{i1:1} تمہید {1:1} چُونکہ بُہتوں نے اِس پر کمر باندھی ہے کہ جو باتیں ہمارے درمِیان واقِع ہُوئِیں اُن کو ترتِیب وار بیان کریںO {1:2} جَیسا کہ اُنہوں نے جو شرُوع سے خُود دیکھنے والے اور کلام کے خادِم تھے اُن کو ہم تک پُہنچایاO {1:3} اِس لِئے اَے مُعزّز تِھیُفِلُس مَیں نے بھی مُناسِب جانا کہ سب باتوں کا سِلسِلہ شرُوع سے ٹِھیک ٹِھیک دریافت کر کے اُن کو تیرے لِئے ترتِیب سے لِکُھوںO {1:4} تاکہ جِن باتوں کی تُونے تعلِیم پائی ہے اُن کی پُختگی تُجھے معلُوم ہو جائےO {i1:5} یُوحنّا بپتسِمہ دینے والے کی پَیدایش کی بشارت {1:5} یہُودیہ کے بادشاہ ہیرود یس کے زمانہ میں اَبِیّا ہ کے فرِیق میں سے زکریا ہ نام ایک کاہِن تھا اور اُس کی بِیوی ہارو ن کی اَولاد میں سے تھی اور اُس کا نام اِلیشِبَع تھاO {1:6} اور وہ دونوں خُدا کے حضُور راستباز اور خُداوند کے سب احکام و قوانِین پر بے عَیب چلنے والے تھےO {1:7} اور اُن کے اَولاد نہ تھی کیونکہ اِلیشِبَع بانجھ تھی اور دونوں عُمر رسِیدہ تھےO {1:8} جب وہ خُدا کے حضُور اپنے فرِیق کی باری پر کہانت کا کام انجام دیتا تھا تو اَیسا ہُؤاO {1:9} کہ کہانت کے دستُور کے مُوافِق اُس کے نام کا قُرعہ نِکلا کہ خُداوند کے مَقدِس میں جا کر خُوشبُو جلائےO {1:10} اور لوگوں کی ساری جماعت خُوشبُو جلاتے وقت باہر دُعا کر رہی تھیO {1:11} کہ خُداوند کا فرِشتہ خُوشبُو کے مذبح کی د ہنی طرف کھڑا ہُؤا اُس کو دِکھائی دِیاO {1:12} اور زکریا ہ دیکھ کر گھبرایا اور اُس پر دہشت چھا گئیO {1:13} مگر فرِشتہ نے اُس سے کہا اَے زکریا ہ! خَوف نہ کر کیونکہ تیری دُعا سُن لی گئی اور تیرے لِئے تیری بِیوی اِلیشِبَع کے بیٹا ہو گا O تُو اُس کا نام یُوحنّا رکھناO {1:14} اور تُجھے خُوشی و خُرّمی ہو گی اور بُہت سے لوگ اُس کی پَیدایش کے سبب سے خُوش ہوں گےO {1:15} کیونکہ وہ خُداوندکے حضُور میں بزُرگ ہو گا اور ہرگِز نہ مَے نہ کوئی اَور شراب پِیئے گا اور اپنی ماں کے بَطن ہی سے رُوحُ القُدس سے بھر جائے گاO {1:16} اور بُہت سے بنی اِسرائیل کو خُداوندکی طرف جو اُن کا خُدا ہے پھیرے گاO {1:17} اور وہ ایلیّا ہ کی رُوح اور قُوّت میں اُس کے آگے آگے چلے گا کہ والِدوں کے دِل اَولاد کی طرف اور نافرمانوں کو راست بازوں کی دانائی پر چلنے کی طرف پھیرے اور خُداوند کے لِئے ایک مُستعِد قَوم تیّار کرےO {1:18} زکریا ہ نے فرِشتہ سے کہا مَیں اِس بات کو کِس طرح جانُوں؟ کیونکہ مَیں بُوڑھا ہُوں اور میری بِیوی عُمر رسِیدہ ہےO {1:19} فرِشتہ نے جواب میں اُس سے کہا مَیں جبرا ئیل ہُوں جو خُدا کے حضُور کھڑا رہتا ہُوں اور اِس لِئے بھیجا گیا ہُوں کہ تُجھ سے کلام کرُوں اور تُجھے اِن باتوں کی خُوشخبری دُوںO {1:20} اور دیکھ جِس دِن تک یہ باتیں واقِع نہ ہو لیں تُو چُپکا رہے گا اور بول نہ سکے گا O اِس لِئے کہ تُو نے میری باتوں کا جو اپنے وقت پر پُوری ہوں گی یقِین نہ کِیاO {1:21} اور لوگ زکر یاہ کی راہ دیکھتے اور تَعجُّب کرتے تھے کہ اُسے مَقدِس میں کیوں دیر لگیO {1:22} جب وہ باہر آیا تو اُن سے بول نہ سکا O پس اُنہوں نے معلُوم کِیا کہ اُس نے مَقدِس میں رویا دیکھی ہے اور وہ اُن سے اِشارے کرتا تھا اور گُونگا ہی رہاO {1:23} پِھراَیسا ہُؤا کہ جب اُس کی خِدمت کے دِن پُورے ہو گئے تو وہ اپنے گھر گیاO {1:24} اِن دِنوں کے بعد اُس کی بِیوی اِلیشِبَع حامِلہ ہُوئی اور اُس نے پانچ مہِینے تک اپنے تئِیں یہ کہہ کر چُھپائے رکھا کہO {1:25} جب خُداوندنے میری رُسوائی لوگوں میں سے دُور کرنے کے لِئے مُجھ پر نظر کی اُن دِنوں میں اُس نے میرے لِئے اَیسا کِیاO {i1:26} یِسُوع کی پَیدایش کی بشارت {1:26} چھٹے مہِینے میں جبرا ئیل فرِشتہ خُدا کی طرف سے گلِیل کے ایک شہر میں جِس کا نام ناصرۃ تھا ایک کُنواری کے پاس بھیجا گیاO {1:27} جِس کی منگنی داؤُد کے گھرانے کے ایک مَرد یُوسف نام سے ہُوئی تھی اور اُس کُنواری کا نام مر یم تھاO {1:28} اور فرِشتہ نے اُس کے پاس اندر آ کر کہا سلام تُجھ کو جِس پر فضل ہُؤا ہے! خُداوند تیرے ساتھ ہےO {1:29} وہ اِس کلام سے بُہت گھبرا گئی اور سوچنے لگی کہ یہ کَیسا سلام ہےO {1:30} فرِشتہ نے اُس سے کہا اَے مر یم! خَوف نہ کر کیونکہ خُدا کی طرف سے تُجھ پر فضل ہُؤا ہےO {1:31} اور دیکھ تُو حامِلہ ہو گی اور تیرے بیٹا ہو گا O اُس کانام یِسُو ع رکھناO {1:32} وہ بزُرگ ہو گا اور خُدا تعالےٰ کا بیٹا کہلائے گا اور خُداوند خُدا اُس کے باپ داؤُد کا تخت اُسے دے گاO {1:33} اور وہ یعقُو ب کے گھرانے پر ابد تک بادشاہی کرے گا اور اُس کی بادشاہی کا آخِر نہ ہو گاO {1:34} مریم نے فرِشتہ سے کہا یہ کیوں کر ہو گا جبکہ میں مَرد کو نہیں جانتی؟O {1:35} اور فرِشتہ نے جواب میں اُس سے کہا کہ رُوحُ القُدس تُجھ پر نازِل ہو گا اور خُدا تعالےٰ کی قُدرت تُجھ پر سایہ ڈالے گی اور اِس سبب سے وہ مَولُودِ مُقدّس خُدا کا بیٹاکہلائے گاO {1:36} اور دیکھ تیری رِشتہ دار اِلیشِبَع کے بھی بُڑھاپے میں بیٹا ہونے والا ہے اور اب اُس کو جو بانجھ کہلاتی تھی چھٹا مہینہ ہےO {1:37} کیونکہ جو قَول خُدا کی طرف سے ہے وہ ہرگِز بے تاثِیر نہ ہو گاO {1:38} مریم نے کہا دیکھ مَیں خُداوندکی بندی ہُوں O میرے لِئے تیرے قَول کے مُوافِق ہو O تب فرِشتہ اُس کے پاس سے چلا گیاO {i1:39} مریم اِلیِشبعَ سے مُلاقات کرتی ہے {1:39} اُن ہی دِنوں مر یم اُٹھی اور جلدی سے پہاڑی مُلک میں یہُودا ہ کے ایک شہر کو گئیO {1:40} اور زکر یاہ کے گھر میں داخِل ہو کراِلیشِبَع کو سلام کِیاO {1:41} اور جُونہی اِلیشِبَع نے مر یم کا سلام سُنا تو اَیسا ہُؤا کہ بچّہ اُس کے رَحِم میں اُچھل پڑا اور اِلیشِبَع رُوحُ القُدس سے بھر گئیO {1:42} اور بُلند آواز سے پُکار کر کہنے لگی کہ تُو عَورتوں میں مُبارِک اور تیرے رَحِم کا پَھل مُبارک ہےO {1:43} اور مُجھ پر یہ فضل کہاں سے ہُؤا کہ میرے خُداوند کی ماں میرے پاس آئی؟O {1:44} کیونکہ دیکھ جُونہی تیرے سلام کی آواز میرے کان میں پُہنچی بچّہ مارے خُوشی کے میرے رَحمِ میں اُچھل پڑاO {1:45} اور مُبارک ہے وہ جو اِیمان لائی کیونکہ جو باتیں خُداوند کی طرف سے اُس سے کہی گئی تِھیں وہ پُوری ہوں گیO {i1:46} مریم حمد کا گِیت گاتی ہے {1:46} پِھر مر یم نے کہا کہ میری جان خُداوندکی بڑائی کرتی ہےO {1:47} اور میری رُوح میرے مُنجّی خُدا سے خُوش ہُوئیO {1:48} کیونکہ اُس نے اپنی بندی کی پست حالی پر نظرکی اور دیکھ اب سے لے کر ہر زمانہ کے لوگ مُجھ کو مُبارک کہیں گےO {1:49} کیونکہ اُس قادِر نے میرے لِئے بڑے بڑے کام کِئے ہیں اور اُس کا نام پاک ہےO {1:50} اور اُس کا رَحم اُن پر جو اُس سے ڈرتے ہیں پُشت دَر پُشت رہتا ہےO {1:51} اُس نے اپنے بازُو سے زور دِکھایا اور جو اپنے تئِیں بڑا سمجھتے تھے اُن کو پراگندہ کِیاO {1:52} اُس نے اِختیار والوں کو تخت سے گِرا دیا اور پست حالوں کو بُلند کِیاO {1:53} اُس نے بُھوکوں کو اچھّی چِیزوں سے سیر کردیا اور دَولت مندوں کو خالی ہاتھ لَوٹا دِیاO {1:54} اُس نے اپنے خادِم اِسرا ئیل کو سنبھال لِیا تاکہ اپنی اُس رحمت کو یاد فرمائےO {1:55} جو ابرہا م اور اُس کی نسل پر ابد تک رہے گی جَیسا اُس نے ہمارے باپ دادا سے کہا تھاO {1:56} اور مریم تِین مہِینے کے قرِیب اُس کے ساتھ رہ کر اپنے گھر کو لَوٹ گئیO {i1:57} یُوحنّا بپتسِمہ دینے والے کی پَیدایش {1:57} اور اِلیشِبَع کے وضعِ حمل کا وقت آ پُہنچا اور اُس کے بیٹا ہُؤاO {1:58} اور اُس کے پڑوسِیوں اور رِشتہ داروں نے یہ سُن کر کہ خُداوندنے اُس پر بڑی رحمت کی اُس کے ساتھ خُوشی منائیO {1:59} اور آٹھویں دِن اَیسا ہُؤا کہ وہ لڑکے کا خَتنہ کرنے آئے اور اُس کا نام اُس کے باپ کے نام پر زکر یاہ رکھنے لگےO {1:60} مگر اُس کی ماں نے کہا نہیں بلکہ اُس کا نام یُوحنّا رکھّا جائےO {1:61} اُنہوں نے اُس سے کہا کہ تیرے کُنبے میں کِسی کا یہ نام نہیںO {1:62} اور اُنہوں نے اُس کے باپ کو اِشارہ کِیا کہ تُو اُس کا نام کیا رکھنا چاہتا ہے؟O {1:63} اُس نے تختی منگا کر یہ لِکھا کہ اُس کا نام یُوحنّا ہے اور سب نے تعجُّب کِیاO {1:64} اُسی دَم اُس کا مُنہ اور زُبان کُھل گئی اور وہ بولنے اور خُدا کی حمد کرنے لگاO {1:65} اور اُن کے آس پاس کے سب رہنے والوں پر دہشت چھا گئی اور یہُودیہ کے تمام پہاڑی مُلک میں اِن سب باتوں کا چرچا پَھیل گیاO {1:66} اور سب سُننے والوں نے اُن کو دِل میں سوچ کر کہا تو یہ لڑکا کَیسا ہونے والا ہے؟ کیونکہ خُداوند کا ہاتھ اُس پر تھاO {i1:67} زکریا ہ کی نُبّوت {1:67} اور اُس کا باپ زکر یاہ رُوحُ القُدس سے بھر گیا اور نبُوّت کی راہ سے کہنے لگا کہO {1:68} خُداوند اِسرا ئیل کے خُدا کی حمد ہو کیونکہ اُس نے اپنی اُمّت پر توجُّہ کر کے اُسے چُھٹکارا دِیاO {1:69} اور اپنے خادِم داؤُد کے گھرانے میں ہمارے لِئے نجات کا سِینگ نِکالاO {1:70} (جَیسا اُس نے اپنے پاک نبِیوں کی زُبانی کہا تھا جو کہ دُنیا کے شرُوع سے ہوتے آئے ہیں)O {1:71} یعنی ہم کو ہمار ے دُشمنوں سے اور سب کِینہ رکھنے والوں کے ہاتھ سے نجات بخشیO {1:72} تاکہ ہمارے باپ دادا پر رحم کرے اور اپنے پاک عہد کو یاد فرمائےO {1:73} یعنی اُس قَسم کو جو اُس نے ہمارے باپ ابرہا م سے کھائی تھیO {1:74} کہ وہ ہمیں یہ عِنایت کرے گا کہ اپنے دُشمنوں کے ہاتھ سے چُھوٹ کرO {1:75} اُس کے حضُور پاکِیزگی اور راست بازی سے عُمر بھر بے خَوف اُس کی عِبادت کریںO {1:76} اور اَے لڑکے تُو خُدا تعالےٰ کا نبی کہلائے گا کیونکہ تُو خُداوند کی راہیں تیّار کرنے کو اُس کے آگے آگے چلے گاO {1:77} تاکہ اُس کی اُمّت کو نجات کا عِلم بخشے جو اُن کو گُناہوں کی مُعافی سے حاصِل ہوO {1:78} یہ ہمارے خُدا کی عَین رحمت سے ہوگا جِس کے سبب سے عالمِ بالا کا آفتاب ہم پر طلُوع کرے گاO {1:79} تاکہ اُن کو جو اندھیرے اور مَوت کے سایہ میں بَیٹھے ہیں رَوشنی بخشے اور ہمارے قدموں کو سلامتی کی راہ پر ڈالےO {1:80} اور وہ لڑکا بڑھتا اور رُوح میں قُوّت پاتا گیا اور اِسرا ئیل پر ظاہِر ہونے کے دِن تک جنگلوں میں رہاO {i2:1} یِسُوع کی پَیدایش (متّی ۱‏:۱۸‏-۲۵) {2:1} اُن دِنوں میں اَیسا ہُؤا کہ قَیصر اَوگُوستُس کی طرف سے یہ حُکم جاری ہُؤا کہ ساری دُنیاکے لوگوں کے نام لِکھے جائیںO {2:2} یہ پہلی اِسم نوِیسی سُور یہ کے حاکِم کورنِیُس کے عہد میں ہُوئیO {2:3} اور سب لوگ نام لِکھوانے کے لِئے اپنے اپنے شہر کو گئےO {2:4} پس یُوسف بھی گلِیل کے شہر ناصرۃ سے داؤُد کے شہر بَیت لحم کو گیا جو یہُودیہ میں ہے O اِس لِئے کہ وہ داؤُد کے گھرانے اور اَولاد سے تھاO {2:5} تاکہ اپنی منگیتر مریم کے ساتھ جو حامِلہ تھی نام لِکھوائےO {2:6} جب وہ وہاں تھے تو اَیسا ہُؤا کہ اُس کے وضعِ حمل کا وقت آ پُہنچاO {2:7} اور اُس کا پہلوٹابیٹا پَیدا ہُؤا اور اُس نے اُس کو کپڑے میں لپیٹ کر چرنی میں رکھّاکیونکہ اُن کے واسطے سرائے میں جگہ نہ تھیO {i2:8} چرواہے اور فرِشتے {2:8} اُسی عِلاقہ میں چرواہے تھے جو رات کو مَیدان میں رہ کر اپنے گلّہ کی نِگہبانی کر رہے تھےO {2:9} اور خُداوندکا فرِشتہ اُن کے پاس آ کھڑا ہُؤا اور خُداوندکا جلال اُن کے چَوگِرد چمکا اور وہ نِہایت ڈر گئےO {2:10} مگر فرِشتہ نے اُن سے کہا ڈرو مت کیونکہ دیکھو مَیں تُمہیں بڑی خُوشی کی بشارت دیتا ہُوں جو ساری اُمّت کے واسطے ہو گیO {2:11} کہ آج داؤُد کے شہر میں تُمہارے لِئے ایک مُنجّی پَیدا ہُؤا ہے یعنی مسِیح خُداوندO {2:12} اور اِس کا تُمہارے لِئے یہ نِشان ہے کہ تُم ایک بچّہ کو کپڑے میں لِپٹا اور چرنی میں پڑا ہُؤا پاؤ گےO {2:13} اور یکایک اُس فرِشتہ کے ساتھ آسمانی لشکر کی ایک گروہ خُدا کی حمد کرتی اور یہ کہتی ظاہِر ہُوئی کہO {2:14} عالَمِ بالا پر خُدا کی تمجِیدہو اور زمِین پر اُن آدَمِیوں میں جِن سے وہ راضی ہے صُلحO {2:15} جب فرِشتے اُن کے پاس سے آسمان پر چلے گئے تو اَیسا ہُؤا کہ چرواہوں نے آپس میں کہا کہ آؤ بَیت لحم تک چلیں اور یہ بات جو ہُوئی ہے اور جِس کی خُداوند نے ہم کو خبر دی ہے دیکھیںO {2:16} پس اُنہوں نے جلدی سے جا کر مریم اور یُوسف کو دیکھا اور اُس بچّہ کو چرنی میں پڑا پایاO {2:17} اور اُنہیں دیکھ کر وہ بات جو اُس لڑکے کے حق میں اُن سے کہی گئی تھی مشہُور کیO {2:18} اور سب سُننے والوں نے اِن باتوں پر جو چرواہوں نے اُن سے کہِیں تعجُّب کِیاO {2:19} مگر مر یم اِن سب باتوں کو اپنے دِل میں رکھ کر غَور کرتی رہیO {2:20} اور چرواہے جَیسا اُن سے کہا گیا تھا وَیسا ہی سب کُچھ سُن کر اور دیکھ کر خُدا کی تمجِید اور حمد کرتے ہُوئے لَوٹ گئےO {i2:21} یِسُوع کا نام رکھّا جاتا ہے {2:21} جب آٹھ دِن پُورے ہُوئے اور اُس کے خَتنہ کا وقت آیا تو اُس کا نام یِسُو ع رکھا گیا جو فرِشتہ نے اُس کے رَحِم میںپڑنے سے پہلے رکھّا تھاO {i2:22} یِسُوع کو ہَیکل میں پیش کِیا جاتا ہے {2:22} پِھر جب مُوسیٰ کی شرِیعت کے مُوافِق اُن کے پاک ہونے کے دِن پُورے ہو گئے تو وہ اُس کو یروشلِیم میں لائے تاکہ خُداوندکے آگے حاضِر کریںO {2:23} (جَیسا کہ خُداوندکی شرِیعت میں لِکھا ہے کہ ہر ایک پہلوٹاخُداوند کے لِئے مُقدّسٹھہرے گا)O {2:24} اور خُداوندکی شرِیعت کے اِس قَول کے مُوافِق قُربانی کریں کہ قُمرِیوں کا ایک جوڑا یا کبُوتر کے دو بچّے لاؤO {2:25} اور دیکھو یرُوشلیم میںشمعُون نام ایک آدمی تھا اور وہ آدمی راستباز اور خُدا ترس اور اِسرا ئیل کی تسلّی کامُنتظِر تھا اور رُوحُ القُدس اُس پر تھاO {2:26} اوراُس کو رُوحُ القُدس سے آگاہی ہُوئی تھی کہ جب تک تُو خُداوند کے مسِیح کو دیکھ نہ لے مَوت کو نہ دیکھے گاO {2:27} وہ رُوح کی ہدایت سے ہَیکل میں آیا اور جِس وقت ماں باپ اُس لڑکے یِسُو ع کو اندر لائے تاکہ اُس کے لِئے شرِیعت کے دستُور پر عمل کریںO {2:28} تو اُس نے اُسے اپنی گود میں لِیا اور