے تخت پر بَیٹھے؟۔ {1:25} کیونکہ اُس نے آج جاکر بَیل اور موٹے موٹے جانور اور بھیڑیں کثرت سے ذبح کی ہیں اور بادشاہ کے سب بیٹوں اور لشکر کے سرداروں اور ابیاتر کاہِن کی دعوت کی ہے اور دیکھ وہ اُس کے حضُور کھا پی رہے ہیں اور کہتے ہیں ادُونیّاہ بادشاہ جِیتا رہے!۔ {1:26} پر مُجھ تیرے خادِم کو اور صدُوق کاہِن اور یہویدع کے بیٹے بِنایاہ اور تیرے خادِم سُلیمان کو اُس نے نہیں بُلایا۔ {1:27} کیا یہ بات میرے مالِک بادشاہ کی طرف سے ہے؟ اور تُونے اپنے خادِموں کو بتایا بھی نہیں کہ میرے مالِک بادشاہ کے بعد اُس کے تخت پر کَون بَیٹھے گا۔ {1:28} تب داؤُد بادشاہ نے جواب دِیا اور فرمایا کہ بت سبع کو میرے پاس بُلاؤ۔ سو وہ بادشاہ کے حضُور آئی اور بادشاہ کے سامنے کھڑی ہُوئی۔ {1:29} بادشاہ نے قَسم کھا کر کہا کہ خُداوند کی حیات کی قَسم جِس نے میری جان کو ہر طرح کی آفت سے رہائی دی۔ {1:30} کہ سچ مُچ جَیسی مَیں نے خُداوند اِسرا ئیل کے خُدا کی قَسم تُجھ سے کھائی اور کہا کہ یقینا تیرا بیٹا سُلیما ن میرے بعدبادشاہ ہوگا اور وُہی میری جگہ میرے تخت پر بَیٹھے گا سو سچ مُچ مَیں آج کے دِن وَیسا ہی کرُوں گا۔ {1:31} تب بت سبع زمین پر مُنہ کے بل گِری اور بادشاہ کو سِجدہ کر کے کہا کہ میرا مالِک داؤُد بادشاہ ہمیشہ جِیتا رہے۔ {1:32} اور داؤُد بادشاہ نے فرمایا کہ صدُوق کاہِن اور ناتن نبی اور یہویدع کے بیٹے بِنایاہ کو میرے پاس بُلاؤ۔سو وہ بادشاہ کے حضُور آئے۔ {1:33} بادشاہ نے اُن کو فرمایا کہ تُم اپنے مالِک کے مُلازِموں کو اپنے ساتھ لو اور میرے بیٹے سُلیمان کو میرے ہی خچّر پر سوار کراؤ اور اُسے جیحُون کو لے جاؤ۔ {1:34} اور وہاں صدُوق کاہِن اور ناتن نبی اُسے مَسح کریں کہ وہ اِسرائیل کا بادشاہ ہو اور تُم نرسنِگا پھُونکنا اور کہنا کہ سُلیمان بادشاہ جِیتارہے۔ {1:35} پِھر تُم اُس کے پِیچھے پِیچھے چلے آنا اور وہ آکر میرے تخت پر بَیٹھے کیونکہ وُہی میری جگہ بادشاہ ہوگا اور مَیں نے اُسے مُقرّر کِیا ہے کہ وہ اِسرا ئیل اور یہُوداہ کا حاکِم ہو۔ {1:36} تب یہویدع کے بیٹے بنایاہ نے بادشاہ کے جواب میں کہا آمِین۔ خُداوند میرے مالِک بادشاہ کا خُدا بھی اَیسا ہی کہے۔ {1:37} جَیسے خُداوند میرے مالِک بادشاہ کے ساتھ رہا وَیسے ہی وہ سُلیما ن کے ساتھ رہے اور اُس کے تخت کو میرے مالِک داؤُد بادشاہ کے تخت سے بڑا بنائے۔ {1:38} پس صدُوق کاہِن اور ناتن نبی اور یہویدع کا بیٹا بِنایاہ اور کریتی اور فلیتی گئے اور سُلیما ن کو داؤُد بادشاہ کے خچّر پر سوار کرایا اور اُسے جیحُون پر لائے۔ {1:39} اور صدُوق کاہِن نے خَیمہ سے تیل کا سِینگ لِیا اور سُلیما ن کو مَسح کِیا اور اُنہوں نے نرسِنگا پھُونکا اور سب لوگوں نے کہا سُلیما ن بادشاہ جِیتا رہے۔ {1:40} اور سب لوگ اُس کے پِیچھے پِیچھے آئے اور اُنہوں نے بانسلِیاں بجائِیں اور بڑی خُوشی منائی اَیسا کہ زمین اُن کے شوروغُل سے گُونج اُٹھی۔ {1:41} اور ادُونیّاہ اور اُس کے سب مِہمان جو اُس کے ساتھ تھے کھاہی چُکے تھے کہ اُنہوں نے یہ سُنا اور جب یُوآب کو نرسِنگے کی آوازسُنائی دی تو اُس نے کہا کہ شہر میں یہ ہنگامہ اور شور کیوں مچ رہا ہے؟۔ {1:42} وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ دیکھو ابیاتر کاہِن کا بیٹا یُونتن آیا اور ادُونیّاہ نے اُس سے کہا بِھیتر آ کیونکہ تُو لائِق شخص ہے اور اچھّی خبر لایا ہوگا۔ {1:43} یُونتن نے ادُونیّاہ کو جواب دِیاکہ واقِعی ہمارے مالِک داؤُد بادشاہ نے سُلیما ن کو بادشاہ بنا دِیا ہے۔ {1:44} اور بادشاہ نے صدُوق کاہِن اور ناتن نبی اور یہویدع کے بیٹے بِنایا ہ اور کریتیوں اور فلیتیوں کو اُس کے ساتھ بھیجا سو اُنہوں نے بادشاہ کے خچّر پر اُسے سوار کرایا۔ {1:45} اور صدُوق کاہِن اور ناتن نبی نے جیحُون پر اُس کو مَسح کرکے بادشاہ بنایاہے۔ سو وہ وہِیں سے خُوشی کرتے آئے ہیں اَیسا کہ شہر گُونج گیا۔ وہ شور جو تُم نے سُنا یِہی ہے۔ {1:46} اور سُلیما ن تختِ سلطنت پر بَیٹھ بھی گیا ہے۔ {1:47} ماسِوا اِس کے بادشاہ کے مُلازِم ہمارے مالِک داؤُد بادشاہ کو مُبارکباد دینے آئے اور کہنے لگے کہ تیرا خُدا سُلیما ن کے نام کو تیرے نام سے زِیادہ مُمتاز کرے اور اُس کے تخت کو تیرے تخت سے بڑا بنائے اور بادشاہ اپنے بِستر پر سرنگُون ہوگیا۔ {1:48} اور بادشاہ نے بھی یُوں فرمایا کہ خُداوند اِسرا ئیل کا خُدا مُبارک ہو جِس نے ایک وارِث بخشا کہ وہ میری ہی آنکھوں کے دیکھتے ہُوئے آج میرے تخت پر بَیٹھے۔ {1:49} پِھر تو ادُونیّاہ کے سب مَہمان ڈر گئے اور اُٹھ کھڑے ہُوئے اورہر ایک نے اپنا راستہ لِیا۔ {1:50} اور ادُونیّاہ سُلیما ن کے سبب سے ڈر کے مارے اُٹھا اور جاکر مذبح کے سِینگ پکڑ لِئے۔ {1:51} اور سُلیمان کو یہ بتایا گیا کہ دیکھ ادُونیّا ہ سُلیما ن بادشاہ سے ڈرتا ہے کیونکہ اُس نے مذبح کے سِینگ پکڑ رکھّے ہیں اور کہتا ہے کہ سُلیما ن بادشاہ آج کے دِن مُجھ سے قَسم کھائے کہ وہ اپنے خادِم کو تلوار سے قتل نہیں کرے گا۔ {1:52} سُلیما ن نے کہا اگر وہ اپنے کو لائِق ثابِت کرے تو اُس کا ایک بال بھی زمین پر نہیں گِرے گا پر اگر اُس میں شرارت پائی جائے گی تو وہ مارا جائے گا۔ {1:53} سو سُلیما ن بادشاہ نے لوگ بھیجے اور وہ اُسے مذبح پر سے اُتارلائے۔ اُس نے آکر سُلیمان بادشاہ کو سِجدہ کِیا اور سُلیما ن نے اُس سے کہا اپنے گھر جا۔ {i2:1} سُلیما ن کو داؤُد کی آخِری وصِیّت {2:1} اور داؤُد کے مَرنے کے دِن نزدِیک آئے ۔ سو اُس نے اپنے بیٹے سُلیما ن کو وصِیّت کی اور کہا کہ۔ {2:2} مَیں اُسی راستہ جانے والا ہُوں جو سارے جہان کا ہے ۔ اِس لِئے تُو مضبُوط اور مَردانگی دِکھا۔ {2:3} اور جو مُوسیٰ کی شرِیعت میں لِکھا ہے اُس کے مُطابِق خُداوند اپنے خُدا کی ہدایت کو مان کر اُس کی راہوں پر چل اور اُس کے آئِین پر اور اُس کے فرمانوں اور حُکموں اور شہادتوں پر عمل کر تاکہ جو کُچھ تُو کرے اور جہاں کہِیں تُو جائے سب میں تُجھے کامیابی ہو۔ {2:4} اور خُداوند اپنی اُس بات کو قائِم رکھّے جو اُس نے میرے حق میں کہی کہ اگر تیری اَولاد اپنے طرِیق کی حِفاظت کر کے اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان سے میرے حضُور راستی سے چلے تو اِسرا ئیل کے تخت پر تیرے ہاں آدمی کی کمی نہ ہو گی۔ {2:5} اور تُو آپ جانتا ہے کہ ضرویاہ کے بیٹے یُوآب نے مُجھ سے کیا کیا کِیا یعنی اُس نے اِسرائیلی لشکر کے دو سرداروں نیر کے بیٹے ابنیر اور یتر کے بیٹے عماسا سے کیا کِیا جِن کو اُس نے قتل کِیا اور صُلح کے وقت خُونِ جنگ بہایا اور خُونِ جنگ کو اپنے پٹکے پر جو اُس کی کمر میں بندھا تھا اور اپنی جُوتیوں پر جو اُس کے پاؤں میں تِھیں لگایا۔ {2:6} سو تُو اپنی حِکمت سے کام لینا اور اُس کے سفید سر کو قبر میں سلامت اُترنے نہ دینا۔ {2:7} پر برزِ لّی جِلعادی کے بیٹوں پر مِہربانی کرنا اور وہ اُن میں شامِل ہوں جو تیرے دسترخوان پر کھانا کھایا کریں گے کیونکہ وہ اَیسا ہی کرنے کو میرے پاس آئے جب مَیں تیرے بھائی ابی سلو م کے سبب سے بھاگا تھا۔ {2:8} اور دیکھ بِنیمِینی جیرا کا بیٹا بحُوریمی سِمعی تیرے ساتھ ہے جِس نے اُس دِن جب کہ مَیں محنایم کو جاتا تھا بُہت بُری طرح مُجھ پر لَعنت کی پر وہ یَرد ن پر مُجھ سے مِلنے کو آیا اور مَیں نے خُداوند کی قَسم کھا کر اُس سے کہا کہ مَیں تُجھے تلوار سے قتل نہیں کرُوں گا۔ {2:9} سو تُو اُس کو بے گُناہ نہ ٹھہرانا کیونکہ تُو عاقِل مَرد ہے اور تُو جانتا ہے کہ تُجھے اُس کے ساتھ کیا کرنا چاہئے ۔ پس تُو اُس کا سفید سر لہُولُہان کر کے قبر میں اُتارنا۔ {i2:10} داؤُد کی وفات {2:10} اور داؤُد اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور داؤُد کے شہر میں دفن ہُؤا۔ {2:11} اور کُل مُدّت جِس میں داؤُد نے اِسرا ئیل پر سلطنت کی چالِیس برس کی تھی ۔ سات برس تو اُس نے حبرُو ن میں سلطنت کی اور تَینتِیس برس یروشلیِم میں۔ {2:12} اور سُلیما ن اپنے باپ داؤُد کے تخت پر بَیٹھا اور اُس کی سلطنت نِہایت مُستحکم ہُوئی۔ {i2:13} ادُونیّاہ کی وفات {2:13} تب حجِیّت کا بیٹا ادُو نیّاہ سُلیما ن کی ماں بت سبع کے پاس آیا ۔ اُس نے پُوچھا تُو صُلح کے خیال سے آیا ہے؟ اُس نے کہا صُلح کے خیال سے۔ {2:14} پِھر اُس نے کہا مُجھے تُجھ سے کُچھ کہنا ہے ۔ اُس نے کہا کہہ۔ {2:15} اُس نے کہا تُو جانتی ہے کہ سلطنت میری تھی اور سب اِسرائیلی میری طرف مُتوجِّہ تھے کہ مَیں سلطنت کرُوں لیکن سلطنت پلٹ گئی اور میرے بھائی کی ہو گئی کیونکہ خُداوند کی طرف سے یہ اُسی کی تھی۔ {2:16} سو میری تُجھ سے ایک درخواست ہے ۔ نامنظُور نہ کر ۔ اُس نے کہا بیان کر۔ {2:17} اُس نے کہا ذرا سُلیما ن بادشاہ سے کہہ کیونکہ وہ تیری بات کو نہیں ٹالے گا کہ اَبی شاگ شُونمِیت کو مُجھے بیاہ دے۔ {2:18} بت سبع نے کہا اچّھا مَیں تیرے لِئے بادشاہ سے عرض کرُوں گی۔ {2:19} پس بت سبع سُلیما ن بادشاہ کے پاس گئی تاکہ اُس سے ادُو نیّاہ کے لِئے عرض کرے ۔ بادشاہ اُس کے اِستِقبال کے واسطے اُٹھا اور اُس کے سامنے جُھکا ۔ پِھر اپنے تخت پر بَیٹھا اور اُس نے بادشاہ کی ماں کے لِئے ایک تخت لگوایا ۔ سو وہ اُس کے دہنے ہاتھ بَیٹھی۔ {2:20} اور کہنے لگی میری تُجھ سے ایک چھوٹی سی درخواست ہے ۔ تُو مُجھ سے اِنکار نہ کرنا ۔ بادشاہ نے اُس سے کہا اَے میری ماں! اِرشاد فرما مُجھے تُجھ سے اِنکار نہ ہو گا۔ {2:21} اُس نے کہا اَبی شاگ شُونمِیت تیرے بھائی ادُو نیّاہ کو بیاہ دی جائے۔ {2:22} سُلیما ن بادشاہ نے اپنی ماں کو جواب دِیا کہ تُو اَبی شاگ شُونمِیت ہی کو ادُو نیّاہ کے لِئے کیوں مانگتی ہے؟ اُس کے لِئے سلطنت بھی مانگ کیونکہ وہ تو میرا بڑا بھائی ہے بلکہ اُسی کے لِئے کیا ابیا تر کاہِن اورضرو یاہ کے بیٹے یُوآب کے لِئے بھی مانگ۔ {2:23} تب سُلیما ن بادشاہ نے خُداوند کی قَسم کھائی اور کہا کہ اگر ادُو نیّاہ نے یہ بات اپنی ہی جان کے خِلاف نہیں کہی تو خُدا مُجھ سے اَیسا ہی بلکہ اِس سے بھی زِیادہ کرے۔ {2:24} سو اب خُداوند کی حیات کی قَسم جِس نے مُجھ کو قیام بخشا اور مُجھ کو میرے باپ داؤُد کے تخت پر بِٹھایا اور میرے لِئے اپنے وعدہ کے مُطابِق ایک گھر بنایا یقِیناً ادُونیّاہ آج ہی قتل کِیا جائے گا۔ {2:25} اور سُلیما ن بادشاہ نے یہوید ع کے بیٹے بِنایا ہ کو بھیجا ۔ اُس نے اُس پر اَیسا وار کِیا کہ وہ مَر گیا۔ {i2:26} ابیاتر کی عِلاقہ بدری اور یُوآب کی وفات {2:26} پِھر بادشاہ نے ابیاتر کاہِن سے کہا تُو عنتوت کو اپنے کھیتوں میں چلا جا کیونکہ تُو واجِبُ القتل ہے پر مَیں اِس وقت تُجھ کو قتل نہیں کرتا کیونکہ تُو میرے باپ داؤُد کے سامنے خُداوند یہووا ہ کا صندُوق اُٹھایا کرتا تھا اور جو جو مُصِیبت میرے باپ پر آئی وہ تُجھ پر بھی آئی۔ {2:27} سو سُلیما ن نے ابیا تر کو خُداوند کے کاہِن کے عُہدہ سے برطرف کِیا تاکہ وہ خُداوند کے اُس قَول کو پُورا کرے جو اُس نے سَیلا میں عیلی کے گھرانے کے حق میں کہا تھا۔ ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ {2:28} اور یہ خبر یُوآب تک پُہنچی کیونکہ یُوآب ادُو نیّاہ کا تو پیَرو ہو گیا تھا گو وہ ابی سلو م کا پَیرو نہیں ہُؤا تھا ۔ سو یُوآب خُداوند کے خَیمہ کو بھاگ گیا اور مذبح کے سِینگ پکڑ لِئے۔ {2:29} اور سُلیما ن بادشاہ کو خبر ہُوئی کہ یُوآب خُداوند کے خَیمہ کو بھاگ گیا ہے اور دیکھ وہ مذبح کے پاس ہے ۔ تب سُلیما ن نے یہوید ع کے بیٹے بِنایاہ کو یہ کہہ کر بھیجا کہ جا کر اُس پر وار کر۔ {2:30} سو بِنایاہ خُداوند کے خَیمہ کو گیا اور اُس نے اُس سے کہا بادشاہ یُوں فرماتا ہے کہ تُو باہر نِکل آ ۔ اُس نے کہا نہیں بلکہ مَیں یہِیں مرُونگا ۔ تب بِنایاہ نے لَوٹ کر بادشاہ کو خبر دی کہ یُوآب نے یُوں کہا ہے اور اُس نے مُجھے یُوں جواب دِیا۔ {2:31} تب بادشاہ نے اُس سے کہا جَیسا اُس نے کہا وَیسا ہی کر اور اُس پر وار کر اور اُسے دفن کر دے تاکہ تُو اُس خُون کو جو یُوآب نے بے سبب بہایا مُجھ پر سے اور میرے باپ کے گھر پر سے دُور کر دے۔ {2:32} اور خُداوند اُس کا خُون اُلٹا اُسی کے سر پر لائے گا کیونکہ اُس نے دو شخصوں پر جو اُس سے زِیادہ راستباز اور اچّھے تھے یعنی نیر کے بیٹے ابنیر پر جو اِسرائیلی لشکر کا سردار تھا اور یتر کے بیٹے عماسا پر جو یہُوداہ کی فَوج کا سردار تھا وار کِیا اور اُن کو تلوار سے قتل کِیا اور میرے باپ داؤُد کو معلُوم نہ تھا۔ {2:33} سو اُن کا خُون یُوآب کے سر پر اور اُس کی نسل کے سر پر ابد تک رہے گا لیکن داؤُد پر اور اُس کی نسل پر اور اُس کے گھر پر اور اُس کے تخت پر ابد تک خُداوند کی طرف سے سلامتی ہو گی۔ {2:34} تب یہوید ع کا بیٹا بِنایاہ گیا اور اُس نے اُس پر وار کر کے اُسے قتل کِیا اور وہ بیابان کے بِیچ اپنے ہی گھر میں دفن ہُؤا۔ {2:35} اور بادشاہ نے یہوید ع کے بیٹے بِنایاہ کو اُس کی جگہ لشکر پر مُقرّر کِیا اور صدُو ق کاہِن کو بادشاہ نے ابیا تر کی جگہ رکھّا۔ {i2:36} سِمعی کی وفات {2:36} پِھر بادشاہ نے سِمعی کو بُلا بھیجا اور اُس سے کہا کہ یروشلیِم میں اپنے لِئے ایک گھر بنا لے اور وہِیں رہ اور وہاں سے کہِیں نہ جانا۔ {2:37} کیونکہ جِس دِن تُو باہر نِکلے گا اور نہرِ قِدرُو ن کے پار جائے گا تو یقِین جان لے کہ تُو ضرُور مارا جائے گا اور تیرا خُون تیرے ہی سر پر ہو گا۔ {2:38} اورسِمعی نے بادشاہ سے کہا یہ بات اچّھی ہے ۔ جَیسا میرے مالِک بادشاہ نے کہا ہے تیرا خادِم وَیسا ہی کرے گا ۔ سوسِمعی بُہت دِنوں تک یروشلیِم میں رہا۔ {2:39} اور تِین برس کے آخِر میں اَیسا ہُؤا کہ سِمعی کے نَوکروں میں سے دو آدمی جات کے بادشاہ اکِیس بِن معکاہ کے ہاں بھاگ گئے اور اُنہوں نے سِمعی کو بتایا کہ دیکھ تیرے نَوکر جات میں ہیں۔ {2:40} سو سِمعی نے اُٹھ کر اپنے گدھے پر زِین کسا اور اپنے نَوکروں کی تلاش میں جات کو اکِیس کے پاس گیا اور سِمعی جا کر اپنے نَوکروں کو جات سے لے آیا۔ {2:41} اور یہ خبر سُلیما ن کو مِلی کہ سِمعی یروشلیِم سے جات کو گیا تھا اور واپس آ گیا ہے۔ {2:42} تب بادشاہ نے سِمعی کو بُلا بھیجا اور اُس سے کہا کیا مَیں نے تُجھے خُداوند کی قَسم نہ کِھلائی اور تُجھ کو بتا نہ دِیا کہ یقِین جان لے کہ جِس دِن تُو باہر نِکلا اور اِدھر اُدھر کہِیں گیا تو ضرُور مارا جائے گا؟ اور تُو نے مُجھ سے یہ کہا کہ جو بات مَیں نے سُنی وہ اچّھی ہے۔ {2:43} پس تُو نے خُداوند کی قَسم کو اور اُس حُکم کو جِس کی مَیں نے تُجھے تاکِید کی کیوں نہ مانا؟۔ {2:44} اور بادشاہ نے سِمعی سے یہ بھی کہا تُو اُس ساری شرارت کو جو تُو نے میرے باپ داؤُد سے کی جِس سے تیرا دِل واقِف ہے جانتا ہے ۔ سو خُداوند تیری شرارت کو اُلٹا تیرے ہی سر پر لائے گا۔ {2:45} لیکن سُلیما ن بادشاہ مُبارک ہو گا اور داؤُد کا تخت خُداوند کے حضُور ہمیشہ قائِم رہے گا۔ {2:46} اور بادشاہ نے یہوید ع کے بیٹے بِنایاہ کو حُکم دِیا ۔ سو اُس نے باہر جا کر اُس پر اَیسا وار کِیا کہ وہ مَر گیا اور سلطنت سُلیما ن کے ہاتھ میں مُستحکم ہو گئی۔ {i3:1} سُلیما ن حِکمت و دانش کے لِئے دُعا مانگتاہے {3:1} اور سُلیما ن نے مِصر کے بادشاہ فرعو ن سے رِشتہ داری کی اور فرعو ن کی بیٹی بیاہ لی اور جب تک اپنا محلّ اور خُداوند کا گھر اور یروشلیِم کے چَوگِرد دِیوار نہ بنا چُکا اُسے داؤُد کے شہر میں لا کر رکھّا۔ {3:2} لیکن لوگ اُونچی جگہوں میں قُربانی کرتے تھے کیونکہ اُن دِنوں تک کوئی گھر خُداوند کے نام کے لِئے نہیں بنا تھا۔ {3:3} اور سُلیما ن خُداوند سے مُحبّت رکھتا اور اپنے باپ داؤُد کے آئِین پر چلتا تھا ۔ اِتنا ضرُور ہے کہ وہ اُونچی جگہوں میں قُربانی کرتا اور بخُور جلاتا تھا۔ {3:4} اور بادشاہ جِبعُو ن کو گیا تاکہ قُربانی کرے کیونکہ وہ خاص اُونچی جگہ تھی اور سُلیما ن نے اُس مذبح پر ایک ہزار سوختنی قُربانیاں گُذرانِیں۔ {3:5} جِبعُو ن میں خُداوند رات کے وقت سُلیما ن کو خواب میں دِکھائی دِیا اور خُدا نے کہا مانگ مَیں تُجھے کیا دُوں۔ {3:6} سُلیما ن نے کہا تُو نے اپنے خادِم میرے باپ داؤُد پر بڑا اِحسان کِیا اِس لِئے کہ وہ تیرے حضُور راستی اور صداقت اور تیرے ساتھ سِیدھے دِل سے چلتا رہا اور تُو نے اُس کے واسطے یہ بڑا اِحسان رکھ چھوڑا تھا کہ تُو نے اُسے ایک بیٹا عِنایت کِیا جو اُس کے تخت پر بَیٹھے جَیسا آج کے دِن ہے۔ {3:7} اور اب اَے خُداوند میرے خُدا تُو نے اپنے خادِم کو میرے باپ داؤُد کی جگہ بادشاہ بنایا ہے اور مَیں چھوٹا لڑکا ہی ہُوں اور مُجھے باہر جانے اور بِھیتر آنے کا شعُور نہیں۔ {3:8} اور تیرا خادِم تیری قَوم کے بِیچ میں ہے جِسے تُو نے چُن لِیا ہے ۔ وہ اَیسی قَوم ہے جو کثرت کے باعِث نہ گِنی جا سکتی ہے نہ شُمار ہو سکتی ہے۔ {3:9} سو تُو اپنے خادِم کو اپنی قَوم کا اِنصاف کرنے کے لِئے سمجھنے والا دِل عِنایت کر تاکہ مَیں بُرے اور بھلے میں اِمتِیاز کر سکُوں کیونکہ تیری اِس بڑی قَوم کا اِنصاف کَون کر سکتا ہے؟۔ {3:10} اور یہ بات خُداوند کو پسند آئی کہ سُلیما ن نے یہ چِیز مانگی۔ {3:11} اور خُدا نے اُس سے کہا چُونکہ تُو نے یہ چِیز مانگی اور اپنے لِئے عُمر کی درازی کی درخواست نہ کی اور نہ اپنے لِئے دَولت کا سوال کِیا اور نہ اپنے دُشمنوں کی جان مانگی بلکہ اِنصاف پسندی کے لِئے تُو نے اپنے واسطے عقلمندی کی درخواست کی ہے۔ {3:12} سو دیکھ مَیں نے تیری درخواست کے مُطابِق کِیا ۔ مَیں نے ایک عاقِل اور سمجھنے والا دِل تُجھ کو بخشا اَیسا کہ تیری مانِند نہ تو کوئی تُجھ سے پہلے ہُؤا اور نہ کوئی تیرے بعد تُجھ سا برپا ہو گا۔ {3:13} اور مَیں نے تُجھ کو کُچھ اَور بھی دِیا جو تُو نے نہیں مانگا یعنی دَولت اور عِزّت اَیسا کہ بادشاہوں میں تیری عُمر بھر کوئی تیری مانِند نہ ہو گا۔ {3:14} اور اگر تُو میری راہوں پر چلے اور میرے آئِین اور احکام کو مانے جَیسے تیرا باپ داؤُد چلتا رہا تو مَیں تیری عُمر دراز کرُوں گا۔ {3:15} پِھر سُلیما ن جاگ گیا اور دیکھا کہ خواب تھا اور وہ یروشلیِم میں آیا اور خُداوند کے عہد کے صندُوق کے آگے کھڑا ہُؤا اور سوختنی قُربانیاں گُذرانِیں اور سلامتی کی قُربانیاں چڑھائِیں اور اپنے سب مُلازِموں کی ضِیافت کی۔ {i3:16} سُلیما ن ایک مُشکِل مُقدمہ کا فَیصلہ کرتا ہے {3:16} اُس وقت دو عَورتیں جو کسبِیاں تِھیں بادشاہ کے پاس آئِیں اور اُس کے آگے کھڑی ہُوئِیں۔ {3:17} اور ایک عَورت کہنے لگی اَے میرے مالِک! مَیں اور یہ عَورت دونوں ایک ہی گھر میں رہتی ہیں اور اِس کے ساتھ گھر میں رہتے ہُوئے میرے ایک بچّہ ہُؤا۔ {3:18} اور میرے زچّہ ہو جانے کے بعد تِیسرے دِن اَیسا ہُؤا کہ یہ عَورت بھی زچّہ ہو گئی اور ہم ایک ساتھ ہی تِھیں ۔ کوئی غَیر شخص اُس گھر میں نہ تھا ۔ سِوا ہم دونوں کے جو گھر ہی میں تِھیں۔ {3:19} اور اِس عَورت کا بچّہ رات کو مَر گیا کیونکہ یہ اُس کے اُوپر ہی لیٹ گئی تھی۔ {3:20} سو یہ آدھی رات کو اُٹھی اور جِس وقت تیری لَونڈی سوتی تھی میرے بیٹے کو میری بغل سے لے کر اپنی گود میں لِٹا لِیا اور اپنے مَرے ہُوئے بچّے کو میری گود میں ڈال دِیا۔ {3:21} صُبح کو جب مَیں اُٹھی کہ اپنے بچّے کو دُودھ پِلاؤُں تو کیا دیکھتی ہُوں کہ وہ مَرا پڑا ہے پر جب مَیں نے صُبح کو غَور کِیا تو دیکھا کہ یہ میرا لڑکا نہیں ہے جو میرے ہُؤا تھا۔ {3:22} پِھر وہ دُوسری عَورت کہنے لگی نہیں یہ جو جِیتا ہے میرا بیٹا ہے اور مَرا ہُؤا تیرا بیٹا ہے ۔ اِس نے جواب دِیا نہیں مَرا ہُؤا تیرا بیٹا ہے اور جِیتا میرا بیٹا ہے ۔ سو وہ بادشاہ کے حضُور اِسی طرح کہتی رہِیں۔ {3:23} تب بادشاہ نے کہا ایک کہتی ہے یہ جو جِیتا ہے میرا بیٹا ہے اور مَر گیا ہے وہ تیرا بیٹا ہے اور دُوسری کہتی ہے کہ نہیں بلکہ جو مَر گیا ہے وہ تیرا بیٹا ہے اور جو جِیتا ہے وہ میرا بیٹا ہے۔ {3:24} سو بادشاہ نے کہا مُجھے ایک تلوار لا دو ۔ تب وہ بادشاہ کے پاس تلوار لے آئے۔ {3:25} پِھر بادشاہ نے فرمایا کہ اِس جِیتے بچّے کو چِیر کر دو ٹُکڑے کو ڈالو اور آدھا ایک کو اور آدھا دُوسری کو دے دو۔ {3:26} تب اُس عَورت نے جِس کا وہ جِیتا بچّہ تھا بادشاہ سے عرض کی کیونکہ اُس کے دِل میں اپنے بیٹے کی مامتا تھی سو وہ کہنے لگی اَے میرے مالِک! یہ جِیتا بچّہ اُسی کو دیدے پر اُسے جان سے نہ مَروا لیکن دُوسری نے کہا یہ نہ میرا ہو نہ تیرا اُسے چِیر ڈالو۔ {3:27} تب بادشاہ نے حُکم کِیا کہ جِیتا بچّہ اُسی کو دو اور اُسے جان سے نہ مارو کیونکہ وُہی اُس کی ماں ہے۔ {3:28} اور سارے اِسرا ئیل نے یہ اِنصاف جو بادشاہ نے کِیا سُنا اور وہ بادشاہ سے ڈرنے لگے کیونکہ اُنہوں نے دیکھا کہ عدالت کرنے لِئے خُدا کی حِکمت اُس کے دِل میں ہے۔ {i4:1} سُلیما ن کےاعلےٰعُہدہ دار {4:1} اور سُلیما ن بادشاہ تمام اِسرا ئیل کا بادشاہ تھا۔ {4:2} اور جو سردار اُس کے پاس تھے سو یہ تھے ۔ صدُو ق کا بیٹا عزَریا ہ کاہِن۔ {4:3} اور سِیسہ کے بیٹے الِیحور ف اور اخیاہ مُنشی تھے اور اخِیلُود کا بیٹا یہُو سفط مُورِّخ تھا۔ {4:4} اور یہوید ع کا بیٹا بِنایا ہ لشکر کا سردار اور صدُو ق اور ابیاتر کاہِن تھے۔ {4:5} اور ناتن کا بیٹا عزر یاہ مَنصبداروں کا داروغہ تھا اور ناتن کا بیٹازبُود کاہِن اور بادشاہ کا دوست تھا۔ {4:6} اور اخِیسر محلّ کا دِیوان اور عبدا کا بیٹا ادو نرام بیگار کا مُنصرِم تھا۔ {4:7} اور سُلیما ن نے سب اِسرا ئیل پر بارہ مَنصبدار مُقرّر کِئے جو بادشاہ اور اُس کے گھرانے کے لِئے رسد پُہنچاتے تھے ۔ ہر ایک کو سال میں مہِینہ بھر رسد پُہنچانی پڑتی تھی۔ {4:8} اُن کے نام یہ ہیں ۔ افرائِیم کے کوہِستانی مُلک میں بِن حُور۔ {4:9} اور مقص اورسعلبِیم اور بَیت شمس اور اَیلو ن بَیت حنان میں بِن دِقر۔ {4:10} اور اربوت میں بِن حصد تھا اور شوکہ اور حِفر کی ساری سرزمِین اُس کے عِلاقہ میں تھی۔ {4:11} اور دور کے سارے مُرتفع عِلاقہ میں بِن ابِیند اب تھا اور سُلیما ن کی بیٹی طافت اُس کی بِیوی تھی۔ {4:12} اور اخیلُود کا بیٹا بعنہ تھا جِس کے سپُرد تعنک اور مجِدّو اور سارا بَیت شا ن تھا جو ضرتا ن سے مُتّصِل اور یزرعیل کے نِیچے بَیت شا ن سے ابیل محُولہ تک یعنی یُقمعا م سے اُدھر تک تھا۔ {4:13} اور بِن جبرراما ت جِلعاد میں تھا اور منسّی کے بیٹے یائِیر کی بستِیاں جو جِلعاد میں ہیں اُس کے سپُرد تِھیں اور بسن میں ارجُو ب کا عِلاقہ بھی اِسی کے سپُرد تھا جِس میں ساٹھ بڑے شہر تھے جِن کی شہر پناہیں اور پِیتل کے بینڈے تھے۔ {4:14} اور عِدُّو کا بیٹا اخیِندا ب محنایم میں تھا۔ {4:15} اور اخِیمعض نفتا لی میں تھا ۔ اِس نے بھی سُلیما ن کی بیٹی بِسمت کو بیاہ لِیا تھا۔ {4:16} اور حُوسی کا بیٹا بعنہ آشر اور علوت میں تھا۔ {4:17} اور فرُو ح کا بیٹا یہُو سفط اِشکار میں تھا۔ {4:18} اور ایلہ کا بیٹا سِمعی بِنیمِین میں تھا۔ {4:19} اور اُور ی کا بیٹا جبر جِلعاد کے عِلاقہ میں تھا جو اموریوں کے بادشاہ سِیحو ن اور بسن کے بادشاہ عوج کا مُلک تھا ۔ اُس مُلک کا وُہی اکیلا مَنصبدار تھا۔ {i4:20} سُلیما ن کا دَور قَومی خُوشحالی کا دَور ہے {4:20} اور یہُودا ہ اور اِسرا ئیل کے لوگ کثرت میں سمُندر کے کنارے کی ریت کی مانِند تھے اور کھاتے پِیتے اور خُوش رہتے تھے۔ {4:21} اور سُلیما ن دریایِ فرات سے فِلستِیوں کے مُلک تک اور مِصر کی سرحدتک سب مملکتوں پر حُکمران تھا ۔ وہ اُس کے لِئے ہدئے لاتی تِھیں اور سُلیما ن کی عُمر بھر اُس کی مُطِیع رہِیں۔ {4:22} اور سُلیما ن کی ایک دِن کی رسد یہ تھی تِیس کور مَیدہ اور ساٹھ کور آٹا۔ {4:23} اور دس موٹے موٹے بَیل اور چرائی پر کے بِیس بَیل ۔ایک سَو بھیڑیں اور اِن کے علاوہ چکارے اور ہرن اور چھوٹے ہرن اور موٹے تازہ مُرغ۔ {4:24} کیونکہ وہ دریایِ فرات کی اِس طرف کے سب مُلک پر تِفسح سے غزّہ تک یعنی سب بادشاہوں پر جو دریایِ فرات کی اِس طرف تھے فرمانروا تھا اور اُس کے چَوگِرد سب اطراف میں سب سے اُس کی صُلح تھی۔ {4:25} اور سُلیما ن کی عُمر بھر یہُوداہ اور اِسرا ئیل کا ایک ایک آدمی اپنی تاک اور اپنے انجِیر کے درخت کے نِیچے دان سے بیر سبع تک امن سے رہتا تھا۔ {4:26} اور سُلیما ن کے ہاں اُس کے رتھوں کے لِئے چالِیس ہزار تھان اور بارہ ہزار سوار تھے۔ {4:27} اور اُن مَنصبداروں میں سے ہر ایک اپنے مہِینہ میں سُلیما ن بادشاہ کے لِئے اور اُن سب کے لِئے جو سُلیما ن بادشاہ کے دسترخوان پر آتے تھے رسد پُہنچاتا تھا ۔ وہ کِسی چِیز کی کمی نہ ہونے دیتے تھے۔ {4:28} اور لوگ اپنے اپنے فرض کے مُطابِق گھوڑوں اور تیز رفتار سمندوں کے لِئے جَو اور بُھوسا اُسی جگہ لے آتے تھے جہاں وہ مَنصبدار ہوتے تھے۔ {4:29} اور خُدا نے سُلیما ن کو حِکمت اور سمجھ بُہت ہی زِیادہ اور دِل کی وُسعت بھی عِنایت کی جَیسی سمُندر کے کنارے کی ریت ہوتی ہے۔ {4:30} اور سُلیما ن کی حِکمت سب اہلِ مشرِق کی حِکمت اور مِصر کی ساری حِکمت پر فَوقِیّت رکھتی تھی۔ {4:31} اِس لِئے کہ وہ سب آدمِیوں سے بلکہ ازرا خی ایتان اور ہیما ن اور کل کُو ل اور دردع سے جو بنی مُحول تھے زِیادہ دانِش مند تھا اور چَوگِرد کی سب قَوموں میں اُس کی شُہرت تھی۔ {4:32} اور اُس نے تِین ہزار مثلیں کہِیں اور اُس کے ایک ہزار پانچ گِیت تھے۔ {4:33} اور اُس نے درختوں کا یعنی لُبنان کے دیودار سے لے کر زُوفا تک کا جو دِیواروں پر اُگتا ہے بیان کِیا اور چَوپایوں اور پرِندوں اور رینگنے والے جانداروں اور مچھلِیوں کا بھی بیان کِیا۔ {4:34} اور سب قَوموں میں سے زمِین کے سب بادشاہوں کی طرف سے جِنہوں نے اُس کی حِکمت کی شُہرت سُنی تھی لوگ سُلیما ن کی حِکمت کو سُننے آتے تھے۔ {i5:1} سُلیما ن ہَیکل بنانے کی تیّاری کرتا ہے {5:1} اور صُور کے بادشاہ حِیرا م نے اپنے خادِموں کو سُلیما ن کے پاس بھیجا کیونکہ اُس نے سُنا تھا کہ اُنہوں نے اُسے اُس کے باپ کی جگہ مَسح کر کے بادشاہ بنایا ہے اِس لِئے کہ حِیرا م ہمیشہ داؤُد کا دوست رہا تھا۔ {5:2} اور سُلیما ن نے حِیرا م کو کہلا بھیجا کہ۔ {5:3} تُو جانتا ہے کہ میرا باپ داؤُد خُداوند اپنے خُدا کے نام کے لِئے گھر نہ بنا سکا کیونکہ اُس کے چَوگِرد ہر طرف لڑائیاں ہوتی رہِیں جب تک کہ خُداوند نے اُن سب کو اُس کے پاؤں کے تلووں کے نِیچے نہ کر دِیا۔ {5:4} اور اب خُداوند میرے خُدا نے مُجھ کو ہر طرف امن دِیا ہے ۔ نہ تو کوئی مُخالِف ہے نہ آفت کی مار۔ {5:5} سو دیکھ! خُداوند اپنے خُدا کے نام کے لِئے ایک گھر بنانے کا میرا اِرادہ ہے جَیسا خُداوند نے میرے باپ داؤُد سے کہا تھا کہ تیرا بیٹا جِس کو مَیں تیری جگہ تیرے تخت پر بِٹھاؤُں گا وُہی میرے نام کے لِئے گھر بنائے گا۔ {5:6} سو اب تُو حُکم کر کہ وہ میرے لِئے لُبنان سے دیودار کے درختوں کو کاٹیں اور میرے مُلازِم تیرے مُلازِموں کے ساتھ رہیں گے اور مَیں تیرے مُلازِموں کے لِئے جِتنی اُجرت تُو کہے گا تُجھے دُوں گا کیونکہ تُو جانتا ہے کہ ہم میں اَیسا کوئی نہیں جو صَیدانِیوں کی طرح لکڑی کاٹنا جانتا ہو۔ {5:7} جب حِیرا م نے سُلیما ن کی باتیں سُنِیں تو نِہایت خُوش ہُؤا اور کہنے لگا کہ آج کے دِن خُداوند مُبارک ہو جِس نے داؤُد کو اِس بڑی قَوم کے لِئے ایک عقلمند بیٹا بخشا۔ {5:8} اور حِیرا م نے سُلیما ن کو کہلا بھیجا کہ جو پَیغام تُو نے مُجھے بھیجا مَیں نے اُس کو سُن لِیا ہے اور مَیں دیودار کی لکڑی اور صنَوبر کی لکڑی کے بارہ میں تیری مرضی پُوری کرُوں گا۔ {5:9} میرے مُلازِم اُن کو لُبنان سے اُتار کر سمُندر تک لائیں گے اور مَیں اُن کے بیڑے بندھوا دُوں گا تاکہ سمُندر ہی سمُندر اُس جگہ جائیں جِسے تُو ٹھہرائے اور وہاں اُن کو کُھلوا دُوں گا ۔ پِھر تُو اُن کو لے لینا اور تُو میرے گھرانے کے لِئے رسد دے کر میری مرضی پُوری کرنا۔ {5:10} پس حِیرا م نے سُلیما ن کو اُس کی مرضی کے مُطابِق دیودار کی لکڑی اور صنَوبر کی لکڑی دی۔ {5:11} اور سُلیما ن نے حِیرا م کو اُس کے گھرانے کے کھانے کے لِئے بِیس ہزار کور گیہُوں اور بِیس کور خالِص تیل دِیا ۔ اِسی طرح سُلیما ن حِیرا م کو سال بسال دیتا رہا۔ {5:12} اور خُداوند نے سُلیما ن کو جَیسا اُس نے اُس سے وعدہ کِیا تھا حِکمت بخشی اور حِیرا م اور سُلیما ن کے درمِیان صُلح تھی اور اُن دونوں نے باہم عہد باندھ لِیا۔ {5:13} اور سُلیما ن بادشاہ نے سارے اِسرا ئیل میں سے بیگاری لگائے ۔ وہ بیگاری تِیس ہزار آدمی تھے۔ {5:14} اور وہ ہر مہِینہ اُن میں سے دس دس ہزار کو باری باری سے لُبنان بھیجتا تھا ۔ سو وہ ایک مہِینہ لُبنان پر اور دو مہِینے اپنے گھر رہتے اور ادُو نرام اُن بیگارِیوں کے اُوپر تھا۔ {5:15} اور سُلیما ن کے ستّر ہزار بوجھ اُٹھانے والے اور اسّی ہزار درخت کاٹنے والے پہاڑوں میں تھے۔ {5:16} اِن کے علاوہ سُلیما ن کے تِین ہزار تِین سَو خاص مَنصبدار تھے جو اِس کام پر مُختار تھے اور اُن لوگوں پر جو کام کرتے تھے سردار تھے۔ {5:17} اور بادشاہ کے حُکم سے وہ بڑے بڑے بیش قِیمت پتّھر نِکال کر لائے تاکہ گھر کی بُنیاد گھڑے ہُوئے پتّھروں کی ڈالی جائے۔ {5:18} اور سُلیما ن کے مِعماروں اور حِیرا م کے مِعماروں اور جبلِیوں نے اُن کو تراشا اور گھر کی تعمِیر کے لِئے لکڑی اور پتھّروں کو تیّار کِیا۔ {i6:1} سُلیما ن ہَیکل تعمِیر کرتا ہے {6:1} اور بنی اِسرائیل کے مُلکِ مِصر سے نِکل آنے کے بعد چار سَو اسِّیویں سال اِسرا ئیل پر سُلیما ن کی سلطنت کے چَوتھے برس زِیو کے مہِینہ میں جو دُوسرا مہِینہ ہے اَیسا ہُؤا کہ اُس نے خُداوند کا گھر بنانا شرُوع کِیا۔ {6:2} اور جو گھر سُلیما ن بادشاہ نے خُداوند کے لِئے بنایا اُس کی لمبائی ساٹھ ہاتھ اور چَوڑائی بِیس ہاتھ اور اُونچائی تِیس ہاتھ تھی۔ {6:3} اور اُس گھر کی ہَیکل کے سامنے ایک برآمدہ اُس گھر کی چَوڑائی کے مُطابِق بِیس ہاتھ لمبا تھا اور اُس گھر کے سامنے اُس کی چَوڑائی دس ہاتھ تھی۔ {6:4} اور اُس نے اُس گھر کے لِئے جھروکے بنائے جِن میں جالی جڑی ہُوئی تھی۔ {6:5} اور اُس نے گِردا گِرد گھر کی دِیوار سے لگی ہُوئی یعنی ہَیکل اور اِلہام گاہ کی دِیواروں سے لگی ہُوئی گِردا گِرد منزِلیں بنائِیں اور حُجرے بھی گِردا گِرد بنائے۔ {6:6} سب سے نِچلی منزِل پانچ ہاتھ چَوڑی اور بِیچ کی چھ ہاتھ چَوڑی اور تِیسری سات ہاتھ چَوڑی تھی کیونکہ اُس نے گھر کی دِیوار کے گِردا گِرد باہر کے رُخ پُشتے بنائے تھے تاکہ کڑِیاں گھر کی دِیواروں کو پکڑے ہُوئے نہ ہوں۔ {6:7} اور وہ گھر جب تعمِیر ہو رہا تھا تو اَیسے پتّھروں کا بنایا گیا جو کان پر تیّار کِئے جاتے تھے ۔ سو اُس کی تعمِیر کے وقت نہ مارتول نہ کُلہاڑی نہ لوہے کے کِسی اَوزار کی آواز اُس گھر میں سُنائی دی۔ {6:8} اور بِیچ کے حُجروں کا دروازہ اُس گھر کی دہنی طرف تھا اور چکّردار سِیڑِھیوں سے بِیچ کی منزِل کے حُجروں میں اور بِیچ کی منزِل سے تِیسری منزِل کو جایا کرتے تھے۔ {6:9} سو اُس نے وہ گھر بنا کر اُسے تمام کِیا اور اُس گھر کو دیودار کے شہتِیروں اور تختوں سے پاٹا۔ {6:10} اور اُس نے اُس پُورے گھر سے لگی ہُوئی پانچ پانچ ہاتھ اُونچی منزِلیں بنائِیں اور وہ دیودار کی لکڑِیوں کے سہارے اُس گھر پر ٹِکی ہُوئی تِھیں۔ {6:11} اور خُداوند کا کلام سُلیما ن پر نازِل ہُؤا کہ۔ {6:12} یہ گھر جو تُو بناتا ہے سو اگر تُو میرے آئِین پر چلے اور میرے حُکموں کو پُورا کرے اور میرے فرمانوں کو مان کر اُن پر عمل کرے تو مَیں اپنا وہ قَول جو مَیں نے تیرے باپ داؤُد سے کِیا تیرے ساتھ قائِم رکُھّوں گا۔ {6:13} اور مَیں بنی اِسرائیل کے درمِیان رہُوں گا اور اپنی قَوم اِسرا ئیل کو ترک نہ کرُوں گا۔ {6:14} پس سُلیما ن نے وہ گھر بنا کر اُسے تمام کِیا۔ {i6:15} ہَیکل کی اندرونی آرائش و زیبائش {6:15} اور اُس نے اندر گھر کی دِیواروں پر دیودار کے تختے لگائے ۔ اِس گھر کے فرش سے چھت کی دِیواروں تک اُس نے اُن پر لکڑی لگائی اور اُس نے اُس گھر کے فرش کو صنَوبر کے تختوں سے پاٹ دِیا۔ {6:16} اور اُس نے اُس گھر کے پِچھلے حِصّہ میں بِیس ہاتھ تک فرش سے دِیواروں تک دیودار کے تختے لگائے ۔ اُس نے اِسے اُس کے اندر بنایا تاکہ وہ اِلہام گاہ یعنی پاکترِین مکان ہو۔ {6:17} اور وہ گھر یعنی اِلہام گاہ کے سامنے کی ہَیکل چالِیس ہاتھ لمبی تھی۔ {6:18} اور اُس گھر کے اندر اندر دیودار تھا جِس پر لٹُّو اور کِھلے ہُوئے پُھول کندہ کِئے گئے تھے ۔ سب دیودار ہی تھا اور پتّھر مُطلق نظر نہیں آتا تھا۔ {6:19} اور اُس نے اُس گھر کے اندر بِیچ میں اِلہام گاہ تیّار کی تاکہ خُداوند کے عہد کا صندُوق وہاں رکھّا جائے۔ {6:20} اور اِلہام گاہ اندر ہی اندر سے بِیس ہاتھ لمبی اور بِیس ہاتھ چَوڑی اور بِیس ہاتھ اُونچی تھی اور اُس نے اُس پر خالِص سونا منڈھا اور مذبح کو دیودار سے پاٹا۔ {6:21} اور سُلیما ن نے اُس گھر کو اندر اندر خالِص سونے سے منڈھا اور اِلہام گاہ کے سامنے اُس نے سونے کی زنجِیریں تان دِیں اور اُس پر بھی سونا منڈھا۔ {6:22} اور اُس پُورے گھر کو جب تک کہ وہ سارا گھر تمام نہ ہو گیا اُس نے سونے سے منڈھا اور اِلہام گاہ کے پُورے مذبح پر بھی اُس نے سونا منڈھا۔ {6:23} اور اِلہام گاہ میں اُس نے زَیتُون کی لکڑی کے دو کرُّوبی دس دس ہاتھ اُونچے بنائے۔ {6:24} اور کرُّوبی کا ایک بازُو پانچ ہاتھ کا اور اُس کا دُوسرا بازُو بھی پانچ ہی ہاتھ کا تھا ۔ ایک بازُو کے سِرے سے دُوسرے بازُو کے سِرے تک دس ہاتھ کا فاصِلہ تھا۔ {6:25} اور دس ہی ہاتھ کا دُوسرا کرُّوبی تھا ۔ دونوں کرُّوبی ایک ہی ناپ اور ایک ہی صُورت کے تھے۔ {6:26} ایک کرُّوبی کی اُونچائی دس ہاتھ تھی اور اِتنی ہی دُوسرے کرُّوبی کی تھی۔ {6:27} اور اُس نے دونوں کرُّوبیوں کو بِھیتر کے مکان کے اندر رکھّا اور کرُّوبیوں کے بازُو پَھیلے ہُوئے تھے اَیسا کہ ایک کا بازُو ایک دِیوار سے اور دُوسرے کا بازُو دُوسری دِیوار سے لگا ہُؤا تھا اور اِن کے بازُو گھر کے بِیچ میں ایک دُوسرے سے مِلے ہُوئے تھے۔ {6:28} اور اُس نے کرُّوبیوں پر سونا منڈھا۔ {6:29} اور اُس نے اُس گھر کی سب دِیواروں پر گِردا گِرد اندر اور باہر کرُّوبیوں اور کھجُور کے درختوں اور کِھلے ہُوئے پُھولوں کی کُھدی ہُوئی صُورتیں کندہ کِیں۔ {6:30} اور اُس گھر کے فرش پر اُس نے اندر اور باہر سونا منڈھا۔ {6:31} اور اِلہام گاہ میں داخِل ہونے کے لِئے اُس نے زَیتُون کی لکڑی کے دروازے بنائے ۔ اُوپر کی چَوکھٹ اور بازُوؤں کا عرض دِیوار کا پانچواں حِصّہ تھا۔ {6:32} دونوں دروازے زَیتُون کی لکڑی کے تھے اور اُس نے اُس پر کرُّوبیوں اور کھجُور کے درختوں اور کِھلے ہُوئے پُھولوں کی کُھدی ہُوئی صُورتیں کندہ کِیں اور اُن پر سونا منڈھا اور اِس سونے کو کرُّوبیوں پر اور کھجُور کے درختوں پر پَھیلا دِیا۔ {6:33} اَیسے ہی ہَیکل میں داخِل ہونے کے لِئے اُس نے زَیتُون کی لکڑی کی چَوکھٹ بنائی جو دِیوار کا چَوتھا حِصّہ تھی۔ {6:34} اور صنَوبر کی لکڑی کے دو دروازے تھے۔ ایک دروازہ کے دونوں پٹ دُہرے ہو جاتے اور دُوسرے دروازہ کے بھی دونوں پٹ دُہرے ہو جاتے تھے۔ {6:35} اور اِن پر کرُّوبیوں اور کھجُور کے درختوں اور کِھلے ہُوئے پُھولوں کو اُس نے کندہ کِیا اور کُھدے ہُوئے کام پر سونا منڈھا۔ {6:36} اور اندر کے صحن کی تِین صفیں تراشے ہُوئے پتّھر کی بنائِیں اور ایک صف دیودار کے شہتِیروں کی۔ {6:37} چَوتھے سال زِیو کے مہِینہ میں خُداوند کے گھر کی بُنیاد ڈالی گئی۔ {6:38} اور گیارھویں سال بُول کے مہِینہ میں جو آٹھواں مہِینہ ہے وہ گھر اپنے سب حِصّوں سمیت اپنے نقشہ کے مُطابِق بن کر تیّار ہُؤا ۔ یُوں اُس کے بنانے میں اُسے سات سال لگے۔ {i7:1} سُلیما ن کا محلّ {7:1} اور سُلیما ن تیرہ برس اپنے محلّ کی تعمِیر میں لگا رہا اور اپنے محلّ کو ختم کِیا۔ {7:2} کیونکہ اُس نے اپنا محلّ لُبنا ن کے بَن کی لکڑی کا بنایا۔ اُس کی لمبائی سَو ہاتھ اور چَوڑائی پچاس ہاتھ اور اُونچائی تِیس ہاتھ تھی اور وہ دیودار کے سُتُونوں کی چار قطاروں پر بنا تھا اور سُتُونوں پر دیودار کے شہتِیر تھے۔ {7:3} اور وہ پَینتالِیس شہتِیروں کے اُوپر جو سُتُونوں پر ٹِکے تھے پاٹ دِیا گیا تھا ۔ ہر قطار میں پندرہ شہتِیر تھے۔ {7:4} اور کھِڑکِیوں کی تِین قطاریں تِھیں اور تِینوں قطاروں میں ہر ایک رَوزن دُوسرے رَوزن کے مُقابِل تھا۔ {7:5} اور سب دروازے اور چَوکھٹیں مُربّع شکل کی تِھیں اور تِینوں قطاروں میں ہر ایک رَوزن دُوسرے رَوزن کے مُقابِل تھا۔ {7:6} اور اُس نے سُتُونوں کا برآمدہ بنایا ۔ اُس کی لمبائی پچاس ہاتھ اور چَوڑائی تِیس ہاتھ اور اِن کے سامنے ایک ڈیوڑھی تھی اور اِن کے آگے سُتُون اور موٹے موٹے شہتِیر تھے۔ {7:7} اور اُس نے تخت کے لِئے ایک برآمدہ یعنی عدالت کا برآمدہ بنایا جہاں وہ عدالت کر سکے اور فرش سے فرش تک اُسے دیودار سے پاٹ دِیا۔ {7:8} اور اُس کے رہنے کا محلّ جو اُسی برآمدہ کے اندر دُوسرے صحن میں تھا اَیسے ہی کام کا بنا ہُؤا تھا اور سُلیما ن نے فرعَو ن کی بیٹی کے لِئے جِسے اُس نے بیاہا تھا اُسی برآمدہ کے ڈھب کا ایک محلّ بنایا۔ {7:9} یہ سب اندر اور باہر بُنیاد سے مُنڈیر تک بیش قِیمت پتّھروں یعنی تراشے ہُوئے پتّھروں کے بنے ہُوئے تھے جو ناپ کے مُطابِق ارّوں سے چِیرے گئے تھے اور اَیسا ہی باہر باہر بڑے صحن تک تھا۔ {7:10} اور بُنیاد بیش قِیمت پتّھروں یعنی بڑے بڑے پتّھروں کی تھی ۔ یہ پتّھر دس دس ہاتھ اور آٹھ آٹھ ہاتھ کے تھے۔ {7:11} اور اُوپر ناپ کے مُطابِق بیش قِیمت پتّھر یعنی گھڑے ہُوئے پتّھر اور دیودار کی لکڑی لگی ہُوئی تھی۔ {7:12} اور بڑے صحن میں گِرداگِرد گھڑے ہُوئے پتّھروں کی تِین قطاریں اور دیودار کے شہتِیروں کی ایک قطار وَیسی ہی تھی جَیسی خُداوند کے گھر کے اندرُونی صحن اور اُس گھر کے برآمدہ میں تھی۔ {i7:13} حِیرام کا کا م {7:13} پِھر سُلیما ن بادشاہ نے صُور سے حِیرا م کو بُلوا لِیا۔ {7:14} اور وہ نفتا لی کے قبِیلہ کی ایک بیوہ کا بیٹا تھا اور اُس کا باپ صُور کا باشِندہ تھا اور ٹھٹھیرا تھا اور وہ پِیتل کے سب کام کی کارِیگری میں حِکمت اور سمجھ اور مہارت رکھتا تھا ۔ سو اُس نے سُلیما ن بادشاہ کے پاس آ کر اُس کا سب کام بنایا۔ {i7:15} پِیتل کے دو سُتُون {7:15} کیونکہ اُس نے اٹھارہ اٹھارہ ہاتھ اُونچے پِیتل کے دو سُتُون بنائے اور ایک ایک کا گھیر بارہ ہاتھ کے سُوت کے برابر تھا۔ {7:16} اور اُس نے سُتُونوں کی چوٹِیوں پر رکھنے کے لِئے پِیتل ڈھال کر دو تاج بنائے ۔ ایک تاج کی اُونچائی پانچ ہاتھ اور دُوسرے تاج کی اُونچائی بھی پانچ ہاتھ تھی۔ {7:17} اور اُن تاجوں کے لِئے جو سُتُونوں کی چوٹِیوں پر تھے چارخانے کی جالِیاں اور زنجِیر نُما ہار تھے ۔ سات ایک تاج کے لِئے اور سات دُوسرے تاج کے لِئے۔ {7:18} سو اُس نے وہ سُتُون بنائے اور سُتُونوں کی چوٹی کے اُوپر کے تاجوں کو ڈھانکنے کے لِئے ایک جالی کے کام پر گِرداگِرد دو قطاریں تِھیں اور دُوسرے تاج کے لِئے بھی اُس نے اَیسا ہی کِیا۔ {7:19} اور اُن چار چار ہاتھ کے تاجوں پر جو برآمدہ کے سُتُونوں کی چوٹی پر تھے سوسن کا کام تھا۔ {7:20} اور اُن دونوں سُتُونوں پر اُوپر کی طرف بھی جالی کے برابر کی گولائی کے پاس تاج بنے تھے اور اُس دُوسرے تاج پر قطار در قطار گِرداگِرد دو سَو انار تھے۔ {7:21} اور اُس نے ہَیکل کے برآمدہ میں وہ سُتُون کھڑے کِئے اور اُس نے دہنے سُتُون کو کھڑا کر کے اُس کا نام یاکِن رکھّا اور بائیں سُتُون کو کھڑا کر کے اُس کا نام بو عَز رکھّا۔ {7:22} اور سُتُونوں کی چوٹی پر سوسن کا کام تھا ۔ یُوں سُتُونوں کا کام ختم ہُؤا۔ {i7:23} پِیتل کا حَوض {7:23} پِھر اُس نے ڈھالا ہُؤا ایک بڑا حَوض بنایا ۔ وہ ایک کنارے سے دُوسرے کنارے تک دس ہاتھ تھا ۔ وہ گول تھا اور بُلندی اُس کی پانچ ہاتھ تھی اور اُس کا گھیر گِرداگِرد تِیس ہاتھ کے سُوت کے برابر تھا۔ {7:24} اور اُس کے کنارے کے نِیچے گِرداگِرد دسوں ہاتھ تک لٹُّو تھے جو اُسے یعنی بڑے حَوض کو گھیرے ہُوئے تھے ۔ یہ لٹُّو دو قطاروں میں تھے اور جب وہ ڈھالا گیا تب ہی یہ بھی ڈھالے گئے تھے۔ {7:25} اور وہ بارہ بَیلوں پر رکھّا گیا ۔ تِین کے مُنہ شِمال کی طرف اور تِین کے مُنہ مغرِب کی طرف اور تِین کے مُنہ جنُوب کی طرف اور تِین کے مُنہ مشرِق کی طرف تھے اور وہ بڑا حَوض اُن ہی پر اُوپر کی طرف تھا اور اُن سبھوں کا پِچھلا دھڑ اندر کے رُخ تھا۔ {7:26} اور دَل اُس کا چار اُنگل تھا اور اُس کا کنارہ پِیالہ کے کنارے کی طرح گُلِ سوسن کی مانِند تھا اور اُس میں دو ہزار بت کی سمائی تھی۔ {i7:27} پِیتل کی کُرسیاں {7:27} اور اُس نے پِیتل کی دس کُرسِیاں بنائِیں ۔ ایک ایک کُرسی کی لمبائی چار ہاتھ اور چَوڑائی چار ہاتھ اور اُونچائی تِین ہاتھ تھی۔ {7:28} اور اُن کُرسِیوں کی کارِیگری اِس طرح کی تھی ۔ اِن کے حاشِۓ تھے اور پڑوں کے درمِیان بھی حاشِۓ تھے۔ {7:29} اور اُن حاشِیوں پر جو پڑوں کے درمِیان تھے شیر اور بَیل اور کرُّوبی بنے تھے اور اُن پڑوں پر بھی ایک کُرسی اُوپر کی طرف تھی اور شیروں اور بَیلوں کے نِیچے لٹکتے کام کے ہار تھے۔ {7:30} اور ہر کُرسی کے لِئے چار چار پِیتل کے پہئے اور پِیتل ہی کے دُھرے تھے اور اُس کے چاروں پایوں میں ٹیکیں لگی تِھیں ۔ یہ ڈھلی ہُوئی ٹیکیں حَوض کے نِیچے تِھیں اور ہر ایک کےپہلُو میں ہار بنے تھے۔ {7:31} اور اُس کا مُنہ تاج کے اندر اور باہر ایک ہاتھ تھا اور وہ مُنہ ڈیڑھ ہاتھ تھا اور اُس کا کام کُرسی کے کام کی طرح گول تھا اور اُسی مُنہ پر نقّاشی کا کام تھا اور اُن کے حاشِۓ گول نہیں بلکہ چَوکور تھے۔ {7:32} اور وہ چاروں پہئے حاشِیوں کے نِیچے تھے اور پہیّوں کے دُھرے کُرسی میں لگے تھے اور ہر پہئے کی اُونچائی ڈیڑھ ہاتھ تھی۔ {7:33} اور پہیّوں کا کام رتھ کے پہئے کا سا تھا اور اُن کے دُھرے اور اُن کی پُٹِھیاں اور اُن کے آرے اور اُن کی نابھیں سب کے سب ڈھالے ہُوئے تھے۔ {7:34} اور ہر کُرسی کے چاروں کونوں پر چار ٹیکیں تِھیں اور ٹیکیں اور کُرسی ایک ہی ٹُکڑے کی تِھیں۔ {7:35} اور ہر کُرسی کے سِرے پر آدھ ہاتھ اُونچی چاروں طرف گولائی تھی اور کُرسی کے سِرے کی کنگنِیاں اور حاشِۓ اُسی کے ٹُکڑے کے تھے۔ {7:36} اور اُس کی کنگنِیوں کے پاٹوں پر اور اُس کے حاشِیوں پر اُس نے کرُّوبیوں اور شیروں اور کھجُور کے درختوں کو ہر ایک کی جگہ کے مُطابِق کندہ کِیا اور گِردا گِرد ہار تھے۔ {7:37} دسوں کُرسِیوں کو اُس نے اِس طرح بنایا اور اُن سب کا ایک ہی سانچا اور ایک ہی ناپ اور ایک ہی صُورت تھی۔ {7:38} اور اُس نے پِیتل کے دس حَوض بنائے ۔ ہر ایک حَوض میں چالِیس بت کی سمائی تھی اور ہر ایک حَوض چار ہاتھ کا تھا اور اُن دسوں کُرسِیوں میں سے ہر ایک پر ایک حَوض تھا۔ {7:39} اُس نے پانچ کُرسِیاں گھر کی دہنی طرف اور پانچ گھر کی بائِیں طرف رکِھّیں اور بڑے حَوض کو گھر کے دہنے مشرِق کی طرف جنُوب کے رُخ پر رکھّا۔ {i7:40} ہَیکل کے سازو سامان کی مُختصر فہرِست {7:40} اور حِیرا م نے حَوضوں اور بیلچوں اور کٹوروں کو بھی بنایا ۔ پس حِیرا م نے وہ سب کام جِسے وہ سُلیما ن بادشاہ کی خاطِر خُداوند کے گھر میں بنا رہا تھا تمام کِیا۔ {7:41} یعنی دونوں سُتُون اور سُتُونوں کی چوٹی پر کے تاجوں کے دونوں پِیالے اور سُتُونوں کی چوٹی پر کے تاجوں کے دونوں پِیالوں کو ڈھانکنے کی دونوں جالِیاں۔ {7:42} اور دونوں جالِیوں کے لِئے چار سَو انار یعنی سُتُونوں پر کے تاجوں کے دونوں پِیالوں کے ڈھانکنے کی ہر جالی کے لِئے اناروں کی دو دو قطاریں۔ {7:43} اور دسوں کُرسِیاں اور دسوں کُرسِیوں پر کے دسوں حَوض۔ {7:44} اور وہ بڑا حَوض اور بڑے حَوض کے نِیچے کے بارہ بَیل۔ {7:45} اور وہ دیگیں اور بیلچے اور کٹورے یہ سب ظُرُوف جو حِیرا م نے سُلیما ن بادشاہ کی خاطِر خُداوند کے گھر میں بنائے جھلکتے ہُوئے پِیتل کے تھے۔ {7:46} بادشاہ نے اُن سب کو یَردن کے مَیدان میں سُکات اور ضرتا ن کے بِیچ کی چِکنی مِٹّی والی زمِین میں ڈھالا۔ {7:47} اور سُلیما ن نے اُن سب ظُرُوف کو بغَیر تولے چھوڑ دِیا کیونکہ وہ بُہت سے تھے ۔ سو اُس پِیتل کا وزن معلُوم نہ ہو سکا۔ {7:48} اور سُلیما ن نے وہ سب ظُرُوف بنائے جو خُداوند کے گھر میں تھے یعنی وہ سونے کا مذبح اور سونے کی میز جِس پر نذر کی روٹی رہتی تھی۔ {7:49} اور خالِص سونے کے وہ شمعدان جو اِلہام گاہ کے آگے پانچ دہنے اور پانچ بائیں تھے اور سونے کے پُھول اور چراغ اور چِمٹے۔ {7:50} اور خالِص سونے کے پِیالے اور گُل تراش اور کٹورے اور چمچے اور عُودسوز اور اندرُونی گھر یعنی پاکترِین مکان کے دروازہ کے لِئے اور گھر کے یعنی ہَیکل کے دروازہ کے لِئے سونے کے قبضے۔ {7:51} یُوں وہ سب کام جو سُلیما ن بادشاہ نے خُداوند کے گھر میں بنایا ختم ہُؤا اور سُلیما ن اپنے باپ داؤُد کی مخصُوص کی ہُوئی چِیزوں یعنی سونے اور چاندی اور ظُرُوف کو اندر لایا اور اُن کو خُداوند کے گھر کے خزانوں میں رکھّا۔ {i8:1} عہد کا صندُوق ہَیکل میں لایا جاتا ہے {8:1} تب سُلیما ن نے اِسرا ئیل کے بزُرگوں اور قبِیلوں کے سب سرداروں کو جو بنی اِسرائیل کے آبائی خاندانوں کے رئِیس تھے اپنے پاس یروشلیِم میں جمع کِیا تاکہ وہ داؤُد کے شہر سے جو صِیُّون ہے خُداوند کے عہد کے صندُوق کو لے آئیں۔ {8:2} سو اُس عِید میں اِسرا ئیل کے سب لوگ ماہِ ایتانیم میں جو ساتواں مہِینہ ہے سُلیما ن بادشاہ کے پاس جمع ہُوئے۔ {8:3} اور اِسرا ئیل کے سب بزُرگ آئے اور کاہِنوں نے صندُوق اُٹھایا۔ {8:4} اور وہ خُداوند کے صندُوق کو اور خَیمۂِ اِجتماع کواور اُن سب مُقدّس ظُرُوف کو جو خَیمہ کے اندر تھے لے آئے۔ اُن کو کاہِن اور لاوی لائے تھے۔ {8:5} اور سُلیما ن بادشاہ نے اور اُس کے ساتھ اِسرا ئیل کی ساری جماعت نے جو اُس کے پاس جمع تھی صندُوق کے سامنے کھڑے ہو کر اِتنی بھیڑ بکریاں اور بَیل ذبح کِئے کہ اُن کی کثرت کے سبب سے اُن کا شُمار یا حِساب نہ ہو سکا۔ {8:6} اور کاہِن خُداوند کے عہد کے صندُوق کو اُس کی جگہ پر اُس گھر کی اِلہام گاہ میں یعنی پاکترِین مکان میں عَین کرُّوبِیوں کے بازُوؤں کے نِیچے لے آئے۔ {8:7} کیونکہ کرُّوبی اپنے بازُوؤں کو صندُوق کی جگہ کے اُوپر پَھیلائے ہُوئے تھے اور وہ کرُّوبی صندُوق کو اور اُس کی چوبوں کو اُوپر سے ڈھانکے ہُوئے ہے تھے۔ {8:8} اور وہ چوبیں اَیسی لمبی تِھیں کہ اُن چوبوں کے سِرے پاک مکان سے اِلہام گاہ کے سامنے دِکھائی دیتے تھے لیکن باہر سے نہیں دِکھائی دیتے تھے اور وہ آج تک وہِیں ہیں۔ {8:9} اور اُس صندُوق میں کُچھ نہ تھا سِوا پتّھر کی اُن دو لَوحوں کے جِن کو وہاں مُوسیٰ نے حورِ ب میں رکھ دِیا تھا جِس وقت کہ خُداوند نے بنی اِسرائیل سے جب وہ مُلکِ مِصر سے نِکل آئے عہد باندھا تھا۔ {8:10} پِھر اَیسا ہُؤا کہ جب کاہِن پاک مکان سے باہر نِکل آئے تو خُداوند کا گھر ابر سے بھر گیا۔ {8:11} سو کاہِن اُس ابر کے سبب سے خِدمت کے لِئے کھڑے نہ ہو سکے اِس لِئے کہ خُداوند کا گھر اُس کے جلال سے بھر گیا تھا۔ {8:12} تب سُلیما ن نے کہا کہ خُداوند نے فرمایا تھا کہ وہ گہری تارِیکی میں رہے گا۔ {8:13} مَیں نے فی الحقِیقت ایک گھر تیرے رہنے کے لِئے بلکہ تیری دائِمی سکُونت کے واسطے ایک جگہ بنائی ہے۔ {i8:14} سُلیما ن کا قَوم سے خطاب {8:14} اور بادشاہ نے اپنا مُنہ پھیرا اور اِسرا ئیل کی ساری جماعت کو برکت دی اور اِسرا ئیل کی ساری جماعت کھڑی رہی۔ {8:15} اور اُس نے کہا کہ خُداوند اِسرا ئیل کا خُدا مُبارک ہو جِس نے اپنے مُنہ سے میرے باپ داؤُد سے کلام کِیا اور اُسے اپنے ہاتھ سے یہ کہہ کر پُورا کِیا کہ۔ {8:16} جِس دِن سے مَیں اپنی قَوم اِسرا ئیل کو مِصر سے نِکال لایا مَیں نے اِسرا ئیل کے سب قبِیلوں میں سے بھی کِسی شہر کو نہیں چُنا کہ ایک گھر بنایا جائے تاکہ میرا نام وہاں ہو پر مَیں نے داؤُد کو چُن لِیا کہ وہ میری قَوم اِسرائیل کا حاکِم ہو۔ {8:17} اور میرے باپ داؤُد کے دِل میں تھا کہ خُداوند اِسرا ئیل کے خُدا کے نام کے لِئے ایک گھر بنائے۔ {8:18} لیکن خُداوند نے میرے باپ داؤُد سے کہا چُونکہ میرے نام کے لِئے ایک گھر بنانے کا خیال تیرے دِل میں تھا سو تُو نے اچھّا کِیا کہ اپنے دِل میں اَیسا ٹھانا۔ {8:19} تَو بھی تُو اُس گھر کو نہ بنانا بلکہ تیرا بیٹا جو تیرے صُلب سے نِکلے گا وہ میرے نام کے لِئے گھر بنائے گا۔ {8:20} اور خُداوند نے اپنی بات جو اُس نے کہی تھی قائِم کی ہے کیونکہ مَیں اپنے باپ داؤُد کی جگہ اُٹھا ہُوں اور جَیسا خُداوند نے وعدہ کِیا تھا مَیں اِسرا ئیل کے تخت پر بَیٹھا ہُوں اور مَیں نے خُداوند اِسرا ئیل کے خُدا کے نام کے لِئے اُس گھر کو بنایا ہے۔ {8:21} اور مَیں نے وہاں ایک جگہ اُس صندُوق کے لِئے مُقرّر کر دی ہے جِس میں خُداوند کا وہ عہد ہے جو اُس نے ہمارے باپ دادا سے جب وہ اُن کو مُلکِ مِصر سے نِکال لایا باندھا تھا۔ {i8:22} سُلیما ن کی مُناجات {8:22} اور سُلیما ن نے اِسرا ئیل کی ساری جماعت کے رُوبرُو خُداوند کے مذبح کے آگے کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پَھیلائے۔ {8:23} اور کہا اَے خُداوند اِسرا ئیل کے خُدا تیری مانِند نہ تو اُوپر آسمان میں نہ نِیچے زمِین پر کوئی خُدا ہے ۔ تُو اپنے اُن بندوں کے لِئے جو تیرے حضُور اپنے سارے دِل سے چلتے ہیں عہد اور رحمت کو نِگاہ رکھتا ہے۔ {8:24} تُو نے اپنے بندہ میرے باپ داؤُد کے حق میں وہ بات قائِم رکھّی جِس کا تُو نے اُس سے وعدہ کِیا تھا ۔ تُو نے اپنے مُنہ سے فرمایا اور اپنے ہاتھ سے اُسے پُورا کِیا جَیسا آج کے دِن ہے۔ {8:25} سو اب اَے خُداوند اِسرا ئیل کے خُدا تُو اپنے بندہ میرے باپ داؤُد کے ساتھ اُس قَول کو بھی پُورا کر جو تُو نے اُس سے کِیا تھا کہ تیرے آدمِیوں سے میرے حضُور اِسرا ئیل کے تخت پر بَیٹھنے والے کی کمی نہ ہو گی بشرطیکہ تیری اَولاد جَیسے تُو میرے حضُور چلتا رہا وَیسے ہی میرے حضُور چلنے کے لِئے اپنی راہ کی اِحتیاط رکھّے۔ {8:26} سو اب اَے اِسرا ئیل کے خُدا تیرا وہ قَول سچّا ثابِت کِیا جائے جو تُو نے اپنے بندہ میرے باپ داؤُد سے کِیا۔ {8:27} لیکن کیا خُدا فی الحقِیقت زمِین پر سکُونت کرے گا؟ دیکھ آسمان بلکہ آسمانوں کے آسمان میں بھی تُو سما نہیں سکتا تو یہ گھر تو کُچھ بھی نہیں جِسے مَیں نے بنایا۔ {8:28} تَو بھی اَے خُداوند میرے خُدا اپنے بندہ کی دُعا ور مُناجات کا لِحاظ کر کے اُس فریاد اور دُعا کو سُن لے جو تیرا بندہ آج کے دِن تیرے حضُور کرتا ہے۔ {8:29} تاکہ تیری آنکھیں اِس گھر کی طرف یعنی اُسی جگہ کی طرف جِس کی بابت تُو نے فرمایا کہ مَیں اپنا نام وہاں رکُھّوں گا دِن اور رات کُھلی رہیں تاکہ تُو اُس دُعا کو سُنے جو تیرا بندہ اِس مقام کے طرف رُخ کر کے تُجھ سے کرے گا۔ {8:30} اور تُو اپنے بندہ اور اپنی قَوم اِسرا ئیل کی مُناجات کو جب وہ اِس جگہ کی طرف رُخ کر کے کریں سُن لینا بلکہ تُو آسمان پر سے جو تیری سکُونت گاہ ہے سُن لینا اور سُن کر مُعاف کر دینا۔ {8:31} اگر کوئی شخص اپنے پڑوسی کا گُناہ کرے اور اُسے قَسم کِھلانے کے لِئے اُس کو حلف دِیا جائے اور وہ آکر اِس گھر میں تیرے مذبح کے آگے قَسم کھائے۔ {8:32} تو تُو آسمان پر سے سُن کر عمل کرنا اور اپنے بندوں کا اِنصاف کرنا اور بدکار پر فتویٰ لگا کر اُس کے اعمال کو اُسی کے سر ڈالنا اور صادِق کو راست ٹھہرا کر اُس کی صداقت کے مُطابِق اُسے جزا دینا۔ {8:33} جب تیری قَوم اِسرا ئیل تیرا گُناہ کرنے کے باعِث اپنے دُشمنوں سے شِکست کھائے اور پِھر تیری طرف رُجُوع لائے اور تیرے نام کا اِقرار کر کے اِس گھر میں تُجھ سے دُعا اور مُناجات کرے۔ {8:34} تو تُو آسمان پر سے سُن کر اپنی قَوم اِسرا ئیل کاگُناہ مُعاف کرنا اور اُن کو اِس مُلک میں جو تُو نے اُن کے باپ دادا کو دِیا پِھر لے آنا۔ {8:35} جب اِس سبب سے کہ اُنہوں نے تیرا گُناہ کِیا ہو آسمان بند ہو جائے اور بارِش نہ ہو اور وہ اِس مقام کی طرف رُخ کر کے دُعا کریں اور تیرے نام کا اِقرار کریں اور اپنے گُناہ سے باز آئیں جب تُو اُن کو دُکھ دے۔ {8:36} تو تُو آسمان پر سے سُن کر اپنے بندوں اور اپنی قَوم اِسرا ئیل کا گُناہ مُعاف کر دینا کیونکہ تُو اُن کو اُس اچّھی راہ کی تعلِیم دیتا ہے جِس پر اُن کو چلنا فرض ہے اور اپنے مُلک پر جِسے تُو نے اپنی قَوم کو مِیراث کے لِئے دِیا ہے مِینہ برسانا۔ {8:37} اگر مُلک میں کال ہو ۔ اگر وبا ہو ۔ اگر بادِ سمُوم یا گیروئی یا ٹِڈّی یا کملا ہو ۔ اگر اُن کے دُشمن اُن کے شہروں کے مُلک میں اُن کو گھیر لیں غرض کَیسی ہی بلا ۔ کَیسا ہی روگ ہو۔ {8:38} تو جو دُعا اور مُناجات کِسی ایک شخص یا تیری قَوم اِسرا ئیل کی طرف سے ہو جِن میں سے ہر شخص اپنے دِل کا دُکھ جان کر اپنے ہاتھ اِس گھر کی طرف پَھیلائے۔ {8:39} تو تُو آسمان پر سے جو تیری سکُونت گاہ ہے سُن کر مُعاف کر دینا اور اَیسا کرنا کہ ہر آدمی کو جِس کے دِل کو تُو جانتا ہے اُسی کی ساری روِش کے مُطابِق بدلہ دینا کیونکہ فقط تُو ہی سب بنی آدم کے دِلوں کو جانتا ہے۔ {8:40} تاکہ جِتنی مُدّت تک وہ اُس مُلک میں جِسے تُو نے ہمارے باپ دادا کو دِیا جِیتے رہیں تیرا خَوف مانیں۔ {8:41} اب رہا وہ پردیسی جو تیری قَوم اِسرا ئیل میں سے نہیں ہے ۔ وہ جب دُور مُلک سے تیرے نام کی خاطِر آئے۔ {8:42} (کیونکہ وہ تیرے بزُرگ نام اور قوی ہاتھ اور بُلند بازُو کا حال سُنیں گے) سو جب وہ آئے اور اِس گھر کی طرف رُخ کر کے دُعا کرے۔ {8:43} تو تُو آسمان پر سے جو تیری سکُونت گاہ ہے سُن لینا اور جِس جِس بات کے لِئے وہ پردیسی تُجھ سے فریاد کرےتُو اُس کے مُطابِق کرنا تاکہ زمِین کی سب قَومیں تیرے نام کو پہچانیں اور تیری قَوم اِسرا ئیل کی طرح تیرا خَوف مانیں اور جان لیں کہ یہ گھر جِسے مَیں نے بنایا ہے تیرے نام کا کہلاتا ہے۔ {8:44} اگر تیرے لوگ خواہ کِسی راستہ سے تُو اُن کو بھیجے اپنے دُشمن سے لڑنے کو نِکلیں اور وہ خُداوند سے اُس شہر کی طرف جِسے تُو نے چُنا ہے اور اُس گھر کی طرف جِسے مَیں نے تیرے نام کے لِئے بنایا ہے رُخ کر کے دُعا کریں۔ {8:45} تو تُو آسمان پر سے اُن کی دُعا اور مُناجات سُن کر اُن کی حِمایت کرنا۔ {8:46} اگر وہ تیرا گُناہ کریں (کیونکہ کوئی اَیسا آدمی نہیں جو گُناہ نہ کرتا ہو) اور تُو اُن سے ناراض ہو کر اُن کو دُشمن کے حوالہ کر دے اَیسا کہ وہ دُشمن اُن کو اسِیر کر کے اپنے مُلک میں لے جائے خواہ وہ دُور ہو یا نزدِیک۔ {8:47} تَو بھی اگر وہ اُس مُلک میں جہاں وہ اسِیر ہو کر پُہنچائے گئے ہوش میں آئیں اور رُجُوع لائیں اور اپنے اسِیر کرنے والوں کے مُلک میں تُجھ سے مُناجات کریں اور کہیں کہ ہم نے گُناہ کِیا ۔ ہم ٹیڑھی چال چلے اور ہم نے شرارت کی۔ {8:48} سو اگر وہ اپنے دُشمنوں کے مُلک میں جو اُن کو اسِیر کر کے لے گئے اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان سے تیری طرف پِھریں اور اپنے مُلک کی طرف جو تُو نے اُن کے باپ دادا کو دِیا اور اِس شہر کی طرف جِسے تُو نے چُن لِیا اور اِس گھر کی طرف جو مَیں نےتیرے نام کے لِئے بنایا ہے رُخ کر کے تُجھ سے دُعا کریں۔ {8:49} تو تُو آسمان پر سے جو تیری سکُونت گاہ ہے اُن کی دُعا اور مُناجات سُن کر اُن کی حِمایت کرنا۔ {8:50} اور اپنی قَوم کو جِس نے تیرا گُناہ کِیا اور اُن کی سب خطاؤں کو جو اُن سے تیرے خِلاف سرزد ہوں مُعاف کردینا اور اُن کے اسِیر کرنے والوں کے آگے اُن پر رحم کرناتاکہ وہ اُن پر رحم کریں۔ {8:51} کیونکہ وہ تیری قَوم اور تیری مِیراث ہیں جِسے تُو مِصر سے لوہے کے بھٹّے کے بِیچ میں سے نِکال لایا۔ {8:52} سو تیری آنکھیں تیرے بندہ کی مُناجات اور تیری قَوم اِسرا ئیل کی مُناجات کی طرف کُھلی رہیں تاکہ جب کبھی وہ تُجھ سے فریاد کریں تُو اُن کی سُنے۔ {8:53} کیونکہ تُو نے زمِین کی سب قَوموں میں سے اُن کو الگ کِیا کہ وہ تیری مِیراث ہوں جَیسا اَے مالِک خُداوند تُو نے اپنے بندہ مُوسیٰ کی معرفت فرمایا جِس وقت تُو ہمارے باپ دادا کو مِصر سے نِکال لایا۔ {i8:54} آخِری دُعا {8:54} اور اَیسا ہُؤا کہ جب سُلیما ن خُداوند سے یہ سب مُناجات کر چُکا تو وہ خُداوند کے مذبح کے سامنے سے جہاں وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پَھیلائے ہُوئے گُھٹنے ٹیکے تھا اُٹھا۔ {8:55} اور کھڑے ہو کر اِسرا ئیل کی ساری جماعت کو بُلند آواز سے برکت دی اور کہا۔ {8:56} خُداوند جِس نے اپنے سب وعدوں کے مُوافِق اپنی قَوم اِسرا ئیل کو آرام بخشا مُبارک ہو کیونکہ جو سارا اچّھا وعدہ اُس نے اپنے بندہ مُوسیٰ کی معرفت کِیا اُس میں سے ایک بات بھی خالی نہ گئی۔ {8:57} خُداوند ہمارا خُدا ہمارے ساتھ رہے جَیسے وہ ہمارے باپ دادا کے ساتھ رہا اور نہ ہم کو ترک کرے نہ چھوڑے۔ {8:58} تاکہ وہ ہمارے دِلوں کو اپنی طرف مائِل کرے کہ ہم اُس کی سب راہوں پر چلیں اور اُس کے فرمانوں اور آئِین اور احکام کو جو اُس نے ہمارے باپ دادا کو دِئے مانیں۔ {8:59} اور یہ میری باتیں جِن کو مَیں نے خُداوند کے حضُور مُناجات میں پیش کِیا ہے دِن اور رات خُداوند ہمارے خُدا کے نزدِیک رہیں تاکہ وہ اپنے بندہ کی داد اور اپنی قَوم اِسرا ئیل کی داد ہر روز کی ضرُورت کے مُطابِق دے۔ {8:60} جِس سے زمِین کی سب قَومیں جان لیں کہ خُداوند ہی خُدا ہے اور اُس کے سِوا اَور کوئی نہیں۔ {8:61} سو تُمہارا دِل آج کی طرح خُداوند ہمارے خُدا کے ساتھ اُس کے آئِین پر چلنے اور اُس کے حُکموں کو ماننے کے لِئے کامِل رہے۔ {i8:62} ہَیکل کی مخصُوصِیّت {8:62} اور بادشاہ نے اور اُس کے ساتھ سارے اِسرا ئیل نے خُداوند کے حضُور قُربانی گُذرانی۔ {8:63} اور سُلیما ن نے جو سلامتی کے ذبِیحوں کی قُربانی خُداوند کے حضُور گُذرانی اُس میں اُس نے بائِیس ہزار بَیل اور ایک لاکھ بِیس ہزار بھیڑیں چڑھائیں۔ یُوں بادشاہ نے اور سب بنی اِسرائیل نے خُداوند کا گھر مخصُوص کِیا۔ {8:64} اُسی دِن بادشاہ نے صحن کے درمِیانی حِصّہ کو جو خُداوند کے گھر کے سامنے تھا مُقدّس کِیا کیونکہ اُس نے وہِیں سوختنی قُربانی اور نذر کی قُربانی اور سلامتی کے ذبِیحوں کی چربی گُذرانی اِس لِئے کہ پِیتل کا مذبح جو خُداوند کے سامنے تھا اِتنا چھوٹا تھا کہ اُس پر سوختنی قُربانی اور نذر کی قُربانی اور سلامتی کے ذبِیحوں کی چربی کے لِئے گُنجایش نہ تھی۔ {8:65} سو سُلیما ن نے اور اُس کے ساتھ سارے اِسرا ئیل یعنی ایک بڑی جماعت نے جو حمات کے مدخل سے لے کر مِصر کی نہر تک کی حُدُود سے آئی تھی خُداوند ہمارے خُدا کے حضُور سات روز اور پِھر سات روز اَور یعنی چَودہ روز عِید منائی۔ {8:66} اور آٹھویں روز اُس نے اُن لوگوں کو رُخصت کر دِیا ۔ سو اُنہوں نے بادشاہ کو مُبارکباد دی اور اُس ساری نیکی کے باعِث جو خُداوند نے اپنے بندہ داؤُد اور اپنی قَوم اِسرا ئیل سے کی تھی اپنے ڈیروں کودِل میں خُوش اور مسرُور ہو کر لَوٹ گئے۔ {i9:1} خُدا سُلیما ن پر دوبارہ ظاہر ہوتا ہے {9:1} اور اَیسا ہُؤا کہ جب سُلیما ن خُداوند کا گھر اور شاہی محلّ بنا چُکا اور جو کُچھ سُلیما ن کرنا چاہتا تھا وہ سب ختم ہو گیا۔ {9:2} تو خُداوند سُلیما ن کو دُوسری بار دِکھائی دِیا جَیسے وہ جِبعُو ن میں دِکھائی دِیا تھا۔ {9:3} اور خُداوند نے اُس سے کہا مَیں نے تیری دُعا اور مُناجات جو تُو نے میرے حضُور کی ہے سُن لی اور اِس گھر میں جِسے تُو نے بنایا ہے اپنا نام ہمیشہ تک رکھنے کے لِئے مَیں نے اُسے مُقدّّس کِیا اور میری آنکھیں اور میرا دِل سدا وہاں لگے رہیں گے۔ {9:4} اب رہا تُو ۔ سو اگر تُو جَیسے تیرا باپ داؤُد چلا وَیسے ہی میرے حضُور خلُوصِ دِل اور راستی سے چل کر اُس سب کے مُطابِق جو مَیں نے تُجھے فرمایا عمل کرے اور میرے آئِین اور احکام کو مانے۔ {9:5} تو مَیں تیری سلطنت کا تخت اِسرا ئیل کے اُوپر ہمیشہ قائِم رکُھّوں گا جَیسا مَیں نے تیرے باپ داؤُد سے وعدہ کِیا اور کہا کہ تیری نسل میں اِسرا ئیل کے تخت پر بَیٹھنے کے لِئے آدمی کی کمی نہ ہو گی۔ {9:6} لیکن تُم ہو یا تُمہاری اَولاد ۔ اگر تُم میری پَیروی سے برگشتہ ہو جاؤ اور میرے احکام اور آئِین کو جو مَیں نے تُمہارے آگے رکھّے ہیں نہ مانو بلکہ جا کر اَور معبُودوں کی عِبادت کرنے اور اُن کو سِجدہ کرنے لگو۔ {9:7} تو مَیں اِسرا ئیل کو اُس مُلک سے جو مَیں نے اُن کو دِیا ہے کاٹ ڈالُوں گا اور اُس گھر کو جِسے مَیں نے اپنے نام کے لِئے مُقدّس کِیا ہے اپنی نظر سے دُور کر دُوں گا اور اِسرا ئیل سب قَوموں میں ضربُ المثل اور انگُشت نُما ہو گا۔ {9:8} اور اگرچہ یہ گھر اَیسا مُمتاز ہے تَو بھی ہر ایک جو اِس کے پاس سے گُذرے گا حَیران ہو گا اور سُسکارے گا اور وہ کہیں گے کہ خُداوند نے اِس مُلک اور اِس گھر سے اَیسا کیوں کِیا؟۔ {9:9} تب وہ جواب دیں گے اِس لِئے کہ اُنہوں نے خُداوند اپنے خُدا کو جو اُن کے باپ دادا کو مُلکِ مِصر سے نِکال لایا ترک کِیا اور غَیر معبُودوں کو تھام کر اُن کو سِجدہ کرنے اور اُن کی پرستِش کرنے لگے ۔ اِسی لِئے خُداوند نے اُن پر یہ ساری مُصِیبت نازِل کی۔ {i9:10} سُلیما ن کا حِیرام کے ساتھ مُعاہدہ {9:10} اور بِیس برس کے بعد جِن میں سُلیما ن نے وہ دونوں گھر یعنی خُداوند کا گھر اور شاہی محلّ بنائے اَیسا ہُؤا کہ۔ {9:11} چُونکہ صُور کے بادشاہ حِیرا م نے سُلیما ن کے لِئے دیودار کی اور صنَوبر کی لکڑی اور سونا اُس کی مرضی کے مُطابِق مُہیّا کِیا تھا اِس لِئے سُلیما ن بادشاہ نے گلِیل کے مُلک میں بِیس شہر حِیرا م کو دِئے۔ {9:12} اور حِیرا م اُن شہروں کو جو سُلیما ن نے اُسے دِئے تھے دیکھنے کے لِئے صُور سے نِکلا پر وہ اُسے پسند نہ آئے۔ {9:13} سو اُس نے کہا اَے میرے بھائی یہ کیا شہر ہیں جو تُو نے مُجھے دِئے؟ اور اُس نے اُن کا نام کبُو ل کا مُلک رکھّا جو آج تک چلا آتا ہے۔ {9:14} اور حِیرا م نے بادشاہ کے پاس ایک سَو بِیس قِنطار سونا بھیجا۔ {i9:15} سُلیما ن کی مزید کارگُزاریاں {9:15} اور سُلیما ن بادشاہ نے جو بیگاری لگائے تو اِسی لِئے کہ وہ خُداوند کے گھر اور اپنے محلّ کو اور مِلّو اور یروشلیِم کی شہر پناہ اور حصُور اور مجِدّو اور جزر کو بنائے۔ {9:16} اور مِصر کے بادشاہ فرعو ن نے چڑھائی کر کے اور جزر کو سر کر کے اُسے آگ سے پُھونک دِیا تھا اور اُن کنعانیوں کو جو اُس شہر میں بسے ہُوئے تھے قتل کر کے اُسے اپنی بیٹی کو جو سُلیما ن کی بِیوی تھی جہیز میں دے دِیا تھا۔ {9:17} سو سُلیما ن نے جزر اور بَیت حورو ن اسفل کو۔ {9:18} اور بعلات اور بیابان کے تمر کو بنایا جو مُلک کے اندر ہیں۔ {9:19} اور ذخِیروں کے سب شہروں کو جو سُلیما ن کے پاس تھے اور اپنے رتھوں کے لِئے شہروں کو اور اپنے سواروں کے لِئے شہروں کو اور جو کُچھ سُلیما ن نے اپنی مرضی سے یروشلیِم میں اور لُبنان میں اور اپنی مملکت کی ساری زمِین میں بنانا چاہا بنایا۔ {9:20} اور وہ سب لوگ جو اموریوں اور حِتّیوں اور فرزّیوں اور حوّیوں اور یبُوسیوں میں سے باقی رہ گئے تھے اور بنی اِسرائیل میں سے نہ تھے۔ {9:21} سو اُن کی اَولاد کو جو اُن کے بعد مُلک میں باقی رہی جِن کو بنی اِسرائیل پُورے طَور پر نابُود نہ کر سکے سُلیما ن نے غُلام بنا کر بیگار میں لگایا جَیسا آج تک ہے۔ {9:22} لیکن سُلیما ن نے بنی اِسرائیل میں سے کِسی کو غُلام نہ بنایا بلکہ وہ اُس کے جنگی مَرد اور مُلازِم اور اُمرا اور فَوجی سردار اور اُس کے رتھوں اور سواروں کے حاکِم تھے۔ {9:23} اور وہ خاص مَنصبدار جو سُلیما ن کے کام پر مُقرّر تھے پانچ سَو پچاس تھے ۔ یہ اُن لوگوں پر جو کام بنا رہے تھے سردار تھے۔ {9:24} اور فِرعو ن کی بیٹی داؤُد کے شہر سے اپنے اُس محلّ میں جو سُلیما ن نے اُس کے لِئے بنایا تھا آئی تب سُلیما ن نے مِلّو کو تعمِیر کِیا۔ {9:25} اور سُلیما ن سال میں تِین بار اُس مذبح پر جو اُس نے خُداوند کے لِئے بنایا تھا سوختنی قُربانیاں اور سلامتی کے ذبِیحے گُذرانتا تھا اور اُن کے ساتھ اُس مذبح پر جو خُداوند کے آگے تھا بخُور جلاتا تھا ۔ اِس طرح اُس نے اُس گھر کو تمام کِیا۔ {9:26} پِھر سُلیما ن بادشاہ نے عصیو ن جابر میں جو ادُوم کے مُلک میں بحرِ قُلز م کے کنارے ایلو ت کے پاس ہے جہازوں کا بیڑا بنایا۔ {9:27} اور حِیرا م نے اپنے مُلازِم سُلیما ن کے مُلازِموں کے ساتھ اُس بیڑے میں بھیجے ۔ وہ ملاّح تھے جو سمُندر سے واقِف تھے۔ {9:28} اور وہ اوفیر کو گئے اور وہاں سے چار سَو بِیس قِنطار سونا لے کر اُسے سُلیما ن بادشاہ کے پاس لائے۔ {i10:1} سبا کی مَلِکہ سُلیما ن سے مِلنے آتی ہے {10:1} اور جب سبا کی مَلِکہ نے خُداوند کے نام کی بابت سُلیما ن کی شُہرت سُنی تو وہ آئی تاکہ مُشکِل سوالوں سے اُسے آزمائے۔ {10:2} اور وہ بُہت بڑی جلَو کے ساتھ یروشلیِم میں آئی اور اُس کے ساتھ اُونٹ تھے جِن پر مصالِح اور بُہت سا سونا اور بیش بہا جواہِر لدے تھے اور جب وہ سُلیما ن کے پاس پُہنچی تو اُس نے اُن سب باتوں کے بارہ میں جو اُس کے دِل میں تِھیں اُس سے گُفتگُو کی۔ {10:3} سُلیما ن نے اُس کے سب سوالوں کا جواب دِیا ۔ بادشاہ سے کوئی بات اَیسی پوشِیدہ نہ تھی جو اُسے نہ بتائی۔ {10:4} اور جب سبا کی ملِکہ نے سُلیما ن کی ساری حِکمت اور اُس محلّ کو جو اُس نے بنایا تھا۔ {10:5} اور اُس کے دسترخوان کی نِعمتوں اور اُس کے مُلازِموں کی نشِست اور اُس کے خادِموں کی حاضِر باشی اور اُن کی پوشاک اور اُس کے ساقِیوں اور اُس سِیڑھی کو جِس سے وہ خُداوند کے گھر کو جاتا تھا دیکھا تو اُس کے ہوش اُڑ گئے۔ {10:6} اور اُس نے بادشاہ سے کہا کہ وہ سچّی خبر تھی جو مَیں نے تیرے کاموں اور تیری حِکمت کی بابت اپنے مُلک میں سُنی تھی۔ {10:7} تَو بھی مَیں نے وہ باتیں باور نہ کِیں جب تک خُودآ کر اپنی آنکھوں سے یہ دیکھ نہ لِیا اور مُجھے تو آدھا بھی نہیں بتایا گیا تھا کیونکہ تیری حِکمت اور اِقبالمندی اُس شُہرت سے جو مَیں نے سُنی بُہت زِیادہ ہے۔ {10:8} خُوش نصِیب ہیں تیرے لوگ اور خُوش نصِیب ہیں تیرے یہ مُلازِم جو برابر تیرے حضُور کھڑے رہتے اور تیری حِکمت سُنتے ہیں۔ {10:9} خُداوند تیرا خُدا مُبارک ہو جو تُجھ سے اَیسا خُوشنُود ہُؤا کہ تُجھے اِسرا ئیل کے تخت پر بِٹھایا ہے ۔ چُونکہ خُداوند نے اِسرا ئیل سے سدا مُحبّت رکھّی ہے اِس لِئے اُس نے تُجھے عدل اور اِنصاف کرنے کو بادشاہ بنایا۔ {10:10} اور اُس نے بادشاہ کو ایک سَو بِیس قِنطار سونا اور مصالِح کا بُہت بڑا انبار اور بیش بہا جواہِر دِئے اور جَیسے مصالِح سبا کی مَلِکہ نے سُلیما ن بادشاہ کو دِئے وَیسے پِھر کبھی اَیسی بُہتات کے ساتھ نہ آئے۔ {10:11} اور حِیرا م کا بیڑا بھی جو اوفِیر سے سونا لاتا تھا بڑی کثرت سے چندن کے درخت اور بیش بہا جواہِراوفِیر سے لایا۔ {10:12} سو بادشاہ نے خُداوند کے گھر اور شاہی محلّ کے لِئے چندن کی لکڑی کے سُتُون اور بربط اور گانے والوں کے لِئے سِتار بنائے۔ چندن کے اَیسے درخت نہ کبھی آئے تھے اور نہ کبھی آج کے دِن تک دِکھائی دِئے۔ {10:13} اور سُلیما ن بادشاہ نے سبا کی مَلِکہ کو سب کُچھ جِس کی وہ مُشتاق ہُوئی اور جو کُچھ اُس نے مانگا دِیا ۔ علاوہ اِس کے سُلیما ن نے اُس کو اپنی شاہانہ سخاوت سے بھی عِنایت کِیا ۔ پِھر وہ اپنے مُلازِموں سمیت اپنی مملکت کو لَوٹ گئی۔ {i10:14} سُلیما ن بادشاہ کی دَولت وثَروَت {10:14} اور جِتنا سونا ایک برس میں سُلیما ن کے پاس آتا تھا اُس کا وزن سونے کا چھ سَو چھیاسٹھ قِنطار تھا۔ {10:15} علاوہ اِس کے بیوپاریوں اور سَوداگروں کی تِجارت اور مِلی جُلی قَوموں کے سب سلاطِین اور مُلک کے صُوبہ داروں کی طرف سے بھی سونا آتا تھا۔ {10:16} اور سُلیما ن بادشاہ نے سونا گھڑ کر دو سَو ڈھالیں بنائِیں ۔ چھ سَو مِثقال سونا ایک ایک ڈھال میں لگا۔ {10:17} اور اُس نے گھڑے ہُوئے سونے کی تِین سَو سِپریں بنائِیں ۔ ایک ایک سِپر میں ڈیڑھ سیر سونا لگا اور بادشاہ نے اُن کو لُبنانی بَن کے گھر میں رکھّا۔ {10:18} ماسِوا اِن کے بادشاہ نے ہاتھی دانت کا ایک بڑا تخت بنایا اور اُس پر سب سے چوکھا سونا منڈھا۔ {10:19} اُس تخت میں چھ سِیڑِھیاں تھِیں اور تخت کے اُوپر کا حِصّہ پِیچھے سے گول تھا اور بَیٹھنے کی جگہ کی دونوں طرف ٹیکیں تِھیں اور ٹیکوں کے پاس دو شیر کھڑے تھے۔ {10:20} اور اُن چھ سِیڑِھیوں کے اِدھر اور اُدھر بارہ شیر کھڑے تھے ۔ کِسی سلطنت میں اَیسا کبھی نہیں بنا۔ {10:21} اور سُلیما ن بادشاہ کے پِینے کے سب برتن سونے کے تھے اور لُبنانی بَن کے گھر کے بھی سب برتن خالِص سونے کے تھے ۔ چاندی کا ایک بھی نہ تھا کیونکہ سُلیما ن کے ایّام میں اِس کی کُچھ قدر نہ تھی۔ {10:22} کیونکہ بادشاہ کے پاس سمُندر میں حِیرا م کے بیڑے کے ساتھ ایک ترسِیسی بیڑا بھی تھا ۔ یہ ترسِیسی بیڑا تِین برس میں ایک بار آتا تھا اور سونا اور چاندی اور ہاتھی دانت اور بندر اور مور لاتا تھا۔ {10:23} سو سُلیما ن بادشاہ دَولت اور حِکمت میں زمِین کے سب بادشاہوں پر سبقت لے گیا۔ {10:24} اور سارا جہان سُلیما ن کے دِیدار کا طالِب تھا تاکہ اُس کی حِکمت کو جو خُدا نے اُس کے دِل میں ڈالی تھی سُنے۔ {10:25} اور اُن میں سے ہر ایک آدمی چاندی کے برتن اور سونے کے برتن اور کپڑے اور ہتھیار اور مصالِح اور گھوڑے اور خچّر ہدیہ کے طَور پر اپنے حِصّہ کے مُوافِق لاتا تھا۔ {10:26} اور سُلیما ن نے رتھ اور سوار اِکٹّھے کر لِئے ۔ اُس کے پاس ایک ہزار چار سَو رتھ اور بارہ ہزار سوار تھے جِن کو اُس نے رتھوں کے شہروں میں اور بادشاہ کے ساتھ یروشلیِم میں رکھّا۔ {10:27} اور بادشاہ نے یروشلیِم میں اِفراط کی وجہ سے چاندی کو تو اَیسا کر دِیا جَیسے پتّھر اور دیوداروں کو اَیسا جَیسے نشیب کے مُلک کے گولر کے درخت ہوتے ہیں۔ {10:28} اور جو گھوڑے سُلیما ن کے پاس تھے وہ مِصر سے منگائے گئے تھے اور بادشاہ کے سَوداگر ایک ایک جُھنڈ کی قِیمت لگا کر اُن کے جُھنڈ کے جُھنڈ لِیا کرتے تھے۔ {10:29} اور ایک رتھ چاندی کی چھ سَو مِثقال میں آتا اور مِصر سے روانہ ہوتا اور گھوڑا ڈیڑھ سَو مِثقال میں آتا تھا اور اَیسے ہی حِتّیوں کے سب بادشاہوں اور ارامی بادشاہوں کے لِئے وہ اِن کو اُن ہی کے ذرِیعہ سے منگاتے تھے۔ {i11:1} سُلیما ن خُدا سے مُنحرف ہوتا ہے {11:1} اور سُلیما ن بادشاہ فرعو ن کی بیٹی کے علاوہ بُہت سی اجنبی عَورتوں سے یعنی موآبی ۔ عمُّونی ۔ ادُومی ۔ صَیدانی اور حِتّی عَورتوں سے مُحبّت کرنے لگا۔ {11:2} یہ اُن قَوموں کی تِھیں جِن کی بابت خُداوند نے بنی اِسرائیل سے کہا تھا کہ تُم اُن کے بِیچ نہ جانا اور نہ وہ تُمہارے بِیچ آئیں کیونکہ وہ ضرُور تُمہارے دِلوں کو اپنے دیوتاؤں کی طرف مائِل کر لیں گی ۔ سُلیما ن اِن ہی کے عِشق کا دَم بھرنے لگا۔ {11:3} اور اُس کے پاس سات سَو شاہزادِیاں اُس کی بِیویاں اور تِین سَو حرمیں تِھیں اور اُس کی بِیوِیوں نے اُس کے دِل کو پھیر دِیا۔ {11:4} کیونکہ جب سُلیما ن بُڈّھا ہو گیا تو اُس کی بِیویوں نے اُس کے دِل کو غَیر معبُودوں کی طرف مائِل کر لِیا اور اُس کا دِل خُداوند اپنے خُدا کے ساتھ کامِل نہ رہا جَیسا اُس کے باپ داؤُد کا دِل تھا۔ {11:5} کیونکہ سُلیما ن صَیدانِیوں کی دیوی عستارا ت اور عمُّونیوں کے نفرتی مِلکوم کی پَیروی کرنے لگا۔ {11:6} اور سُلیما ن نے خُداوند کے آگے بدی کی اور اُس نے خُداوند کی پُوری پَیروی نہ کی جَیسی اُس کے باپ داؤُد نے کی تھی۔ {11:7} پِھر سُلیما ن نے موآبیوں کے نفرتی کموس کے لِئے اُس پہاڑ پر جو یروشلیِم کے سامنے ہے اور بنی عمُّون کے نفرتی مو لک کے لِئے بُلند مقام بنا دِیا۔ {11:8} اُس نے اَیسا ہی اپنی سب اجنبی بِیویوں کی خاطِر کِیا جو اپنے دیوتاؤں کے حضُور بخُور جلاتی اور قُربانی گُذرانتی تِھیں۔ {11:9} اور خُداوند سُلیما ن سے ناراض ہُؤا کیونکہ اُس کا دِل خُداوند اِسرا ئیل کے خُدا سے پِھر گیا تھا جِس نے اُسے دو بار دِکھائی دے کر۔ {11:10} اُس کو اِس بات کا حُکم کِیا تھا کہ وہ غَیر معبُودوں کی پَیروی نہ کرے پر اُس نے وہ بات نہ مانی جِس کا حُکم خُداوند نے دِیا تھا۔ {11:11} اِس سبب سے خُداوند نے سُلیما ن کو کہا چُونکہ تُجھ سے یہ فِعل ہُؤا اور تُو نے میرے عہد اور میرے آئِین کو جِن کا مَیں نے تُجھے حُکم دِیا نہیں مانا اِس لِئے مَیں سلطنت کو ضرُور تُجھ سے چِھین کر تیرے خادِم کو دُوں گا۔ {11:12} تَو بھی تیرے باپ داؤُد کی خاطِر مَیں تیرے ایّام میں یہ نہیں کرُوں گا بلکہ اُسے تیرے بیٹے کے ہاتھ سے چِھینُوں گا۔ {11:13} پِھر بھی مَیں ساری سلطنت کو نہیں چِھین لُوں گا بلکہ اپنے بندہ داؤُد کی خاطِر اور یروشلیِم کی خاطِر جِسے میں نے چُن لِیا ہے ایک قبِیلہ تیرے بیٹے کو دُوں گا۔ {i11:14} سُلیما ن کے دُشمن {11:14} سو خُداوند نے ادُومی ہدد کو سُلیما ن کا مُخالِف بنا کر کھڑا کِیا ۔ یہ ادُو م کی شاہی نسل سے تھا۔ {11:15} کیونکہ جب داؤُد ادوُ م میں تھا اور لشکر کا سردار یُوآب ادُو م میں ہر ایک مَرد کو قتل کر کے اُن مقتُولوں کو دفن کرنے گیا۔ {11:16} (کیونکہ یُوآب اور سب اِسرائیلی چھ مہِینے تک وہِیں رہے جب تک کہ اُس نے ادُوم میں ہر ایک مَرد کو قتل نہ کر ڈالا)۔ {11:17} تو ہدد کئی ایک ادُومِیو ں کے ساتھ جو اُس کے باپ کے مُلازِم تھے مِصر کو جانے کو بھاگ نِکلا ۔ اُس وقت ہدد چھوٹا لڑکا ہی تھا۔ {11:18} اور وہ مِد یان سے نِکل کر فاران میں آئے اور فاران سے لوگ ساتھ لے کر شاہِ مِصر فِرعو ن کے پاس مِصر میں گئے ۔ اُس نے اُس کو ایک گھر دِیا اور اُس کے لِئے رسد مُقرّر کی اور اُسے جاگِیر دی۔ {11:19} اور ہدد کو فِرعو ن کے حضُور اِتنا رسُوخ حاصِل ہُؤا کہ اُس نے اپنی سالی یعنی مَلِکہ تحفنیس کی بہن اُسی کو بیاہ دی۔ {11:20} اور تحفنیس کی بہن کے اُس سے اُس کا بیٹا جنُو بت پَیدا ہُؤا جِس کا دُودھ تحفنیس نے فِرعو ن کے محلّ میں چُھڑایا اور جنُوبت فرعو ن کے بیٹوں کے ساتھ فرعو ن کے محلّ میں رہا۔ {11:21} سو جب ہدد نے مِصر میں سُنا کہ داؤُد اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور لشکر کا سردار یُوآب بھی مَر گیا ہے تو ہدد نے فرعو ن سے کہا مُجھے رُخصت کر دے تاکہ مَیں اپنے مُلک کو چلا جاؤُں۔ {11:22} تب فرعو ن نے اُس سے کہا بھلا تُجھے میرے پاس کِس چِیز کی کمی ہُوئی کہ تُو اپنے مُلک کو جانے کے درپَے ہے؟ اُس نے کہا کُچھ نہیں پِھر بھی تُو مُجھے جِس طرح ہو رُخصت ہی کر دے۔ {11:23} اور خُدا نے اُس کے لِئے ایک اَور مُخالِف الِید ع کے بیٹے رزو ن کو کھڑا کِیا جو اپنے آقا ضوبا ہ کے بادشاہ ہدد عزر کے پاس سے بھاگ گیا تھا۔ {11:24} اور اُس نے اپنے پاس لوگ جمع کر لِئے اور جب داؤُد نے ضوبا ہ والوں کو قتل کِیا تو وہ ایک فَوج کا سردار ہو گیا اور وہ دمِشق کو جا کر وہِیں رہنے اور دمِشق میں سلطنت کرنے لگے۔ {11:25} سو ہدد کی شرارت کے علاوہ یہ بھی سُلیما ن کی ساری عُمر اِسرا ئیل کا دُشمن رہا اور اُس نے اِسرا ئیل سے نفرت رکھّی اور ارام پر حُکومت کرتا رہا۔ {i11:26} یرُبعام کے ساتھ خُداکا وعدہ {11:26} اور صرِید ہ کے افرائِیمی نبا ط کا بیٹا یرُبعا م جو سُلیما ن کا مُلازِم تھا اور جِس کی ماں کا نام جو بیوہ تھی صرُوعہ تھا اُس نے بھی بادشاہ کے خِلاف اپنا ہاتھ اُٹھایا۔ {11:27} اور بادشاہ کے خِلاف اُس کے ہاتھ اُٹھانے کا یہ سبب ہُؤا کہ بادشاہ مِلّو کو بناتا تھا اور اپنے باپ داؤُد کے شہر کے رخنہ کی مرمّت کرتا تھا۔ {11:28} اور وہ شخص یرُبعا م ایک زبردست سُورما تھا اور سُلیما ن نے اُس جوان کو دیکھا کہ مِحنتی ہے ۔ سو اُس نے اُسے بنی یُوسف کے سارے کام پر مُختار بنا دِیا۔ {11:29} اُس وقت جب یرُبعا م یروشلیِم سے نِکل کر جا رہا تھا تو سَیلانی اخیاہ نبی اُسے راہ میں مِلا اور اخیاہ ایک نئی چادر اوڑھے ہُوئے تھا ۔ یہ دونوں مَیدان میں اکیلے تھے۔ {11:30} سو اخیاہ نے اُس نئی چادر کو جو اُس پر تھی لے کراُس کے بارہ ٹُکڑے پھاڑے۔ {11:31} اور اُس نے یرُبعا م سے کہا کہ تُو اپنے لِئے دس ٹُکڑے لے لے کیونکہ خُداوند اِسرا ئیل کا خُدا یُوں کہتا ہے کہ دیکھ مَیں سُلیما ن کے ہاتھ سے سلطنت چِھین لُوں گا اور دس قبِیلے تُجھے دُوں گا۔ {11:32} (لیکن میرے بندہ داؤُد کی خاطِر اور یروشلیِم یعنی اُس شہر کی خاطِر جِسے مَیں نے بنی اِسرائیل کے سب قبِیلوں میں سے چُن لِیا ہے ایک قبِیلہ اُس کے پاس رہے گا)۔ {11:33} کیونکہ اُنہوں نے مُجھے ترک کِیا اور صَیدانِیوں کی دیوی عستارا ت اور موآبیوں کے دیوتا کمو س اور بنی عمُّون کے دیوتا مِلکوم کی پرستِش کی ہے اور میری راہوں پر نہ چلے کہ وہ کام کرتے جو میری نظر میں بھلا تھا اور میرے آئِین اور احکام کو مانتے جَیسا اُس کے باپ داؤُد نے کِیا۔ {11:34} پِھر بھی مَیں ساری مملکت اُس کے ہاتھ سے نہیں لے لُوں گا بلکہ اپنے بندہ داؤُد کی خاطِر جِسے مَیں نے اِس لِئے چُن لِیا کہ اُس نے میرے احکام اور آئِین مانے۔ مَیں اِس کی عُمر بھر اِسے پیشوا بنائے رکُھّوں گا۔ {11:35} پر اُس کے بیٹے کے ہاتھ سے سلطنت یعنی دس قبِیلوں کو لے کر اُن کو تُجھے دُوں گا۔ {11:36} اور اُس کے بیٹے کو ایک قبِیلہ دُوں گا تاکہ میرے بندہ داؤُد کا چراغ یروشلیِم یعنی اُس شہر میں جِسے مَیں نے اپنا نام رکھنے کے لِئے چُن لِیا ہے ہمیشہ میرے آگے رہے۔ {11:37} اور مَیں تُجھے لُوں گا اور تُو اپنے دِل کی پُوری خواہش کے مُوافِق سلطنت کرے گا اور اِسرا ئیل کا بادشاہ ہو گا۔ {11:38} اور اَیسا ہو گا کہ اگر تُو اُن سب باتوں کو جِن کا مَیں تُجھے حُکم دُوں سُنے اور میری راہوں پر چلے اور جو کام میری نظر میں بھلا ہے اُس کو کرے اور میرے آئِین اور احکام کو مانے جَیسا میرے بندہ داؤُد نے کِیا تو مَیں تیرے ساتھ رہُوں گا اور تیرے لِئے ایک پایدار گھر بناؤُں گا جَیسا مَیں نے داؤُد کے لِئے بنایا اور اِسرا ئیل کو تُجھے دے دُوں گا۔ {11:39} اور مَیں اِسی سبب سے داؤُد کی نسل کو دُکھ دُوں گا پر ہمیشہ تک نہیں۔ {11:40} اِسی لِئے سُلیما ن یرُبعا م کے قتل کے درپَے ہُؤا پر یرُبعا م اُٹھ کر مِصر کو شاہِ مِصر سِیساق کے پاس بھاگ گیا اور سُلیما ن کی وفات تک مِصر میں رہا۔ {i11:41} سُلیما ن کی وفات {11:41} اور سُلیما ن کا باقی حال اور سب کُچھ جو اُس نے کِیااور اُس کی حِکمت سو کیا وہ سُلیما ن کے احوال کی کِتاب میں درج نہیں؟۔ {11:42} اور وہ مُدّت جِس میں سُلیما ن نے یروشلیِم میں سب اِسرا ئیل پر سلطنت کی چالِیس برس کی تھی۔ {11:43} اور سُلیما ن اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اپنے باپ داؤُد کے شہر میں دفن ہُؤا اور اُس کا بیٹا رحُبعا م اُس کی جگہ بادشاہ ہُؤا۔ {i12:1} شِمالی قبِیلے بغاوت کرتے ہیں {12:1} اور رحُبعا م سِکم کو گیا کیونکہ سارا اِسرا ئیل اُسے بادشاہ بنانے کو سِکم کو گیا تھا۔ {12:2} اور جب نباط کے بیٹے یرُبعا م نے جو ہنُوز مِصر میں تھا یہ سُنا (کیونکہ یرُبعا م سُلیما ن بادشاہ کے حضُور سے بھاگ گیا تھا اور وہ مِصر میں رہتا تھا۔ {12:3} سو اُنہوں نے لوگ بھیج کر اُسے بُلوایا) تو یرُبعا م اور اِسرا ئیل کی ساری جماعت آ کر رحُبعا م سے یُوں کہنے لگی۔ {12:4} کہ تیرے باپ نے ہمارا جُؤا سخت کر دِیا تھا سو تُو اب اپنے باپ کی اُس سخت خِدمت کو اور اُس بھاری جُوئے کو جو اُس نے ہم پر رکھّا ہلکا کر دے اور ہم تیری خِدمت کریں گے۔ {12:5} تب اُس نے اُن سے کہا ابھی تُم تِین روز کے لِئے چلے جاؤ تب پِھر میرے پاس آنا ۔ سو وہ لوگ چلے گئے۔ {12:6} اور رحُبعا م بادشاہ نے اُن عُمر رسِیدہ لوگوں سے جو اُس کے باپ سُلیما ن کے جِیتے جی اُس کے حضُور کھڑے رہتے تھے مشوَرت لی اور کہا کہ اِن لوگوں کو جواب دینے کے لِئے تُم مُجھے کیا صلاح دیتے ہو؟۔ {12:7} اُنہوں نے اُس سے یہ کہا کہ اگر تُو آج کے دِن اِس قَوم کا خادِم بن جائے اور اُن کی خِدمت کرے اور اُن کو جواب دے اور اُن سے مِیٹھی باتیں کرے تو وہ سدا تیرے خادِم بنے رہیں گے۔ {12:8} پر اُس نے اُن عُمر رسِیدہ لوگوں کی مشوَرت جو اُنہوں نے اُسے دی چھوڑ کر اُن جوانوں سے جو اُس کے ساتھ بڑے ہُوئے تھے اور اُس کے حضُور کھڑے تھے مشورَت لی۔ {12:9} اور اُن سے پُوچھا کہ تُم کیا صلاح دیتے ہو تاکہ ہم اِن لوگوں کو جواب دے سکیں جِنہوں نے مُجھ سے یُوں کہا ہے کہ اُس جُوئے کو جو تیرے باپ نے ہم پر رکھّا ہلکا کر دے؟۔ {12:10} اِن جوانوں نے جو اُس کے ساتھ بڑے ہُوئے تھے اُس سے کہا تُو اُن لوگوں کو یُوں جواب دینا جِنہوں نے تُجھ سے کہا ہے کہ تیرے باپ نے ہمارے جُوئے کو بھاری کِیا تُو اُس کو ہمارے لِئے ہلکا کر دے ۔ سو تُو اُن سے یُوں کہنا کہ میری چھنگلی میرے باپ کی کمر سے بھی موٹی ہے۔ {12:11} اور اب گو میرے باپ نے بھاری جُؤا تُم پر رکھّا ہے تَو بھی مَیں تُمہا رے جُوئے کو اَور زِیادہ بھاری کرُوں گا ۔ میرے باپ نے تُم کو کوڑوں سے ٹِھیک کِیا مَیں تُم کو بِچھُّوؤں سے ٹِھیک بناؤُں گا۔ {12:12} سو یرُبعا م اور سب لوگ تِیسرے دِن رحُبعا م کے پاس حاضِر ہُوئے جَیسا بادشاہ نے اُن کو حُکم دِیا تھا کہ تِیسرے دِن میرے پاس پِھر آنا۔ {12:13} اور بادشاہ نے اُن لوگوں کو سخت جواب دِیا اور عُمر رسِیدہ لوگوں کی اُس مشورَت کو جو اُنہوں نے اُسے دی تھی ترک کِیا۔ {12:14} اور جوانوں کی صلاح کے مُوافِق اُن سے یہ کہا کہ میرے باپ نے تو تُم پر بھاری جُؤا رکھّا لیکن مَیں تُمہارے جُوئے کو زِیادہ بھاری کرُوں گا ۔ میرے باپ نے تُم کو کوڑوں سے ٹِھیک کِیا پر مَیں تُم کو بِچھُّوؤں سے ٹِھیک بناؤُں گا۔ {12:15} سو بادشاہ نے لوگوں کی نہ سُنی کیونکہ یہ مُعاملہ خُداوند کی طرف سے تھا تاکہ خُداوند اپنی بات کو جو اُس نے سَیلانی اخیاہ کی معرفت نباط کے بیٹے یرُبعا م سے کہی تھی پُورا کرے۔ {12:16} اور جب سارے اِسرا ئیل نے دیکھا کہ بادشاہ نے اُن کی نہ سُنی تو اُنہوں نے بادشاہ کو یُوں جواب دِیا کہ داؤُد میں ہمارا کیا حِصّہ ہے؟ یسّی کے بیٹے میں ہماری مِیراث نہیں ۔ اَے اِسرا ئیل اپنے ڈیروں کو چلے جاؤ اور اب اَے داؤُد تُو اپنے گھر کو سنبھال ۔ سو اِسرائیلی اپنے ڈیروں کو چل دِئے۔ {12:17} لیکن جِتنے اِسرائیلی یہُوداہ کے شہروں میں رہتے تھے اُن پر رحُبعا م سلطنت کرتا رہا۔ {12:18} پِھر رحُبعا م بادشاہ نے ادُورا م کو بھیجا جو بیگارِیوں کے اُوپر تھا اور سارے اِسرا ئیل نے اُسے سنگسار کِیا اور وہ مَر گیا ۔ تب رحُبعا م بادشاہ نے اپنے رتھ پر سوار ہونے میں جلدی کی تاکہ یروشلیِم کو بھاگ جائے۔ {12:19} یُوں اِسرا ئیل داؤُد کے گھرانے سے باغی ہُؤا اور آج تک ہے۔ {12:20} اور جب سارے اِسرا ئیل نے سُنا کہ یرُبعا م لَوٹ آیا ہے تو اُنہوں نے لوگ بھیج کر اُسے جماعت میں بُلوایا اور اُسے سارے اِسرا ئیل کا بادشاہ بنایا اور یہُوداہ کے قبِیلہ کے سِوا کِسی نے داؤُد کے گھرانے کی پَیروی نہ کی۔ {i12:21} سمعیاہ کی نبُوّت {12:21} اور جب رحُبعا م یروشلیِم میں پُہنچا تو اُس نے یہُوداہ کے سارے گھرانے اور بِنیمِین کے قبِیلہ کو جو سب ایک لاکھ اسّی ہزار چُنے ہُوئے جنگی مَرد تھے اِکٹّھا کِیا تاکہ وہ اِسرا ئیل کے گھرانے سے لڑ کر سلطنت کو پِھرسُلیما ن کے بیٹے رحُبعا م کے قبضہ میں کرا دیں۔ {12:22} لیکن سمعیا ہ کو جومَردِ خُدا تھا خُدا کا یہ پَیغام آیا۔ {12:23} کہ یہُودا ہ کے بادشاہ سُلیما ن کے بیٹے رحُبعا م اور یہُوداہ اور بِنیمِین کے سارے گھرانے اور قَوم کے باقی لوگوں سے کہہ کہ۔ {12:24} خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ تُم چڑھائی نہ کرو اور نہ اپنے بھائِیوں بنی اِسرائیل سے لڑو بلکہ ہر شخص اپنے گھر کو لَوٹے کیونکہ یہ بات میری طرف سے ہے ۔ سو اُنہوں نے خُداوند کی بات مانی اور خُداوند کے حُکم کے مُطابِق لَوٹے اور اپنا راستہ لِیا۔ {i12:25} یرُبعام خُدا سے مُنحرف ہوتاہے {12:25} تب یرُبعا م نے افرائِیم کے کوہستانی مُلک میں سِکم کو تعمِیر کِیا اور اُس میں رہنے لگا اور وہاں سے نِکل کر اُس نے فنوا یل کو تعمِیرکِیا۔ {12:26} اور یرُبعا م نے اپنے دِل میں کہا کہ اب سلطنت داؤُد کے گھرانے میں پِھر چلی جائے گی۔ {12:27} اگر یہ لوگ یروشلیِم میں خُداوند کے گھر میں قُربانی گُذراننے کو جایا کریں تو اِن کے دِل اپنے مالِک یعنی یہُوداہ کے بادشاہ رحُبعا م کی طرف مائِل ہوں گے اور وہ مُجھ کو قتل کر کے شاہِ یہُودا ہ رحُبعا م کی طرف پِھر جائیں گے۔ {12:28} اِس لِئے اُس بادشاہ نے مشورَت لے کر سونے کے دو بچھڑے بنائے اور لوگوں سے کہا یروشلیِم کو جانا تُمہاری طاقت سے باہر ہے ۔ اَے اِسرا ئیل اپنے دیوتاؤں کو دیکھ جو تُجھے مُلک مِصر سے نِکال لائے۔ {12:29} اور اُس نے ایک کو بَیت ا یل میں قائِم کِیا اور دُوسرے کو دان میں رکھّا۔ {12:30} اور یہ گُناہ کا باعِث ٹھہرا کیونکہ لوگ اُس ایک کی پرستِش کرنے کے لِئے دان تک جانے لگے۔ {12:31} اور اُس نے اُونچی جگہوں کے گھر بنائے اور عوام میں سے جو بنی لاوی نہ تھے کاہِن بنائے۔ {i12:32} بَیت ایل میں پرستِش کی مذمّت {12:32} اور یرُبعا م نے آٹھویں مہِینے کی پندرھوِیں تارِیخ کے لِئے اُس عِید کی طرح جو یہُودا ہ میں ہوتی ہے ایک عِید ٹھہرائی اور اُس مذبح کے پاس گیا ۔ اَیسا ہی اُس نے بَیت ایل میں کِیا اور اُن بچھڑوں کے لِئے جو اُس نے بنائے تھے قُربانی گُذرانی اور اُس نے بَیت ا یل میں اپنے بنائے ہُوئے اُونچے مقاموں کے لِئے کاہِنوں کو رکھّا۔ {12:33} اور آٹھویں مہِینے کی پندرھوِیں تارِیخ کو یعنی اُس مہِینے میں جِسے اُس نے اپنے ہی دِل سے ٹھہرایا تھا وہ اُس مذبح کے پاس جو اُس نے بَیت ا یل میں بنایا تھا گیا اور بنی اِسرائیل کے لِئے عِید ٹھہرائی اور بخُور جلانے کو مذبح کے پاس گیا۔ {13:1} اور دیکھو خُداوند کے حُکم سے ایک مَردِ خُدا یہُودا ہ سے بَیت ا یل میں آیا اور یرُبعا م بخُور جلانے کو مذبح کے پاس کھڑا تھا۔ {13:2} اور وہ خُداوند کے حُکم سے مذبح کے خِلاف چِلاّ کر کہنے لگا اَے مذبح! اَے مذبح! خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ دیکھ داؤُد کے گھرانے سے ایک لڑکا بنام یُوسیا ہ پَیدا ہو گا ۔ سو وہ اُونچے مقاموں کے کاہِنوں کی جو تُجھ پر بخُور جلاتے ہیں تُجھ پر قُربانی کرے گا اور وہ آدمِیوں کی ہڈِّیاں تُجھ پر جلائیں گے۔ {13:3} اور اُس نے اُسی دِن ایک نِشان دِیا اور کہا وہ نِشان جو خُداوند نے بتایا ہے یہ ہے کہ دیکھو مذبح پھٹ جائے گا اور وہ راکھ جو اُس پر ہے گِر جائے گی۔ {13:4} اور اَیسا ہُؤا کہ جب بادشاہ نے اُس مَردِ خُدا کا کلام جو اُس نے بَیت ا یل میں مذبح کے خِلاف چِلاّ کر کہا تھا سُنا تو یرُبعا م نے مذبح پر سے اپنا ہاتھ لمباکِیا اور کہا کہ اُسے پکڑ لو اور اُس کا وہ ہاتھ جو اُس نے اُس کی طرف بڑھایا تھا خُشک ہو گیا اَیسا کہ وہ اُسے پِھر اپنی طرف کھینچ نہ سکا۔ {13:5} اور اُس نِشان کے مُطابِق جو اُس مَردِ خُدا نے خُداوند کے حُکم سے دِیا تھا وہ مذبح بھی پھٹ گیا اور راکھ مذبح پر سے گِر گئی۔ {13:6} تب بادشاہ نے اُس مَردِ خُدا سے کہا کہ اب خُداوند اپنے خُدا سے اِلتجا کر اور میرے لِئے دُعا کر تاکہ میرا ہاتھ میرے لِئے پِھر بحال ہو جائے۔ تب اُس مَردِ خُدا نے خُداوند سے اِلتجا کی اور بادشاہ کا ہاتھ اُس کے لِئے بحال ہُؤا اور جَیسا پہلے تھا وَیسا ہی ہو گیا۔ {13:7} اور بادشاہ نے اُس مَردِ خُدا سے کہا کہ میرے ساتھ گھر چل اور تازہ دَم ہو اور مَیں تُجھے اِنعام دُوں گا۔ {13:8} اُس مَردِ خُدا نے بادشاہ کو جواب دِیا کہ اگر تُو اپنا آدھا گھر بھی مُجھے دے تَو بھی مَیں تیرے ساتھ نہیں جانے کا اور نہ مَیں اِس جگہ روٹی کھاؤُں اور نہ پانی پِیُوں۔ {13:9} کیونکہ خُداوند کا حُکم مُجھے تاکِید کے ساتھ یہ ہُؤا ہے کہ تُو نہ روٹی کھانا نہ پانی پِینا نہ اُس راہ سے لَوٹنا جِس سے تُو جائے۔ {13:10} سو وہ دُوسرے راستہ سے گیا اور جِس راہ سے بَیت ا یل میں آیا تھا اُس سے نہ لَوٹا۔ {i13:11} بَیت ایل کا بُڈّھا نبی {13:11} اور بَیت ا یل میں ایک بُڈّھا نبی رہتا تھا ۔ سو اُس کے بیٹوں میں سے ایک نے آ کر وہ سب کام جو اُس مَردِ خُدا نے اُس روز بَیت ا یل میں کِئے اُسے بتائے اور جو باتیں اُس نے بادشاہ سے کہی تِھیں اُن کو بھی اپنے باپ سے بیان کِیا۔ {13:12} اور اُن کے باپ نے اُن سے کہا وہ کِس راہ سے گیا؟ اُس کے بیٹوں نے دیکھ لِیا تھا کہ وہ مَردِ خُدا جو یہُودا ہ سے آیا تھا کِس راہ سے گیا ہے۔ {13:13} سو اُس نے اپنے بیٹوں سے کہا میرے لِئے گدھے پر زِین کس دو ۔ پس اُنہوں نے اُس کے لِئے گدھے پر زِین کِس دِیا اور وہ اُس پر سوار ہُؤا۔ {13:14} اور اُس مَردِ خُدا کے پِیچھے چلا اور اُسے بلُوط کے ایک درخت کے نِیچے بَیٹھے پایا ۔ تب اُس نے اُس سے کہا کیا تُو وُہی مَردِ خُدا ہے جو یہُودا ہ سے آیا تھا؟ اُس نے کہا ہاں۔ {13:15} تب اُس نے اُس سے کہا میرے ساتھ گھر چل اور روٹی کھا۔ {13:16} اُس نے کہا مَیں تیرے ساتھ لَوٹ نہیں سکتا اور نہ تیرے گھر جا سکتا ہُوں اور مَیں تیرے ساتھ اِس جگہ نہ روٹی کھاؤُں نہ پانی پِیُوں۔ {13:17} کیونکہ خُداوند کا مُجھ کو یُوں حُکم ہُؤا ہے کہ تُو وہاں نہ روٹی کھانا نہ پانی پِینا اور نہ اُس راستہ سے ہو کر لَوٹنا جِس سے تُو جائے۔ {13:18} تب اُس نے اُس سے کہا مَیں بھی تیری طرح نبی ہُوں اور خُداوند کے حُکم سے ایک فرِشتہ نے مُجھ سے یہ کہا کہ اُسے اپنے ساتھ اپنے گھر میں لَوٹا کر لے آ تاکہ وہ روٹی کھائے اور پانی پِئے لیکن اُس نے اُس سے جُھوٹ کہا۔ {13:19} سو وہ اُس کے ساتھ لَوٹ گیا اور اُس کے گھر میں روٹی کھائی اور پانی پِیا۔ {13:20} اور جب وہ دسترخوان پر بَیٹھے تھے تو خُداوند کا کلام اُس نبی پر جو اُسے لَوٹا لایا تھا نازِل ہُؤا۔ {13:21} اور اُس نے اُس مَردِ خُدا سے جو یہُودا ہ سے آیا تھا چِلاّ کر کہا خُداوند یُوں فرماتا ہے اِس لِئے کہ تُو نے خُداوند کے کلام سے نافرمانی کی اور اُس حُکم کو نہیں مانا جو خُداوند تیرے خُدا نے تُجھے دِیا تھا۔ {13:22} بلکہ تُو لَوٹ آیا اور تُو نے اُسی جگہ جِس کی بابت خُداوند نے تُجھے فرمایا تھا کہ نہ روٹی کھانا نہ پانی پِینا روٹی بھی کھائی اور پانی بھی پِیا سو تیری لاش تیرے باپ دادا کی قبر تک نہیں پُہنچے گی۔ {13:23} اور جب وہ روٹی کھا چُکا اور پانی پی چُکا تو اُس نے اُس کے لِئے یعنی اُس نبی کے لِئے جِسے وہ لَوٹا لایا تھا گدھے پر زِین کس دِیا۔ {13:24} اور جب وہ روانہ ہُؤا تو راہ میں اُسے ایک شیر مِلا جِس نے اُسے مار ڈالا سو اُس کی لاش راہ میں پڑی رہی اور گدھا اُس کے پاس کھڑا رہا اور شیر بھی اُس لاش کے پاس کھڑا رہا۔ {13:25} اور لوگ اُدھر سے گُذرے اور دیکھا کہ لاش راہ میں پڑی ہے اور شیر لاش کے پاس کھڑا ہے ۔ سو اُنہوں نے اُس شہر میں جہاں وہ بُڈّھا نبی رہتا تھا یہ بتایا۔ {13:26} اور جب اُس نبی نے جو اُسے راہ سے لَوٹا لایا تھا یہ سُنا تو کہا یہ وُہی مَردِ خُدا ہے جِس نے خُداوند کے کلام کی نافرمانی کی اِسی لِئے خُداوند نے اُس کو شیرکے حوالہ کر دِیا اور اُس نے خُداوند کے اُس سُخن کے مُطابِق جو اُس نے اُس سے کہا تھا اُسے پھاڑا اور مار ڈالا۔ {13:27} پِھر اُس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میرے لِئے گدھے پر زِین کس دو ۔ سو اُنہوں نے زِین کس دِیا۔ {13:28} تب وہ گیا اور اُس نے اُس کی لاش راہ میں پڑی ہُوئی اور گدھے اور شیر کو لاش کے پاس کھڑے پایا کیونکہ شیر نے نہ لاش کو کھایا اور نہ گدھے کوپھاڑا تھا۔ {13:29} سو اُس نبی نے اُس مَردِ خُدا کی لاش اُٹھا کر اُسے گدھے پر رکھّا اور لے آیا اور وہ بُڈّھا نبی اُس پر ماتم کرنے اور اُسے دفن کرنے کو اپنے شہر میں آیا۔ {13:30} اور اُس نے اُس کی لاش کو اپنی قبر میں رکھّا اور اُنہوں نے اُس پر ماتم کِیا اور کہا ہائے میرے بھائی!۔ {13:31} اور جب وہ اُسے دفن کر چُکا تو اُس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ جب مَیں مَر جاؤُں تو مُجھ کو اُسی قبر میں دفن کرنا جِس میں یہ مَردِ خُدا دفن ہُؤا ہے ۔ میری ہڈّیاں اُس کی ہڈّیوں کے برابر رکھنا۔ {13:32} اِس لِئے کہ وہ بات جو اُس نے خُداوند کے حُکم سے بَیت ا یل کے مذبح کے خِلاف اور اُن سب اُونچے مقاموں کے گھروں کے خِلاف جو سامر یہ کے قصبوں میں ہیں کہی ہے ضرُور پُوری ہو گی۔ {i13:33} یُربعام کا ہلاکت خیز گُناہ {13:33} اِس ماجرا کے بعد بھی یرُبعا م اپنی بُری راہ سے باز نہ آیا بلکہ اُس نے عوام میں سے اُونچے مقاموں کے کاہِن ٹھہرائے ۔ جِس کِسی نے چاہا اُسے اُس نے مخصُوص کِیا تاکہ اُونچے مقاموں کے لِئے کاہِن ہوں۔ {13:34} اور یہ فعل یرُبعا م کے گھرانے کے لِئے اُسے کاٹ ڈالنے اور اُسے رُویِ زمِین پر سے نیست و نابُود کرنے کے لِئے گُناہ ٹھہرا۔ {i14:1} یرُبعام کے بیٹے کی وفات {14:1} اُس وقت یرُبعا م کا بیٹا ابیا ہ بِیمار پڑا۔ {14:2} اور یرُبعا م نے اپنی بِیوی سے کہا ذرا اُٹھ کر اپنا بھیس بدل ڈال تاکہ پہچان نہ ہو سکے کہ تُو یرُبعا م کی بِیوی ہے اور سَیلا کو چلی جا ۔ دیکھ اخیاہ نبی وہاں ہے جِس نے میری بابت کہا تھا کہ مَیں اِس قَوم کا بادشاہ ہُوں گا۔ {14:3} اور دس روٹِیاں اور پپڑیاں اور شہد کا ایک مرتبان اپنے ساتھ لے اور اُس کے پاس جا ۔ وہ تُجھے بتا دے گا کہ لڑکے کا کیا حال ہو گا۔ {14:4} سو یرُبعا م کی بِیوی نے اَیسا ہی کِیا اور اُٹھ کر سیَلا کو گئی اور اخیاہ کے گھر پُہنچی پر اخیاہ کو کُچھ نظر نہیں آتا تھا کیونکہ بُڑھاپے کے سبب سے اُس کی آنکھیں رہ گئی تِھیں۔ {14:5} اور خُداوند نے اخیاہ سے کہا دیکھ یرُبعا م کی بِیوی تُجھ سے اپنے بیٹے کی بابت پُوچھنے آ رہی ہے کیونکہ وہ بِیمار ہے ۔ سو تُو اُس سے یُوں یُوں کہنا کیونکہ جب وہ اندر آئے گی تو اپنے آپ کو دُوسری عَورت بنائے گی۔ {14:6} اور جَیسے ہی وہ دروازہ سے اندر آئی اور اخیاہ نے اُس کے پاؤں کی آہٹ سُنی تو اُس نے اُس سے کہا اَے یرُبعا م کی بِیوی اندر آ! تُو کیوں اپنے کو دُوسری بناتی ہے؟ کیونکہ مَیں تو تیرے ہی پاس سخت پَیغام کے ساتھ بھیجا گیا ہُوں۔ {14:7} سو جا کر یرُبعا م سے کہہ خُداوند اِسرا ئیل کا خُدا یُوں فرماتا ہے حالانکہ مَیں نے تُجھے لوگوں میں سے لے کر سرفراز کِیا اور اپنی قَوم اِسرا ئیل پر تُجھے بادشاہ بنایا۔ {14:8} اور داؤُد کے گھرانے سے سلطنت چِھین لی اور تُجھے دی تَو بھی تُو میرے بندہ داؤُد کی مانِند نہ ہُؤا جِس نے میرے حُکم مانے اور اپنے سارے دِل سے میری پَیروی کی تاکہ فقط وُہی کرے جو میری نظر میں ٹِھیک تھا۔ {14:9} پر تُو نے اُن سبھوں سے جو تُجھ سے پہلے ہُوئے زِیادہ بدی کی اور جا کر اپنے لِئے اَور اَور معبُود اور ڈھالے ہُوئے بُت بنائے تاکہ مُجھے غُصّہ دِلائے بلکہ تُو نے مُجھے اپنی پِیٹھ کے پِیچھے پھینکا۔ {14:10} اِس لِئے دیکھ مَیں یرُبعا م کے گھرانے پر بلا نازِل کرُوں گا اور یرُبعا م کی نسل کے ہر ایک لڑکے کو یعنی ہر ایک کو جو اِسرا ئیل میں بند ہے اور اُس کو جو آزاد چُھوٹا ہُؤا ہے کاٹ ڈالُوں گا اور یرُبعا م کے گھرانے کی صفائی کر دُوں گا جَیسے کوئی گوبر کی صفائی کرتا ہو جب تک وہ سب دُور نہ ہو جائے۔ {14:11} یرُبعا م کا جو کوئی شہر میں مَرے گا اُسے کُتّے کھائیں گے اور جو مَیدان میں مَرے گا اُسے ہوا کے پرِندے چٹ کر جائیں گے کیونکہ خُداوند نے یہ فرمایا ہے۔ {14:12} سو تُو اُٹھ اور اپنے گھر جا اور جَیسے ہی تیرا قدم شہر میں پڑے گا وہ لڑکا مَر جائے گا۔ {14:13} اور سارا اِسرا ئیل اُس کے لِئے روئے گا اور اُسے دفن کرے گا کیونکہ یرُبعا م کی اَولاد میں سے فقط اُسی کو قبر نصِیب ہو گی اِس لِئے کہ یرُبعا م کے گھرانے میں سے اِسی میں کُچھ پایا گیا جو خُداوند اِسرا ئیل کے خُدا کے نزدِیک بھلا ہے۔ {14:14} علاوہ اِس کے خُداوند اپنی طرف سے اِسرا ئیل کے لِئے ایک اَیسا بادشاہ برپا کرے گا جو اُسی دِن یرُبعا م کے گھرانے کو کاٹ ڈالے گا ۔ لیکن کب؟ یہ ابھی ہو گا۔ {14:15} کیونکہ خُداوند اِسرا ئیل کو اَیسا مارے گا جَیسے سرکنڈا پانی میں ہِلایا جاتا ہے اور وہ اِسرا ئیل کو اِس اچّھے مُلک سے جو اُس نے اُن کے باپ دادا کو دِیا تھا اُکھاڑ پھینکے گا اور اُن کو دریایِ فرا ت کے پار پراگندہ کرے گا کیونکہ اُنہوں نے اپنے لِئے یسِیرتیں بنائِیں اور خُداوند کو غُصّہ دِلایا ہے۔ {14:16} اور وہ اِسرا ئیل کو یرُبعا م کے اُن گُناہوں کے سبب سے چھوڑ دے گا جو اُس نے خُود کِئے اور جِن سے اُس نے اِسرا ئیل سے گُناہ کرایا۔ {14:17} اور یرُبعا م کی بِیوی اُٹھ کر روانہ ہُوئی اور تِرضہ میں آئی اور جَیسے ہی وہ گھر کے آستانہ پر پُہنچی وہ لڑکا مَر گیا۔ {14:18} اور سارے اِسرا ئیل نے جَیسا خُداوند نے اپنے بندہ اخیاہ نبی کی معرفت فرمایا تھا اُسے دفن کر کے اُس پر نَوحہ کِیا۔ {i14:19} یرُبعام کی وفات {14:19} اور یرُبعا م کا باقی حال کہ وہ کِس کِس طرح لڑا اور اُس نے کیونکر سلطنت کی وہ اِسرا ئیل کے بادشاہوں کی توارِیخ کی کِتاب میں لِکھا ہے۔ {14:20} اور جِتنی مُدّت تک یرُبعا م نے سلطنت کی وہ بائِیس برس کی تھی اور وہ اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُس کا بیٹا ندب اُس کی جگہ بادشاہ ہُؤا۔ {i14:21} یہُوداہ کا بادشاہ رحُبعام {14:21} اور سُلیما ن کا بیٹا رحُبعا م یہُودا ہ میں بادشاہ تھا ۔ رحُبعا م اِکتالِیس برس کا تھا جب وہ بادشاہی کرنے لگا اور اُس نے یروشلیِم یعنی اُس شہر میں جِسے خُداوند نے بنی اِسرائیل کے سب قبِیلوں میں سے چُنا تھا تاکہ اپنا نام وہاں رکھّے ستّرہ برس سلطنت کی اور اُس کی ماں کا نام نعمہ تھا جوعمُّونی عَورت تھی۔ {14:22} اور یہُودا ہ نے خُداوند کے حضُور بدی کی اور جو گُناہ اُن کے باپ دادا نے کِئے تھے اُن سے بھی زِیادہ اُنہوں نے اپنے گُناہوں سے جو اُن سے سرزد ہُوئے اُس کی غَیرت کو برانگیختہ کِیا۔ {14:23} کیونکہ اُنہوں نے اپنے لِئے ہر ایک اُونچے ٹِیلے پر اور ہر ایک ہرے درخت کے نِیچے اُونچے مقام اور سُتُون اور یسِیرتیں بنائِیں۔ {14:24} اور اُس مُلک میں لُوطی بھی تھے ۔ وہ اُن قَوموں کے سب مکرُوہ کام کرتے تھے جِن کو خُداوند نے بنی اِسرائیل کے سامنے سے نِکال دِیا تھا۔ {14:25} اور رحُبعا م بادشاہ کے پانچویں برس میں شاہِ مِصر سِیسق نے یروشلیِم پر چڑھائی کی۔ {14:26} اور اُس نے خُداوند کے گھر کے خزانوں اور شاہی محلّ کے خزانوں کو لے لِیا بلکہ اُس نے سب کُچھ لے لِیا اور سونے کی وہ سب ڈھالیں بھی لے گیا جو سُلیِما ن نے بنائی تِھیں۔ {14:27} اور رحُبعا م بادشاہ نے اُن کے بدلے پِیتل کی ڈھالیں بنائِیں اور اُن کو مُحافِظ سِپاہِیوں کے سرداروں کے سپُرد کِیا جو شاہی محلّ کے دروازہ پر پہرا دیتے تھے۔ {14:28} اور جب بادشاہ خُداوند کے گھر میں جاتا تو وہ سِپاہی اُن کو لے کر چلتے اور پِھر اُن کو واپس لا کر سِپاہِیوں کی کوٹھری میں رکھ دیتے تھے۔ {14:29} اور رحُبعا م کا باقی حال اور سب کُچھ جو اُس نے کِیا سو کیا وہ یہُودا ہ کے بادشاہوں کی توارِیخ کی کِتاب میں لِکھا نہیں ہے؟۔ {14:30} اور رحُبعا م اور یرُبعا م میں برابر جنگ رہی۔ {14:31} اور رحُبعا م اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور داؤُد کے شہر میں اپنے باپ دادا کے ساتھ دفن ہُؤا ۔ اُس کی ماں کا نام نعمہ تھا جو عمُّونی عَورت تھی اور اُس کا بیٹا ابیا م اُس کی جگہ بادشاہ ہُؤا۔ {i15:1} یہُوداہ کا بادشاہ ابیام {15:1} اور نباط کے بیٹے یرُبعا م کی سلطنت کے اٹھارھویں سال سے ابیا م یہُودا ہ پر سلطنت کرنے لگا۔ {15:2} اُس نے یروشلیِم میں تِین سال بادشاہی کی ۔ اُس کی ماں کا نام معکہ تھا جو ابی سلو م کی بیٹی تھی۔ {15:3} اُس نے اپنے باپ کے سب گُناہوں میں جو اُس نے اُس سے پہلے کِئے تھے اُس کی روِش اِختِیار کی اور اُس کا دِل خُداوند اپنے خُدا کے ساتھ کامِل نہ تھا جَیسا اُس کے باپ داؤُد کا دِل تھا۔ {15:4} باوُجُود اِس کے خُداوند اُس کے خُدا نے داؤُد کی خاطِر یروشلیِم میں اُسے ایک چراغ دِیا یعنی اُس کے بیٹے کو اُس کے بعد ٹھہرایا اور یروشلیِم کو برقرار رکھّا۔ {15:5} اِس لِئے کہ داؤُد نے وہ کام کِیا جو خُداوند کی نظر میں ٹِھیک تھا اور اپنی ساری عُمر خُداوند کے کِسی حُکم سے باہر نہ ہُؤا سِوا حِتّی اُورِ یّاہ کے مُعاملہ کے۔ {15:6} اور رحُبعا م اور یرُبعا م کے درمِیان اُس کی ساری عُمر جنگ رہی۔ {15:7} اور ابیا م کا باقی حال اور سب کُچھ جو اُس نے کِیا سو کیا وہ یہُودا ہ کے بادشاہوں کی توارِیخ کی کِتاب میں لِکھّا نہیں ہے؟ اور ابیا م اور یرُبعا م میں جنگ ہوتی رہی۔ {15:8} اور ابیا م اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُنہوں نے اُسے داؤُد کے شہر میں دفن کِیا اور اُس کا بیٹا آسا اُس کی جگہ بادشاہ ہُؤا۔ {i15:9} یہُوداہ کا بادشاہ آسا {15:9} اور شاہِ اِسرا ئیل یرُبعا م کے بِیسویں سال سے آسا یہُودا ہ پر سلطنت کرنے لگا۔ {15:10} اُس نے اِکتالِیس برس یروشلیِم میں سلطنت کی ۔ اُس کی ماں کا نام معکہ تھا جو ابی سلو م کی بیٹی تھی۔ {15:11} اور آسا نے اپنے باپ داؤُد کی طرح وہ کام کِیا جو خُداوند کی نظر میں ٹِھیک تھا۔ {15:12} اُس نے لُوطِیوں کو مُلک سے نِکال دِیا اور اُن سب بُتوں کو جِن کو اُس کے باپ دادا نے بنایا تھا دُور کر دِیا۔ {15:13} اور اُس نے اپنی ماں معکہ کو بھی مَلِکہ کے رُتبہ سے اُتار دِیا کیونکہ اُس نے ایک یسِیرت کے لِئے ایک نفرت انگیز بُت بنایا تھا ۔ سو آسا نے اُس کے بُت کو کاٹ ڈالا اور وادیِ قدرو ن میں اُسے جلا دِیا۔ {15:14} لیکن اُونچے مقام ڈھائے نہ گئے تَو بھی آسا کا دِل عُمر بھر خُداوند کے ساتھ کامِل رہا۔ {15:15} اور اُس نے وہ چِیزیں جو اُس کے باپ نے نذر کی تِھیں اور وہ چِیزیں جو اُس نے آپ نذر کی تِھیں یعنی چاندی اور سونا اور ظُرُوف سب کو خُداوند کے گھر میں داخِل کِیا۔ {15:16} اور آسا اور شاہِ اِسرا ئیل بعشا میں اُن کی عُمر بھر جنگ رہی۔ {15:17} اور شاہِ اِسرا ئیل بعشا نے یہُودا ہ پر چڑھائی کی اور رامہ کو بنایا تاکہ شاہِ یہُودا ہ آسا کے پاس کِسی کی آمد ورفت نہ ہو سکے۔ {15:18} تب آسا نے سب چاندی اور سونے کو جو خُداوند کے گھر کے خزانوں میں باقی رہا تھا اور شاہی محلّ کے خزانوں کو لے کر اُن کو اپنے خادِموں کے سپُرد کِیا اور آسا بادشاہ نے اُن کو شاہِ ارا م بِن ہدَد کے پاس جو حزیُو ن کے بیٹے طابرِ مُّون کا بیٹا تھا اور دمشق میں رہتا تھا روانہ کِیا اور کہلا بھیجا۔ {15:19} کہ میرے اور تیرے درمِیان اور میرے باپ اور تیرے باپ کے درمِیان عہد و پَیمان ہے ۔ دیکھ مَیں نے تیرے لِئے چاندی اور سونے کا ہدیہ بھیجا ہے سو تُو آ کر شاہِ اِسرا ئیل بعشا سے عہد شِکنی کر تاکہ وہ میرے پاس سے چلا جائے۔ {15:20} اور بِن ہدد نے آسا بادشاہ کی بات مانی اور اپنے لشکر کے سرداروں کو اِسرائیلی شہروں پر چڑھائی کرنے کو بھیجا اور عیُّو ن اور دان اور ابیل بَیت معکہ اور سارے کِنّرت اور نفتالی کے سارے مُلک کو مارا۔ {15:21} جب بعشا نے یہ سُنا تو رامہ کے بنانے سے ہاتھ کھینچا اور تِرضہ میں رہنے لگا۔ {15:22} تب آسا بادشاہ نے سارے یہُودا ہ میں مُنادی کرائی اور کوئی معذُور نہ رکھّا گیا ۔ سو وہ رامہ کے پتّھر کو اور اُس کی لکڑِیوں کو جِن سے بعشا اُسے تعمِیر کر رہا تھا اُٹھا لے گئے اور آسا بادشاہ نے اُن سے بِنیمِین کے جِبع اور مِصفاہ کو بنایا۔ {15:23} اور آسا کا باقی سب حال اور اُس کی ساری قُوّت اور سب کُچھ جو اُس نے کِیا اور جو شہر اُس نے بنائے سو کیا وہ یہُودا ہ کے بادشاہوں کی توارِیخ کی کِتاب میں قلمبند نہیں ہیں؟ لیکن اُس کے بُڑھاپے کے وقت میں اُسے پاؤں کا روگ لگ گیا۔ {15:24} اور آسا اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اپنے باپ دادا کے ساتھ اپنے باپ داؤُد کے شہر میں دفن ہُؤا اور اُس کا بیٹایہُو سفط اُس کی جگہ بادشاہ ہُؤا۔ {i15:25} اِسرائیل کا بادشاہ ندب {15:25} اور شاہِ یہُودا ہ آسا کی سلطنت کے دُوسرے سال سے یرُبعا م کا بیٹا ندب اِسرا ئیل پر سلطنت کرنے لگا اور اُس نے اِسرا ئیل پر دو برس سلطنت کی۔ {15:26} اور اُس نے خُداوند کی نظر میں بدی کی اور اپنے باپ کی راہ اور اُس کے گُناہ کی روِش اِختیار کی جِس سے اُس نے اِسرا ئیل سے گُناہ کرایا تھا۔ {15:27} اور اخیاہ کے بیٹے بعشا نے جو اِشکار کے گھرانے کا تھا اُس کے خِلاف سازِش کی اور بعشا نے جِبّتُون میں جو فِلستِیوں کا تھا اُسے قتل کِیا کیونکہ ندب اور سارے اِسرا ئیل نے جِبّتُون کا مُحاصرہ کر رکھّا تھا۔ {15:28} شاہِ یہُودا ہ آسا کے تِیسرے ہی سال بعشا نے اُسے قتل کِیا اور اُس کی جگہ سلطنت کرنے لگا۔ {15:29} اور جُوں ہی وہ بادشاہ ہُؤا اُس نے یرُبعا م کے سارے گھرانے کو قتل کِیا اور جَیسا خُداوند نے اپنے خادِم اخیاہ سَیلانی کی معرفت فرمایا تھا اُس نے یرُبعا م کے لِئے کِسی سانس لینے والے کو بھی جب تک اُسے ہلاک نہ کر ڈالا نہ چھوڑا۔ {15:30} یرُبعا م کے اُن گُناہوں کے سبب سے جو اُس نے آپ کِئے اور جِن سے اُس نے اِسرا ئیل سے گُناہ کرایا اور اُس کے اُس غُصّہ دِلانے کے سبب سے جِس سے اُس نے خُداوند اِسرا ئیل کے خُدا کے غضب کو بھڑکایا۔ {15:31} اور ندب کا باقی حال اور سب کُچھ جو اُس نے کِیا سو کیا وہ اِسرا ئیل کے بادشاہوں کے توارِیخ کی کِتاب میں قلمبند نہیں؟۔ {15:32} اور آسا اور شاہِ اِسرا ئیل بعشا کے درمِیان اُن کی عُمر بھر جنگ رہی۔ {i15:33} اِسرائیل کا بادشاہ بعشا {15:33} اور شاہِ یہُوداہ آسا کے تِیسرے سال سے اخیاہ کا بیٹا بعشا تِرضہ میں سارے اِسرا ئیل پر بادشاہی کرنے لگا اور اُس نے چَوبِیس برس سلطنت کی۔ {15:34} اور اُس نے خُداوند کی نظر میں بدی کی اور یرُبعا م کی راہ اور اُس کے گُناہ کی روِش اِختیار کی جِس سے اُس نے اِسرا ئیل سے گُناہ کرایا۔ {16:1} اور حنا نی کے بیٹے یاہُو پر خُداوند کا یہ کلام بعشا کے خِلاف نازِل ہُؤا۔ {16:2} اِس لِئے کہ مَیں نے تُجھے خاک پر سے اُٹھایا اور اپنی قَوم اِسرا ئیل کا پیشوا بنایا اور تُو یرُبعا م کی راہ پر چلا اور تُو نے میری قَوم اِسرا ئیل سے گُناہ کرا کے اُن کے گُناہوں سے مُجھے غُصّہ دِلایا۔ {16:3} سو دیکھ مَیں بعشا اور اُس کے گھرانے کی پُوری صفائی کر دُوں گا اور تیرے گھرانے کو نباط کے بیٹے یرُبعا م کے گھرانے کی مانِند بنا دُوں گا۔ {16:4} بعشا کا جو کوئی شہر میں مَرے گا اُسے کُتّے کھائیں گے اور جو مَیدان میں مَرے گا اُسے ہوا کے پرِندے چٹ کر جائیں گے۔ {16:5} اور بعشا کا باقی حال اور جو کُچھ اُس نے کِیا اور اُس کی قُوّت سو کیا وہ اِسرا ئیل کے بادشاہوں کی توارِیخ کی کِتاب میں لِکھّا نہیں ہے؟۔ {16:6} اور بعشا اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور تِرضہ میں دفن ہُؤا اور اُس کا بیٹا اَیلہ اُس کی جگہ بادشاہ ہُؤا۔ {16:7} اور حنا نی کے بیٹے یاہُو کی معرفت خُداوند کا کلام بعشا اور اُس کے گھرانے کے خِلاف اُس ساری بدی کے سبب سے بھی نازِل ہُؤا جو اُس نے خُداوند کی نظر میں کی اور اپنے ہاتھوں کے کام سے اُسے غُصّہ دِلایا اور یرُبعا م کے گھرانے کی مانِند بنا اور اِس سبب سے بھی کہ اُس نے اُسے قتل کِیا۔ {i16:8} اِسرائیل کا بادشاہ اَیلہ {16:8} اور شاہِ یہُودا ہ آسا کے چھِبّیسویں سال سے بعشا کا بیٹا اَیلہ تِرضہ میں بنی اِسرائیل پر سلطنت کرنے لگا اور اُس نے دو برس سلطنت کی۔ {16:9} اور اُس کے خادِم زِمر ی نے جو اُس کے آدھے رتھوں کا داروغہ تھا اُس کے خِلاف سازِش کی ۔ اُس وقت وہ تِرضہ میں تھا اور ارضہ کے گھر میں جو تِرضہ میں اُس کے گھر کا دِیوان تھا شراب پی پی کر متوالا ہوتا جاتا تھا۔ {16:10} سو زِمر ی نے آسا شاہِ یہُودا ہ کے ستائِیسویں سال اندر جا کر اُس پر وار کِیا اور اُسے قتل کر دِیا اور اُس کی جگہ سلطنت کرنے لگا۔ {16:11} اور جب وہ بادشاہی کرنے لگا تو تخت پر بَیٹھتے ہی اُس نے بعشا کے سارے گھرانے کو قتل کِیا اور نہ تو اُس کے رِشتہ داروں کا اور نہ اُس کے دوستوں کا کوئی لڑکا باقی چھوڑا۔ {16:12} یُوں زِمر ی نے خُداوند کے اُس سُخن کے مُطابِق جو اُس نے بعشا کے خِلاف یاہُو نبی کی معرفت فرمایا تھا بعشا کے سارے گھرانے کو نابُود کِیا۔ {16:13} بعشا کے سب گُناہوں اور اُس کے بیٹے اَیلہ کے گُناہوں کے سبب سے جو اُنہوں نے کِئے اور جِن سے اُنہوں نے اِسرا ئیل سے گُناہ کرایا تاکہ خُداوند اِسرا ئیل کے خُدا کو اپنے باطِل کاموں سے غُصّہ دِلائیں۔ {16:14} اور اَیلہ کا باقی حال اور سب کُچھ جو اُس نے کِیا سو کیا وہ اِسرا ئیل کے بادشاہوں کی توارِیخ کی کِتاب میں قلمبند نہیں؟۔ {i16:15} اِسرائیل کا بادشاہ زِمری {16:15} اور شاہِ یہُودا ہ آسا کے ستائِیسویں برس میں زِمر ی نے تِرضہ میں سات دِن بادشاہی کی ۔ اُس وقت لوگ جِبّتُون کے مُقابِل جو فِلستِیوں کا تھا خَیمہ زن تھے۔ {16:16} اور اُن لوگوں نے جو خَیمہ زن تھے یہ چرچا سُنا کہ زِمر ی نے سازِش کی اور بادشاہ کو مار بھی ڈالا ہے اِس لِئے سارے اِسرا ئیل نے عُمر ی کو جو لشکر کا سردار تھا اُس دِن لشکر گاہ میں اِسرا ئیل کا بادشاہ بنایا۔ {16:17} تب عُمر ی اور اُس کے ساتھ سارا اِسرا ئیل جِبّتُون سے روانہ ہُؤا اور اُنہوں نے تِرضہ کا مُحاصرہ کر لِیا۔ {16:18} اور اَیسا ہُؤا کہ جب زِمر ی نے دیکھا کہ شہر سر ہو گیا تو شاہی محلّ کے مُحکم حِصّہ میں جا کر شاہی محلّ میں آگ لگا دی اور جل مَرا۔ {16:19} اپنے اُن گُناہوں کے سبب سے جو اُس نے کِئے کہ خُداوند کی نظر میں بدی کی اور یرُبعا م کی راہ اور اُس کے گُناہ کی روِش اِختیار کی جو اُس نے کِیا تاکہ اِسرا ئیل سے گُناہ کرائے۔ {16:20} اور زِمر ی کا باقی حال اور جو بغاوت اُس نے کی سو کیا وہ اِسرا ئیل کے بادشاہوں کی توارِیخ کی کِتاب میں قلمبند نہیں؟۔ {i16:21} اِسرائیل کا بادشاہ عُمری {16:21} اُس وقت اِسرائیلی دو فرِیق ہو گئے آدھے آدمی جِینت کے بیٹے تِبنی کے پیرَو ہو گئے تاکہ اُسے بادشاہ بنائیں اور آدھے عُمر ی کے پَیرو تھے۔ {16:22} پر جو عُمر ی کے پیرَو تھے اُن پر جو جِینت کے بیٹے تِبنی کے پیرَو تھے غالِب آئے ۔ سو تِبنی مَر گیا اور عُمر ی بادشاہ ہُؤا۔ {16:23} شاہِ یہُودا ہ آسا کے اِکتِیسویں سال سے عُمر ی اِسرا ئیل پر سلطنت کرنے لگا ۔ اُس نے بارہ برس سلطنت کی ۔ تِرضہ میں چھ برس اُس کی سلطنت رہی۔ {16:24} اور اُس نے سامر یہ کا پہاڑ سمر سے دو قِنطار چاندی میں خرِیدا اور اُس پہاڑ پر ایک شہر بنایا اور اُس شہر کا نام جو اُس نے بنایا تھا پہاڑ کے مالِک سمر کے نام پر سامریہ رکھّا۔ {16:25} اور عُمر ی نے خُداوند کی نظر میں بدی کی اور اُن سب سے جو اُس سے پہلے ہُوئے بدتر کام کِئے۔ {16:26} کیونکہ اُس نے نبا ط کے بیٹے یرُبعا م کی سب راہیں اور اُس کے گُناہوں کی روِش اِختیار کی جِن سے اُس نے اِسرا ئیل سے گُناہ کرایا تاکہ وہ خُداوند اِسرا ئیل کے خُدا کو اپنے باطِل کاموں سے غُصّہ دِلائیں۔ {16:27} اور عُمر ی کے باقی کام جو اُس نے کِئے اور اُس کا زور جو اُس نے دِکھایا سو کیا وہ اِسرا ئیل کے بادشاہوں کی توارِیخ کی کِتاب میں قلمبند نہیں؟۔ {16:28} سو عُمر ی اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور سامر یہ میں دفن ہُؤا اور اُس کا بیٹا اخی ا ب اُس کی جگہ بادشاہ ہُؤا۔ {i16:29} اِسرائیل کا بادشاہ اخی اب {16:29} اور شاہِ یہُودا ہ آسا کے اڑتِیسویں سال سے عُمر ی کا بیٹا اخی ا ب اِسرا ئیل پر سلطنت کرنے لگا اور عُمر ی کے بیٹے اخی ا ب نے سامر یہ میں اِسرا ئیل پر بائِیس برس سلطنت کی۔ {16:30} اور عُمر ی کے بیٹے اخی ا ب نے جِتنے اُس سے پہلے ہُوئے تھے اُن سبھوں سے زِیادہ خُداوند کی نظر میں بدی کی۔ {16:31} اور گویا نباط کے بیٹے یرُبعا م کے گُناہوں کی روِش اِختیار کرنا اُس کے لِئے ایک ہلکی سی بات تھی ۔ سو اُس نے صَیدانیوں کے بادشاہ اِتبعل کی بیٹی اِیز بِل سے بیاہ کِیا اور جا کر بعل کی پرستِش کرنے اور اُسے سِجدہ کرنے لگا۔ {16:32} اور بعل کے مندر میں جِسے اُس نے سامر یہ میں بنایا تھا بعل کے لِئے ایک مذبح تیّار کِیا۔ {16:33} اور اخی ا ب نے یسِیرت بنائی اور اخی ا ب نے اِسرا ئیل کے سب بادشاہوں سے زِیادہ جو اُس سے پہلے ہُوئے تھے خُداوند اِسرا ئیل کے خُدا کو غُصّہ دِلانے کے کام کِئے۔ {16:34} اُس کے ایّام میں بَیت ایلی حی ا یل نے یرِیحُو کو تعمِیر کِیا ۔ جب اُس نے اُس کی بُنیاد ڈالی تو اُس کا پہلوٹھا بیٹا ابرا م مَرا اور جب اُس کے پھاٹک لگائے تو اُس کا سب سے چھوٹا بیٹا سجُو ب مَر گیا ۔ یہ خُداوند کے کلام کے مُطابِق ہُؤا جو اُس نے نُون کے بیٹے یشُوع کی معرفت فرمایا تھا۔ {i17:1} ایلیّاہ اور خُشک سالی {17:1} اور ایلیّاہ تِشبی جو جِلعاد کے پردیسِیوں میں سے تھا اخی ا ب سے کہا کہ خُداوند اِسرا ئیل کے خُدا کی حیات کی قَسم جِس کے سامنے مَیں کھڑا ہُوں اِن برسوں میں نہ اوس پڑے گی نہ مِینہ برسے گا جب تک مَیں نہ کہُوں۔ {17:2} اور خُداوند کا یہ کلام اُس پر نازِل ہُؤا کہ۔ {17:3} یہاں سے چل دے اور مشرِق کی طرف اپنا رُخ کر اور کرِیت کے نالہ کے پاس جو یَردن کے سامنے ہے جا چُھپ۔ {17:4} اور تُو اُسی نالہ میں سے پِینا اور مَیں نے کوّوں کو حُکم کِیا ہے کہ وہ تیری پرورِش کریں۔ {17:5} سو اُس نے جا کر خُداوند کے کلام کے مُطابِق کِیا کیونکہ وہ گیا اور کرِیت کے نالہ کے پاس جو یَردن کے سامنے ہے رہنے لگا۔ {17:6} اور کوّے اُس کے لِئے صُبح کو روٹی اور گوشت اور شام کو بھی روٹی اور گوشت لاتے تھے اور وہ اُس نالہ میں سے پِیا کرتا تھا۔ {17:7} اور کُچھ عرصہ کے بعد وہ نالہ سُوکھ گیا اِس لِئے کہ اُس مُلک میں بارِش نہیں ہُوئی تھی۔ {i17:8} ایلیّاہ اور صارپت کی بیوہ {17:8} تب خُداوند کا یہ کلام اُس پر نازِل ہُؤا۔ {17:9} کہ اُٹھ اور صَیدا کے صارپت کو جا اور وہِیں رہ ۔ دیکھ مَیں نے ایک بیوہ کو وہاں حُکم دِیا ہے کہ تیری پرورِش کرے۔ {17:10} سو وہ اُٹھ کر صارپت کو گیا اور جب وہ شہر کے پھاٹک پر پُہنچا تو دیکھا کہ ایک بیوہ وہاں لکڑِیاں چُن رہی ہے ۔ سو اُس نے اُسے پُکار کر کہا ذرا مُجھے تھوڑا سا پانی کِسی برتن میں لا دے کہ مَیں پِیُوں۔ {17:11} اور جب وہ لینے چلی تو اُس نے پُکار کر کہا ذرا اپنے ہاتھ میں ایک ٹُکڑا روٹی میرے واسطے لیتی آنا۔ {17:12} اُس نے کہا خُداوند تیرے خُدا کی حیات کی قَسم میرے ہاں روٹی نہیں ۔ صِرف مُٹّھی بھر آٹا ایک مٹکے میں اور تھوڑا سا تیل ایک کُپّی میں ہے اور دیکھ مَیں دو ایک لکڑِیاں چُن رہی ہُوں تاکہ گھر جا کر اپنے اور اپنے بیٹے کے لِئے اُسے پکاؤُں اور ہم اُسے کھائیں ۔ پِھر مَر جائیں۔ {17:13} اور ایلیّاہ نے اُس سے کہا مت ڈر ۔ جا اور جَیسا کہتی ہے کر پر پہلے میرے لِئے ایک ٹِکیا اُس میں سے بنا کرمیرے پاس لے آ ۔ اُس کے بعد اپنے اور اپنے بیٹے کے لِئے بنا لینا۔ {17:14} کیونکہ خُداوند اِسرا ئیل کا خُدا یُوں فرماتا ہے کہ اُس دِن تک جب تک خُداوند زمِین پر مِینہ نہ برسائے نہ تو آٹے کا مٹکا خالی ہو گا اور نہ تیل کی کُپّی میں کمی ہو گی۔ {17:15} سو اُس نے جا کر ایلیّاہ کے کہنے کے مُطابِق کِیا اور یہ اور وہ اور اُس کا کُنبہ بُہت دِنوں تک کھاتے رہے۔ {17:16} اور خُداوند کے کلام کے مُطابِق جو اُس نے ایلیّاہ کی معرفت فرمایا تھا نہ تو آٹے کا مٹکا خالی ہُؤا اور نہ تیل کی کُپّی میں کمی ہُوئی۔ {17:17} اِن باتوں کے بعد اُس عَورت کا بیٹا جو اُس گھر کی مالِک تھی بِیمار پڑا اور اُس کی بِیماری اَیسی سخت ہو گئی کہ اُس میں دَم باقی نہ رہا۔ {17:18} سو وہ ایلیّاہ سے کہنے لگی اَے مَردِ خُدا مُجھے تُجھ سے کیا کام؟ تُو میرے پاس آیا ہے کہ میرے گُناہ یاد دِلائے اور میرے بیٹے کو مار دے!۔ {17:19} اُس نے اُس سے کہا اپنا بیٹا مُجھ کو دے اور وہ اُسے اُس کی گود سے لے کر اُس کو بالاخانہ پر جہاں وہ رہتا تھا لے گیا اور اُسے اپنے پلنگ پر لِٹایا۔ {17:20} اور اُس نے خُداوند سے فریاد کی اور کہا اَے خُداوند میرے خُدا کیا تُو نے اِس بیوہ پر بھی جِس کے ہاں مَیں ٹِکا ہُؤا ہُوں اُس کے بیٹے کو مار ڈالنے سے بلا نازِل کی؟۔ {17:21} اور اُس نے اپنے آپ کو تِین بار اُس لڑکے پر پسار کر خُداوند سے فریاد کی اور کہا اَے خُداوند میرے خُدا مَیں تیری مِنّت کرتا ہُوں کہ اِس لڑکے کی جان اِس میں پِھر آ جائے۔ {17:22} اور خُداوند نے ایلیّاہ کی فریاد سُنی اور لڑکے کی جان اُس میں پِھر آ گئی اور وہ جی اُٹھا۔ {17:23} تب ایلیّاہ اُس لڑکے کو اُٹھا کر بالاخانہ پر سے نِیچے گھر کے اندر لے گیا اور اُسے اُس کی ماں کے سپُرد کِیا اور ایلیّاہ نے کہا دیکھ تیرا بیٹا جِیتا ہے۔ {17:24} تب اُس عَورت نے ایلیّاہ سے کہا اب مَیں جان گئی کہ تُو مَردِ خُدا ہے اور خُداوند کا جو کلام تیرے مُنہ میں ہے وہ حق ہے۔ {i18:1} ایلیّاہ اور بعل کے نبی {18:1} اور بُہت دِنوں کے بعد اَیسا ہُؤا کہ خُداوند کا یہ کلام تِیسرے سال ایلیّاہ پر نازِل ہُؤا کہ جا کر اخی ا ب سے مِل اور مَیں زمِین پر مِینہ برساؤُں گا۔ {18:2} سو ایلیّاہ اخی ا ب سے مِلنے کو چلا اور سامر یہ میں سخت کال تھا۔ {18:3} اور اخی ا ب نے عبد یاہ کو جو اُس کے گھر کا دِیوان تھا طلب کِیا اور عبد یاہ خُداوند سے بُہت ڈرتا تھا۔ {18:4} کیونکہ جب اِیز بِل نے خُداوند کے نبِیوں کو قتل کِیا تو عبد یاہ نے سَو نبیوں کو لے کر پچاس پچاس کر کے اُن کو ایک غار میں چُھپا دِیا اور روٹی اور پانی سے اُن کو پالتا رہا۔ {18:5} سو اخی ا ب نے عبد یاہ سے کہا مُلک میں گشت کرتا ہُؤا پانی کے سب چشموں اور سب نالوں پر جا شاید ہم کو کہِیں گھاس مِل جائے جِس سے ہم گھوڑوں اور خچّروں کو جِیتا بچا لیں تاکہ ہمارے سب چَوپائے ضائِع نہ ہُوں۔ {18:6} سو اُنہوں نے اُس پُورے مُلک میں گشت کرنے کے لِئے اُسے آپس میں تقسِیم کر لِیا ۔ اخی ا ب اکیلا ایک طرف چلا اور عبد یاہ اکیلا دُوسری طرف گیا۔ {18:7} اور عبد یاہ راستہ ہی میں تھا کہ ایلیّاہ اُسے مِلا ۔ وہ اُسے پہچان کر مُنہ کے بل گِرا اور کہنے لگا اَے میرے مالِک ایلیّاہ کیا تُو ہے؟۔ {18:8} اُس نے اُسے جواب دِیا مَیں ہی ہُوں ۔ جا اپنے مالِک کو بتا دے کہ ایلیّاہ حاضِر ہے۔ {18:9} اُس نے کہا مُجھ سے کیا گُناہ ہُؤا ہے جو تُو اپنے خادِم کو اخی ا ب کے ہاتھ میں حوالہ کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ مُجھے قتل کرے؟۔ {18:10} خُداوند تیرے خُدا کی حیات کی قَسم کہ اَیسی کوئی قَوم یا سلطنت نہیں جہاں میرے مالِک نے تیری تلاش کے لِئے نہ بھیجا ہو اور جب اُنہوں نے کہا کہ وہ یہاں نہیں تو اُس نے اُس سلطنت اور قَوم سے قَسم لی کہ تُو اُن کو نہیں مِلا ہے۔ {18:11} اور اب تُو کہتا ہے کہ جا کر اپنے مالِک کو خبر کر دے کہ ایلیّاہ حاضِر ہے۔ {18:12} اور اَیسا ہو گا کہ جب مَیں تیرے پاس سے چلا جاؤُں گا تو خُداوند کی رُوح تُجھ کو نہ جانے کہاں لے جائے اور مَیں جا کر اخی ا ب کو خبر دُوں اور تُو اُس کو کہِیں مِل نہ سکے تو وہ مُجھ کو قتل کر دے گا لیکن مَیں تیرا خادِم لڑکپن سے خُداوند سے ڈرتا رہا ہُوں۔ {18:13} کیا میرے مالِک کو جو کُچھ مَیں نے کِیا ہے نہیں بتایا گیا کہ جب اِیز بِل نے خُداوند کے نبِیوں کو قتل کِیا تو مَیں نے خُداوند کے نبِیوں میں سے سَو آدمِیوں کو لے کر پچاس پچاس کر کے اُن کو ایک غار میں چُھپایا اور اُن کو روٹی اور پانی سے پالتا رہا؟۔ {18:14} اور اب تُو کہتا ہے کہ جا کر اپنے مالِک کو خبر دے کہ ایلیّاہ حاضِر ہے ۔ سو وہ تو مُجھے مار ڈالے گا۔ {18:15} تب ایلیّاہ نے کہا ربُّ الافواج کی حیات کی قَسم جِس کے سامنے مَیں کھڑا ہُوں ۔ مَیں آج اُس سے ضرُور مِلُوں گا۔ {18:16} سو عبد یاہ اخی ا ب سے مِلنے کو گیا اور اُسے خبر دی اور اخی ا ب ایلیّاہ کی مُلاقات کو چلا۔ {18:17} اور جب اخی ا ب نے ایلیّاہ کو دیکھا تو اُس نے اُس سے کہا اَے اِسرا ئیل کے ستانے والے کیا تُو ہی ہے؟۔ {18:18} اُس نے جواب دِیا مَیں نے اِسرا ئیل کو نہیں ستایا بلکہ تُو اور تیرے باپ کے گھرانے نے کیونکہ تُم نے خُداوند کے حُکموں کو ترک کِیا اور تُو بعلِیم کا پیرَو ہو گیا۔ {18:19} اِس لِئے اب تُو قاصِد بھیج اور سارے اِسرا ئیل کو اور بعل کے ساڑھے چار سَو نبیوں کو اور یسِیرت کے چار سَو نبِیوں کو جو اِیز بِل کے دسترخوان پر کھاتے ہیں کوہِ کرمِل پر میرے پاس اِکٹّھا کر دے۔ {18:20} سو اخی ا ب نے سب بنی اِسرائیل کو بُلا بھیجا اور نبِیوں کو کوہِ کرمِل پر اِکٹّھا کِیا۔ {18:21} اور ایلیّاہ سب لوگوں کے نزدِیک آ کر کہنے لگا تُم کب تک دو خیالوں میں ڈانواںڈول رہو گے؟ اگر خُداوند ہی خُدا ہے تو اُس کے پیرَو ہو جاؤ اور اگر بعل ہے تو اُس کی پیرَوی کرو ۔ پر اُن لوگوں نے اُسے ایک حرف جواب نہ دِیا۔ {18:22} تب ایلیّاہ نے اُن لوگوں سے کہا ایک مَیں ہی اکیلا خُداوند کا نبی بچ رہا ہُوں پر بعل کے نبی چار سَو پچاس آدمی ہیں۔ {18:23} سو ہم کو دو بَیل دِئے جائیں اور وہ اپنے لِئے ایک بَیل کو چُن لیں اور اُسے ٹُکڑے ٹُکڑے کاٹ کر لکڑِیوں پر دھریں اور نِیچے آگ نہ دیں اور مَیں دُوسرا بَیل تیّار کر کے اُسے لکڑیوں پر دھرُوں گا اور نِیچے آگ نہیں دُوں گا۔ {18:24} تب تُم اپنے دیوتا سے دُعا کرنا اور مَیں خُداوند سے دُعا کرُوں گا اور وہ خُدا جو آگ سے جواب دے وُہی خُدا ٹھہرے اور سب لوگ بول اُٹھے خُوب کہا!۔ {18:25} سو ایلیّاہ نے بعل کے نبِیوں سے کہا کہ تُم اپنے لِئے ایک بَیل چُن لو اور پہلے اُسے تیّار کرو کیونکہ تُم بُہت سے ہو اور اپنے دیوتا سے دُعا کرو لیکن آگ نِیچے نہ دینا۔ {18:26} سو اُنہوں نے اُس بَیل کو لے کر جو اُن کو دِیا گیا اُسے تیّار کِیا اور صُبح سے دوپہر تک بعل سے دُعا کرتے اور کہتے رہے اَے بعل ہماری سُن پر نہ کُچھ آواز ہُوئی اور نہ کوئی جواب دینے والا تھا اور وہ اُس مذبح کے گِرد جو بنایا گیا تھا کُودتے رہے۔ {18:27} اور دوپہر کو اَیسا ہُؤا کہ ایلیّاہ نے اُن کو چِڑا کر کہا بُلند آواز سے پُکارو کیونکہ وہ تو دیوتا ہے ۔ وہ کِسی سوچ میں ہو گا یا وہ خلوت میں ہے یا کہِیں سفر میں ہو گا یا شاید وہ سوتا ہے ۔ سو ضرُور ہے کہ وہ جگایا جائے۔ {18:28} تب وہ بُلند آواز سے پُکارنے لگے اور اپنے دستُور کے مُطابِق اپنے آپ کو چُھرِیوں اور نِشتروں سے گھایل کر لِیا یہاں تک کہ لہُو لُہان ہو گئے۔ {18:29} وہ دو پہر ڈھلے پر بھی شام کی قُربانی چڑھا کر نبُوّت کرتے رہے پر نہ کُچھ آواز ہُوئی نہ کوئی جواب دینے والا نہ توجُّہ کرنے والا تھا۔ {18:30} تب ایلیّاہ نے سب لوگوں سے کہا کہ میرے نزدِیک آ جاؤ چُنانچہ سب لوگ اُس کے نزدِیک آ گئے ۔ تب اُس نے خُداوند کے اُس مذبح کو جو ڈھا دِیا گیاتھامرمّت کِیا۔ {18:31} اور ایلیّاہ نے یعقُوب کے بیٹوں کے قبِیلوں کے شُمار کے مُطابِق جِس پر خُداوند کا یہ کلام نازِل ہُؤا تھا کہ تیرا نام اِسرا ئیل ہو گا بارہ پتّھر لِئے۔ {18:32} اور اُس نے اُن پتّھروں سے خُداوند کے نام کا ایک مذبح بنایا اور مذبح کے اِردگِرد اُس نے اَیسی بڑی کھائی کھودی جِس میں دو پَیمانے بِیج کی سمائی تھی۔ {18:33} اور لکڑِیوں کو قرِینہ سے چُنا اور بَیل کے ٹُکڑے ٹُکڑے کاٹ کر لکڑِیوں پر دھر دِیا اور کہا چار مٹکے پانی سے بھر کر اُس سوختنی قُربانی پر اور لکڑِیوں پر اُنڈیل دو۔ {18:34} پِھر اُس نے کہا دوبارہ کرو ۔ اُنہوں نے دوبارہ کِیا ۔ پِھر اُس نے کہا سِہ بارہ کرو ۔ سو اُنہوں نے سِہ بارہ بھی کِیا۔ {18:35} اور پانی مذبح کے گِرداگِرد بہنے لگا اور اُس نے کھائی بھی پانی سے بھروا دی۔ {18:36} اور شام کی قُربانی چڑھانے کے وقت ایلیّاہ نبی نزدِیک آیا اور اُس نے کہا اَے خُداوند ابرہام اور اِضحاق اور اِسرا ئیل کے خُدا! آج معلُوم ہو جائے کہ اِسرا ئیل میں تُو ہی خُدا ہے اور مَیں تیرا بندہ ہُوں اور مَیں نے اِن سب باتوں کو تیرے ہی حُکم سے کِیا ہے۔ {18:37} میری سُن اَے خُداوند میری سُن تاکہ یہ لوگ جان جائیں کہ اَے خُداوند تُو ہی خُدا ہے اور تُو نے پِھر اُن کے دِلوں کو پھیر دِیا ہے۔ {18:38} تب خُداوند کی آگ نازِل ہُوئی اور اُس نے اُس سوختنی قُربانی کو لکڑِیوں اور پتّھروں اور مِٹّی سمیت بھسم کر دِیا اور اُس پانی کو جو کھائی میں تھا چاٹ لِیا۔ {18:39} جب سب لوگوں نے یہ دیکھا تو مُنہ کے بل گِرے اور کہنے لگے خُداوند وُہی خُدا ہے! خُداوند وُہی خُدا ہے!۔ {18:40} ایلیّاہ نے اُن سے کہا بعل کے نبیوں کو پکڑ لو ۔ اُن میں سے ایک بھی جانے نہ پائے ۔ سو اُنہوں نے اُن کو پکڑ لِیا اور ایلیّاہ اُن کو نِیچے قیسو ن کے نالہ پر لے آیا اور وہاں اُن کو قتل کر دِیا۔ {i18:41} خُشک سالی کا خاتمہ {18:41} پِھر ایلیّاہ نے اخی ا ب سے کہا اُوپر چڑھ جا ۔ کھا اور پی کیونکہ کثرت کی بارِش کی آواز ہے۔ {18:42} سو اخی ا ب کھانے پِینے کو اُوپر چلا گیا اور ایلیّاہ کرمِل کی چوٹی پر چڑھ گیا اور زمِین پر سرنگُون ہو کر اپنا مُنہ اپنے گُھٹنوں کے بِیچ کر لِیا۔ {18:43} اور اپنے خادِم سے کہا ذرا اُوپر جا کر سمُندر کی طرف تو نظر کر ۔ سو اُس نے اُوپر جا کر نظر کی اور کہا وہاں کُچھ بھی نہیں ہے ۔ اُس نے کہا پِھر سات بار جا۔ {18:44} اور ساتوِیں مرتبہ اُس نے کہا دیکھ ایک چھوٹا سا بادل آدمی کے ہاتھ کے برابر سمُندر میں سے اُٹھا ہے ۔ تب اُس نے کہا کہ جا اور اخی ا ب سے کہہ کہ اپنا رتھ تیّار کرا کے نِیچے اُتر جا تاکہ بارِش تُجھے روک نہ لے۔ {18:45} اور تھوڑی ہی دیر میں آسمان گھٹا اور آندھی سے سِیاہ ہو گیا اور بڑی بارِش ہُوئی اور اخی ا ب سوار ہو کر یزرعیل کو چلا۔ {18:46} اور خُداوند کا ہاتھ ایلیّاہ پر تھا اور اُس نے اپنی کمر کس لی اور اخی ا ب کے آگے آگے یزرعیل کے مدخل تک دَوڑا چلا گیا۔ {i19:1} ایلیّاہ کو ہِ سِینا پر {19:1} اور اخی ا ب نے سب کُچھ جو ایلیّاہ نے کِیا تھا اور یہ بھی کہ اُس نے سب نبِیوں کو تلوار سے قتل کر دِیا ایز بِل کو بتایا۔ {19:2} سو ایز بِل نے ایلیّاہ کے پاس ایک قاصِد روانہ کِیا اور کہلا بھیجا کہ اگر مَیں کل اِس وقت تک تیری جان اُن کی جان کی طرح نہ بنا ڈالُوں تو دیوتا مُجھ سے اَیسا ہی بلکہ اِس سے زِیادہ کریں!۔ {19:3} جب اُس نے یہ دیکھا تو اُٹھ کر اپنی جان بچانے کو بھاگا اوربیرسبع میں جو یہُودا ہ کا ہے آیا اور اپنے خادِم کو وہِیں چھوڑا۔ {19:4} اور خُود ایک دِن کی منزِل دشت میں نِکل گیا اور جھاؤُ کے ایک پیڑ کے نِیچے آ کر بَیٹھا اور اپنے لِئے مَوت مانگی اور کہا بس ہے ۔ اب تُو اَے خُداوند میری جان کو لے لے کیونکہ مَیں اپنے باپ دادا سے بِہتر نہیں ہُوں۔ {19:5} اور وہ جھاؤ ُکے ایک پیڑ کے نِیچے لیٹا اور سو گیا اور دیکھو! ایک فرِشتہ نے اُسے چُھؤا اور اُس سے کہا اُٹھ اور کھا۔ {19:6} اُس نے جو نِگاہ کی تو کیا دیکھا کہ اُس کے سرہانے انگاروں پر پکی ہُوئی ایک روٹی اور پانی کی ایک صُراحی دھری ہے ۔ سو وہ کھا پی کر پِھر لیٹ گیا۔ {19:7} اور خُداوند کا فرِشتہ دوبارہ پِھر آیا اور اُسے چُھؤا اور کہا اُٹھ اور کھا کہ یہ سفر تیرے لِئے بُہت بڑا ہے۔ {19:8} سو اُس نے اُٹھ کر کھایا پِیا اور اُس کھانے کی قُوّت سے چالِیس دِن اور چالِیس رات چل کر خُدا کے پہاڑ حورِب تک گیا۔ {19:9} اور وہاں ایک غار میں جا کر ٹِک گیا اور دیکھو خُداوند کا یہ کلام اُس پر نازِل ہُؤا کہ اَے ایلیّاہ! تُو یہاں کیا کرتا ہے؟۔ {19:10} اُس نے کہا خُداوند لشکروں کے خُدا کے لِئے مُجھے بڑی غَیرت آئی کیونکہ بنی اِسرائیل نے تیرے عہد کو ترک کِیا اور تیرے مذبحوں کو ڈھا دِیا اور تیرے نبِیوں کو تلوار سے قتل کِیا اور ایک مَیں ہی اکیلا بچا ہُوں۔ سو وہ میری جان لینے کے درپَے ہیں۔ {19:11} اُس نے کہا باہر نِکل اور پہاڑ پر خُداوند کے حضُورکھڑا ہو اور دیکھو خُداوند گُذرا اور ایک بڑی تُند آندھی نے خُداوند کے آگے پہاڑوں کو چِیر ڈالا اور چٹانوں کے ٹُکڑے کر دِئے پر خُداوند آندھی میں نہیں تھا اور آندھی کے بعد زلزلہ آیا پر خُداوند زلزلہ میں نہیں تھا۔ {19:12} اور زلزلہ کے بعد آگ آئی پر خُداوند آگ میں بھی نہیں تھا اور آگ کے بعد ایک دبی ہُوئی ہلکی آواز آئی۔ {19:13} اُس کو سُن کر ایلیّاہ نے اپنا مُنہ اپنی چادر سے لپیٹ لِیا اور باہر نِکل کر اُس غار کے مُنہ پر کھڑا ہُؤا اور دیکھو اُسے یہ آواز آئی کہ اَے ایلیّا ہ تُو یہاں کیا کرتا ہے؟۔ {19:14} اُس نے کہا مُجھے خُداوند لشکروں کے خُدا کے لِئے بڑی غَیرت آئی کیونکہ بنی اِسرائیل نے تیرے عہد کو ترک کِیا اور تیرے مذبحوں کو ڈھا دِیا اور تیرے نبیوں کو تلوار سے قتل کِیا ۔ ایک مَیں ہی اکیلا بچا ہُوں ۔ سو وہ میری جان لینے کے درپَے ہیں۔ {19:15} خُداوند نے اُسے فرمایا تُو اپنے راستہ لَوٹ کر دمشق کے بیابان کو جا اور جب تُو وہاں پُہنچے تو تُو حزا ئیل کو مَسح کر کہ ارا م کا بادشاہ ہو۔ {19:16} اور نِمسی کے بیٹے یاہُو کو مَسح کر کہ اِسرا ئیل کا بادشاہ ہو اور ابیل محُو لہ کے الِیشع بِن سافط کو مَسح کر کہ تیری جگہ نبی ہو۔ {19:17} اور اَیسا ہو گا کہ جو حزا ئیل کی تلوار سے بچ جائے گا اُسے یاہُو قتل کرے گا اور جو یاہُو کی تلوار سے بچ رہے گا اُسے الِیشع قتل کر ڈالے گا۔ {19:18} تَو بھی مَیں اِسرا ئیل میں سات ہزار اپنے لِئے رکھ چھوڑُوں گا یعنی وہ سب گُھٹنے جو بعل کے آگے نہیں جُھکے اور ہر ایک مُنہ جِس نے اُسے نہیں چُوما۔ {i19:19} الِیشع کی بُلاہٹ {19:19} سو وہ وہاں سے روانہ ہُؤا اورسافط کا بیٹا الِیشع اُسے مِلا جو بارہ جوڑی بَیل اپنے آگے لِئے ہُوئے جوت رہا تھا اور وہ خُود بارھوِیں کے ساتھ تھا اور ایلیّاہ اُس کے برابر سے گُذرا اور اپنی چادر اُس پر ڈال دی۔ {19:20} سو وہ بَیلوں کو چھوڑ کر ایلیّاہ کے پِیچھے دَوڑا اور کہنے لگا مُجھے اپنے باپ اور اپنی ماں کو چُوم لینے دے پِھر مَیں تیرے پِیچھے ہو لُوں گا ۔ اُس نے اُس سے کہا کہ لَوٹ جا ۔ مَیں نے تُجھ سے کیا کِیا ہے؟۔ {19:21} تب وہ اُس کے پِیچھے سے لَوٹ گیا اور اُس نے اُس جوڑی بَیل کو لے کر ذبح کِیا اور اُن ہی بَیلوں کے سامان سے اُن کا گوشت اُبالا اور لوگوں کو دِیا اور اُنہوں نے کھایا۔ تب وہ اُٹھا اور ایلیّاہ کے پِیچھے روانہ ہُؤا اور اُس کی خِدمت کرنے لگا۔ {i20:1} ارام کے ساتھ جنگ {20:1} اور ارا م کے بادشاہ بِن ہدد نے اپنے سارے لشکر کو اِکٹّھا کِیا اور اُس کے ساتھ بتِّیس بادشاہ اور گھوڑے اور رتھ تھے اور اُس نے سامر یہ پر چڑھائی کر کے اُس کا مُحاصرہ کِیا اور اُس سے لڑا۔ {20:2} اور اِسرا ئیل کے بادشاہ اخی ا ب کے پاس شہر میں قاصِد روانہ کِئے اور اُسے کہلا بھیجا کہ بِن ہدد یُوں فرماتا ہے کہ۔ {20:3} تیری چاندی اور تیرا سونا میرا ہے ۔ تیری بِیویوں اور تیرے لڑکوں میں جو سب سے خُوبصُورت ہیں وہ میرے ہیں۔ {20:4} اِسرا ئیل کے بادشاہ نے جواب دِیا اَے میرے مالِک بادشاہ! تیرے کہنے کے مُطابِق مَیں اور جو کُچھ میرے پاس ہے سب تیرا ہی ہے۔ {20:5} پِھر اُن قاصِدوں نے دوبارہ آ کر کہا کہ بِن ہدد یُوں فرماتا ہے کہ مَیں نے تُجھے کہلا بھیجا تھا کہ تُو اپنی چاندی اور سونا اور اپنی بِیویاں اور اپنے لڑکے میرے حوالہ کر دے۔ {20:6} لیکن اب مَیں کل اِسی وقت اپنے خادِموں کو تیرے پاس بھیجُوں گا ۔ سو وہ تیرے گھر اور تیرے خادِموں کے گھروں کی تلاشی لیں گے اور جو کُچھ تیری نِگاہ میں نفِیس ہو گا وہ اُسے اپنے قبضہ میں کر کے لے آئیں گے۔ {20:7} تب اِسرا ئیل کے بادشاہ نے مُلک کے سب بزُرگوں کو بُلا کر کہا ذرا غَور کرو اور دیکھو کہ یہ شخص کِس طرح شرارت کے درپَے ہے کیونکہ اُس نے میری بِیویاں اور میرے لڑکے اور میری چاندی اور میرا سونا مُجھ سے منگا بھیجا اور مَیں نے اُس سے اِنکار نہیں کِیا۔ {20:8} تب سب بزُرگوں اور سب لوگوں نے اُس سے کہا کہ تُو مت سُن اور مت مان۔ {20:9} پس اُس نے بِن ہدد کے قاصِدوں سے کہا میرے مالِک بادشاہ سے کہنا جو کُچھ تُو نے اپنے خادِم سے پہلے طلب کِیا وہ تو مَیں کرُوں گا پر یہ بات مُجھ سے نہیں ہو سکتی ۔ سو قاصِد روانہ ہُوئے اور اُسے یہ جواب سُنا دِیا۔ {20:10} تب بِن ہدد نے اُس کو کہلا بھیجا کہ اگر سامر یہ کی مِٹّی اُن سب لوگوں کے لِئے جو میرے پیرَو ہیں مُٹّھیاں بھرنے کو بھی کافی ہو تو دیوتا مُجھ سے اَیسا ہی بلکہ اِس سے بھی زِیادہ کریں!۔ {20:11} شاہ اِسرا ئیل نے جواب دِیا تُم اُس سے کہنا کہ جو ہتھیار باندھتا ہے وہ اُس کی مانِند فخر نہ کرے جو اُسے اُتارتا ہے۔ {20:12} جب بِن ہدد نے جو بادشاہوں کے ساتھ سایبانوں میں مَے نوشی کر رہا تھا یہ پَیغام سُنا تو اپنے مُلازِموں کو حُکم کِیا کہ صف باندھ لو ۔ سو اُنہوں نے شہر پر چڑھائی کرنے کے لِئے صف آرائی کی۔ {20:13} اور دیکھو ایک نبی نے شاہِ اِسرا ئیل اخی ا ب کے پاس آ کر کہا خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ کیا تُو نے اِس بڑے ہجُوم کو دیکھ لِیا؟ مَیں آج ہی اُسے تیرے ہاتھ میں کر دُوں گا اور تُو جان لے گا کہ خُداوند مَیں ہی ہُوں۔ {20:14} تب اخی ا ب نے پُوچھا کِس کے وسِیلہ سے؟ اُس نے کہا خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ صُوبوں کے سرداروں کے جوانوں کے وسِیلہ سے۔ پِھر اُس نے پُوچھا کہ لڑائی کَون شرُوع کرے؟ اُس نے جواب دِیا کہ تُو۔ {20:15} تب اُس نے صُوبوں کے سرداروں کے جوانوں کو شُمار کِیا اور وہ دو سَو بتِیّس نِکلے ۔ اُن کے بعد اُس نے سب لوگوں یعنی سب بنی اِسرائیل کی مَوجُودات لی اور وہ سات ہزار تھے۔ {20:16} یہ سب دوپہر کو نِکلے اور بِن ہدد اور وہ بتِیّس بادشاہ جو اُس کے مددگار تھے سایبانوں میں پی پی کر مست ہوتے جاتے تھے۔ {20:17} سو صُوبوں کے سرداروں کے جوان پہلے نِکلے اور بِن ہدد نے آدمی بھیجے اور اُنہوں نے اُسے خبر دی کہ سامر یہ سے لوگ نِکلے ہیں۔ {20:18} اُس نے کہا اگر وہ صُلح جُو ہو کر نِکلے ہوں تو اُن کو جِیتا پکڑ لو اور اگر وہ جنگ کو نِکلے ہوں تَو بھی اُن کو جِیتا پکڑو۔ {20:19} تب صُوبوں کے سرداروں کے جوان اور وہ لشکر جو اُن کے پِیچھے ہو لِیا تھا شہر سے باہر نِکلے۔ {20:20} اور اُن میں سے ایک ایک نے اپنے مُخالِف کو قتل کِیا ۔ سو ارامی بھاگے اور اِسرا ئیل نے اُن کا پِیچھا کِیا اور شاہِ ارا م بِن ہدد ایک گھوڑے پر سوار ہو کر سواروں کے ساتھ بھاگ کر بچ گیا۔ {20:21} اور شاہِ اِسرا ئیل نے نِکل کر گھوڑوں اور رتھوں کو مارا اور ارامِیوں کو بڑی خُونریزی کے ساتھ قتل کِیا۔ {20:22} اور وہ نبی شاہِ اِسرا ئیل کے پاس آیا اور اُس سے کہا جا اپنے کو مضبُوط کر اور جو کُچھ تُو کرے اُسے غَور سے دیکھ لینا کیونکہ اگلے سال شاہِ ارا م پِھر تُجھ پر چڑھائی کرے گا۔ {i20:23} ارامیوں کا دُوسرا حملہ {20:23} اور شاہِ ارا م کے خادِموں نے اُس سے کہا اُن کا خُدا پہاڑی خُدا ہے اِس لِئے وہ ہم پر غالِب آئے لیکن ہم کو اُن کے ساتھ مَیدان میں لڑنے دے تو ضرُور ہم اُن پر غالِب ہوں گے۔ {20:24} اور ایک کام یہ کر کہ بادشاہوں کو ہٹا دے یعنی ہر ایک کو اُس کے عُہدہ سے معزُول کر دے اور اُن کی جگہ سرداروں کو مُقرّر کر۔ {20:25} اور اپنے لِئے ایک لشکر اپنی اُس فَوج کی طرح جو تباہ ہو گئی گھوڑے کی جگہ گھوڑا اور رتھ کی جگہ رتھ گِن گِن کر تیّار کر لے اور ہم مَیدان میں اُن سے لڑیں گے اور ضرُور اُن پر غالِب ہوں گے ۔ سو اُس نے اُن کا کہا مانا اور اَیسا ہی کِیا۔ {20:26} اور اگلے سال بِن ہدد نے ارامِیوں کی مَوجُودات لی اور اِسرا ئیل سے لڑنے کے لِئے اقِیق کو گیا۔ {20:27} اور بنی اِسرائیل کی مَوجُودات بھی لی گئی اور اُن کی رسد کا اِنتِظام کِیا گیا اور یہ اُن سے لڑنے کو گئے اور بنی اِسرائیل اُن کے برابر خَیمہ زن ہو کر اَیسے معلُوم ہوتے تھے جَیسے حلوانوں کے دو چھوٹے ریوڑ پر ارامِیوں سے وہ مُلک بھر گیا تھا۔ {20:28} تب ایک مَردِ خُدا اِسرا ئیل کے بادشاہ کے پاس آیا اور اُس سے کہا خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ چُونکہ ارامِیوں نے یُوں کہا ہے کہ خُداوند پہاڑی خُدا ہے اور وادِیوں کا خُدا نہیں اِس لِئے مَیں اِس سارے بڑے ہجُوم کو تیرے ہاتھ میں کر دُوں گا اور تُم جان لو گے کہ مَیں خُداوند ہُوں۔ {20:29} اور وہ ایک دُوسرے کے مُقابِل سات دِن تک خَیمہ زن رہے اور ساتویں دِن جنگ چِھڑ گئی اور بنی اِسرائیل نے ایک دِن میں ارامِیوں کے ایک لاکھ پِیادے قتل کر دِئے۔ {20:30} اور باقی افِیق کو شہر کے اندر بھاگ گئے اور وہاں ایک دِیوار ستائِیس ہزار پر جو باقی رہے تھے گِری اور بِن ہدد بھاگ کر شہر کے اندر ایک اندرُونی کوٹھری میں گُھس گیا۔ {20:31} اور اُس کے خادِموں نے اُس سے کہا دیکھ ہم نے سُنا ہے کہ اِسرا ئیل کے گھرانے کے بادشاہ رحِیم ہوتے ہیں ۔ سو ہم کو ذرا اپنی کمروں پر ٹاٹ اور اپنے سروں پر رسِّیاں باندھ کر شاہِ اِسرا ئیل کے حضُور جانے دے ۔ شاید وہ تیری جان بخشی کرے۔ {20:32} سو اُنہوں نے اپنی کمروں پر ٹاٹ اور سروں پر رسِّیاں باندِھیں اور شاہِ اِسرا ئیل کے حضُور آ کر کہا کہ تیرا خادِم بِن ہدد یُوں عرض کرتا ہے کہ مِہربانی کر کے مُجھے جِینے دے ۔ اُس نے کہا کیا وہ اب تک جِیتا ہے؟ وہ میرا بھائی ہے۔ {20:33} وہ لوگ بڑی توجُّہ سے سُن رہے تھے ۔ سو اُنہوں نے اُس کا دِلی منشا دریافت کرنے کے لِئے جھٹ اُس سے کہا کہ تیرا بھائی بِن ہدد ۔ تب اُس نے فرمایا کہ جاؤ اُسے لے آؤ ۔ تب بِن ہدد اُس سے مِلنے کو نِکلا اور اُس نے اُسے اپنے رتھ پر چڑھا لِیا۔ {20:34} اور بِن ہدد نے اُس سے کہا جِن شہروں کو میرے باپ نے تیرے باپ سے لے لِیا تھا مَیں اُن کو پھیر دُوں گا اور تُو اپنے لِئے دمشق میں سڑکیں بنوا لینا جَیسے میرے باپ نے سامر یہ میں بنوائِیں ۔ اخی ا ب نے کہا مَیں اِسی عہد پر تُجھے چھوڑ دُوں گا ۔ سو اُس نے اُس سے عہد باندھا اور اُسے چھوڑ دِیا۔ {i20:35} ایک نبی اخی اب کو سزا سُناتا ہے {20:35} سو انبیا زادوں میں سے ایک نے خُداوند کے حُکم سے اپنے ساتھی سے کہا مُجھے مار پر اُس نے اُسے مارنے سے اِنکار کِیا۔ {20:36} تب اُس نے اُس سے کہا اِس لِئے کہ تُو نے خُداوند کی بات نہیں مانی سو دیکھ جَیسے ہی تُو میرے پاس سے روانہ ہو گا ایک شیر تُجھے مار ڈالے گا ۔ سو جَیسے ہی وہ اُس کے پاس سے روانہ ہُؤا اُسے ایک شیر مِلا اور اُسے مار ڈالا۔ {20:37} پِھر اُسے ایک اَور شخص مِلا ۔ اُس نے اُس سے کہا مُجھے مار ۔ اُس نے اُسے مارا اور مار کر زخمی کر دِیا۔ {20:38} تب وہ نبی چلا گیا اور بادشاہ کے اِنتِظار میں راستہ پر ٹھہرا رہا اور اپنی آنکھوں پر اپنی پگڑی لپیٹ لی اور اپنا بھیس بدل ڈالا۔ {20:39} جَیسے ہی بادشاہ اُدھر سے گُذرا اُس نے بادشاہ کی دُہائی دی اور کہا کہ تیرا خادِم جنگ ہوتے میں وہاں چلا گیا تھا اور دیکھ ایک شخص اُدھر مُڑ کر ایک آدمی کو میرے پاس لے آیا اور کہا کہ اِس آدمی کی حِفاظت کر ۔ اگر یہ کِسی طرح غائِب ہو جائے تو اُس کی جان کے بدلے تیری جان جائے گی اور نہیں تو تُجھے ایک قِنطار چاندی دینی پڑے گی۔ {20:40} جب تیرا خادِم اِدھر اُدھر مصرُوف تھا وہ چلتا بنا ۔ شاہِ اِسرا ئیل نے اُس سے کہا تُجھ پر وَیسا ہی فتویٰ ہو گا ۔ تُو نے آپ اِس کا فَیصلہ کِیا۔ {20:41} تب اُس نے جھٹ اپنی آنکھوں پر سے پگڑی ہٹا دی اور شاہِ اِسرا ئیل نے اُسے پہچانا کہ وہ نبِیوں میں سے ہے۔ {20:42} اور اُس نے اُس سے کہا خُداوند یُوں فرماتا ہے اِس لِئے کہ تُو نے اپنے ہاتھ سے ایک اَیسے شخص کو نِکل جانے دِیا جِسے مَیں نے واجِبُ القتل ٹھہرایا تھا ۔ سو تُجھے اُس کی جان کے بدلے اپنی جان اور اُس کے لوگوں کے بدلے اپنے لوگ دینے پڑیں گے۔ {20:43} سو شاہِ اِسرا ئیل اُداس اور ناخُوش ہو کر اپنے گھر کو چلا اور سامر یہ میں آیا۔ {i21:1} نبوت کا تاکستان {21:1} اِن باتوں کے بعد اَیسا ہُؤا کہ یزرعیلی نبوت کے پاس یزرعیل میں ایک تاکِستان تھا جو سامر یہ کے بادشاہ اخی ا ب کے محلّ سے لگا ہُؤا تھا۔ {21:2} سو اخی ا ب نے نبوت سے کہا کہ اپنا تاکِستان مُجھ کو دیدے تاکہ مَیں اُسے ترکاری کا باغ بناؤُں کیونکہ وہ میرے گھر سے لگا ہُؤا ہے اور مَیں اُس کے بدلے تُجھ کو اُس سے بِہتر تاکِستان دُوں گا یا اگر تُجھے مُناسِب معلُوم ہو تو مَیں تُجھ کو اُس کی قِیمت نقد دے دُوں گا۔ {21:3} نبوت نے اخی ا ب سے کہا خُداوند مُجھ سے اَیسا نہ کرائے کہ مَیں تُجھ کو اپنے باپ دادا کی مِیراث دے دُوں۔ {21:4} اور اخی ا ب اُس بات کے سبب سے جو یزرعیلی نبوت نے اُس سے کہی اُداس اور ناخُوش ہو کر اپنے گھر میں آیا کیونکہ اُس نے کہا تھا مَیں تُجھ کو اپنے باپ دادا کی مِیراث نہیں دُوں گا ۔ سو اُس نے اپنے بِستر پر لیٹ کر اپنا مُنہ پھیر لِیا اور کھانا چھوڑ دِیا۔ {21:5} تب اُس کی بِیوی اِیز بِل اُس کے پاس آ کر اُس سے کہنے لگی تیرا جی اَیسا کیوں اُداس ہے کہ تُو روٹی نہیں کھاتا؟۔ {21:6} اُس نے اُس سے کہا اِس لِئے کہ مَیں نے یزرعیلی نبوت سے بات چِیت کی اور اُس سے کہا کہ تُو اپنا تاکِستان قِیمت لے کر مُجھے دیدے یا اگر تُو چاہے تو مَیں اُس کے بدلے دُوسرا تاکِستان تُجھے دے دُوں گا لیکن اُس نے جواب دِیا مَیں تُجھ کو اپنا تاکِستان نہیں دُوں گا۔ {21:7} اُس کی بِیوی اِیز بِل نے اُس سے کہا اِسرا ئیل کی بادشاہی پر یِہی تیری حُکومت ہے؟ اُٹھ روٹی کھا اور اپنا دِل بہلا ۔ یِزرعیلی نبوت کا تاکِستان مَیں تُجھ کو دُوں گی۔ {21:8} سو اُس نے اخی ا ب کے نام سے خط لِکھے اور اُن پر اُس کی مُہر لگائی اور اُن کو اُن بزُرگوں اور امِیروں کے پاس جو نبوت کے شہر میں تھے اور اُسی کے پڑوس میں رہتے تھے بھیج دِیا۔ {21:9} اُس نے اُن خطوں میں یہ لِکھا کہ روزہ کی مُنادی کرا کے نبوت کو لوگوں میں اُونچی جگہ پر بِٹھاؤ۔ {21:10} اور دو آدمِیوں کو جو شرِیر ہوں اُس کے سامنے کر دو کہ وہ اُس کے خِلاف یہ گواہی دیں کہ تُو نے خُدا پر اور بادشاہ پر لَعنت کی ۔ پِھر اُسے باہر لے جا کر سنگسار کرو تاکہ وہ مَر جائے۔ {21:11} چُنانچہ اُس کے شہر کے لوگوں یعنی بزُرگوں اور امِیروں نے جو اُس کے شہر میں رہتے تھے جَیسا اِیز بِل نے اُن کو کہلا بھیجا وَیسا ہی اُن خطُوط کے مضمُون کے مُطابِق جو اُس نے اُن کو بھیجے تھے کِیا۔ {21:12} اُنہوں نے روزہ کی مُنادی کرا کے نبوت کو لوگوں کے بِیچ اُونچی جگہ پر بِٹھایا۔ {21:13} اور وہ دونوں آدمی جو شرِیر تھے آ کر اُس کے آگے بَیٹھ گئے اور اُن شرِیروں نے لوگوں کے سامنے اُس کے یعنی نبوت کے خِلاف یہ گواہی دی کہ نبوت نے خُدا پر اور بادشاہ پر لَعنت کی ہے ۔ تب وہ اُسے شہر سے باہر نِکال لے گئے اور اُس کو اَیسا سنگسار کِیا کہ وہ مَر گیا۔ {21:14} پِھر اُنہوں نے اِیز بِل کو کہلا بھیجا کہ نبوت سنگسار کر دِیا گیا اور مَر گیا۔ {21:15} جب اِیز بِل نے سُنا کہ نبوت سنگسار کر دِیا گیا اور مَر گیا تو اُس نے اخی ا ب سے کہا اُٹھ اور یِزرعیلی نبوت کے تاکِستان پر قبضہ کر جِسے اُس نے قِیمت پر بھی تُجھے دینے سے اِنکار کِیا تھا کیونکہ نبوت جِیتا نہیں بلکہ مَر گیا ہے۔ {21:16} جب اخی ا ب نے سُنا کہ نبوت مَر گیا ہے تو اخی ا ب اُٹھا تاکہ یزرعیلی نبوت کے تاکِستان کو جا کر اُس پر قبضہ کرے۔ {21:17} اور خُداوند کا یہ کلام ایلیّاہ تِشبی پر نازِل ہُؤا کہ۔ {21:18} اُٹھ اور شاہِ اِسرا ئیل اخی ا ب سے جو سامر یہ میں رہتا ہے مِلنے کو جا ۔ دیکھ وہ نبوت کے تاکِستان میں ہے اور اُس پر قبضہ کرنے کو وہاں گیا ہے۔ {21:19} سو تُو اُس سے یہ کہنا کہ خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ کیا تُو نے جان بھی لی اور قبضہ بھی کر لِیا؟ سو تُو اُس سے یہ کہنا کہ خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ اُسی جگہ جہاں کُتّوں نے نبوت کا لہُو چاٹا کُتّے تیرے لہُو کو بھی چاٹیں گے۔ {21:20} اور اخی ا ب نے ایلیّاہ سے کہا اَے میرے دُشمن کیا مَیں تُجھے مِل گیا؟ اُس نے جواب دِیا کہ تُو مُجھے مِل گیا اِس لِئے کہ تُو نے خُداوند کے حضُور بدی کرنے کے لِئے اپنے آپ کو بیچ ڈالا ہے!۔ {21:21} دیکھ مَیں تُجھ پر بلا نازِل کرُوں گا اور تیری پُوری صفائی کر دُوں گا اور اخی ا ب کی نسل کے ہر ایک لڑکے کو یعنی ہر ایک کو جو اِسرا ئیل میں بند ہے اور اُسے جو آزاد چُھوٹا ہُؤا ہے کاٹ ڈالُوں گا۔ {21:22} اور تیرے گھر کو نباط کے بیٹے یرُبعا م کے گھر اور اخیاہ کے بیٹے بعشا کے گھر کی مانِند بنا دُوں گا۔ اُس غُصّہ دِلانے کے سبب سے جِس سے تُو نے میرے غضب کو بھڑکایا اور اِسرا ئیل سے گُناہ کرایا۔ {21:23} اور خُداوند نے اِیز بِل کے حق میں بھی یہ فرمایا کہ یزرعیل کی فصِیل کے پاس کُتّے اِیز بِل کو کھائیں گے۔ {21:24} اخی ا ب کا جو کوئی شہر میں مَرے گا اُسے کُتّے کھائیں گے اور جو مَیدان میں مَرے گا اُسے ہوا کے پرِندے چٹ کر جائیں گے۔ {21:25} (کیونکہ اخی ا ب کی مانِند کوئی نہیں ہُؤا تھا جِس نے خُداوند کے حضُور بدی کرنے کے لِئے اپنے آپ کو بیچ ڈالا تھا اور جِسے اُس کی بِیوی اِیز بِل اُبھارا کرتی تھی۔ {21:26} اور اُس نے نِہایت نفرت انگیز کام یہ کِیا کہ امورِیوں کی طرح جِن کو خُداوند نے بنی اِسرائیل کے آگے سے نِکال دِیا تھا بُتوں کی پیرَوی کی)۔ {21:27} جب اخی ا ب نے یہ باتیں سُنِیں تو اپنے کپڑے پھاڑے اور اپنے تن پر ٹاٹ ڈالا اور روزہ رکھّا اور ٹاٹ ہی میں لیٹنے اور دبے پاؤں چلنے لگا۔ {21:28} تب خُداوند کا یہ کلام ایلیّاہ تِشبی پر نازِل ہُؤا کہ۔ {21:29} تُو دیکھتا ہے کہ اخی ا ب میرے حضُور کَیسا خاکساربن گیا ہے؟ پس چُونکہ وہ میرے حضُور خاکسار بن گیا ہے اِس لِئے مَیں اُس کے ایّام میں یہ بلا نازِل نہیں کرُوں گا بلکہ اُس کے بیٹے کے ایّام میں اُس کے گھرانے پر یہ بلا نازِل کرُوں گا۔ {i22:1} مِیکایاہ نبی اخی اب کو آگاہ کرتا ہے {22:1} اور تِین برس وہ اَیسے ہی رہے اور اِسرا ئیل اور ارا م کے درمِیان لڑائی نہ ہُوئی۔ {22:2} اور تِیسرے سال یہُودا ہ کا بادشاہ یہُو سفط شاہِ اِسرا ئیل کے ہاں آیا۔ {22:3} اور شاہِ اِسرا ئیل نے اپنے مُلازِموں سے کہا کیا تُم کو معلُوم ہے کہ راما ت جِلعاد ہمارا ہے پر ہم خاموش ہیں اور شاہِ ارا م کے ہاتھ سے اُسے چِھین نہیں لیتے؟۔ {22:4} پِھر اُس نے یہُو سفط سے کہا کیا تُو میرے ساتھ راما ت جِلعاد سے لڑنے چلے گا؟ یہُو سفط نے شاہِ اِسرا ئیل کو جواب دِیا مَیں اَیسا ہُوں جَیسا تُو۔ میرے لوگ اَیسے ہیں جَیسے تیرے لوگ اور میرے گھوڑے اَیسے ہیں جَیسے تیرے گھوڑے۔ {22:5} اور یہُو سفط نے شاہِ اِسرا ئیل سے کہا ذرا آج خُداوند کی مرضی بھی تو دریافت کر لے۔ {22:6} تب شاہِ اِسرا ئیل نے نبِیوں کو جو قرِیب چار سَو آدمی تھے اِکٹّھا کِیا اور اُن سے پُوچھا مَیں راما ت جِلعاد سے لڑنے جاؤُں یا باز رہُوں؟ اُنہوں نے کہا جا کیونکہ خُداوند اُسے بادشاہ کے قبضہ میں کر دے گا۔ {22:7} لیکن یہُو سفط نے کہا کیا اِن کو چھوڑ کر یہاں خُداوند کا کوئی نبی نہیں ہے تاکہ ہم اُس سے پُوچھیں؟۔ {22:8} شاہِ اِسرا ئیل نے یہُو سفط سے کہا کہ ایک شخص اِملہ کا بیٹا مِیکایا ہ ہے تو سہی جِس کے ذرِیعہ سے ہم خُداوند سے پُوچھ سکتے ہیں لیکن مُجھے اُس سے نفرت ہے کیونکہ وہ میرے حق میں نیکی کی نہیں بلکہ بدی کی پیشِین گوئی کرتا ہے ۔ یہُو سفط نے کہا بادشاہ اَیسا نہ کہے۔ {22:9} تب شاہِ اِسرا ئیل نے ایک سردار کو بُلا کر کہا کہ اِملہ کے بیٹے مِیکایا ہ کو جلد لے آ۔ {22:10} اُس وقت شاہِ اِسرا ئیل اور شاہِ یہُودا ہ یہُو سفط سامرِ یہ کے پھاٹک کے سامنے ایک کُھلی جگہ میں اپنے اپنے تخت پر شاہانہ لِباس پہنے ہُوئے بَیٹھے تھے اور سب نبی اُن کے حضُور پیشِین گوئی کر رہے تھے۔ {22:11} اور کنعا نہ کے بیٹے صِدقیاہ نے اپنے لِئے لوہے کے سِینگ بنائے اور کہا خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ تُو اِن سے ارامِیوں کو مارے گا جب تک وہ نابُود نہ ہو جائیں۔ {22:12} اور سب نبِیوں نے یِہی پیشِین گوئی کی اور کہا کہ رامات جِلعاد پر چڑھائی کر اور کامیاب ہو کیونکہ خُداوند اُسے بادشاہ کے قبضہ میں کر دے گا۔ {22:13} اور اُس قاصِد نے جو مِیکایا ہ کو بُلانے کو گیا تھا اُس سے کہا دیکھ! سب نبی ایک زُبان ہو کر بادشاہ کو خُوشخبری دے رہے ہیں ۔ سو ذرا تیری بات بھی اُن کی بات کی طرح ہو اور تُو خُوشخبری ہی دینا۔ {22:14} مِیکایا ہ نے کہا خُداوند کی حیات کی قَسم جو کُچھ خُداوند مُجھے فرمائے مَیں وُہی کہُوں گا۔ {22:15} سو جب وہ بادشاہ کے پاس آیا تو بادشاہ نے اُس سے کہا مِیکایا ہ ہم راما ت جِلعاد سے لڑنے جائیں یا رہنے دیں؟ اُس نے جواب دِیا جا اور کامیاب ہو کیونکہ خُداوند اُسے بادشاہ کے قبضہ میں کر دے گا۔ {22:16} بادشاہ نے اُس سے کہا مَیں کِتنی مرتبہ تُجھے قَسم دے کر کہُوں کہ تُو خُداوند کے نام سے حق کے سِوا اَور کُچھ مُجھ کو نہ بتائے؟۔ {22:17} تب اُس نے کہا مَیں نے سارے اِسرا ئیل کو اُن بھیڑوں کی مانِند جِن کا چَوپان نہ ہو پہاڑوں پر پراگندہ دیکھا اور خُداوند نے فرمایا کہ اِن کا کوئی مالِک نہیں ۔ سو وہ اپنے اپنے گھر سلامت لَوٹ جائیں۔ {22:18} تب شاہِ اِسرا ئیل نے یہُو سفط سے کہا کیا مَیں نے تُجھ کو بتایا نہیں تھا کہ یہ میرے حق میں نیکی کی نہیں بلکہ بدی کی پیشِین گوئی کرے گا؟۔ {22:19} تب اُس نے کہا اچّھا تو خُداوند کے سُخن کو سُن لے ۔ مَیں نے دیکھا کہ خُداوند اپنے تخت پر بَیٹھا ہے اور سارا آسمانی لشکر اُس کے دہنے اور بائیں کھڑا ہے۔ {22:20} اور خُداوند نے فرمایا کَون اخی ا ب کو بہکائے گا تاکہ وہ چڑھائی کرے اور راما ت جِلعاد میں کھیت آئے؟ تب کِسی نے کُچھ کہا اور کِسی نے کُچھ۔ {22:21} لیکن ایک رُوح نِکل کر خُداوند کے سامنے کھڑی ہُوئی اور کہا مَیں اُسے بہکاؤُں گی۔ {22:22} خُداوند نے اُس سے پُوچھا کِس طرح؟ اُس نے کہا مَیں جا کر اُس کے سب نبِیوں کے مُنہ میں جُھوٹ بولنے والی رُوح بن جاؤُں گی ۔ اُس نے کہا تُو اُسے بہکا دے گی اور غالِب بھی ہو گی ۔ روانہ ہو جا اور اَیسا ہی کر۔ {22:23} سو دیکھ خُداوند نے تیرے اِن سب نبِیوں کے مُنہ میں جُھوٹ بولنے والی رُوح ڈالی ہے اور خُداوند نے تیرے حق میں بدی کا حُکم دِیا ہے۔ {22:24} تب کنعا نہ کا بیٹا صِدقیاہ نزدِیک آیا اور اُس نے مِیکایا ہ کے گال پر مار کر کہا خُداوند کی رُوح تُجھ سے بات کرنے کو کِس راہ سے ہو کر مُجھ میں سے گئی؟۔ {22:25} مِیکایا ہ نے کہا یہ تُو اُسی دِن دیکھ لے گا جب تُو اندر کی ایک کوٹھری میں گُھسے گا تاکہ چُھپ جائے۔ {22:26} اور شاہِ اِسرا ئیل نے کہا مِیکایا ہ کو لے کر اُسے شہر کے ناظِم امو ن اور یُوآ س شہزادہ کے پاس لَوٹا لے جاؤ۔ {22:27} اور کہنا بادشاہ یُوں فرماتا ہے کہ اِس شخص کو قَیدخانہ میں ڈال دو اور اِسے مُصِیبت کی روٹی کِھلانا اور مُصِیبت کا پانی پِلانا جب تک مَیں سلامت نہ آؤُں۔ {22:28} تب مِیکایا ہ نے کہا اگر تُو سلامت واپس آ جائے تو خُداوند نے میری معرفت کلام ہی نہیں کِیا ۔ پِھر اُس نے کہا اَے لوگو! تُم سب کے سب سُن لو۔ {i22:29} اخی اب کی وفات {22:29} سو شاہِ اِسرا ئیل اور شاہِ یہُودا ہ یہُو سفط نے راما ت جِلعاد پر چڑھائی کی۔ {22:30} اور شاہ اِسرا ئیل نے یہُو سفط سے کہا مَیں اپنا بھیس بدل کر لڑائی میں جاؤُں گا پر تُو اپنا لِباس پہنے رہ ۔ سو شاہِ اِسرا ئیل اپنا بھیس بدل کر لڑائی میں گیا۔ {22:31} اُدھر شاہِ ارا م نے اپنے رتھوں کے بتِیّسوں سرداروں کو حُکم دِیا تھا کہ کِسی چھوٹے یا بڑے سے نہ لڑنا سِوا شاہِ اِسرا ئیل کے۔ {22:32} سو جب رتھوں کے سرداروں نے یہُوسفط کو دیکھا تو کہا کہ ضرُور شاہِ اِسرا ئیل یِہی ہے اور وہ اُس سے لڑنے کو مُڑے ۔ تب یہُو سفط چِلاّ اُٹھا۔ {22:33} جب رتھوں کے سرداروں نے دیکھا کہ وہ شاہِ اِسرا ئیل نہیں تو وہ اُس کا پِیچھا کرنے سے لَوٹ گئے۔ {22:34} اور کِسی شخص نے یُوں ہی اپنی کمان کھینچی اور شاہِ اِسرا ئیل کو جَوشن کے بندوں کے درمِیان مارا ۔ تب اُس نے اپنے سارتھی سے کہا کہ باگ پھیر کر مُجھے لشکر سے باہر نِکال لے چل کیونکہ مَیں زخمی ہو گیا ہُوں۔ {22:35} اور اُس دِن بڑے گھمسان کا رن پڑا اور اُنہوں نے بادشاہ کو اُس کے رتھ ہی میں ارامِیوں کے مُقابِل سنبھالے رکھّا اور وہ شام کو مَر گیا اور خُون اُس کے زخم سے بہہ کر رتھ کے پایدان میں بھر گیا۔ {22:36} اور آفتاب غرُوب ہوتے ہُوئے لشکر میں یہ پُکار ہو گئی کہ ہر ایک آدمی اپنے شہر اور ہر ایک آدمی اپنے مُلک کو جائے۔ {22:37} سو بادشاہ مَر گیا اور وہ سامر یہ میں پُہنچایا گیا اور اُنہوں نے بادشاہ کو سامر یہ میں دفن کِیا۔ {22:38} اور اُس رتھ کو سامر یہ کے تالاب میں دھویا (کسبِیاں یہِیں غُسل کرتی تِھیں) اور خُداوند کے کلام کے مُطابِق جو اُس نے فرمایا تھا کُتّوں نے اُس کا خُون چاٹا۔ {22:39} اور اخی ا ب کی باقی باتیں اور سب کُچھ جو اُس نے کِیا تھا اور ہاتھی دانت کا گھر جو اُس نے بنایا تھا اور اُن سب شہروں کا حال جو اُس نے تعمِیر کِئے سو کیا وہ اِسرا ئیل کے بادشاہوں کی توارِیخ کی کِتاب میں قلمبند نہیں؟۔ {22:40} اور اخی ا ب اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُس کا بیٹا اخزیا ہ اُس کی جگہ بادشاہ ہُؤا۔ {i22:41} یہُودا ہ کا بادشاہ یہُوسفط {22:41} اور آسا کا بیٹا یہُو سفط شاہِ اِسرا ئیل اخی ا ب کے چَوتھے سال سے یہُودا ہ پر سلطنت کرنے لگا۔ {22:42} اور جب یہُو سفط سلطنت کرنے لگا تو پَینتِیس برس کا تھا اور اُس نے یروشلیِم میں پچِیّس برس سلطنت کی ۔ اُس کی ماں کا نام عزُو بہ تھا جو سِلحی کی بیٹی تھی۔ {22:43} وہ اپنے باپ آسا کے نقشِ قدم پر چلا ۔ اُس سے وہ مُڑا نہیں اور جو خُداوند کی نِگاہ میں ٹِھیک تھا اُسے کرتا رہا تَو بھی اُونچے مقام ڈھائے نہ گئے ۔ لوگ اُن اُونچے مقاموں پر ہنُوز قُربانی کرتے اور بخُور جلاتے تھے۔ {22:44} اور یہُو سفط نے شاہِ اِسرا ئیل سے صُلح کی۔ {22:45} اور یہُو سفط کی باقی باتیں اور اُس کی قُوّت جو اُس نے دِکھائی اور اُس کے جنگ کرنے کی کیفیّت سو کیا وہ یہُودا ہ کے بادشاہوں کی توارِیخ کی کِتاب میں قلمبند نہیں؟۔ {22:46} اور اُس نے باقی لُوطِیوں کو جو اُس کے باپ آسا کے عہد میں رہ گئے تھے مُلک سے خارِج کر دِیا۔ {22:47} اور ادُو م میں کوئی بادشاہ نہ تھا بلکہ ایک نائِب حُکومت کرتا تھا۔ {22:48} اور یہُو سفط نے تَرسِیس کے جہاز بنائے تاکہ اوفِیر کو سونے کے لِئے جائیں پر وہ گئے نہیں کیونکہ وہ عصیُون جابر ہی میں ٹُوٹ گئے۔ {22:49} تب اخی ا ب کے بیٹے اخزیا ہ نے یہُو سفط سے کہا اپنے خادِموں کے ساتھ میرے خادِموں کو بھی جہازوں میں جانے دے پر یہُو سفط راضی نہ ہُؤا۔ {22:50} اور یہُو سفط اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اپنے باپ داؤُد کے شہر میں اپنے باپ دادا کے ساتھ دفن ہُؤا اور اُس کا بیٹا یہُورا م اُس کی جگہ بادشاہ ہُؤا۔ {i22:51} اِسرائیل کا بادشاہ اخزیاہ {22:51} اور اخی ا ب کا بیٹا اخزیا ہ شاہِ یہُودا ہ یہُو سفط کے سترھویں سال سے سامر یہ میں اِسرا ئیل پر سلطنت کرنے لگا اور اُس نے اِسرا ئیل پر دو برس سلطنت کی۔ {22:52} اور اُس نے خُداوند کی نظر میں بدی کی اور اپنے باپ کی راہ اور اپنی ماں کی راہ اور نباط کے بیٹے یرُبعا م کی راہ پر چلا جِس سے اُس نے بنی اِسرائیل سے گُناہ کرایا۔ {22:53} اور اپنے باپ کے سب کاموں کے مُوافِق بعل کی پرستِش کرتا اور اُس کو سِجدہ کرتا رہا اور خُداوند اِسرا ئیل کے خُدا کو غُصّہ دِلایا۔