خُدا کی حمد کر کے کہا کہO {2:29} اَے مالِک اب تُو اپنے خادِم کو اپنے قَول کے مُوافِق سلامتی سے رُخصت کرتا ہےO {2:30} کیونکہ میری آنکھوں نے تیری نجات دیکھ لی ہےO {2:31} جو تُو نے سب اُمتّوں کے رُوبرُو تیّار کی ہےO {2:32} تاکہ غَیر قَوموں کو رَوشنی دینے والا نُور اور تیری اُمّت اِسرا ئیل کا جلال بنےO {2:33} اور اُس کا باپ اور اُس کی ماں اِن باتوں پر جو اُس کے حق میں کہی جاتی تِھیں تعجُّب کرتے تھےO {2:34} اور شمعُو ن نے اُن کے لِئے دُعائے خَیر کی اور اُس کی ماں مر یم سے کہا دیکھ یہ اِسرا ئیل میں بُہتوں کے گِرنے اور اُٹھنے کے لِئے اور اَیسا نِشان ہونے کے لِئے مُقرّر ہُؤا ہے جِس کی مُخالفت کی جائے گیO {2:35} بلکہ خُود تیری جان بھی تلوار سے چِھد جائے گی تاکہ بُہت لوگوں کے دِلوں کے خیال کُھل جائیںO {2:36} اور آشر کے قبِیلہ میں سے حنّاہ نام فنوایل کی بیٹی ایک نبِیّہ تھی O وہ بُہت عُمررسِیدہ تھی اور اُس نے اپنے کُنوارپَن کے بعد سات برس ایک شَوہر کے ساتھ گُذارے تھےO {2:37} وہ چَوراسی برس سے بیوہ تھی اور ہَیکل سے جُدا نہ ہوتی تھی بلکہ رات دِن روزوں اور دُعاؤں کے ساتھ عِبادت کِیا کرتی تھیO {2:38} اور وہ اُسی گھڑی وہاں آ کر خُدا کا شُکر کرنے لگی اور اُن سب سے جو یروشلِیم کے چُھٹکارے کے مُنتظِر تھے اُس کی بابت باتیں کرنے لگیO {i2:39} ناصرت کو واپسی {2:39} اور جب وہ خُداوند کی شرِیعت کے مُطابِق سب کُچھ کر چُکے تو گلِیل میں اپنے شہر ناصرۃ کو پِھر گئےO {2:40} اور وہ لڑکا بڑھتا اور قُوّت پاتا گیا اور حِکمت سے معمُور ہوتا گیا اور خُدا کا فضل اُس پر تھاO {i2:41} لڑکا یِسُوع ہَیکل میں {2:41} اُس کے ماں باپ ہر برس عِیدِ فَسح پر یروشلیِم کو جایا کرتے تھےO {2:42} اور جب وہ بارہ برس کا ہُؤا تو وہ عِید کے دستُور کے مُوافِق یروشلِیم کو گئےO {2:43} جب وہ اُن دِنوں کو پُورا کر کے لَوٹے تو وہ لڑکا یِسُو ع یروشلِیم میں رہ گیا اور اُس کے ماں باپ کو خبر نہ ہُوئیO {2:44} مگر یہ سمجھ کر کہ وہ قافِلہ میں ہے ایک منزِل نِکل گئے اور اُسے اپنے رِشتہ داروں اور جان پہچانوں میں ڈُھونڈنے لگےO {2:45} جب نہ مِلا تو اُسے ڈُھونڈتے ہُوئے یروشلِیم تک واپس گئےO {2:46} اور تِین روز کے بعد اَیسا ہُؤا کہ اُنہوں نے اُسے ہَیکل میں اُستادوں کے بِیچ میں بَیٹھے اُن کی سُنتے اور اُن سے سوال کرتے ہُوئے پایاO {2:47} اور جِتنے اُس کی سُن رہے تھے اُس کی سمجھ اور اُس کے جوابوں سے دنگ تھےO {2:48} وہ اُسے دیکھ کر حَیران ہُوئے اور اُس کی ماں نے اُس سے کہا بیٹا! تُو نے کیوں ہم سے اَیسا کِیا؟ دیکھ تیرا باپ اور مَیں کُڑھتے ہُوئے تُجھے ڈُھونڈتے تھےO {2:49} اُس نے اُن سے کہا تُم مُجھے کیوں ڈُھونڈتے تھے؟ کیا تُم کو معلُوم نہ تھا کہ مُجھے اپنے باپ کے ہاں ہونا ضرُور ہے؟O {2:50} مگر جو بات اُس نے اُن سے کہی اُسے وہ نہ سمجھےO {2:51} اور وہ اُن کے ساتھ روانہ ہو کر ناصرۃ میں آیا اور اُن کے تابع رہا اور اُس کی ماں نے یہ سب باتیں اپنے دِل میں رکھِّیںO {2:52} اور یِسُو ع حِکمت اور قد و قامت میں اور خُدا کی اور اِنسان کی مقبُولیّت میں ترقّی کرتا گیاO {i3:1} یُوحنّا بپتسِمہ دینے والے کی مُنادی ( متّی ۳‏:۱‏-۱۲؛ مرقس۱‏:۱‏-۸؛ یُوحنّا ۱: ۱۹‏-۲۸) {3:1} تِبرِ یُس قَیصر کی حُکومت کے پندرھویں برس جب پُنطِیُس پِیلا طُس یہُودیہ کا حاکِم تھا اور ہیرود یس گلِیل کا اور اُس کا بھائی فِلپُّس اِتُور یہِّ اور ترخونی تِس کا اور لِسانیا س اَبِلینے کا حاکِم تھاO {3:2} اور حنّاہ اور کائِفا سردار کاہِن تھے اُس وقت خُدا کا کلام بیابان میں زکریا ہ کے بیٹے یُوحنّا پر نازِل ہُؤاO {3:3} اور وہ یَرد ن کے سارے گِرد و نواح میں جا کر گُناہوں کی مُعافی کے لِئے تَوبہ کے بپتِسمہ کی مُنادی کرنے لگاO {3:4} جَیسا یسعیا ہ نبی کے کلام کی کِتاب میں لِکھا ہے کہ بیابان میں پُکارنے والے کی آواز آتی ہے کہ خُداوند کی راہ تیّار کروO اُس کے راستے سِیدھے بناؤO {3:5} ہر ایک گھاٹی بھر دی جائے گی اور ہر ایک پہاڑ اور ٹِیلہ نِیچا کِیاجائے گا اور جو ٹیڑھا ہے سیدھا اور جو اُونچا نِیچا ہے ہموار راستہ بنے گاO {3:6} اور ہر بشر خُدا کی نجات دیکھے گاO {3:7} پس جو لوگ اُس سے بپتِسمہ لینے کو نِکل کر آتے تھے وہ اُن سے کہتا تھا اَے سانپ کے بچّو! تُمہیں کِس نے جتایا کہ آنے والے غضب سے بھاگو؟O {3:8} پس تَوبہ کے مُوافِق پَھل لاؤ اور اپنے دِلوں میں یہ کہنا شرُوع نہ کرو کہ ابرہا م ہمارا باپ ہے کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ خُدا اِن پتّھروں سے ابرہا م کے لِئے اَولاد پَیدا کر سکتا ہےO {3:9} اور اب تو درختوں کی جڑ پر کُلہاڑا رکھّا ہے O پس جو درخت اچّھا پَھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہےO {3:10} لوگوں نے اُس سے پُوچھا پِھر ہم کیا کریں؟O {3:11} اُس نے جواب میں اُن سے کہا جِس کے پاس دو کُرتے ہوں وہ اُس کو جِس کے پاس نہ ہو بانٹ دے اور جِس کے پاس کھانا ہو وہ بھی اَیسا ہی کرےO {3:12} اور محصُول لینے والے بھی بپتِسمہ لینے کو آئے اور اُس سے پُوچھا کہ اَے اُستاد ہم کیا کریں؟O {3:13} اُس نے اُن سے کہا جو تُمہارے لِئے مُقرّرہے اُس سے زِیادہ نہ لیناO {3:14} اور سِپاہیوں نے بھی اُس سے پُوچھا کہ ہم کیا کریں؟ اُس نے اُن سے کہا نہ کِسی پر ظُلم کرو اور نہ کِسی سے ناحق کُچھ لو اور اپنی تنخواہ پر کِفایت کروO {3:15} جب لوگ مُنتظِرتھے اور سب اپنے اپنے دِل میں یُو حنّا کی بابت سوچتے تھے کہ آیا وہ مسِیح ہے یا نہیںO {3:16} تو یُوحنّا نے اُن سب سے جواب میں کہا مَیں تو تُمہیں پانی سے بپتِسمہ دیتا ہُوں مگر جو مُجھ سے زورآور ہے وہ آنے والا ہے O مَیں اُس کی جُوتی کا تسمہ کھولنے کے لائِق نہیں O وہ تُمہیں رُوحُ القُدس اور آگ سے بپتسِمہ دے گاO {3:17} اُس کا چھاج اُس کے ہاتھ میں ہے تاکہ وہ اپنے کھلیہان کو خُوب صاف کرے اور گیہُوں کو اپنے کھتّے میں جمع کرے مگر بُھوسی کو اُس آگ میں جلائے گا جو بُجھنے کی نہیںO {3:18} پس وہ اَور بُہت سی نصیحت کر کے لوگوں کو خُوشخبری سُناتا رہاO {3:19} لیکن چَوتھائی مُلک کے حاکِم ہیرود یس نے اپنے بھائی فِلِپُّس کی بِیوی ہیرودِ یاس کے سبب سے اور اُن سب بُرائیوں کے باعِث جو ہیرود یس نے کی تِھیں یُوحنّا سے ملامت اُٹھا کرO {3:20} اِن سب سے بڑھ کر یہ بھی کِیا کہ اُس کو قَید میں ڈالاO {i3:21} یِسُوع کا بپتسِمہ ( متّی ۳: ۱۳‏-۱۷؛ مرقس ۱‏:۱۲‏-۱۱) {3:21} جب سب لوگوں نے بپتسِمہ لِیا اور یِسُو ع بھی بپتسِمہ پا کر دُعا کر رہا تھا تو اَیسا ہُؤا کہ آسمان کُھل گیاO {3:22} اور رُوحُ القُدس جِسمانی صُورت میں کبُوتر کی مانِند اُس پر نازِل ہُؤا اور آسمان سے آواز آئی کہ تُو میرا پیارا بیٹا ہے O تُجھ سے مَیں خُوش ہُوںO {i3:23} یِسُوع کے آباواجداد {3:23} جب یِسُو ع خُود تعلِیم دینے لگا قرِیباً تِیس برس کا تھا اور (جَیسا کہ سمجھا جاتا تھا) یُوسف کا بیٹا تھا اور وہ عیلی کاO {3:24} اور وہ متّات کا اور وہ لاو ی کا اور وہ ملکی کا اور وہ ینّا کا اور وہ یُوسف کاO {3:25} اور وہ مَتّتِیا ہ کا اور وہ عامُو س کا اور وہ ناحُو م کا اور وہ اسلیا ہ کا اور وہ نوگہ کاO {3:26} اور وہ ما عَت کا اور وہ مَتّتیا ہ کا اور وہ شِمعی کا اور وہ یوسیخ کا اور وہ یودا ہ کاO {3:27} اور وہ یُوحنّا کا اور وہ ریسا کا اور وہ زرُبّابِل کا اور وہ سیالتی ایل کا اوروہ نیر ی کاO {3:28} اور وہ ملکی کا اور وہ اَدّی کا اور وہ قوسا م کا اور وہ اِلمودا م کا اور وہ عیر کاO {3:29} اور وہ یشُو ع کا اور وہ الِیعزر کا اور وہ یورِ یم کا اور وہ متّات کا اور وہ لاو ی کاO {3:30} اور وہ شمعُو ن کا اور وہ یہُودا ہ کا اور وہ یُوسف کا اور وہ یو نان کا اور وہ الیا قِیم کاO {3:31} اور وہ ملے آہ کا اور وہ مِنّاہ کا اور وہ متَّتاہ کا اور وہ ناتن کا اور وہ داؤُد کاO {3:32} اور وہ یسّی کا اور وہ عوبید کا اور وہ بوعز کا اور وہ سلمو ن کا اور وہ نحسون کاO {3:33} اور وہ عَمّیندا ب کا اور وہ ار نی کا اور وہ حصرو ن کا اور وہ فار ص کا اور وہ یہُودا ہ کاO {3:34} اور وہ یعقُو ب کا اور وہ اِضحا ق کا اور وہ ابرہا م کا اور وہ تار ہ کا اور وہ نحُور کاO {3:35} اور وہ سُرو ج کا اور وہ رعُو کا اور وہ فلج کا اور وہ عِبر کا اور وہ سلح کاO {3:36} اور وہ قینا ن کا اور وہ اَرفکسد کا اور وہ سِم کا اور وہ نُوح کا اور وہ لَمک کاO {3:37} اور وہ متُو سِلح کا اور وہ حَنُو ک کا اور وہ یارِد کا اور وہ مَہلل ایل کا اور وہ قِینا ن کاO {3:38} اور وہ انُوس کا اور وہ سیت کا اور وہ آد م کا اور وہ خُدا کا تھاO {i4:1} یِسُوع کی آزمایش ( متی ۴: ۱‏-۱۱؛ مرقس ۱: ۱۲‏-۱۳) {4:1} پِھر یِسُو ع رُوحُ القُدس سے بھرا ہُؤا یَرد ن سے لَوٹا اور چالِیس دِن تک رُوح کی ہدایت سے بیابان میں پِھرتا رہاO {4:2} اور اِبلِیس اُسے آزماتا رہا O اُن دِنوں میں اُس نے کُچھ نہ کھایا اور جب وہ دِن پُورے ہو گئے تو اُسے بُھوک لگیO {4:3} اور اِبلِیس نے اُس سے کہا کہ اگر تُو خُدا کا بیٹا ہے تو اِس پتّھر سے کہہ کہ روٹی بن جائےO {4:4} یِسُو ع نے اُس کو جواب دِیا لِکھا ہے کہ آدمی صِرف روٹی ہی سے جِیتا نہ رہے گاO {4:5} اور اِبلِیس نے اُسے اُونچے پر لے جا کر دُنیاکی سب سلطنتیں پَل بھر میں دِکھائِیںO {4:6} اور اُس سے کہا کہ یہ سارا اِختیار اور اُن کی شان و شوکت مَیں تُجھے دے دُوں گا کیونکہ یہ میرے سپُرد ہے اور جِس کو چاہتا ہُوں دیتا ہُوںO {4:7} پس اگر تُو میرے آگے سِجدہ کرے تو یہ سب تیرا ہو گاO {4:8} یِسُو ع نے جواب میں اُس سے کہا لِکھا ہے کہ تُو خُداونداپنے خُدا کو سِجدہ کر اور صِرف اُسی کی عِبادت کرO {4:9} اور وہ اُسے یروشلِیم میں لے گیا اور ہَیکل کے کنگُرے پر کھڑا کر کے اُس سے کہا اگر تُو خُدا کا بیٹاہے تو اپنے تئِیں یہاں سے نِیچے گِرا دےO {4:10} کیونکہ لِکھا ہے کہ وہ تیری بابت اپنے فرِشتوں کو حُکم دے گاکہ تیری حِفاظت کریںO {4:11} اور یہ بھی کہ وہ تُجھے ہاتھوں پر اُٹھا لیں گےOمبادا تیرے پاؤں کو پتّھر سے ٹھیس لگےO {4:12} یِسُو ع نے جواب میں اُس سے کہا فرمایا گیا ہے کہ تُو خُداونداپنے خُدا کی آزمایش نہ کرO {4:13} جب اِبلِیس تمام آزمایشیں کر چُکا تُو کُچھ عرصہ کے لِئے اُس سے جُدا ہُؤاO {i4:14} یِسُوع گلِیل میں خِدمت شرُوع کرتا ہے ( متّی ۴: ۱۲‏-۱۷؛ مرقس ۱: ۱۴‏-۱۷) {4:14} پِھر یِسُو ع رُوح کی قُوّت سے بھرا ہُؤا گلِیل کو لَوٹا اور سارے گِرد و نواح میں اُس کی شُہرت پَھیل گئیO {4:15} اور وہ اُن کے عِبا دت خانوں میں تعلِیم دیتا رہا اور سب اُس کی بڑائی کرتے رہےO {i4:16} یِسُوع ناصرت میں ردّ کِیا جا تا ہے ( متّی ۱۳: ۵۳‏-۵۸؛ مرقس ۶‏:۱‏-۶) {4:16} اور وہ ناصرۃ میں آیا جہاں اُس نے پرورِش پائی تھی اور اپنے دستُور کے مُوافِق سَبت کے دِن عِبادت خانہ میں گیا اور پڑھنے کو کھڑا ہُؤاO {4:17} اور یسعیا ہ نبی کی کِتاب اُس کو دی گئی اور کِتاب کھول کر اُس نے وہ مقام نِکالا جہاں یہ لِکھا تھا کہO {4:18} خُداوندکا رُوح مُجھ پر ہے O اِس لِئے کہ اُس نے مُجھے غرِیبوں کو خُوشخبری دینے کے لِئے مَسح کِیاO اُس نے مُجھے بھیجا ہے کہ قَیدِیوں کورِہائی اور اندھوں کو بِینائی پانے کی خبر سُناوُں O کُچلے ہُوؤں کو آزاد کرُوںO {4:19} اور خُداوند کے سالِ مقبُول کی مُنادی کرُوںO {4:20} پِھروہ کِتاب بند کر کے اور خادِم کو واپس دے کر بَیٹھ گیا اور جِتنے عِبادت خانہ میں تھے سب کی آنکھیں اُس پر لگی تِھیںO {4:21} وہ اُن سے کہنے لگا کہ آج یہ نوِشتہ تُمہارے سامنے پُورا ہُؤاO {4:22} اور سب نے اُس پر گواہی دی اور اُن پُر فضل باتوں پر جو اُس کے مُنہ سے نِکلتی تِھیں تعجُّب کر کے کہنے لگے کیا یہ یُوسف کا بیٹا نہیں؟O {4:23} اُس نے اُن سے کہا تُم البتّہ یہ مِثل مُجھ پر کہو گے کہ اَے حکِیم اپنے آپ کو تو اچھّا کر O جو کُچھ ہم نے سُنا ہے کہ کَفر نحُو م میں کِیا گیا یہاں اپنے وطن میں بھی کرO {4:24} اور اُس نے کہا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ کوئی نبی اپنے وطن میں مقبُول نہیں ہوتاO {4:25} اور مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ ایلیّاہ کے دِنوں میں جب ساڑھے تِین برس آسمان بند رہا یہاں تک کہ سارے مُلک میں سخت کال پڑا بُہت سی بیوائیں اِسرا ئیل میں تِھیںO {4:26} لیکن ایلیّاہ اُن میں سے کِسی کے پاس نہ بھیجا گیا مگر مُلکِ صَیدا کے شہر صار پت میں ایک بیوہ کے پاسO {4:27} اور اِلِیشَع نبی کے وقت میں اِسرا ئیل کے درمِیان بُہت سے کوڑھی تھے لیکن اُن میں سے کوئی پاک صاف نہ کِیا گیا مگرنعمان سَوریانیO {4:28} جِتنے عِبادت خانہ میں تھے اِن باتوں کو سُنتے ہی قہر سے بھر گئےO {4:29} اور اُٹھ کر اُس کو شہر سے باہر نِکالا اور اُس پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے جِس پر اُن کا شہر آباد تھا تاکہ اُسے سر کے بل گِرا دیںO {4:30} مگر وہ اُن کے بِیچ میں سے نِکل کر چلا گیاO {i4:31} ایک بدرُوح گرفتہ آدمی (مرقس ۱‏:۲۱‏-۲۸) {4:31} پِھر وہ گلِیل کے شہر کَفر نحُو م کو گیا اور سبت کے دِن اُنہیں تعلِیم دے رہا تھاO {4:32} اور لوگ اُس کی تعلِیم سے حَیران تھے کیونکہ اُس کا کلام اِختیار کے ساتھ تھاO {4:33} اور عِبادت خانہ میں ایک آدمی تھا جِس میں ناپاک دیو کی رُوح تھی وہ بڑی آواز سے چِلاّ اُٹھا کہO {4:34} اَے یِسُو ع ناصری ہمیں تُجھ سے کیا کام؟ کیا تُو ہمیں ہلاک کرنے آیا ہے؟ مَیں تُجھے جانتا ہُوں کہ تُو کَون ہے O خُدا کا قُدُّوس ہےO {4:35} یِسُو ع نے اُسے جِھڑک کر کہا چُپ رہ اور اُس میں سے نِکل جا O اِس پر بدرُوح اُسے بِیچ میںپٹک کر بغَیر ضرر پُہنچائے اُس میں سے نِکل گئیO {4:36} اور سب حَیران ہو کر آپس میں کہنے لگے کہ یہ کَیساکلام ہے؟ کیونکہ وہ اِختیار اور قُدرت سے ناپاک رُوحوں کو حُکم دیتا ہے اور وہ نِکل جاتی ہیںO {4:37} اور گِردونواح میں ہر جگہ اُس کی دُھوم مچ گئیO {i4:38} یِسُوع بُہت لوگوں کو شِفا دیتا ہے ( متّی ۸‏:۱۴‏-۱۷؛ مرقس ۱‏:۲۹‏-۳۴) {4:38} پِھر وہ عِبادت خانہ سے اُٹھ کر شمعُو ن کے گھر میں داخِل ہُؤا اور شمعُو ن کی ساس کو بڑی تپ چڑھی ہُوئی تھی اور اُنہوں نے اُس کے لِئے اُس سے عرض کیO {4:39} وہ کھڑا ہو کر اُس کی طرف جُھکا اور تپ کو جِھڑکا تو اُتر گئی اور وہ اُسی دَم اُٹھ کر اُن کی خِدمت کرنے لگیO {4:40} اور سُورج کے ڈُوبتے وقت وہ سب لوگ جِن کے ہاں طرح طرح کی بِیمارِیوں کے مرِیض تھے اُنہیں اُس کے پاس لائے اور اُس نے اُن میں سے ہر ایک پر ہاتھ رکھ کر اُنہیں اچھّا کِیاO {4:41} اور بدرُوحیں بھی چِلاّ کر اور یہ کہہ کر کہ تُو خُدا کا بیٹاہے بُہتوں میں سے نِکل گئِیں اور وہ اُنہیں جِھڑکتا اور بولنے نہ دیتا تھا کیونکہ وہ جانتی تِھیں کہ یہ مسِیح ہےO {i4:42} یِسُوع عِبادت خانوں میں تعلیِم دیتا ہے (مرقس ۱‏:۳۵‏-۳۹) {4:42} جب دِن ہُؤا تو وہ نِکل کر ایک وِیران جگہ میں گیا اور بِھیڑ کی بِھیڑ اُس کو ڈُھونڈتی ہُوئی اُس کے پاس آئی اور اُس کو روکنے لگی کہ ہمارے پاس سے نہ جاO {4:43} اُس نے اُن سے کہا مُجھے اَور شہروں میں بھی خُدا کی بادشاہی کی خُوشخبری سُنانا ضرُور ہے کیونکہ مَیں اِسی لِئے بھیجا گیا ہُوںO {4:44} اور وہ گلِیل کے عِبادت خانوں میں مُنادی کرتا رہاO {i5:1} یِسُوع پہلے شاگِردوں کو بُلاتا ہے ( متّی ۴: ۱۸‏-۲۲؛ مرقس ۱: ۱۶‏-۲۰) {5:1} جب بِھیڑ اُس پر گِری پڑتی تھی اور خُدا کا کلام سُنتی تھی اور وہ گنّیسر ت کی جِھیل کے کنارے کھڑا تھا تو اَیسا ہُؤا کہO {5:2} اُس نے جِھیل کے کنارے دو کشتِیاں لگی دیکِھیں لیکن مچھلی پکڑنے والے اُن پر سے اُتر کر جال دھو رہے تھےO {5:3} اور اُس نے اُن کشتِیوں میں سے ایک پر چڑھ کر جو شمعُو ن کی تھی اُس سے درخواست کی کہ کنارے سے ذرا ہٹا لے چل اور وہ بَیٹھ کر لوگوں کو کشتی پر سے تعلِیم دینے لگاO {5:4} جب کلام کر چُکا تو شمعُو ن سے کہا گہرے میں لے چل اور تُم شِکار کے لِئے اپنے جال ڈالوO {5:5} شمعُو ن نے جواب میں کہا اَے اُستاد ہم نے رات بھر محنت کی اورکُچھ ہاتھ نہ آیا مگر تیرے کہنے سے جال ڈالتا ہُوںO {5:6} یہ کِیا اور وہ مچھلِیوں کا بڑا غَول گھیر لائے اور اُن کے جال پھٹنے لگےO {5:7} اور اُنہوں نے اپنے شرِیکوں کو جو دُوسری کشتی پر تھے اِشارہ کِیا کہ آؤ ہماری مدد کرو O پس اُنہوں نے آ کر دونوں کشتِیاں یہاں تک بھر دیں کہ ڈُوبنے لگِیںO {5:8} شمعُو ن پطرس یہ دیکھ کر یِسُو ع کے پاؤں میں گِرا اور کہا اَے خُداوند! میرے پاس سے چلا جا کیونکہ مَیں گُنہگار آدمی ہُوںO {5:9} کیونکہ مچھلِیوں کے اِس شِکار سے جو اُنہوں نے کِیا وہ اور اُس کے سب ساتھی بُہت حَیران ہُوئےO {5:10} اور وَیسے ہی زبد ی کے بیٹے یعقُو ب اور یُوحنّا بھی جو شمعُو ن کے شرِیک تھے حَیران ہُوئے O یِسُو ع نے شمعُو ن سے کہا خَوف نہ کر O اب سے تُو آدمِیوں کا شِکار کِیا کرے گاO {5:11} وہ کشتِیوں کو کنارے پر لے آئے اور سب کُچھ چھوڑ کر اُس کے پِیچھے ہو لِئےO {i5:12} یِسُوع ایک آدمی کو شِفا دیتا ہے (متّی ۸: ۱‏-۴؛ مرقس۱‏:۴۰‏-۴۵) {5:12} جب وہ ایک شہر میں تھا تو دیکھو کوڑھ سے بھرا ہُؤا ایک آدَمی یِسُو ع کو دیکھ کر مُنہ کے بَل گِرا اور اُس کی مِنّت کر کے کہنے لگا اَے خُداوند! اگر تُو چاہے تو مُجھے پاک صاف کر سکتا ہےO {5:13} اُس نے ہاتھ بڑھا کر اُسے چُھؤا اور کہا مَیں چاہتا ہُوں O تُو پاک صاف ہو جا اور فوراً اُس کاکوڑھ جاتا رہاO {5:14} اور اُس نے اُسے تاکِید کی کہ کِسی سے نہ کہنا بلکہ جا کر اپنے تئیں کاہِن کو دِکھا اور جَیسا مُوسیٰ نے مُقرّر کِیا ہے اپنے پاک صاف ہو جانے کی بابت نذر گُذران تاکہ اُن کے لِئے گواہی ہوO {5:15} لیکن اُس کا چرچا زِیادہ پَھیلا اور بُہت سے لوگ جمع ہُوئے کہ اُس کی سُنیں اور اپنی بِیمارِیوں سے شِفا پائیںO {5:16} مگر وہ جنگلوں میں الگ جا کر دُعا کِیا کرتا تھاO {i5:17} یِسُوع ایک مفلُوج کو شِفا دیتا ہے ( متّی ۹:ا-۸؛ مرقس ۲‏:۱‏-۱۲) {5:17} اور ایک دِن اَیسا ہُؤا کہ وہ تعلِیم دے رہا تھا اور فرِیسی اور شرع کے مُعلِّم وہاں بَیٹھے تھے جو گلِیل کے ہر گاؤں اور یہُودیہ اور یروشلِیم سے آئے تھے اور خُداوندکی قُدرت شِفا بخشنے کو اُس کے ساتھ تھیO {5:18} اور دیکھو کئی مَرد ایک آدَمی کو جو مفلُوج تھا چارپائی پر لائے اور کوشِش کی کہ اُسے اندر لا کر اُس کے آگے رکھّیںO {5:19} اور جب بِھیڑ کے سبب سے اُس کو اندر لے جانے کی راہ نہ پائی تو کوٹھے پر چڑھ کر کھپریل میں سے اُس کوکھٹولے سمیت بِیچ میں یِسُو ع کے سامنے اُتار دِیاO {5:20} اُس نے اُن کااِیمان دیکھ کر کہا کہ اَے آدمی! تیرے گُناہ مُعاف ہُوئےO {5:21} اِس پر فقِیہہ اور فریسی سوچنے لگے کہ یہ کَون ہے جو کُفر بَکتا ہے؟ خُدا کے سِوا اَور کَون گُناہ مُعاف کر سکتا ہے؟O {5:22} یِسُو ع نے اُن کے خیالوں کو معلُوم کر کے جواب میں اُن سے کہا تُم اپنے دِلوں میں کیا سوچتے ہو؟O {5:23} آسان کیا ہے؟ یہ کہنا کہ تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے یا یہ کہنا کہ اُٹھ اور چل پِھر؟O {5:24} لیکن اِس لِئے کہ تُم جانو کہ اِبنِ آدم کو زمِین پر گُناہ مُعاف کرنے کا اِختیار ہے (اُس نے مَفلُوج سے کہا) مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں اُٹھ اور اپنا کھٹولا اُٹھا کر اپنے گھر جاO {5:25} اور وہ اُسی دَم اُن کے سامنے اُٹھا اور جِس پر پڑا تھااُسے اُٹھا کر خُدا کی تمجِید کرتا ہُؤا اپنے گھر چلا گیاO {5:26} وہ سب کے سب بڑے حَیران ہُوئے اور خُدا کی تمجِید کرنے لگے اور بُہت ڈر گئے اور کہنے لگے کہ آج ہم نے عجِیب باتیں دیکِھیںO {i5:27} یِسُوع لاوی کو بُلاتا ہے (متّی ۹‏:۹‏-۱۳؛ مرقس ۲‏:۱۳‏-۱۷) {5:27} اِن باتوں کے بعد وہ باہر گیا اور لاو ی نام ایک محصُول لینے والے کو محصُول کی چَوکی پر بَیٹھے دیکھا اور اُس سے کہا میرے پِیچھے ہو لےO {5:28} وہ سب کُچھ چھوڑ کر اُٹھا اور اُس کے پِیچھے ہو لِیاO {5:29} پِھر لاو ی نے اپنے گھر میں اُس کی بڑی ضِیافت کی اور محصُول لینے والوں اور اَوروں کا جو اُن کے ساتھ کھانا کھانے بَیٹھے تھے بڑا مَجمع تھاO {5:30} اور فریسی اور اُن کے فقِیہہ اُس کے شاگِردوں سے یہ کہہ کر بُڑبُڑانے لگے کہ تُم کیوں محصُول لینے والوں اور گُنہگاروں کے ساتھ کھاتے پیتے ہو؟O {5:31} یِسُو ع نے جواب میں اُن سے کہا کہ تندرُستوں کو طبِیب کی ضرُورت نہیں بلکہ بِیماروں کوO {5:32} مَیں راست بازوں کو نہیں بلکہ گُنہگاروں کو تَوبہ کے لِئے بُلانے آیا ہُوںO {i5:33} روزہ کے بارے میں سوال (متّی۹‏:۱۴‏-۱۷؛ مرقس ۲‏:۱۸‏-۲۲) {5:33} اور اُنہوں نے اُس سے کہا کہ ےُوحنّا کے شاگِرد اکثر روزہ رکھتے اور دُعائیں کِیاکرتے ہیں اور اِسی طرح فریسیوں کے بھی مگر تیرے شاگِرد کھاتے پِیتے ہیںO {5:34} یِسُو ع نے اُن سے کہا کیا تُم براتِیوں سے جب تک دُلہا اُن کے ساتھ ہے روزہ رکھوا سکتے ہو؟O {5:35} مگر وہ دِن آئیں گے اور جب دُلہا اُن سے جُدا کِیا جائے گا تب اُن دِنوں میں وہ روزہ رکھّیں گےO {5:36} اور اُس نے اُن سے ایک تمثِیل بھی کہی کہ کوئی آدَمی نئی پوشاک میں سے پھاڑ کر پُرانی پوشاک میں پَیوند نہیں لگاتا ورنہ نئی بھی پھٹے گی اور اُس کا پَیوند پُرانی میں میل بھی نہ کھائے گاO {5:37} اور کوئی شخص نئی مَے پُرانی مَشکوں میں نہیں بھرتا نہیں تو نئی مَے مَشکوں کو پھاڑ کر خُود بھی بہ جائے گی اور مَشکیں بھی برباد ہو جائیں گیO {5:38} بلکہ نئی مَے نئی مَشکوں میں بھرنا چاہئےO {5:39} اور کوئی آدمی پُرانی مَے پی کر نئی کی خَواہِش نہیں کرتا کیونکہ کہتا ہے کہ پُرانی ہی اچھّی ہےO {i6:1} سبت کے بارے میں سوال (متّی ۱۲: ۱‏-۸؛ مرقس ۲: ۲۳‏-۲۸) {6:1} پِھر سبت کے دِن یُوں ہُؤا کہ وہ کھیتوں میں ہو کر جا رہا تھا اور اُس کے شاگِرد بالیں توڑ توڑ کر اور ہاتھوں سے مَل مَل کر کھاتے جاتے تھےO {6:2} اور فریسیوں میں سے بعض کہنے لگے تُم وہ کام کیوں کرتے ہو جو سَبت کے دِن کرنا روا نہیں؟O {6:3} یِسُو ع نے جواب میں اُن سے کہا کیا تُم نے یہ بھی نہیں پڑھا کہ جب داؤُد اور اُس کے ساتھی بُھوکے تھے تو اُس نے کیا کِیاO {6:4} وہ کیوں کر خُدا کے گھر میں گیا اور نذر کی روٹِیاں لے کر کھائِیں جِن کو کھانا کاہِنوں کے سِوا اَور کِسی کو رَوا نہیں اور اپنے ساتِھیوں کو بھی دِیں؟O {6:5} پِھر اُس نے اُن سے کہا کہ اِبنِ آدم سبت کا مالِک ہےO {i6:6} سُوکھے ہاتھ والا آدمی ( متّی ۱۲: ۹‏-۱۴؛ مرقس ۳: ۱‏-۶) {6:6} اور یُوں ہُؤا کہ کِسی اَور سبت کو وہ عِبادت خانہ میں داخِل ہو کر تعلِیم دینے لگا اور وہاں ایک آدمی تھا جِس کا دہنا ہاتھ سُوکھ گیا تھاO {6:7} اور فقِیہہ اور فریسی اُس کی تاک میں تھے کہ آیا سبت کے دِن اچھّا کرتا ہے یا نہیں تاکہ اُس پر اِلزام لگانے کا مَوقع پائیںO {6:8} مگر اُس کو اُن کے خیال معلُوم تھے O پس اُس نے اُس آدمی سے جِس کا ہاتھ سُوکھا تھا کہا اُٹھ اور بِیچ میں کھڑا ہو O وہ اُٹھ کھڑا ہُؤاO {6:9} یِسُو ع نے اُن سے کہا مَیں تُم سے یہ پُوچھتا ہُوں کہ آیا سبت کے دِن نیکی کرنا روا ہے یا بدی کرنا؟ جان بچانا یا ہلاک کرنا؟O {6:10} اور اُن سب پر نظر کر کے اُس سے کہا اپنا ہاتھ بڑھا O اُس نے بڑھایا اور اُس کا ہاتھ درُست ہو گیاO {6:11} وہ آپے سے باہر ہو کر ایک دُوسرے سے کہنے لگے کہ ہم یِسُو ع کے ساتھ کیا کریں؟O {i6:12} یِسُوع بارہ رسُول چُنتا ہے (متّی ۱۰: ۱‏-۴؛ مرقس ۳‏:۱۳‏-۱۹) {6:12} اور اُن دِنوں میں اَیسا ہُؤا کہ وہ پہاڑ پر دُعا کرنے کو نِکلا اور خُدا سے دُعا کرنے میں ساری رات گُذاریO {6:13} جب دِن ہُؤا تو اُس نے اپنے شاگِردوں کو پاس بُلا کر اُن میں سے بارہ چُن لِئے اور اُن کو رسُول کا لَقب دِیاO {6:14} یعنی شمعُو ن جِس کا نام اُس نے پطر س بھی رکھّا اور اُس کا بھائی اندر یاس اَور یعقُو ب اور یُوحنّا اور فِلِپُّس اور برتُلما ئیO {6:15} اور متّی اور توما ا ور حلفئی کا بیٹا یعقُوب اور شمعُون جو زیلو تیس کہلاتا تھاO {6:16} اور یعقُو ب کا بیٹا یہُودا ہ اور یہُودا ہ اِسکریُوتی جو اُس کا پکڑوانے والا ہُؤاO {i6:17} یِسُوع تعلِیم دیتا اور شِفا دیتا ہے ( متّی ۴: ۲۳‏-۲۵) {6:17} اور وہ اُن کے ساتھ اُتر کر ہموار جگہ پر کھڑا ہُؤا اور اُس کے شاگِردوں کی بڑی جماعت اور لوگوں کی بڑی بِھیڑ وہاں تھی جو سارے یہُودیہ اور یروشلِیم اور صُور اور صَیدا کے بحری کنارے سے اُس کی سُننے اور اپنی بِیمارِیوں سے شِفا پانے کے لِئے اُس کے پاس آئی تھیO {6:18} اور جو ناپاک رُوحوں سے دُکھ پاتے تھے وہ اچھّے کِئے گئےO {6:19} اور سب لوگ اُسے چُھونے کی کوشِش کرتے تھے کیونکہ قُوّت اُس سے نِکلتی اور سب کو شِفا بخشتی تھیO {i6:20} مُبارک حالی اور زبُوں حالی (متّی ۵: ۱‏-۱۲) {6:20} پِھر اُس نے اپنے شاگِردوں کی طرف نظر کر کے کہا مُبارک ہو تُم جو غرِیب ہو کیونکہ خُدا کی بادشاہی تُمہاری ہےO {6:21} مُبارک ہو تُم جو اَب بُھوکے ہو کیونکہ آسُودہ ہو گے O مُبارک ہو تُم جو اَب روتے ہو کیونکہ ہنسو گےO {6:22} جب اِبنِ آدم کے سبب سے لوگ تُم سے عداوت رکھّیں گے اور تُمہیں خارِج کر دیں گے اور لَعن طَعن کریں گے اور تُمہارا نام بُرا جان کر کاٹ دیں گے تو تُم مُبارک ہو گےO {6:23} اُس دِن خُوش ہونا اور خُوشی کے مارے اُچھلنا O اِس لِئے کہ دیکھو آسمان پر تُمہارا اَجر بڑا ہے کیونکہ اُن کے باپ داد ا نبِیوں کے ساتھ بھی اَیسا ہی کِیا کرتے تھےO {6:24} مگر افسوس تُم پر جو دَولت مند ہو کیونکہ تُم اپنی تسلّی پا چُکےO {6:25} افسوس تُم پر جو اَب سیر ہو کیونکہ بُھوکے ہو گے O افسوس تُم پر جو اَب ہنستے ہو کیونکہ ماتم کرو گے اور روؤ گےO {6:26} افسوس تُم پر جب سب لوگ تُمہیں بَھلاکہیں کیونکہ اُن کے باپ دادا جُھوٹے نبِیوں کے ساتھ بھی اَیسا ہی کِیا کرتے تھےO {i6:27} دُشمنوں کے لِئے مُحبّت ( متّی ۵‏:۳۸‏-۴۸، ۷: ۱۲) {6:27} لیکن مَیں تُم سُننے والوں سے کہتا ہُوں کہ اپنے دُشمنوں سے محُبّت رکھّو O جو تُم سے عداوت رکھّیں اُن کا بھلا کروO {6:28} جو تُم پر لَعنت کریں اُن کے لِئے برکت چاہو O جو تُمہاری تحقِیر کریں اُن کے لِئے دُعا کروO {6:29} جو تیرے ایک گال پر طمانچہ مارے دُوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دے اور جو تیرا چوغہ لے اُس کو کُرتہ لینے سے بھی منع نہ کرO {6:30} جو کوئی تُجھ سے مانگے اُسے دے اور جو تیرا مال لے لے اُس سے طلب نہ کرO {6:31} اور جَیسا تُم چاہتے ہو کہ لوگ تُمہارے ساتھ کریں تُم بھی اُن کے ساتھ وَیسا ہی کروO {6:32} اگر تُم اپنے محُبّت رکھنے والوں ہی سے مُحبّت رکھّو تو تُمہارا کیا اِحسان ہے؟ کیونکہ گُنہگار بھی اپنے محُبّت رکھنے والوں سے مُحبّت رکھتے ہیںO {6:33} اور اگر تُم اُن ہی کا بَھلا کرو جو تُمہارا بَھلا کریں تو تُمہارا کیا اِحسان ہے؟ کیونکہ گُنہگار بھی اَیسا ہی کرتے ہیںO {6:34} اور اگر تُم اُن ہی کو قرض دو جِن سے وصُول ہونے کی اُمّید رکھتے ہو تو تُمہارا کیا اِحسان ہے؟ گُنہگاربھی گُنہگاروں کو قرض دیتے ہیں تاکہ پُورا وصُول کر لیںO {6:35} مگر تُم اپنے دُشمنوں سے مُحبّت رکھّو اور بَھلا کرو اور بغَیر نااُمّید ہُوئے قرض دو تو تُمہارا اَجر بڑا ہو گا اور تُم خُدا تعالےٰ کے بیٹے ٹھہرو گے کیونکہ وہ ناشُکروں اور بدوں پر بھی مِہربان ہےO {6:36} جَیسا تُمہارا باپ رحِیم ہے تُم بھی رحم دِل ہوO {i6:37} عَیب جوئی ( متّی ۷‏:۱‏-۵) {6:37} عَیب جوئی نہ کروO تُمہاری بھی عَیب جوئی نہ کی جائے گی O مُجرِم نہ ٹھہراؤ O تُم بھی مُجرِم نہ ٹھہرائے جاؤ گے O خلاصی دو O تُم بھی خلاصی پاؤ گےO {6:38} دِیا کرو O تُمہیں بھی دِیا جائے گا O اچھّا پَیمانہ داب داب کر اور ہِلا ہِلا کر اور لبریز کر کے تُمہارے پلّے میں ڈالیں گے کیونکہ جِس پَیمانہ سے تُم ناپتے ہو اُسی سے تُمہارے لِئے ناپا جائے گاO {6:39} اور اُس نے اُن سے ایک تمثِیل بھی کہی کہ کیا اندھے کو اندھا راہ دِکھا سکتا ہے؟ کیا دونوں گڑھے میں نہ گِریں گے؟O {6:40} شاگِرد اپنے اُستاد سے بڑا نہیں بلکہ ہر ایک جب کامِل ہُؤا تو اپنے اُستاد جَیسا ہو گاO {6:41} تُو کیوں اپنے بھائی کی آنکھ کے تِنکے کو دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کے شہتِیر پر غَور نہیں کرتا؟O {6:42} اور جب تُو اپنی آنکھ کے شہتِیر کو نہیں دیکھتا تو اپنے بھائی سے کیوں کر کہہ سکتا ہے کہ بھائی لا اُس تِنکے کو جو تیری آنکھ میں ہے نِکال دُوں؟ اَے رِیاکار! پہلے اپنی آنکھ میں سے تو شہتِیر نِکال O پِھر اُس تِنکے کو جو تیرے بھائی کی آنکھ میں ہے اچھّی طرح دیکھ کر نِکال سکے گاO {i6:43} درخت اور اُس کا پَھل ( متّی ۷: ۱۶‏-۲۰؛ ۱۲: ۳۳‏-۳۵) {6:43} کیونکہ کوئی اچھّا درخت نہیں جو بُرا پَھل لائے اور نہ کوئی بُرا درخت ہے جو اچھّا پَھل لائےO {6:44} ہر درخت اپنے پَھل سے پہچانا جاتا ہے کیونکہ جھاڑِیوں سے انجِیر نہیں توڑتے اور نہ جھڑبیری سے انگُورO {6:45} اچھّا آدمی اپنے دِل کے اچّھے خزانہ سے اچھّی چِیزیں نِکالتا ہے اور بُرا آدمی بُرے خزانہ سے بُری چِیزیں نِکالتا ہے کیونکہ جو دِل میں بھرا ہے وُہی اُس کے مُنہ پر آتا ہےO {i6:46} دوگھر بنانے والے (متّی ۷: ۲۴‏-۲۷) {6:46} جب تُم میرے کہنے پر عمل نہیں کرتے تو کیوں مُجھے خُداوند خُداوند کہتے ہو؟O {6:47} جو کوئی میرے پاس آتا اور میری باتیں سُن کر اُن پر عمل کرتا ہے مَیں تُمہیں جتاتا ہُوں کہ وہ کِس کی مانِند ہےO {6:48} وہ اُس آدمی کی مانِند ہے جِس نے گھر بناتے وقت زمِین گہری کھود کر چٹان پر بُنیاد ڈالی O جب طُوفان آیا اورسَیلاب اُس گھر سے ٹکرایا تو اُسے ہِلا نہ سکاکیونکہ وہ مضبُوط بنا ہُؤا تھاO {6:49} لیکن جو سُن کر عمل میں نہیں لاتا وہ اُس آدمی کی مانِند ہے جِس نے زمِین پر گھر کو بے بُنیاد بنایا O جب سَیلاب اُس پر زور سے آیا تو وہ فی الفَور گِر پڑا اور وہ گھر بِالکُل برباد ہُؤاO {i7:1} یِسُوع رُومی صُوبہ دار کے نَوکر کو شِفا دیتا ہے (متّی ۸: ۵‏-۱۳) {7:1} جب وہ لوگوں کو اپنی سب باتیں سُنا چُکا تو کَفر نحُو م میں آیاO {7:2} اور کِسی صُوبہ دار کا نَوکر جو اُس کو عزِیز تھا بِیماری سے مَرنے کو تھاO {7:3} اُس نے یِسُو ع کی خبر سُن کر یہُودِیوں کے کئی بزُرگوں کو اُس کے پاس بھیجا اور اُس سے درخواست کی کہ آ کر میرے نَوکر کو اچھّا کرO {7:4} وہ یِسُو ع کے پاس آئے اور اُس کی بڑی مِنّت کر کے کہنے لگے کہ وہ اِس لائِق ہے کہ تُو اُس کی خاطِر یہ کرےO {7:5} کیونکہ وہ ہماری قَوم سے مُحبّت رکھتا ہے اور ہمارے عِبادت خانہ کو اُسی نے بنوایاO {7:6} یِسُو ع اُن کے ساتھ چلا مگر جب وہ گھر کے قرِیب پُہنچا تو صُوبہ دار نے بعض دوستوں کی معرفت اُسے یہ کہلا بھیجا کہ اَے خُداوند تکلِیف نہ کر کیونکہ مَیں اِس لائِق نہیں کہ تُو میری چھت کے نِیچے آئےO {7:7} اِسی سبب سے مَیں نے اپنے آپ کو بھی تیرے پاس آنے کے لائِق نہ سمجھا بلکہ زُبان سے کہہ دے تو میرا خادِم شِفا پائے گاO {7:8} کیونکہ مَیں بھی دُوسرے کے اِختیار میں ہُوں اور سِپاہی میرے ماتحت ہیں اور جب ایک سے کہتا ہُوں جا تو وہ جاتا ہے اور دُوسرے سے آ تو وہ آتا ہے اور اپنے نَوکر سے کہ یہ کر تو وہ کرتا ہےO {7:9} یِسُو ع نے یہ سُن کر اُس پر تعجُّب کِیا اور پِھر کر اُس بِھیڑ سے جو اُس کے پِیچھے آتی تھی کہا مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ مَیں نے اَیسا اِیمان اِسرا ئیل میں بھی نہیں پایاO {7:10} اور بھیجے ہُوئے لوگوں نے گھر میں واپس آ کر اُس نَوکر کو تندرُست پایاO {i7:11} یِسُوع بیوہ کے بیٹے کو مُردوں میں سے جِلاتاہے {7:11} تھوڑے عرصہ کے بعد اَیسا ہُؤا کہ وہ نائِین نام ایک شہر کو گیا اور اُس کے شاگِرد اور بُہت سے لوگ اُس کے ہمراہ تھےO {7:12} جب وہ شہر کے پھاٹک کے نزدِیک پُہنچا تو دیکھو ایک مُردہ کو باہر لِئے جاتے تھے O وہ اپنی ماں کا اِکلَوتا بیٹا تھا اور وہ بیوہ تھی اور شہر کے بُہتیرے لوگ اُس کے ساتھ تھےO {7:13} اُسے دیکھ کر خُداوند کو ترس آیا اور اُس سے کہا مت روO {7:14} پِھر اُس نے پاس آ کر جِنازہ کو چُھؤا اور اُٹھانے والے کھڑے ہو گئے اور اُس نے کہا اَے جوان مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں اُٹھO {7:15} وہ مُردہ اُٹھ بَیٹھا اور بولنے لگا اور اُس نے اُسے اُس کی ماں کو سَونپ دِیاO {7:16} اور سب پر دہشت چھا گئی اور وہ خُدا کی تمجِید کر کے کہنے لگے کہ ایک بڑا نبی ہم میں برپا ہُؤا ہے اور خُدا نے اپنی اُمّت پر توجُّہ کی ہےO {7:17} اور اُس کی نِسبت یہ خبر سارے یہُودیہ اور تمام گِرد ونواح میں پَھیل گئیO {i7:18} یُوحنّا بپتسِمہ دینے والے کے قاصد (متّی ۱۱: ۲‏-۱۹) {7:18} اور ےُوحنّا کو اُس کے شاگِردوں نے اِن سب باتوں کی خبر دیO {7:19} اِس پر ےُوحنّا نے اپنے شاگِردوں میں سے دو کو بُلا کر خُداوند کے پاس یہ پُوچھنے کو بھیجا کہ آنے والاتُو ہی ہے یا ہم دُوسرے کی راہ دیکھیں؟O {7:20} اُنہوں نے اُس کے پاس آ کرکہا ےُوحنّا بپتِسمہ دینے والے نے ہمیں تیرے پاس یہ پُوچھنے کو بھیجا ہے کہ آنے والا تُو ہی ہے یا ہم دُوسرے کی راہ دیکھیں؟O {7:21} اُسی گھڑی اُس نے بُہتوں کو بِیمارِیوں اور آفتوں اور بُری رُوحوں سے نجات بخشی اور بُہت سے اندھوں کو بِینائی عطا کیO {7:22} اُس نے جواب میں اُن سے کہا کہ جو کُچھ تُم نے دیکھا اور سُنا ہے جا کر یُوحنّا سے بیان کر دو کہ اندھے دیکھتے ہیں O لنگڑے چلتے پِھرتے ہیںO کوڑھی پاک صاف کِئے جاتے ہیں O بہرے سُنتے ہیں O مُردے زِندہ کِئے جاتے ہیں O غرِیبوں کو خُوشخبری سُنائی جاتی ہےO {7:23} اور مُبارک ہے وہ جو میرے سبب سے ٹھوکر نہ کھائےO {7:24} جب ےُوحنّا کے قاصِدچلے گئے تو یِسُو ع ےُوحنّا کے حق میں لوگوں سے کہنے لگا کہ تُم بیابان میں کیا دیکھنے گئے تھے؟ کیا ہوا سے ہِلتے ہُوئے سرکنڈے کو؟O {7:25} تو پِھر کیا دیکھنے گئے تھے؟ کیا مہِین کپڑے پہنے ہُوئے شخص کو؟ دیکھو جو چمک دار پوشاک پہنتے اور عَیش و عِشرت میں رہتے ہیں وہ بادشاہی محلّوں میں ہوتے ہیںO {7:26} تو پِھر تُم کیا دیکھنے گئے تھے؟ کیا ایک نبی؟ ہاں مَیں تُم سے کہتا ہُوں بلکہ نبی سے بڑے کوO {7:27} یہ وُہی ہے جِس کی بابت لِکھا ہے کہ دیکھ مَیں اپنا پَیغمبر تیرے آگے بھیجتا ہُوں جو تیری راہ تیرے آگے تیّار کرے گاO {7:28} مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ جو عَورتوں سے پَیدا ہُوئے ہیں اُن میں ےُوحنّا بپتِسمہ دینے والے سے کوئی بڑا نہیں لیکن جو خُدا کی بادشاہی میں چھوٹا ہے وہ اُس سے بڑا ہےO {7:29} اور سب عام لوگوں نے جب سُنا تو اُنہوں نے اور محصُول لینے والوں نے بھی ےُوحنّا کا بپتِسمہ لے کر خُدا کو راست باز مان لِیاO {7:30} مگر فریسیوں اور شرع کے عالِموں نے اُس سے بپتِسمہ نہ لے کر خُدا کے اِرادہ کو اپنی نِسبت باطِل کر دِیاO {7:31} پس اِس زمانہ کے آدمِیوں کو مَیں کِس سے تشبِیہ دُوں اور وہ کِس کی مانِند ہیں؟O {7:32} اُن لڑکوں کی مانِند ہیں جو بازار میں بَیٹھے ہُوئے ایک دُوسرے کو پُکار کر کہتے ہیں کہ ہم نے تُمہارے لِئے بانسلی بجائی اور تُم نہ ناچے O ہم نے ماتم کِیا اور تُم نہ روئےO {7:33} کیونکہ یُوحنّا بپتِسمہ دینے والا نہ تو روٹی کھاتا ہُؤا آیا نہ مَے پِیتا ہُؤا اور تُم کہتے ہو کہ اُس میں بدرُوح ہےO {7:34} اِبنِ آدم کھاتا پِیتا آیا اور تُم کہتے ہو کہ دیکھو کھاؤُ اور شرابی آدمی محصُول لینے والوں اور گُنہگاروں کا یارO {7:35} لیکن حِکمت اپنے سب لڑکوں کی طرف سے راست ثابِت ہُوئیO {i7:36} یِسُوع شمعُون فریسی کے گھر میں {7:36} پِھر کِسی فریسی نے اُس سے درخواست کی کہ میرے ساتھ کھانا کھا O پس وہ اُس فریسی کے گھر جا کر کھانا کھانے بَیٹھاO {7:37} تو دیکھو ایک بدچلن عَورت جو اُس شہر کی تھی O یہ جان کر کہ وہ اُس فریسی کے گھر میں کھانا کھانے بَیٹھا ہے سنگِ مرمر کے عِطردان میں عِطر لائیO {7:38} اور اُس کے پاؤں کے پاس روتی ہُوئی پِیچھے کھڑی ہو کر اُس کے پاؤں آنسُوؤں سے بھگونے لگی اور اپنے سر کے بالوں سے اُن کو پونچھا اور اُس کے پاؤں بُہت چُومے اور اُن پر عِطر ڈالاO {7:39} اُس کی دعوت کرنے والا فریسی یہ دیکھ کر اپنے جی میں کہنے لگا کہ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو جانتا کہ جو اُسے چُھوتی ہے وہ کَون اور کَیسی عَورت ہے کیونکہ بدچلن ہےO {7:40} یِسُو ع نے جواب میں اُس سے کہا اَے شمعُو ن مُجھے تُجھ سے کُچھ کہنا ہے O اُس نے کہا اَے اُستاد کہہO {7:41} کِسی ساہُوکار کے دو قرض دار تھے O ایک پانسَو دِینار کا دُوسرا پچاس کاO {7:42} جب اُن کے پاس ادا کرنے کو کُچھ نہ رہا تو اُس نے دونوں کو بخش دِیا O پس اُن میں سے کَون اُس سے زِیادہ مُحبّت رکھّے گا؟O {7:43} شمعُو ن نے جواب میں کہا میری دانِست میں وہ جِسے اُس نے زِیادہ بخشا O اُس نے اُس سے کہا تُو نے ٹِھیک فَیصلہ کِیاO {7:44} اور اُس عَورت کی طرف پِھر کر اُس نے شمعُو ن سے کہا کیا تُو اِس عَورت کو دیکھتا ہے؟ مَیں تیرے گھر مَیں آیاO تُو نے میرے پاؤں دھونے کو پانی نہ دِیا مگر اِس نے میرے پاؤں آنسُوؤں سے بھگو دِئے اور اپنے بالوں سے پونچھےO {7:45} تُو نے مُجھ کو بوسہ نہ دِیا مگر اِس نے جب سے مَیں آیا ہُوں میرے پاؤں چُومنا نہ چھوڑاO {7:46} تُو نے میرے سر میں تیل نہ ڈالا مگر اِس نے میرے پاؤں پر عِطر ڈالا ہےO {7:47} اِسی لِئے مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں کہ اِس کے گُناہ جو بُہت تھے مُعاف ہُوئے کیونکہ اِس نے بُہت محُبّت کی مگر جِس کے تھوڑے گُناہ مُعاف ہُوئے وہ تھوڑی محُبّت کرتا ہےO {7:48} اور اُس عَورت سے کہا تیرے گُناہ مُعاف ہُوئےO {7:49} اِس پر وہ جو اُس کے ساتھ کھانا کھانے بَیٹھے تھے اپنے جی میں کہنے لگے کہ یہ کَون ہے جو گُناہ بھی مُعاف کرتا ہے ؟O {7:50} مگر اُس نے عَورت سے کہا تیرے اِیمان نے تُجھے بچا لِیا ہے O سلامت چلی جاO {i8:1} یِسُوع کے ساتھ ساتھ رہنے والی عَورتیں {8:1} تھوڑے عرصہ کے بعد یُوں ہُؤا کہ وہ مُنادی کرتا اور خُدا کی بادشاہی کی خُوشخبری سُناتا ہُؤا شہر شہر اور گاؤں گاؤں پِھرنے لگا اور وہ بارہ اُس کے ساتھ تھےO {8:2} اور بعض عَورتیں جِنہوں نے بُری رُوحوں اور بِیمارِیوں سے شِفا پائی تھی یعنی مر یم جو مگدلینی کہلاتی تھی جِس میں سے سات بدرُوحیں نِکلی تِھیںO {8:3} اور یُوأنہ ہیرود یس کے دِیوان خُوز ہ کی بِیوی اور سُوسنّا ہ اور بُہتیری اَور عَورتیں بھی تِھیں جو اپنے مال سے اُن کی خِدمت کرتی تِھیںO {i8:4} بِیج بونے والے کی تمثِیل (متّی ۱۳: ۱‏-۹؛ مرقس ۴: ۱‏-۹) {8:4} پِھر جب بڑی بِھیڑ جمع ہُوئی اور ہر شہر کے لوگ اُس کے پاس چلے آتے تھے اُس نے تمثِیل میں کہا کہO {8:5} ایک بونے والا اپنا بِیج بونے نِکلا اور بوتے وقت کُچھ راہ کے کنارے گِرا اور رَوندا گیا اور ہوا کے پرِندوں نے اُسے چُگ لِیاO {8:6} اور کُچھ چٹان پر گِرا اور اُگ کر سُوکھ گیا اِس لِئے کہ اُس کو تَری نہ پُہنچیO {8:7} اور کُچھ جھاڑِیوں میں گِرا اور جھاڑِیوں نے ساتھ ساتھ بڑھ کر اُسے دبا لِیاO {8:8} اور کُچھ اچھّی زمِین میں گِرا اور اُگ کر سَو گُنا پَھل لایا O یہ کہہ کر اُس نے پُکارا O جِس کے سُننے کے کان ہوں وہ سُن لے! O {i8:9} تمثیِلوں کا مقصد ( متّی ۱۳: ۱۰‏-۱۷؛ مرقس ۴: ۱۰‏-۱۲) {8:9} اُس کے شاگِردوں نے اُس سے پُوچھا کہ یہ تمثِیل کیا ہے؟O {8:10} اُس نے کہا تُم کو خُدا کی بادشاہی کے بھیدوں کی سمجھ دی گئی ہے مگر اَوروں کو تمثِیلوں میں سُنایا جاتا ہے تاکہ دیکھتے ہُوئے نہ دیکھیں اور سُنتے ہُوئے نہ سمجھیںO {i8:11} یِسُوع بِیج بونے والے کی تمثِیل سمجھاتا ہے ( متّی ۱۳‏:۱۸‏-۲۳؛ مرقس ۴‏:۱۳‏-۲۰) {8:11} وہ تمثِیل یہ ہے کہ بِیج خُدا کا کلام ہےO {8:12} راہ کے کنارے کے وہ ہیں جِنہوں نے سُنا O پِھر اِبلِیس آ کر کلام کو اُن کے دِل سے چِھین لے جاتا ہے O اَیسا نہ ہو کہ اِیمان لا کر نجات پائیںO {8:13} اور چٹان پر کے وہ ہیں جو سُن کر کلام کو خُوشی سے قبُول کر لیتے ہیں لیکن جڑ نہیں رکھتے مگر کُچھ عرصہ تک اِیمان رکھ کر آزمایش کے وقت پِھر جاتے ہیںO {8:14} اور جو جھاڑِیوں میں پڑا اُس سے وہ لوگ مُراد ہیں جِنہوں نے سُنا لیکن ہوتے ہوتے اِس زِندگی کی فِکروں اور دَولت اور عَیش و عِشرت میں پھنس جاتے ہیں اور اُن کا پَھل پَکتا نہیںO {8:15} مگر اچھّی زمِین کے وہ ہیں جو کلام کو سُن کر عُمدہ اور نیک دِل میں سنبھالے رہتے اور صبر سے پَھل لاتے ہیںO {i8:16} چراغ برتن کے نِیچے (مرقس ۴‏:۲۱‏-۲۵) {8:16} کوئی شخص چراغ جلا کر برتن سے نہیں چُھپاتا نہ پلنگ کے نِیچے رکھتا ہے بلکہ چراغ دان پر رکھتا ہے تاکہ اندر آنے والوں کو رَوشنی دِکھائی دےO {8:17} کیونکہ کوئی چِیز چُھپی نہیں جو ظاہِر نہ ہو جائے گی اور نہ کوئی اَیسی پوشِیدہ بات ہے جو معلُوم نہ ہو گی اور ظہُور میں نہ آئے گیO {8:18} پس خبردار رہو کہ تُم کِس طرح سُنتے ہو کیونکہ جِس کے پاس ہے اُسے دِیا جائے گا اور جِس کے پاس نہیں ہے اُس سے وہ بھی لے لِیا جائے گا جو اپنا سمجھتا ہےO {i8:19} یِسُوع کی ماں اور بھائی ( متّی ۱۲: ۴۶‏-۵۰؛ مرقس ۳: ۳۱‏-۳۵) {8:19} پِھر اُس کی ماں اور اُس کے بھائی اُس کے پاس آئے مگر بِھیڑ کے سبب سے اُس تک پہنچ نہ سکےO {8:20} اور اُسے خبر دی گئی کہ تیری ماں اور تیرے بھائی باہر کھڑے ہیں اور تُجھ سے مِلنا چاہتے ہیںO {8:21} اُس نے جواب میں اُن سے کہا کہ میری ماں اور میرے بھائی تو یہ ہیں جو خُدا کا کلام سُنتے اور اُس پر عمل کرتے ہیںO {i8:22} یِسُوع طُوفان کو تھما دیتا ہے (متّی ۸‏:۲۳‏-۲۷؛ مرقس۴: ۳۵‏-۴۱) {8:22} پِھر ایک دِن اَیسا ہُؤا کہ وہ اور اُس کے شاگِرد کشتی میں سوار ہُوئے اور اُس نے اُن سے کہا آؤ جِھیل کے پار چلیں O پس وہ روانہ ہُوئےO {8:23} مگر جب کشتی چلی جاتی تھی تو وہ سو گیا اور جِھیل پر بڑی آندھی آئی اور کشتی پانی سے بھری جاتی تھی اور وہ خطرہ میں تھےO {8:24} اُنہوں نے پاس آ کر اُسے جگایا اور کہا کہ صاحِب صاحِب ہم ہلاک ہُوئے جاتے ہیں! اُس نے اُٹھ کر ہوا کو اور پانی کے زور شور کو جِھڑکا اور دونوں تھم گئے اور امن ہو گیاO {8:25} اُس نے اُن سے کہا تُمہارا اِیمان کہاں گیا؟ وہ ڈر گئے اور تعجُّب کر کے آپس میں کہنے لگے کہ یہ کَون ہے؟ یہ تو ہوا اور پانی کو حُکم دیتا ہے اور وہ اُس کی مانتے ہیںO {i8:26} یِسُوع ایک بدرُوح گرفتہ آدمی کو شِفا دیتاہے (متّی ۸‏:۲۸‏-۳۴؛ مرقس ۵: ۱‏-۲۰) {8:26} پِھر وہ گراسینیو ں کے عِلاقہ میں جا پہنچے جو اُس پار گلِیل کے سامنے ہےO {8:27} جب وہ کنارے پر اُترا تو اُس شہر کا ایک مَرد اُسے مِلا جِس میں بدرُوحیں تِھیں اور اُس نے بڑی مُدّت سے کپڑے نہ پہنے تھے اور وہ گھر میں نہیں بلکہ قبروں میں رہا کرتا تھاO {8:28} وہ یِسُو ع کو دیکھ کر چِلّایا اور اُس کے آگے گِر کر بُلند آواز سے کہنے لگا اَے یِسُو ع! خُدا تعالےٰ کے بیٹےO مُجھے تُجھ سے کیا کام؟ تیری مِنّت کرتا ہُوں کہ مُجھے عذاب میں نہ ڈالO {8:29} کیونکہ وہ اُس ناپاک رُوح کو حُکم دیتا تھا کہ اِس آدمی میں سے نِکل جا O اِس لِئے کہ اُس نے اُس کو اکثر پکڑا تھا اور ہر چند لوگ اُسے زنجِیروں اور بیڑیوں سے جکڑ کر قابُو میں رکھتے تھے تَو بھی وہ زنجِیروں کو توڑ ڈالتا تھا اور بدرُوح اُس کو بیابانوں میں بھگائے پِھرتی تھیO {8:30} یِسُو ع نے اُس سے پُوچھا تیرا کیا نام ہے؟ اُس نے کہا لشکر کیونکہ اُس میں بُہت سی بدرُوحیں تِھیںO {8:31} اور وہ اُس کی مِنّت کرنے لگیں کہ ہمیں اتھاہ گڑھے میں جانے کا حُکم نہ دےO {8:32} وہاں پہاڑ پر سُؤروں کا ایک بڑا غول چر رہا تھا O اُنہوں نے اُس کی مِنّت کی کہ ہمیں اُن کے اندر جانے دے O اُس نے اُنہیں جانے دِیاO {8:33} اور بدرُوحیں اُس آدمی میں سے نِکل کر سُؤروں کے اندر گئِیں اور غول کڑاڑے پر سے جھپٹ کر جِھیل میں جا پڑااور ڈُوب مَراO {8:34} یہ ماجرا دیکھ کر چرانے والے بھاگے اور جا کر شہر اور دیہات میں خبر دیO {8:35} لوگ اُس ماجرے کے دیکھنے کو نِکلے اور یِسُو ع کے پاس آکر اُس آدمی کو جِس میں سے بدرُوحیں نِکلی تِھیں کپڑے پہنے اور ہوش میں یِسُو ع کے پاؤں کے پاس بَیٹھے پایا اور ڈر گئےO {8:36} اور دیکھنے والوں نے اُن کو خبر دی کہ جِس میں بدرُوحیں تِھیں وہ کِس طرح اچھّا ہُؤاO {8:37} اور گراسینیوں کے گِرد ونواح کے سب لوگوں نے اُس سے درخواست کی کہ ہمارے پاس سے چلا جا کیونکہ اُن پر بڑی دہشت چھا گئی تھی O پس وہ کشتی میں بَیٹھ کر واپس گیاO {8:38} لیکن جِس شخص میں سے بدرُوحیں نِکل گئی تِھیں وہ اُس کی مِنّت کر کے کہنے لگا کہ مُجھے اپنے ساتھ رہنے دے مگر یِسُو ع نے اُسے رُخصت کر کے کہاO {8:39} اپنے گھر کو لَوٹ کر لوگوں سے بیان کر کہ خُدا نے تیرے لِئے کَیسے بڑے کام کِئے O وہ روانہ ہو کر تمام شہر میں چرچا کرنے لگا کہ یِسُو ع نے میرے لِئے کَیسے بڑے کام کِئےO {i8:40} یائِیر کی بیٹی اور یِسُوع کی پوشاک کو چُھونے والی عَورت ( متّی ۹‏:۱۸‏-۲۶؛ مرقس ۸: ۲۱‏-۴۳) {8:40} جب یِسُو ع واپس آ رہا تھا تو لوگ اُس سے خُوشی کے ساتھ مِلے کیونکہ سب اُس کی راہ تکتے تھےO {8:41} اور دیکھو یائِیر نام ایک شخص جو عِبادت خانہ کا سردار تھا آیا اور یِسُو ع کے قدموں پر گِر کر اُس سے مِنّت کی کہ میرے گھر چلO {8:42} کیونکہ اُس کی اِکلَوتی بیٹی جو قرِیباً بارہ برس کی تھی مَرنے کو تھی اور جب وہ جا رہا تھا تو لوگ اُس پر گِرے پڑتے تھےO {8:43} اور ایک عَورت نے جِس کے بارہ برس سے خُون جاری تھا اور اپنا سارا مال حکِیموں پر خرچ کر چُکی تھی اور کِسی کے ہاتھ سے اچھّی نہ ہو سکی تھیO {8:44} اُس کے پِیچھے آ کر اُس کی پوشاک کا کنارہ چُھؤا اور اُسی دَم اُس کا خُون بہنا بند ہو گیاO {8:45} اِس پر یِسُو ع نے کہا وہ کون ہے جِس نے مُجھے چُھؤا؟ جب سب اِنکار کرنے لگے تو پطر س اور اُس کے ساتِھیوں نے کہا کہ اَے صاحِب لوگ تُجھے دباتے اور تُجھ پر گِرے پڑتے ہیںO {8:46} مگر یِسُو ع نے کہا کہ کِسی نے مُجھے چُھؤا تو ہے کیونکہ مَیں نے معلُوم کِیا کہ قُوّت مُجھ سے نِکلی ہےO {8:47} جب اُس عَورت نے دیکھا کہ مَیں چُھپ نہیں سکتی تو کانپتی ہُوئی آئی اور اُس کے آگے گِر کر سب لوگوں کے سامنے بیان کِیا کہ مَیں نے کِس سبب سے تُجھے چُھؤا اور کِس طرح اُسی دَم شِفا پا گئیO {8:48} اُس نے اُس سے کہا بیٹی! تیرے اِیمان نے تُجھے اچھّا کِیا ہے O سلامت چلی جاO {8:49} وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ عِبادت خانہ کے سردار کے ہاں سے کِسی نے آ کر کہا کہ تیری بیٹی مَر گئی O اُستاد کو تکلِیف نہ دےO {8:50} یِسُو ع نے سُن کر اُسے جواب دِیا کہ خَوف نہ کر فقط اِعتقاد رکھ O وہ بچ جائے گیO {8:51} اور گھر میں پہنچ کر پطر س اور یُوحنّا اور یعقُوب اور لڑکی کے ماں باپ کے سِوا کِسی کو اپنے ساتھ اندر نہ جانے دِیاO {8:52} اور سب اُس کے لِئے رو پِیٹ رہے تھے مگر اُس نے کہا O ماتم نہ کرو O وہ مَر نہیں گئی بلکہ سوتی ہےO {8:53} وہ اُس پر ہنسنے لگے کیونکہ جانتے تھے کہ وہ مَر گئی ہےO {8:54} مگر اُس نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور پُکار کر کہا اَے لڑکی اُٹھO {8:55} اُس کی رُوح پِھر آئی اور وہ اُسی دَم اُٹھی O پِھر یِسُو ع نے حُکم دِیا کہ لڑکی کو کُچھ کھانے کو دِیا جائےO {8:56} اُس کے ماں باپ حَیران ہُوئے اور اُس نے اُنہیں تاکِید کی کہ یہ ماجرا کِسی سے نہ کہناO {i9:1} یِسُوع بارہ شاگِردوں کو بھیجتاہے (متّی ۱۰‏:۵‏-۱۵؛ مرقس ۶‏:۷‏-۱۳) {9:1} پِھر اُس نے اُن بارہ کو بُلا کر اُنہیں سب بدرُوحوں پر اِختیار بخشااور بِیماریوں کو دُور کرنے کی قُدرت دیO {9:2} اور اُنہیں خُدا کی بادشاہی کی مُنادی کرنے اور بِیماروں کو اچھّا کرنے کے لِئے بھیجاO {9:3} اور اُن سے کہا کہ راہ کے لِئے کُچھ نہ لینا O نہ لاٹھی O نہ جھولیO نہ روٹی O نہ روپیہ O نہ دو دو کُرتے رکھناO {9:4} اور جِس گھر میں داخِل ہو وہِیں رہنا اور وہِیں سے روانہ ہوناO {9:5} اور جِس شہر کے لوگ تُمہیں قبُول نہ کریں O اُس شہر سے نِکلتے وقت اپنے پاؤں کی گَرد جھاڑ دینا تاکہ اُن پر گواہی ہوO {9:6} پس وہ روانہ ہو کر گاؤں گاؤں خُوشخبری سُناتے اور ہر جگہ شِفا دیتے پِھرےO {i9:7} ہیرود یس کی گھبراہ ٹ ( متّی ۱۴‏:۱‏-۱۲؛ مرقس ۶: ۱۴‏-۲۹) {9:7} اور چَوتھائی مُلک کا حاکِم ہیرود یس سب اَحوال سُن کر گھبرا گیا O اِس لِئے کہ بعض کہتے تھے کہ ےُوحنّا مُردوں میں سے جی اُٹھا ہےO {9:8} اور بعض یہ کہ ایلیّا ہ ظاہِر ہُؤا ہے اور بعض یہ کہ قدِیم نبِیوں میں سے کوئی جی اُٹھاہےO {9:9} مگر ہیرود یس نے کہا کہ ےُوحنّا کا تو مَیں نے سر کٹوا دِیا O اب یہ کون ہے جِس کی بابت اَیسی باتیں سُنتا ہُوں؟ پس اُسے دیکھنے کی کوشِش میں رہاO {i9:10} یِسُوع پانچ ہزار کو کھانا کھلاتا ہے (متّی ۱۴: ۱۳‏-۲۱؛ مرقس ۶: ۳۰‏-۴۴؛ یُوحنّا ۶‏:۱‏-۱۰) {9:10} پِھررسُولوں نے جو کُچھ کِیا تھا لَوٹ کر اُس سے بیان کِیا اور وہ اُن کو الگ لے کر بَیت صَیدا نام ایک شہر کو چلا گیاO {9:11} یہ جان کر بِھیڑ اُس کے پِیچھے گئی اور وہ خُوشی کے ساتھ اُن سے مِلا اور اُن سے خُدا کی بادشاہی کی باتیں کرنے لگا اور جو شِفا پانے کے مُحتاج تھے اُنہیں شِفا بخشیO {9:12} جب دِن ڈھلنے لگا تو اُن بارہ نے آکر اُس سے کہا کہ بِھیڑ کو رُخصت کر کہ چاروں طرف کے گاؤں اور بستیوں میں جا ٹِکیں اور کھانے کی تدبِیر کریں کیونکہ ہم یہاں وِیران جگہ میں ہیںO {9:13} اُس نے اُن سے کہا تُم ہی اُنہیں کھانے کو دو O اُنہوں نے کہا ہمارے پاس صرف پانچ روٹِیاں اور دو مچھلِیاں ہیں مگر ہاں ہم جا کر اِن سب لوگوں کے لِئے کھانامول لے آئیںO {9:14} کیونکہ وہ پانچ ہزار مَرد کے قرِیب تھے O اُس نے اپنے شاگِردوں سے کہا کہ اُن کو تخمِیناً پچاس پچاس کی قِطاروں میں بِٹھاؤO {9:15} اُنہوں نے اُسی طرح کِیا اور سب کو بِٹھایاO {9:16} پِھر اُس نے وہ پانچ روٹِیاں اور دو مچھلِیاں لِیں اور آسمان کی طرف دیکھ کر اُن پر برکت بخشی اور توڑ کر اپنے شاگِردوں کو دیتا گیا کہ لوگوں کے آگے رکھّیںO {9:17} اُنہوں نے کھایا اور سب سیر ہو گئے اور اُن کے بچے ہُوئے ٹُکڑوں کی بارہ ٹوکرِیاں اُٹھائی گئِیںO {i9:18} یِسُوع کے حق میں پطرس کا اعلان ( متّی ۱۶: ۱۳‏-۱۹؛ مرقس ۸: ۲۷‏-۲۹) {9:18} جب وہ تنہائی میں دُعا کر رہا تھا اور شاگِرد اُس کے پاس تھے تو اَیسا ہُؤا کہ اُس نے اُن سے پُوچھا کہ لوگ مُجھے کیا کہتے ہیں؟O {9:19} اُنہوں نے جواب میں کہا یُوحنّا بپتِسمہ دینے والا اور بعض ایلیّا ہ کہتے ہیں اور بعض یہ کہ قدِیم نبِیوں میں سے کوئی جی اُٹھاہےO {9:20} اُس نے اُن سے کہا لیکن تُم مُجھے کیا کہتے ہو؟ پطر س نے جواب میں کہا کہ خُدا کا مسِیحO {i9:21} یِسُوع اپنے دُکھ اُٹھانے اور مَوت کا ذکر کرتا ہے ( متّی ۱۶: ۲۰‏-۲۸؛ مرقس ۸‏:۳۰‏-۹‏:۱) {9:21} اُس نے اُن کو تاکِید کر کے حُکم دِیا کہ یہ کِسی سے نہ کہناO {9:22} اور کہا ضرُور ہے کہ اِبنِ آدم بُہت دُکھ اُٹھائے اور بزُرگ اور سردار کاہِن اور فقِیہہ اُسے ردّ کریں اور وہ قتل کِیا جائے اور تِیسرے دِن جی اُٹھےO {9:23} اور اُس نے سب سے کہا اگر کوئی میرے پِیچھے آنا چاہے تو اپنی خُودی سے اِنکار کرے اور ہر روز اپنی صلِیب اُٹھائے اور میرے پِیچھے ہو لےO {9:24} کیونکہ جو کوئی اپنی جان بچانا چاہے وہ اُسے کھوئے گا اور جو کوئی میری خاطِر اپنی جان کھوئے وُہی اُسے بچائے گاO {9:25} اور آدمی اگر ساری دُنیا کو حاصِل کرے اور اپنی جان کو کھو دے یا اُس کا نُقصان اُٹھائے تو اُسے کیا فائِدہ ہو گا؟O {9:26} کیونکہ جو کوئی مُجھ سے اور میری باتوں سے شرمائے گا اِبنِ آدم بھی جب اپنے اور اپنے باپ کے اور پاک فرِشتوں کے جلال میں آئے گا تو اُس سے شرمائے گاO {9:27} لیکن مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ اُن میں سے جو یہاں کھڑے ہیں بعض اَیسے ہیں کہ جب تک خُدا کی بادشاہی کو دیکھ نہ لیں مَوت کا مزہ ہرگِز نہ چکّھیں گےO {i9:28} یِسُوع کی صُورت کا بدل جانا ( متّی ۱۷‏:۱‏-۸؛ مرقس ۹‏:۲‏-۸) {9:28} پِھراِن باتوں کے کوئی آٹھ روز بعد اَیسا ہُؤا کہ وہ پطر س اور یُوحنّا اور یعقُو ب کو ہمراہ لے کر پہاڑ پر دُعا کرنے گیاO {9:29} جب وہ دُعا کر رہا تھا تو اَیسا ہُؤا کہ اُس کے چِہرہ کی صُورت بدل گئی اور اُس کی پوشاک سفید برّاق ہو گئیO {9:30} اور دیکھو دو شخص یعنی مُوسیٰ اور ایلیّا ہ اُس سے باتیں کر رہے تھےO {9:31} یہ جلال میں دِکھائی دِئے اور اُس کے اِنتقال کا ذِکر کرتے تھے جو یروشلِیم میں واقِع ہونے کو تھاO {9:32} مگر پطر س اور اُس کے ساتھی نِیند میں پڑے تھے اور جب اچھّی طرح بیدار ہُوئے تو اُس کے جلال کو اور اُن دو شخصوں کو دیکھا جو اُس کے ساتھ کھڑے تھےO {9:33} جب وہ اُس سے جُدا ہونے لگے تو اَیسا ہُؤا کہ پطر س نے یِسُو ع سے کہا اَے اُستادہمارا یہاں رہنا اچھّا ہے O پس ہم تِین ڈیرے بنائیں O ایک تیرے لِئے O ایک مُوسیٰ کے لِئے ایک ایلیّا ہ کے لِئے O لیکن وہ جانتا نہ تھا کہ کیا کہتا ہےO {9:34} وہ یہ کہتا ہی تھا کہ بادل نے آ کر اُن پر سایہ کر لِیا اور جب وہ بادل میں گِھرنے لگے تو ڈر گئےO {9:35} اور بادل میں سے ایک آواز آئی کہ یہ میرا برگُزِیدہ بیٹاہے O اِس کی سُنوO {9:36} یہ آواز آتے ہی یِسُو ع اکیلا دکھائی دیا اور وہ چُپ رہے اور جو باتیں دیکھی تِھیں اُن دِنوں میں کِسی کو اُن کی کُچھ خبر نہ دیO {i9:37} یِسُوع ایک بدرُوح گِرفتہ لڑکے کو شِفا دیتا ہے (متّی ۱۷‏:۱۴‏-۱۸؛ مرقس ۹: ۱۴‏-۲۷) {9:37} دُوسرے دِن جب وہ پہاڑ سے اُترے تھے تو اَیسا ہُؤا کہ ایک بڑی بِھیڑ اُس سے آ مِلیO {9:38} اور دیکھو ایک آدمی نے بِھیڑ میں سے چِلاّ کر کہا اَے اُستاد! مَیں تیری مِنّت کرتا ہُوں کہ میرے بیٹے پر نظر کر کیونکہ وہ میرا اِکلَوتا ہےO {9:39} اور دیکھو ایک رُوح اُسے پکڑ لیتی ہے اور وہ یکایک چِیخ اُٹھتا ہے اور اُس کو اَیسا مروڑتی ہے کہ کف بھرلاتا ہے اور اُس کو کُچل کر مُشکِل سے چھوڑتی ہےO {9:40} اور مَیں نے تیرے شاگِردوں کی مِنّت کی کہ اُسے نِکال دیں لیکن وہ نہ نِکال سکےO {9:41} یِسُو ع نے جواب میں کہا اَے بے اِعتقاد اور کجَ رَو قَوم میں کب تک تُمہارے ساتھ رہُوں گااور تُمہاری برداشت کرُوں گا؟ اپنے بیٹے کو یہاں لے آO {9:42} وہ آتا ہی تھا کہ بدرُوح نے اُسے پٹک کر مروڑا اور یِسُو ع نے اُس ناپاک رُوح کو جِھڑکا اور لڑکے کو اچھّا کر کے اُس کے باپ کو دے دِیاO {9:43} اور سب لوگ خُدا کی شان کو دیکھ کر حَیران ہُوئے O لیکن جِس وقت سب لوگ اُن سب کاموں پر جو وہ کرتا تھا تعجُّب کر رہے تھے اُس نے اپنے شاگِردوں سے کہاO {i9:44} یِسُوع دُوبارہ اپنے دُکھ اُٹھانے اورمَوت کا ذکر کرتا ہے (متّی ۱۷‏:۲۲‏-۲۳؛ مرقس ۹: ۳۰‏-۳۲) {9:44} تُمہارے کانوں میں یہ باتیں پڑی رہیں کیونکہ اِبن ِآدم آدمِیوں کے ہاتھ میں حوالہ کِئے جانے کو ہےO {9:45} لیکن وہ اِس بات کو سمجھتے نہ تھے بلکہ یہ اُن سے چُھپائی گئی تاکہ اُسے معلُوم نہ کریں اور اِس بات کی بابت اُس سے پُوچھتے ہُوئے ڈرتے تھےO {i9:46} سب سے بڑا کون ہے؟ (متّی ۱۸‏:۱‏-۵؛ مرقس ۹: ۳۳‏-۳۷) {9:46} پِھر اُن میں یہ بحث شرُوع ہُوئی کہ ہم میں سے بڑا کَون ہے؟O {9:47} لیکن یِسُو ع نے اُن کے دِلوں کا خیال معلُوم کر کے ایک بچّہ کو لِیا اور اپنے پاس کھڑا کر کے اُن سے کہاO {9:48} جو کوئی اِس بچّہ کو میرے نام پر قبُول کرتا ہے وہ مُجھے قبُول کرتا ہے اور جو مُجھے قبُول کرتا ہے وہ میرے بھیجنے والے کو قبُول کرتا ہے کیونکہ جو تُم میں سب سے چھوٹا ہے وُہی بڑا ہےO {i9:49} جو تُمہار ا مُخالف نہیں وہ تُمہارا حامی ہے (مرقس ۹‏:۳۸‏-۴۰) {9:49} یُوحنّا نے جواب میں کہا اَے اُستاد ہم نے ایک شخص کو تیرے نام سے بدرُوحیں نِکالتے دیکھا اور اُس کو منع کرنے لگے کیونکہ وہ ہمارے ساتھ تیری پَیروی نہیں کرتاO {9:50} لیکن یِسُو ع نے اُس سے کہا کہ اُسے منع نہ کرنا کیونکہ جو تُمہارے خِلاف نہیں وہ تُمہاری طرف ہےO {i9:51} ایک سامری گاؤں یِسُوع کو قبُول کرنے سے اِنکار کرتاہے {9:51} جب وہ دِن نزدِیک آئے کہ وہ اُوپر اُٹھایا جائے تو اَیسا ہُؤا کہ اُس نے یروشلِیم جانے کو کمر باندھیO {9:52} اور اپنے آگے قاصِد بھیجے O وہ جا کر سامرِیوں کے ایک گاؤں میں داخِل ہُوئے تاکہ اُس کے لِئے تیّاری کریںO {9:53} لیکن اُنہوں نے اُس کو ٹِکنے نہ دِیا کیونکہ اُس کا رُخ یروشلِیم کی طرف تھاO {9:54} یہ دیکھ کر اُس کے شاگِرد یعقُو ب اور یُوحنّا نے کہا اَے خُداوندکیا تُو چاہتا ہے کہ ہم حُکم دیں کہ آسمان سے آگ نازِل ہو کر اُنہیں بھسم کر دے ]جَیسا ایلیّا ہ نے کِیا[؟O {9:55} مگر اُس نے پِھر کر اُنہیں جِھڑکا ]اور کہا تُم نہیں جانتے کہ تُم کَیسی رُوح کے ہوO {9:56} کیونکہ اِبن ِآدم لوگوں کی جان برباد کرنے نہیں بلکہ بچانے آیا[پِھر وہ کِسی اَور گاؤں میں چلے گئےO {i9:57} یِسُوع کے پَیروکار بننے کے آرزُو مند افراد ( متّی ۸: ۱۹‏-۲۳) {9:57} جب وہ راہ میں چلے جاتے تھے تو کِسی نے اُس سے کہا جہاں کہِیں تُو جائے مَیں تیرے پِیچھے چلُوں گاO {9:58} یِسُو ع نے اُس سے کہا کہ لومڑِیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرِندوں کے گھونسلے مگر اِبن ِآدم کے لِئے سر دھرنے کی بھی جگہ نہیںO {9:59} پِھر اُس نے دُوسرے سے کہا میرے پِیچھے چل O اُس نے کہا اَے خُداوند! مُجھے اِجازت دے کہ پہلے جا کر اپنے باپ کو دفن کرُوںO {9:60} اُس نے اُس سے کہا کہ مُردوں کو اپنے مُردے دفن کرنے دے لیکن تُو جا کرخُدا کی بادشاہی کی خبر پَھیلاO {9:61} ایک اَور نے بھی کہا اَے خُداوند مَیں تیرے پِیچھے چلُوں گالیکن پہلے مُجھے اِجازت دے کہ اپنے گھر کے لوگوں سے رُخصت ہو آؤںO {9:62} یِسُو ع نے اُس سے کہا جو کوئی اپنا ہاتھ ہَل پر رکھ کر پِیچھے دیکھتا ہے وہ خُدا کی بادشاہی کے لائِق نہیںO {i10:1} یِسُوع ستّر شاگِردوں کوبھیجتا ہے {10:1} اِن باتوں کے بعد خُداوندنے ستّر آدمی اَور مُقرّر کِئے اور جِس جِس شہر اور جگہ کو خُود جانے والا تھا وہاں اُنہیں دو دو کر کے اپنے آگے بھیجاO {10:2} اور وہ اُن سے کہنے لگا کہ فصل تو بُہت ہے لیکن مزدُور تھوڑے ہیں اِس لِئے فصل کے مالِک کی مِنّت کرو کہ اپنی فصل کاٹنے کے لِئے مزدُور بھیجےO {10:3} جاؤ O دیکھو مَیں تُم کو گویا برّوں کو بھیڑیوں کے بیچ میں بھیجتا ہُوںO {10:4} نہ بٹوا لے جاؤ نہ جھولی نہ جُوتِیاں اور نہ راہ میں کِسی کو سلام کروO {10:5} اور جِس گھر میں داخِل ہو پہلے کہو کہ اِس گھر کی سلامتی ہوO {10:6} اگر وہاں کوئی سلامتی کا فرزند ہو گا تو تُمہاراسلام اُس پر ٹھہرے گا نہیں تو تُم پر لَوٹ آئے گاO {10:7} اُسی گھر میں رہو اور جو کُچھ اُن سے مِلے کھاؤ پِیو کیونکہ مزدُوراپنی مزدُوری کا حق دار ہے O گھر گھر نہ پِھروO {10:8} اور جِس شہر میں داخِل ہو اور وہاں کے لوگ تُمہیں قبُول کریں تو جو کُچھ تُمہارے سامنے رکھّا جائے کھاؤO {10:9} اور وہاں کے بِیماروں کو اچھّا کرو اور اُن سے کہو کہ خُدا کی بادشاہی تُمہارے نزدِیک آ پہنچی ہےO {10:10} لیکن جِس شہر میں داخِل ہو اور وہاں کے لوگ تُمہیں قبُول نہ کریں تو اُس کے بازاروں میں جا کر کہو کہO {10:11} ہم اِس گَرد کو بھی جو تُمہارے شہر سے ہمارے پاؤں میں لگی ہے تُمہارے سامنے جھاڑے دیتے ہیں مگر یہ جان لو کہ خُدا کی بادشاہی نزدِیک آپہنچی ہےO {10:12} مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اُس دِن سدُو م کا حال اُس شہر کے حال سے زِیادہ برداشت کے لائِق ہو گاO {i10:13} اِیمان نہ لانے والے شہر (متّی ۱۱‏:۲۰‏-۲۴) {10:13} اَے خُرازِ ین تُجھ پر افسوس! اَے بَیت صَیدا تُجھ پر افسوس! کیونکہ جو مُعجِزے تُم میں ظاہِر ہُوئے اگر صُور اور صَیدا میں ظاہِر ہوتے تو وہ ٹاٹ اوڑھ کر اور خاک میں بَیٹھ کر کب کے تَوبہ کر لیتےO {10:14} مگر عدالت میں صُور اور صَیدا کا حال تُمہارے حال سے زِیادہ برداشت کے لائِق ہو گاO {10:15} اور اَے کَفر نحُوم کیا تُو آسمان تک بُلند کِیا جائے گا؟ نہیں بلکہ تُو عالَمِ ارواح میں اُتارا جائے گاO {10:16} جو تُمہاری سُنتا ہے وہ میری سُنتا ہے اور جوتُمہیں نہیں مانتا وہ مُجھے نہیں مانتا اور جو مُجھے نہیں مانتا وہ میرے بھیجنے والے کو نہیں مانتاO {i10:17} ستّرشاگِردوں کی واپسی {10:17} وہ سَتّر خُوش ہو کر پِھر آئے اور کہنے لگے اَے خُداوند تیرے نام سے بدرُوحیں بھی ہمارے تابِع ہیںO {10:18} اُس نے اُن سے کہا مَیں شَیطان کو بِجلی کی طرح آسمان سے گِرا ہُؤا دیکھ رہا تھاO {10:19} دیکھو مَیں نے تُم کو اِختیار دِیا کہ سانپوں اور بِچّھُوؤں کو کُچلو اور دُشمن کی ساری قُدرت پر غالِب آؤ اور تُم کو ہرگِز کِسی چِیز سے ضرر نہ پہنچے گاO {10:20} تَو بھی اِس سے خُوش نہ ہو کہ رُوحیں تُمہارے تابِع ہیں بلکہ اِس سے خُوش ہو کہ تُمہارے نام آسمان پر لِکھے ہُوئے ہیںO {i10:21} یِسُوع خُوش ہوتا ہے (متّی ۱۱‏:۲۵‏-۲۷؛ ۱۳‏:۱۶‏-۱۷) {10:21} اُسی گھڑی وہ رُوحُ القُدس سے خُوشی میں بھر گیا اور کہنے لگا اَے باپ آسمان اور زمِین کے خُداوند! مَیں تیری حمد کرتا ہُوں کہ تُو نے یہ باتیں داناؤں اور عقل مندوں سے چُھپائِیں اور بچّوں پر ظاہِر کِیں O ہاں اَے باپ کیونکہ اَیسا ہی تُجھے پسند آیاO {10:22} میرے باپ کی طرف سے سب کُچھ مُجھے سَونپا گیا اور کوئی نہیں جانتا کہ بیٹا کَون ہے سِوا باپ کے اور کوئی نہیں جانتا کہ باپ کَون ہے سِوا بیٹے کے اور اُس شخص کے جِس پر بیٹا اُسے ظاہِر کرنا چاہےO {10:23} اور شاگِردوں کی طرف مُتوجِّہ ہو کر خاص اُن ہی سے کہا مُبارک ہیں وہ آنکھیں جو یہ باتیں دیکھتی ہیں جِنہیں تُم دیکھتے ہوO {10:24} کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ بُہت سے نبِیوں اور بادشاہوں نے چاہا کہ جو باتیں تُم دیکھتے ہو دیکھیں مگر نہ دیکِھیں اور جو باتیں تُم سُنتے ہو سُنیں مگر نہ سُنِیںO نیک سامری کی تمثِیل {10:25} اور دیکھو ایک عالِمِ شرع اُٹھا اور یہ کہہ کر اُس کی آزمایش کرنے لگا کہ اَے اُستاد! مَیں کیا کرُوں کہ ہمیشہ کی زِندگی کا وارِث بنُوں؟O {10:26} اُس نے اُس سے کہا تَورَیت میں کیا لِکھا ہے؟ تُوکِس طرح پڑھتا ہے؟O {10:27} اُس نے جواب میں کہا کہ خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت اور اپنی ساری عقل سے مُحبّت رکھ اور اپنے پڑوسی سے اپنے برابر مُحبّت رکھO {10:28} اُس نے اُس سے کہا تُو نے ٹِھیک جواب دِیا O یِہی کر تو تُو جِئے گاO {10:29} مگر اُس نے اپنے تئِیں راستباز ٹھہرانے کی غرض سے یِسُو ع سے پُوچھا پِھر میرا پڑوسی کَون ہے؟O {10:30} یِسُو ع نے جواب میں کہا کہ ایک آدمی یروشلِیم سے یریحُو کی طرف جا رہا تھا کہ ڈاکُوؤں میں گِھر گیا O اُنہوں نے اُس کے کپڑے اُتار لِئے اور مارا بھی اور ادھمُؤا چھوڑ کرچلے گئےO {10:31} اِتفاقاً ایک کاہِن اُسی راہ سے جا رہا تھااور اُسے دیکھ کر کَترا کر چلا گیاO {10:32} اِسی طرح ایک لاوی اُس جگہ آیا O وہ بھی اُسے دیکھ کر کترا کر چلا گیاO {10:33} لیکن ایک سامری سفر کرتے کرتے وہاں آ نِکلا اور اُسے دیکھ کر اُس نے ترس کھایاO {10:34} اور اُس کے پاس آ کر اُس کے زخموں کو تیل اور مَے لگا کر باندھا اور اپنے جانور پر سوار کر کے سرائے میں لے گیااور اُس کی خبرگِیری کیO {10:35} دُوسرے دِن دو دِینار نِکال کر بھٹیارے کو دِئے اور کہا اِس کی خبرگِیری کرنا اور جو کُچھ اِس سے زِیادہ خرچ ہو گا مَیں پِھر آ کر تُجھے ادا کر دُوں گاO {10:36} اِن تِینوں میں سے اُس شخص کا جو ڈاکُوؤں میں گِھر گیا تھا تیری دانِست میں کَون پڑوسی ٹھہرا؟O {10:37} اُس نے کہا وہ جِس نے اُس پر رحم کِیا O یِسُو ع نے اُس سے کہا جا تُو بھی اَیسا ہی کرO {i10:38} یِسُوع مرتھا اور مریم سے مِلنے جاتاہے {10:38} پِھر جب جا رہے تھے تو وہ ایک گاؤں میں داخِل ہُؤا اور مرتھا نام ایک عَورت نے اُسے اپنے گھر میں اُتاراO {10:39} اور مریم نام اُس کی ایک بہن تھی O وہ یِسُو ع کے پاؤں کے پاس بَیٹھ کر اُس کا کلام سُن رہی تھیO {10:40} لیکن مر تھا خِدمت کرتے کرتے گھبرا گئی O پس اُس کے پاس آ کر کہنے لگی اَے خُداوند! کیا تُجھے خیال نہیں کہ میری بہن نے خِدمت کرنے کو مُجھے اکیلا چھوڑ دِیا ہے؟ پس اُسے فرما کہ میری مدد کرےO {10:41} خُداوند نے جواب میں اُس سے کہا مرتھا! مرتھا! تُو تو بُہت سی چِیزوں کی فِکر و تردُّد میں ہےO {10:42} لیکن ایک چِیز ضرُور ہے اور مریم نے وہ اچّھا حِصّہ چُن لِیا ہے جو اُس سے چِھینا نہ جائے گاO {i11:1} دُعا کے بارے میں یِسُوع کی تعلِیم (متّی ۶‏:۹‏-۱۳؛ ۷‏:۷‏-۱۱) {11:1} پِھر اَیسا ہُؤا کہ وہ کِسی جگہ دُعا کر رہا تھا O جب کر چُکا تو اُس کے شاگِردوں میں سے ایک نے اُس سے کہا اَے خُداوند! جَیسا یُوحنّا نے اپنے شاگِردوں کو دُعا کرنا سِکھایا تُو بھی ہمیں سِکھاO {11:2} اُس نے اُن سے کہا جب تُم دُعا کرو تو کہو اَے باپ! تیرا نام پاک مانا جائے O تیر ی بادشاہی آئےO {11:3} ہماری روز کی روٹی ہر روز ہمیں دِیا کرO {11:4} اور ہمارے گُناہ مُعاف کر کیونکہ ہم بھی اپنے ہر قرض دار کو مُعاف کرتے ہیں اور ہمیں آزمایش میں نہ لاO {11:5} پِھر اُس نے اُن سے کہا تُم میں سے کون ہے جِس کا ایک دوست ہو اور وہ آدھی رات کو اُس کے پاس جا کر اُس سے کہے اَے دوست مُجھے تِین روٹِیاں دےO {11:6} کیونکہ میرا ایک دوست سفر کر کے میرے پاس آیا ہے اور میرے پاس کُچھ نہیں کہ اُس کے آگے رکھُّوںO {11:7} اور وہ اندر سے جواب میں کہے مُجھے تکلِیف نہ دے O اب دروازہ بند ہے اور میرے لڑکے میرے پاس بِچھونے پر ہیں O مَیں اُٹھ کر تُجھے دے نہیں سکتاO {11:8} مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اگرچہ وہ اِس سبب سے کہ اُس کا دوست ہے اُٹھ کر اُسے نہ دے تَو بھی اُس کی بے حیائی کے سبب سے اُٹھ کر جِتنی درکار ہیں اُسے دے گاO {11:9} پس مَیں تُم سے کہتا ہُوں مانگو تو تُمہیں دِیا جائے گاO ڈُھونڈو تو پاؤ گے O دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تُمہارے واسطے کھولا جائے گاO {11:10} کیونکہ جو کوئی مانگتا ہے اُسے مِلتا ہے اور جو ڈُھونڈتا ہے وہ پاتا ہے اور جو کھٹکھٹاتا ہے اُس کے واسطے کھولا جائے گاO {11:11} تُم میں سے اَیسا کَون سا باپ ہے کہ جب اُس کا بیٹا روٹی مانگے تو اُسے پتّھر دے؟ یا مچھلی مانگے تو مچھلی کے بدلے اُسے سانپ دے؟O {11:12} یا انڈا مانگے تو اُس کو بِچُّھو دے؟O {11:13} پس جب تُم بُرے ہو کر اپنے بچّوں کو اچّھی چِیزیں دینا جانتے ہو تو آسمانی باپ اپنے مانگنے والوں کو رُوحُ القُدس کیوں نہ دے گا؟O {i11:14} یِسُوع اور بَعل زبُول (متّی ۱۲: ۲۲‏-۳۰؛ مرقس ۳: ۲۰‏-۲۷) {11:14} پِھر وہ ایک گُونگی بدرُوح کو نِکال رہا تھا اور جب وہ بدرُوح نِکل گئی تو اَیسا ہُؤا کہ گُونگا بولا اور لوگوں نے تعجُّب کِیاO {11:15} لیکن اُن میں سے بعض نے کہا یہ تو بدرُوحوں کے سردار بعل زبُول کی مدد سے بدرُوحوں کو نِکالتا ہےO {11:16} بعض اَور لوگ آزمایش کے لِئے اُس سے ایک آسمانی نِشان طلب کرنے لگےO {11:17} مگر اُس نے اُن کے خیالات کو جان کر اُن سے کہا جِس سلطنت میں پُھوٹ پڑے وہ وِیران ہو جاتی ہے اور جِس گھر میں پُھوٹ پڑے وہ برباد ہو جاتا ہےO {11:18} اور اگر شَیطان بھی اپنا مُخالِف ہو جائے تو اُس کی سلطنت کِس طرح قائِم رہے گی؟ کیونکہ تُم میری بابت کہتے ہو کہ یہ بدرُوحوں کو بعل ز بُول کی مدد سے نِکالتا ہےO {11:19} اور اگر مَیں بدرُوحوں کو بعل ز بُول کی مدد سے نِکالتا ہُوں تو تُمہارے بیٹے کِس کی مدد سے نِکالتے ہیں؟ پس وُہی تُمہارے مُنصِف ہوں گےO {11:20} لیکن اگر مَیں بدرُوحوں کو خُدا کی قُدرت سے نِکالتا ہُوں توخُدا کی بادشاہی تُمہارے پاس آ پُہنچیO {11:21} جب زورآور آدمی ہتھیار باندھے ہُوئے اپنی حَویلی کی رکھوالی کرتا ہے تو اُس کا مال محفُوظ رہتا ہےO {11:22} لیکن جب اُس سے کوئی زورآور حملہ کر کے اُس پر غالِب آتا ہے تو اُس کے سب ہتھیار جِن پر اُس کا بھروسا تھا چِھین لیتا اور اُس کا مال لُوٹ کر بانٹ دیتا ہےO {11:23} جو میری طرف نہیں وہ میرے خِلاف ہے اور جو میرے ساتھ جمع نہیں کرتا وہ بکھیرتا ہےO {i11:24} بدرُوح کی واپسی (متّی ۱۲: ۴۳‏-۴۵) {11:24} جب ناپاک رُوح آدمی میں سے نِکلتی ہے تو سُوکھے مقاموں میں آرام ڈُھونڈتی پِھرتی ہے اور جب نہیں پاتی تو کہتی ہے کہ مَیں اپنے اُسی گھر میں لَوٹ جاؤں گی جِس سے نِکلی ہُوںO {11:25} اور آکر اُسے جھڑا ہُؤا اور آراستہ پاتی ہےO {11:26} پِھر جا کر اَور سات رُوحیں اپنے سے بُری ہمراہ لے آتی ہے اور وہ اُس میں داخِل ہو کر وہاں بستی ہیں اور اُس آدمی کا پِچھلا حال پہلے سے بھی خراب ہو جاتا ہےO {i11:27} حقِیقی مُبارک حالی {11:27} جب وہ یہ باتیں کہہ رہا تھا تو اَیسا ہُؤا کہ بِھیڑ میں سے ایک عَورت نے پُکار کر اُس سے کہا مُبارک ہے وہ رِحم جِس میں تُو رہا اور وہ چھاتِیاں جو تُو نے چُوسِیںO {11:28} اُس نے کہا ہاں O مگر زِیادہ مُبارک وہ ہیں جو خُدا کا کلام سُنتے اور اُس پر عمل کرتے ہیںO {i11:29} کِسی نِشان کا مطالبہ (متّی ۱۲: ۳۸ -۴۲) {11:29} جب بڑی بِھیڑ جمع ہوتی جاتی تھی تو وہ کہنے لگا کہ اِس زمانہ کے لوگ بُرے ہیں O وہ نِشان طلب کرتے ہیں مگر یُوناہ کے نِشان کے سِوا کوئی اَور نِشان اُن کو نہ دِیا جائے گاO {11:30} کیونکہ جِس طرح ےُوناہ نَینِو ہ کے لوگوں کے لِئے نِشان ٹھہرا اُسی طرح اِبنِ آدم بھی اِس زمانہ کے لوگوں کے لِئے ٹھہرے گاO {11:31} دَکھّن کی مَلِکہ اِس زمانہ کے آدمِیوں کے ساتھ عدالت کے دِن اُٹھ کر اِن کو مُجرِم ٹھہرائے گی کیونکہ وہ دُنیا کے کِنارے سے سُلیما ن کی حِکمت سُننے کو آئی اور دیکھو یہاں وہ ہے جو سُلیما ن سے بھی بڑا ہےO {11:32} نَینِو ہ کے لوگ اِس زمانہ کے لوگوں کے ساتھ عدالت کے دِن کھڑے ہو کر اِن کو مُجرِم ٹھہرائیں گے کیونکہ اُنہوں نے ےُوناہ کی مُنادی پر تَوبہ کر لی اور دیکھو یہاں وہ ہے جو یُوناہ سے بھی بڑا ہےO {i11:33} بدن کا چراغ ( متّی ۵‏:۱۵؛ ۶‏:۲۲‏-۲۳) {11:33} کوئی شخص چراغ جلا کر تَہ خانہ میں یا پَیمانہ کے نِیچے نہیں رکھتا بلکہ چراغ دان پر رکھتا ہے تاکہ اندر آنے والوں کو رَوشنی دِکھائی دےO {11:34} تیرے بدن کا چراغ تیری آنکھ ہے O جب تیری آنکھ درُست ہے تو تیرا سارا بدن بھی رَوشن ہے اور جب خراب ہے تو تیرا بدن بھی تارِیک ہےO {11:35} پس دیکھ جو رَوشنی تُجھ میں ہے تارِیکی تو نہیںO {11:36} پس اگر تیرا سارا بدن رَوشن ہو اور کوئی حِصّہ تارِیک نہ رہے تو وہ تمام اَیسا رَوشن ہو گا جَیسا اُس وقت ہوتا ہے جب چراغ اپنی چمک سے تُجھے رَوشن کرتا ہےO {i11:37} یِسُوع فقہیوں اور فریسیوں کو اِلزام دیتا ہے (متّی ۲۳: ۱‏-۳۶؛ مرقس ۱۲: ۳۸‏-۴۰) {11:37} جب وہ بات کر رہا تھا تو کِسی فریسی نے اُس کی دَعوت کی O پس وہ اندر جا کر کھانا کھانے بَیٹھاO {11:38} فریسی نے یہ دیکھ کر تعجُّب کِیا کہ اُس نے کھانے سے پہلے غُسل نہیں کِیاO {11:39} خُداوندنے اُس سے کہا اَے فریسیو! تُم پیالے اور رکابی کو اُوپر سے تو صاف کرتے ہو لیکن تُمہارے اندر لُوٹ اور بَدی بھری ہےO {11:40} اَے نادانو! جِس نے باہر کو بنایا کیا اُس نے اندر کو نہیں بنایا؟O {11:41} ہاں اندر کی چِیزیں خَیرات کر دو تو دیکھو سب کُچھ تُمہارے لِئے پاک ہو گاO {11:42} لیکن اَے فریسیو تُم پر افسوس! کہ پودِینے اور سُداب اور ہر ایک ترکاری پردَہ یکی دیتے ہو اور اِنصاف اور خُدا کی مُحبّت سے غافِل رہتے ہو O لازِم تھا کہ یہ بھی کرتے اور وہ بھی نہ چھوڑتےO {11:43} اَے فریسیو تُم پر افسوس! کہ تُم عِبادت خانوں میں اعلےٰ درجہ کی کُرسِیاں اور بازاروں میں سلام چاہتے ہوO {11:44} تُم پر افسوس! کیونکہ تُم اُن پوشِیدہ قبروں کی مانِند ہو جِن پر آدمی چلتے ہیں اور اُن کو اِس بات کی خبر نہیںO {11:45} پِھرشرع کے عالِموں میں سے ایک نے جواب میں اُس سے کہا اَے اُستاد! اِن باتوں کے کہنے سے تُو ہمیں بھی بے عِزّت کرتا ہےO {11:46} اُس نے کہا اَے شرع کے عالِمو تُم پر بھی افسوس! کہ تُم اَیسے بوجھ جِن کو اُٹھانا مُشکِل ہے آدمِیوں پر لادتے ہو اور آپ ایک اُنگلی بھی اُن بوجھوں کو نہیں لگاتےO {11:47} تُم پر افسوس! کہ تُم تو نبِیوں کی قبروں کو بناتے ہو اور تُمہارے باپ دادا نے اُن کو قتل کِیا تھاO {11:48} پس تُم گواہ ہو اور اپنے باپ دادا کے کاموں کو پسند کرتے ہو کیونکہ اُنہوں نے تو اُن کو قتل کِیا تھا اور تُم اُن کی قبریں بناتے ہوO {11:49} اِسی لِئے خُدا کی حِکمت نے کہا ہے کہ مَیں نبِیوں اور رسُولوں کو اُن کے پاس بھیجوں گیO وہ اُن میں سے بعض کو قتل کریں گے اور بعض کو ستائیں گےO {11:50} تاکہ سب نبِیوں کے خُون کی جو بنایِ عالَم سے بہایا گیا اِس زمانہ کے لوگوں سے بازپُرس کی جائےO {11:51} ہابِل کے خُون سے لے کر اُس زکر یاہ کے خُون تک جو قُربان گاہ اور مَقدِس کے بِیج میں ہلاک ہُؤا O مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ اِسی زمانہ کے لوگوں سے سب کی بازپُرس کی جائے گیO {11:52} اَے شرع کے عالِمو تُم پر افسوس! کہ تُم نے معرفت کی کُنجی چِھین لی O تُم آپ بھی داخِل نہ ہُوئے اور داخِل ہونے والوں کو بھی روکاO {11:53} جب وہ وہاں سے نِکلا تو فقِیہہ اور فریسی اُسے بے طرح چِمٹنے اور چھیڑنے لگے تاکہ وہ بُہت سی باتوں کا ذِکر کرےO {11:54} اور اُس کی گھات میں رہے تاکہ اُس کے مُنہ کی کوئی بات پکڑیںO {i12:1} رِیاکاری کے خِلاف تنبیہ (متّی ۱۰: ۲۶‏-۲۷) {12:1} اِتنے میں جب ہزاروں آدمِیوں کی بِھیڑ لگ گئی یہاں تک کہ ایک دُوسرے پر گِرا پڑتا تھا تو اُس نے سب سے پہلے اپنے شاگِردوں سے یہ کہنا شرُوع کِیا کہ اُس خمِیرسے ہوشیار رہنا جو فریسیوں کی رِیاکاری ہےO {12:2} کیونکہ کوئی چِیز ڈھکی نہیں جو کھولی نہ جائے گی اور نہ کوئی چِیز چھُپی ہے جوجانی نہ جائے گیO {12:3} اِس لِئے جو کُچھ تُم نے اندھیرے میں کہا ہے وہ اُجالے میں سُنا جائے گا اور جو کُچھ تُم نے کوٹھرِیوں کے اندر کان میں کہا ہے کوٹھوں پر اُس کی مُنادی کی جائے گیO {i12:4} کِن سے ڈرنا چاہئے (متّی ۱۰: ۲۸‏-۳۱) {12:4} مگر تُم دوستوں سے مَیں کہتا ہُوں کہ اُن سے نہ ڈرو جو بدن کو قتل کرتے ہیں اور اُس کے بعد اَور کُچھ نہیں کر سکتےO {12:5} لیکن مَیں تُمہیں جتاتا ہُوں کہ کِس سے ڈرنا چاہئے O اُس سے ڈرو جِس کو اِختیار ہے کہ قتل کرنے کے بعد جہنّم میں ڈالے O ہاں مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اُسی سے ڈروO {12:6} کیا دو پَیسے کی پانچ چِڑیاں نہیں بِکتِیں؟ تَو بھی خُدا کے حضُور اُن میں سے ایک بھی فراموش نہیں ہوتیO {12:7} بلکہ تُمہارے سر کے سب بال بھی گِنے ہُوئے ہیں O ڈرو مت O تُمہاری قدر تو بُہت سی چِڑیوں سے زِیادہ ہےO {i12:8} مسِیح کا اِقرار اور اِنکار کرنا (متّی ۱۰‏:۱۹‏-۲۰، ۳۲‏-۳۳؛ ۱۲: ۳۲ ) {12:8} اَور مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ جو کوئی آدمِیوں کے سامنے میرا اِقرار کرے اِبنِ آدم بھی خُدا کے فرِشتوں کے سامنے اُس کا اِقرار کرے گاO {12:9} مگر جو آدمِیوں کے سامنے میرا اِنکار کرے خُدا کے فرِشتوں کے سامنے اُس کا اِنکار کِیا جائے گاO {12:10} اَور جو کوئی اِبنِ آدم کے خِلاف کوئی بات کہے اُس کو مُعاف کِیا جائے گا لیکن جو رُوح ُالقُدس کے حق میں کُفر بَکے اُس کو مُعاف نہ کِیا جائے گاO {12:11} اور جب وہ تُم کو عِبادت خانوں میں اور حاکِموں اور اِختیار والوں کے پاس لے جائیں تو فِکر نہ کرنا کہ ہم کِس طرح یا کیا جواب دیں یا کیا کہیںO {12:12} کیونکہ رُوحُ القُدس اُسی گھڑی تُمہیں سِکھا دے گاکہ کیا کہنا چاہئےO {i12:13} دَولت مند بیوقُوف کی تمثِیل {12:13} پِھربِھیڑ میں سے ایک نے اُس سے کہا اَے اُستاد! میرے بھائی سے کہہ کہ مِیراث کا میرا حِصّہ مُجھے دےO {12:14} اُس نے اُس سے کہا O مِیاں! کِس نے مُجھے تُمہارا مُنصِف یا بانٹنے والا مُقرّر کِیا ہے؟O {12:15} اور اُس نے اُن سے کہا خبردار! اپنے آپ کو ہر طرح کے لالچ سے بچائے رکھّو کیونکہ کِسی کی زِندگی اُس کے مال کی کثرت پر مَوقُوف نہیںO {12:16} اور اُس نے اُن سے ایک تمثِیل کہی کہ کِسی دَولت مند کی زمِین میں بڑی فصل ہُوئیO {12:17} پس وہ اپنے دِل میں سوچ کر کہنے لگا کہ مَیں کیا کرُوں کیونکہ میرے ہاں جگہ نہیں جہاں اپنی پَیداوار بھر رکھّوں؟O {12:18} اُس نے کہا مَیں یُوں کرُوں گاکہ اپنی کوٹِھیاں ڈھا کر اُن سے بڑی بناوُں گاO {12:19} اور اُن میں اپنا سارا اناج اور مال بھر رکھّوں گا اور اپنی جان سے کہُوں گا اَے جان! تیرے پاس بُہت برسوں کے لِئے بُہت سا مال جمع ہے O چَین کر O کھا پی O خُوش رہO {12:20} مگر خُدا نے اُس سے کہا اَے نادان! اِسی رات تیری جان تُجھ سے طلب کر لی جائے گیO پس جو کُچھ تُو نے تیّار کِیا ہے وہ کِس کا ہو گا؟O {12:21} اَیسا ہی وہ شخص ہے جو اپنے لِئے خزانہ جمع کرتا ہے اور خُدا کے نزدِیک دَو لت مند نہیںO {i12:22} خُدا پر بھروسا (متّی ۶‏:۲۵‏-۳۴) {12:22} پِھر اُس نے اپنے شاگِردوں سے کہا اِس لِئے مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اپنی جان کی فِکر نہ کرو کہ ہم کیا کھائیں گے اور نہ اپنے بدن کی کہ کیا پہنیں گےO {12:23} کیونکہ جان خُوراک سے بڑھ کر ہے اور بدن پوشاک سےO {12:24} کووّں پر غَور کرو کہ نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے O نہ اُن کے کھتّا ہوتا ہے نہ کوٹھی O تَو بھی خُدا اُنہیں کِھلاتا ہے O تُمہاری قدر تو پرِندوں سے کہِیں زِیادہ ہےO {12:25} تُم میں اَیسا کَون ہے جو فِکر کر کے اپنی عُمر میں ایک گھڑی بڑھا سکے؟O {12:26} پس جب سب سے چھوٹی بات بھی نہیں کر سکتے تو باقی چِیزوں کی فِکر کیوں کرتے ہو؟O {12:27} سوسن کے درختوں پر غَور کرو کہ کِس طرح بڑھتے ہیں O وہ نہ مِحنت کرتے نہ کاتتے ہیں تَو بھی مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ سُلیما ن بھی باوجُود اپنی ساری شان و شوکت کے اُن میں سے کِسی کی مانِند مُلبّس نہ تھاO {12:28} پس جب خُدا مَیدان کی گھاس کو جو آج ہے اور کل تنُور میں جَھونکی جائے گی اَیسی پوشاک پہناتا ہے تو اَے کم اِعتقادو تُم کو کیوں نہ پہنائے گا؟O {12:29} اور تُم اِس کی تلاش میں نہ رہو کہ کیا کھائیں گے اور کیا پِئیں گے اور نہ شکّی بنوO {12:30} کیونکہ اِن سب چِیزوں کی تلاش میں دُنیا کی قَومیں رہتی ہیں لیکن تُمہارا باپ جانتا ہے کہ تُم اِن چِیزوں کے مُحتاج ہوO {12:31} ہاں اُس کی بادشاہی کی تلاش میں رہو تو یہ چِیزیں بھی تُمہیں مِل جائیں گیO {i12:32} آسمان پر خزانہ (متّی ۶‏:۱۹‏-۲۱) {12:32} اَے چھوٹے گلّے نہ ڈر کیونکہ تُمہارے باپ کو پسند آیا کہ تُمہیں بادشاہی دےO {12:33} اپنا مال اسباب بیچ کر خَیرات کر دو اَور اپنے لِئے اَیسے بٹوے بناؤ جو پُرانے نہیں ہوتے یعنی آسمان پر اَیسا خزانہ جو خالی نہیں ہوتا O جہاں چور نزدِیک نہیں جاتا اَور کِیڑا خراب نہیں کرتاO {12:34} کیونکہ جہاں تُمہارا خزانہ ہے وہِیں تُمہارا دِل بھی لگا رہے گاO {i12:35} چَوکس نَوکر {12:35} تُمہاری کمریں بندھی رہیں اور تُمہارے چراغ جلتے رہیںO {12:36} اور تُم اُن آدمِیوں کی مانِند بنو جو اپنے مالِک کی راہ دیکھتے ہوں کہ وہ شادی میں سے کب لَوٹے گا تاکہ جب وہ آ کر دروازہ کھٹکھٹائے تو فوراً اُس کے واسطے کھول دیںO {12:37} مُبارک ہیں وہ نَوکر جِن کا مالِک آ کر اُنہیں جاگتا پائے O مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ کمر باندھ کر اُنہیں کھانا کھانے کو بِٹھائے گا اور پاس آ کر اُن کی خِدمت کرے گاO {12:38} اور اگر وہ رات کے دُوسرے پہر میں یا تِیسرے پہر میں آ کر اُن کو اَیسے حال میں پائے تو وہ نَوکر مُبارک ہیںO {12:39} لیکن یہ جان رکھّو کہ اگر گھر کے مالِک کو معلُوم ہوتا کہ چور کِس گھڑی آئے گا تو جاگتا رہتا اور اپنے گھر میں نقب لگنے نہ دیتاO {12:40} تُم بھی تیّار رہو کیونکہ جِس گھڑی تُمہیں گُمان بھی نہ ہو گا اِبنِ آدم آ جائے گاO {i12:41} دِیانت دار یا بددِیانت نوکر (متّی ۲۴‏:۴۵‏-۵۱) {12:41} پطر س نے کہا اَے خُداوند تُو یہ تمثِیل ہم ہی سے کہتا ہے یا سب سے؟O {12:42} خُداوند نے کہا کَون ہے وہ دِیانت دار اور عقل مند داروغہ جِس کا مالِک اُسے اپنے نَوکر چاکروں پر مُقرّر کرے کہ ہر ایک کی خُوراک وقت پر بانٹ دِیا کرے؟O {12:43} مُبارک ہے وہ نَوکر جِس کا مالِک آ کر اُس کو اَیسا ہی کرتے پائےO {12:44} مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ اُسے اپنے سارے مال پر مُختار کر دے گاO {12:45} لیکن اگر وہ نَوکر اپنے دِل میں یہ کہہ کر کہ میرے مالِک کے آنے میں دیر ہے غُلاموں اور لَونڈیوں کو مارنا اور کھا پی کر متوالا ہونا شرُوع کرےO {12:46} تو اُس نَوکر کا مالِک اَیسے دِن کہ وہ اُس کی راہ نہ دیکھتا ہو اور اَیسی گھڑی کہ وہ نہ جانتا ہو آ مَوجُود ہو گا اور خُوب کوڑے لگا کر اُسے بے اِیمانوں میں شامِل کرے گاO {12:47} اور وہ نَوکر جِس نے اپنے مالِک کی مرضی جان لی اور تیّاری نہ کی نہ اُس کی مرضی کے مُوافِق عمل کِیا بُہت مار کھائے گاO {12:48} مگر جِس نے نہ جان کر مار کھانے کے کام کِئے وہ تھوڑی مار کھائے گا اور جِسے بُہت دِیا گیا اُس سے بُہت طلب کِیا جائے گا اور جِسے بُہت سَونپا گیا ہے اُس سے زِیادہ طلب کریں گےO {i12:49} یِسُوع تفرقہ کا سبب (متّی ۱۰: ۳۴‏-۳۶) {12:49} مَیں زمِین پر آگ بھڑکانے آیا ہُوں اور اگر لگ چُکی ہوتی تو مَیں کیا ہی خُوش ہوتا! O {12:50} لیکن مُجھے ایک بپتِسمہ لینا ہے اور جب تک وہ نہ ہو لے مَیں بُہت ہی تنگ رہُوں گا! O {12:51} کیا تُم گُمان کرتے ہو کہ مَیں زمِین پر صُلح کرانے آیا ہُوں؟ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ نہیں بلکہ جُدائی کرانےO {12:52} کیونکہ اب سے ایک گھر کے پانچ آدمی آپس میں مُخالفت رکھّیں گے O دو سے تِین اور تِین سے دوO {12:53} باپ بیٹے سے مُخالفت رکھّے گا اور بیٹا باپ سے O ماں بیٹی سے اور بیٹی ماں سے O ساس بہُو سے اور بہُو ساس سےO {i12:54} زمانہ کو پہچا ننا (متّی ۱۶‏:۲‏-۳) {12:54} پِھر اُس نے لوگوں سے بھی کہا کہ جب بادِل کو پچّھم سے اُٹھتے دیکھتے ہو تو فوراً کہتے ہو کہ مِینہ برسے گا اور اَیسا ہی ہوتا ہےO {12:55} اور جب تُم معلُوم کرتے ہو کہ دَکھّنا چل رہی ہے تو کہتے ہو کہ لُو چلے گی اور اَیسا ہی ہوتا ہےO {12:56} اَے رِیاکارو زمِین اور آسمان کی صُورت میں تو اِمتِیاز کرنا تُمہیں آتا ہے لیکن اِس زمانہ کی بابت اِمتِیاز کرنا کیوں نہیں آتا؟O {i12:57} مُدّعی کے ساتھ مفاہمت (متّی ۵‏:۲۵‏-۲۶) {12:57} اور تُم اپنے آپ ہی کیوں فَیصلہ نہیں کر لیتے کہ واجِب کیا ہے؟O {12:58} جب تُو اپنے مُدّعی کے ساتھ حاکِم کے پاس جا رہا ہے تو راہ میں کوشِش کر کہ اُس سے چُھوٹ جائے O اَیسا نہ ہو کہ وہ تُجھ کو مُنصِف کے پاس کھینچ لے جائے اور مُنصِف تُجھ کو سِپاہی کے حوالہ کرے اور سِپاہی تُجھے قَید میں ڈالےO {12:59} مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں کہ جب تک تُو دمڑی دمڑی ادا نہ کر دے گا وہاں سے ہرگِز نہ چُھوٹے گاO {i13:1} اپنے گُناہ ترک کرو یا مَرو {13:1} اُس وقت بعض لوگ حاضِر تھے جِنہوں نے اُسے اُن گلِیلِیوں کی خبر دی جِن کا خُون پِیلا طُس نے اُن کے ذبِیحوں کے ساتھ مِلایا تھاO {13:2} اُس نے جواب میں اُن سے کہا کہ اِن گلِیلِیوں نے جو اَیسا دُکھ پایا کیا وہ اِس لِئے تُمہاری دانِست میں اَور سب گلِیلِیوں سے زِیادہ گُنہگار تھے؟O {13:3} مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ نہیں بلکہ اگر تُم تَوبہ نہ کرو گے تو سب اِسی طرح ہلاک ہو گےO {13:4} یا کیا وہ اٹھارہ آدمی جِن پر شیلو خ کا بُرج گِرا اور دب کر مَر گئے تُمہاری دانِست میں یروشلِیم کے اَور سب رہنے والوں سے زِیادہ قصُوروار تھے؟O {13:5} مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ نہیں بلکہ اگر تُم تَوبہ نہ کرو گے تو سب اِسی طرح ہلاک ہو گےO {i13:6} انجِیر کے بے پَھل درخت کی تمثِیل {13:6} پِھر اُس نے یہ تمثِیل کہی کہ کِسی نے اپنے تاکِستان میں ایک انجِیرکا درخت لگایاتھا O وہ اُس میں پَھل ڈُھونڈنے آیا اور نہ پایاO {13:7} اِس پر اُس نے باغبان سے کہا کہ دیکھ تِین برس سے مَیں اِس انجِیر کے درخت میں پَھل ڈُھونڈنے آتا ہُوں اور نہیں پاتا O اِسے کاٹ ڈال O یہ زمِین کو بھی کیوں روکے رہے؟O {13:8} اُس نے جواب میں اُس سے کہا اَے خُداوند اِس سال تو اَور بھی اُسے رہنے دے تاکہ مَیں اُس کے گِرد تھالا کھودُوں اور کھاد ڈالُوںO {13:9} اگر آگے کو پَھلا تو خَیر نہیں تو اُس کے بعد کاٹ ڈالناO {i13:10} یِسُوع سبت کے دِن ایک مفلُوج عَورت کو شِفا دیتا ہے {13:10} پِھر وہ سبت کے دِن کِسی عِبادت خانہ میں تعلِیم دیتا تھاO {13:11} اور دیکھو ایک عَورت تھی جِس کو اٹھارہ برس سے کِسی بدرُوح کے باعِث کمزوری تھی O وہ کُبڑی ہو گئی تھی اور کِسی طرح سِیدھی نہ ہو سکتی تھیO {13:12} یِسُو ع نے اُسے دیکھ کر پاس بُلایا اور اُس سے کہا اَے عَورت تُو اپنی کمزوری سے چُھوٹ گئیO {13:13} اور اُس نے اُس پر ہاتھ رکھّےO اُسی دَم وہ سِیدھی ہو گئی اور خُدا کی تمجِید کرنے لگیO {13:14} عِبادت خانہ کا سردار اِس لِئے کہ یِسُو ع نے سبت کے دِن شِفا بخشی خَفا ہو کر لوگوں سے کہنے لگا چھ دِن ہیں جِن میں کام کرنا چاہیے پس اُنہی میں آکر شِفا پاؤ نہ کہ سبت کے دِنO {13:15} خُداوند نے اُس کے جواب میں کہا کہ اَے رِیاکارو! کیا ہر ایک تُم میں سے سبت کے دِن اپنے بَیل یا گدھے کو تھان سے کھول کر پانی پِلانے نہیں لے جاتا؟O {13:16} پس کیا واجِب نہ تھا کہ یہ جو ابرہا م کی بیٹی ہے جِس کو شَیطان نے اٹھارہ برس سے باندھ رکھّا تھا سبت کے دِن اِس بند سے چُھڑائی جاتی؟O {13:17} جب اُس نے یہ باتیں کہِیں تو اُس کے سب مُخالِف شرمِندہ ہُوئے اور ساری بِھیڑ اُن عالی شان کاموں سے جو اُس سے ہوتے تھے خُوش ہُوئیO {i13:18} رائی کے دانے (بیج)کی تمثِیل (متّی ۱۳‏:۳۱‏-۳۲؛ مرقس ۴‏:۳۰‏-۳۲) {13:18} پس وہ کہنے لگا خُدا کی بادشاہی کِس کی مانِند ہے؟ مَیں اُس کو کِس سے تشبِیہ دُوں؟O {13:19} وہ رائی کے دانے کی مانِند ہے جِس کو ایک آدمی نے لے کر اپنے باغ میں ڈال دِیا O وہ اُگ کر بڑا درخت ہو گیا اور ہوا کے پرِندوں نے اُس کی ڈالیوں پر بسیرا کِیاO {i13:20} خمِیرکی تمثِیل (متّی ۱۳: ۳۳) {13:20} اُس نے پِھر کہا مَیں خُدا کی بادشاہی کو کِس سے تشبِیہ دُوں؟O {13:21} وہ خمِیر کی مانِند ہے جِسے ایک عَورت نے لے کر تِین پَیمانہ آٹے میں مِلایا اور ہوتے ہوتے سب خمِیر ہو گیاO {i13:22} تنگ دروازہ (متّی ۷: ۱۳‏-۱۴، ۲۱‏-۲۳) {13:22} وہ شہر شہر اور گاؤں گاؤں تعلِیم دیتا ہُؤا یروشلِیم کا سفر کر رہا تھاO {13:23} اور کِسی شخص نے اُس سے پُوچھا کہ اَے خُداوند! کیا نجات پانے والے تھوڑے ہیں؟O {13:24} اُس نے اُن سے کہا جاںفشانی کرو کہ تنگ دروازہ سے داخِل ہو کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ بُہتیرے داخِل ہونے کی کوشِش کریں گے اور نہ ہو سکیں گےO {13:25} جب گھر کا مالِک اُٹھ کر دروازہ بند کر چُکا ہو اور تُم باہر کھڑے دروازہ کھٹکھٹا کر یہ کہنا شرُوع کرو کہ اَے خُداوند! ہمارے لِئے کھول دے اور وہ جواب دے کہ مَیں تُم کو نہیں جانتا کہ کہاں کے ہوO {13:26} اُس وقت تُم کہنا شرُوع کرو گے کہ ہم نے تو تیرے رُوبرُو کھایا پِیا اور تُو نے ہمارے بازاروں میں تعلِیم دیO {13:27} مگروہ کہے گا مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ مَیں نہیں جانتا تُم کہاں کے ہو O اَ ے بدکارو! تُم سب مُجھ سے دُور ہوO {13:28} وہاں رونا اور دانت پِیسنا ہو گا جب تُم ابرہا م اور اِضحا ق اور یعقُو ب اور سب نبِیوں کو خُدا کی بادشاہی میں شامِل اور اپنے آپ کو باہر نِکالا ہُؤا دیکھو گےO {13:29} اور پُورب پچّھم اُتّر دکھّن سے لوگ آ کر خُدا کی بادشاہی کی ضِیافت میں شرِیک ہوں گےO {13:30} اور دیکھو بعض آخِر اَیسے ہیں جو اوّل ہوں گے اور بعض اوّل ہیں جو آخِر ہوں گےO {i13:31} یروشلِیم کے لِئے یِسُوع کی مُحبّت (متّی ۲۳‏:۳۷‏-۳۹) {13:31} اُسی گھڑی بعض فریسیوں نے آ کر اُس سے کہا کہ نِکل کر یہاں سے چل دے کیونکہ ہیرود یس تُجھے قتل کرنا چاہتا ہےO {13:32} اُس نے اُن سے کہا کہ جا کر اُس لومڑی سے کہہ دو کہ دیکھ مَیں آج اور کل بدرُوحوں کو نِکالتا اور شِفا بخشنے کا کام انجام دیتا رہُوں گا اور تِیسرے دِن کمال کو پہنچوُں گاO {13:33} مگر مُجھے آج اور کل اور پرسوں اپنی راہ پر چلنا ضرُور ہے کیونکہ مُمکِن نہیں کہ نبی یروشلِیم سے باہر ہلاک ہوO {13:34} اَے یروشلِیم! اَے یروشلِیم! تُو جو نبِیوں کو قتل کرتی ہے اور جو تیرے پاس بھیجے گئے اُن کو سنگسار کرتی ہے کِتنی ہی بار مَیں نے چاہا کہ جِس طرح مُرغی اپنے بچّوں کو پروں تلے جمع کر لیتی ہے اُسی طرح مَیں بھی تیرے بچّوں کو جمع کر لُوں مگر تُم نے نہ چاہا! O {13:35} دیکھو تُمہارا گھر تُمہارے ہی لِئے چھوڑا جاتا ہے اور مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ مُجھ کو اُس وقت تک ہرگِز نہ دیکھو گے جب تک نہ کہو گے کہ مُبارک ہے وہ جو خُداوند کے نام سے آتا ہےO {i14:1} یِسُوع ایک بیمار آدمی کو شِفا دیتاہے {14:1} پِھر اَیسا ہُؤا کہ وہ سبت کے دِن فریسیوں کے سرداروں میں سے کِسی کے گھر کھانا کھانے کو گیا اور وہ اُس کی تاک میں رہےO {14:2} اور دیکھو ایک شخص اُس کے سامنے تھا جِسے جلندر تھاO {14:3} یِسُو ع نے شرع کے عالِموں اور فریسیوں سے کہا کہ سَبت کے دِن شِفا بخشنا رَوا ہے یا نہیں؟O {14:4} وہ چُپ رہ گئے O اُس نے اُسے ہاتھ لگا کر شِفا بخشی اور رُخصت کِیاO {14:5} اور اُن سے کہا تُم میں اَیسا کَون ہے جِس کا گدھا یا بَیل کنُوئیں میں گِر پڑے اور وہ سبت کے دِن اُس کو فوراً نہ نِکال لے؟O {14:6} وہ اِن باتوں کا جواب نہ دے سکےO {i14:7} فروتنی اور مہمان نوازی {14:7} جب اُس نے دیکھا کہ مِہمان صدر جگہ کِس طرح پسند کرتے ہیں تو اُن سے ایک تمثِیل کہی کہO {14:8} جب کوئی تُجھے شادی میں بُلائے تو صدر جگہ پر نہ بَیٹھ کہ شاید اُس نے کِسی تُجھ سے بھی زِیادہ عِزّت دار کو بُلایا ہوO {14:9} اور جِس نے تُجھے اور اُسے دونوں کو بُلایا ہے آ کر تُجھ سے کہے کہ اِس کو جگہ دے O پِھر تُجھے شرمِندہ ہو کر سب سے نِیچے بَیٹھنا پڑےO {14:10} بلکہ جب تُو بُلایا جائے تو سب سے نِیچی جگہ جا بَیٹھ تاکہ جب تیرا بُلانے والا آئے تو تُجھ سے کہے اَے دوست آگے بڑھ کر بَیٹھ! تب اُن سب کی نظر میں جو تیرے ساتھ کھانا کھانے بَیٹھے ہیں تیری عِزّت ہو گیO {14:11} کیونکہ جو کوئی اپنے آپ کو بڑا بنائے گا وہ چھوٹا کِیا جائے گا اور جو اپنے آپ کو چھوٹا بنائے گا وہ بڑا کِیا جائے گاO {14:12} پِھر اُس نے اپنے بُلانے والے سے بھی یہ کہا کہ جب تُو دِن کا یا رات کا کھانا تیّار کرے تو اپنے دوستوں یا بھائِیوں یا رِشتہ داروں یا دَولت مند پڑوسِیوں کو نہ بُلا تاکہ اَیسا نہ ہو کہ وہ بھی تُجھے بُلائیں اور تیرا بدلہ ہو جائےO {14:13} بلکہ جب تُو ضِیافت کرے تو غرِیبوں لُنجوں لنگڑوں اندھوں کو بُلاO {14:14} اور تُجھ پر برکت ہو گی کیونکہ اُن کے پاس تُجھے بدلہ دینے کو کُچھ نہیں اور تُجھے راست بازوں کی قِیامت میں بدلہ مِلے گاO {i14:15} بڑی ضِیافت کی تمثِیل (متّی ۲۲‏:۱‏-۱۰) {14:15} جو اُس کے ساتھ کھانا کھانے بَیٹھے تھے اُن میں سے ایک نے یہ باتیں سُن کر اُس سے کہا مُبارک ہے وہ جو خُدا کی بادشاہی میں کھانا کھائےO {14:16} اُس نے اُس سے کہا ایک شخص نے بڑی ضِیافت کی اور بُہت سے لوگوں کو بُلایاO {14:17} اور کھانے کے وقت اپنے نَوکر کو بھیجا کہ بُلائے ہُوؤں سے کہے آؤ O اب کھانا تیّار ہےO {14:18} اِس پر سب نے مِل کر عُذر کرنا شرُوع کِیا O پہلے نے اُس سے کہا مَیں نے کھیت خرِیدا ہے مُجھے ضرُور ہے کہ جا کر اُسے دیکُھوں O مَیں تیری مِنّت کرتا ہُوں مُجھے معذُور رکھO {14:19} دُوسرے نے کہا مَیں نے پانچ جوڑی بَیل خرِیدے ہیں اور اُنہیں آزمانے جاتا ہُوں O مَیں تیری مِنّت کرتا ہُوں مُجھے معذُوررکھO {14:20} ایک اَور نے کہا مَیں نے بیاہ کِیا ہے O اِس سبب سے نہیں آ سکتاO {14:21} پس اُس نَوکر نے آ کر اپنے مالِک کو اِن باتوں کی خبر دی O اِس پر گھر کے مالِک نے غُصّے ہو کر اپنے نَوکر سے کہا جلد شہر کے بازاروں اور کُوچوں میں جا کر غرِیبوں لُنجوں اندھوں اور لنگڑوں کو یہاں لے آO {14:22} نَوکر نے کہا اَے خُداوند! جَیسا تُو نے فرمایا تھا وَیسا ہی ہُؤا اور اب بھی جگہ ہےO {14:23} مالِک نے اُس نَوکر سے کہا کہ سڑکوں اور کھیت کی باڑوں کی طرف جا اور لوگوں کو مجبُور کر کے لا تاکہ میرا گھر بھر جائےO {14:24} کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ جو بُلائے گئے تھے اُن میں سے کوئی شخص میرا کھانا چکھنے نہ پائے گاO {i14:25} شاگِردیت کی قِیمت (متّی ۱۰‏:۳۷‏-۳۸) {14:25} جب بُہت سے لوگ اُس کے ساتھ جا رہے تھے تو اُس نے پِھر کر اُن سے کہاO {14:26} اگر کوئی میرے پاس آئے اور اپنے باپ اور ماں اور بِیوی اور بچّوں اور بھائِیوں اور بہنوں بلکہ اپنی جان سے بھی دُشمنی نہ کرے تو میرا شاگِرد نہیں ہو سکتاO {14:27} جو کوئی اپنی صلِیب اُٹھا کر میرے پِیچھے نہ آئے وہ میرا شاگِرد نہیں ہو سکتاO {14:28} کیونکہ تُم میں اَیسا کَون ہے کہ جب وہ ایک بُرج بنانا چاہے تو پہلے بَیٹھ کر لاگت کا حِساب نہ کر لے کہ آیا میرے پاس اُس کے تیّار کرنے کا سامان ہے یا نہیں؟O {14:29} اَیسا نہ ہو کہ جب نیو ڈال کر تیّار نہ کر سکے تو سب دیکھنے والے یہ کہہ کر اُس پر ہنسنا شرُوع کریں کہO {14:30} اِس شخص نے عِمارت شرُوع تو کی مگر تکمِیل نہ کر سکاO {14:31} یا کَون اَیسا بادشاہ ہے جو دُوسرے بادشاہ سے لڑنے جاتا ہو اور پہلے بَیٹھ کر مشورَہ نہ کر لے کہ آیا مَیں دس ہزار سے اُس کا مُقابلہ کر سکتا ہُوں یا نہیں جو بِیس ہزار لے کر مُجھ پر چڑھا آتا ہے؟O {14:32} نہیں تو جب وہ ہنُوز دُور ہی ہے ایلچی بھیج کر شرائطِ صُلح کی درخواست کرے گاO {14:33} پس اِسی طرح تُم میں سے جو کوئی اپنا سب کُچھ ترک نہ کرے وہ میرا شاگِرد نہیں ہو سکتاO {i14:34} ناکارہ نمک (متّی ۵‏:۱۳؛ مرقس ۹‏:۵۰) {14:34} نمک اچھّا تو ہے لیکن اگر نمک کا مزہ جاتا رہے تو وہ کِس چِیز سے مزہ دار کِیا جائے گا؟O {14:35} نہ وہ زمِین کے کام کا رہا نہ کھاد کے O لوگ اُسے باہر پھینک دیتے ہیں O جِس کے کان سُننے کے ہوں وہ سُن لےO {i15:1} کھوئی ہوئی بھیڑ (متّی ۱۸‏:۱۲‏-۱۴) {15:1} سب محصُول لینے والے اور گُنہگار اُس کے پاس آتے تھے تاکہ اُس کی باتیں سُنیںO {15:2} اور فریسی اور فقِیہہ بُڑبُڑا کر کہنے لگے کہ یہ آدمی گُنہگاروں سے مِلتا اور اُن کے ساتھ کھانا کھاتا ہےO {15:3} اُس نے اُن سے یہ تمثِیل کہی کہO {15:4} تُم میں کَون اَیسا آدمی ہے جِس کے پاس سَو بھیڑیں ہوں اور اُن میں سے ایک کھو جائے تو نِنانوے کو بیابان میں چھوڑ کر اُس کھوئی ہُوئی کو جب تک مِل نہ جائے ڈُھونڈتا نہ رہے؟O {15:5} پِھر جب مِل جاتی ہے تو وہ خُوش ہو کر اُسے کندھے پر اُٹھا لیتا ہےO {15:6} اور گھر پہنچ کر دوستوں اور پڑوسِیوں کو بُلاتا اورکہتا ہے میرے ساتھ خُوشی کرو کیونکہ میری کھوئی ہُوئی بھیڑ مِل گئیO {15:7} مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اِسی طرح نِنانوے راست بازوں کی نِسبت جو تَوبہ کی حاجت نہیں رکھتے ایک تَوبہ کرنے والے گُنہگارکے باعِث آسمان پر زِیادہ خُوشی ہو گیO {i15:8} گُم شُدہ سکّہ {15:8} یا کَون اَیسی عَورت ہے جِس کے پاس دس دِرہم ہوں اور ایک کھو جائے تو وہ چراغ جلا کر گھر میں جھاڑُو نہ دے اور جب تک مِل نہ جائے کوشِش سے ڈُھونڈتی نہ رہے؟O {15:9} اور جب مِل جائے تو اپنی دوستوں اور پڑوسنوں کو بُلا کر نہ کہے کہ میرے ساتھ خُوشی کرو کیونکہ میرا کھویا ہُؤا دِرہم مِل گیاO {15:10} مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اِسی طرح ایک تَوبہ کرنے والے گُنہگار کے باعِث خُدا کے فرِشتوں کے سامنے خُوشی ہوتی ہےO {i15:11} کھویا ہُؤابیٹا {15:11} پِھراُس نے کہا کہ کِسی شخص کے دو بیٹے تھےO {15:12} اُن میں سے چھوٹے نے باپ سے کہا اَے باپ! مال کا جو حِصّہ مُجھ کو پہنچتا ہے مُجھے دے دے O اُس نے اپنا مال متاع اُنہیں بانٹ دِیاO {15:13} اور بُہت دِن نہ گُذرے کہ چھوٹا بیٹا اپنا سب کُچھ جمع کر کے دُور دراز مُلک کو روانہ ہُؤا اور وہاں اپنامال بدچلنی میں اُڑا دِیاO {15:14} اور جب سب خرچ کر چُکا تو اُس مُلک میں سخت کال پڑا اور وہ مُحتاج ہونے لگاO {15:15} پِھر اُس مُلک کے ایک باشِندہ کے ہاں جا پڑا O اُس نے اُس کو اپنے کھیتوں میں سُؤر چرانے بھیجاO {15:16} اور اُسے آرزُو تھی کہ جو پَھلِیاں سُؤر کھاتے تھے اُنہی سے اپنا پیٹ بھرے مگر کوئی اُسے نہ دیتا تھاO {15:17} پِھراُس نے ہوش میں آ کر کہا میرے باپ کے بُہت سے مزدُوروں کو اِفراط سے روٹی مِلتی ہے اور مَیں یہاں بُھوکا مَر رہا ہُوں! O {15:18} مَیں اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس جاؤں گا اور اُس سے کہُوں گا اَے باپ! مَیں آسمان کا اور تیری نظر میں گُنہگار ہُؤاO {15:19} اب اِس لائِق نہیں رہا کہ پِھر تیرا بیٹا کہلاؤُں O مُجھے اپنے مزدُوروں جَیسا کر لےO {15:20} پس وہ اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس چلا O وہ ابھی دُور ہی تھا کہ اُسے دیکھ کر اُس کے باپ کو ترس آیا اور دَوڑ کر اُس کو گلے لگا لِیا اور چُوماO {15:21} بیٹے نے اُس سے کہا اَے باپ! مَیں آسمان کا اور تیری نظر میں گُنہگار ہُؤا O اَب اِس لائِق نہیں رہا کہ پِھر تیرا بیٹا کہلاؤُںO {15:22} باپ نے اپنے نَوکروں سے کہا اچھّے سے اچّھا لِباس جلد نِکال کر اُسے پہناؤ اور اُس کے ہاتھ میں انگُوٹھی اور پاؤں میں جُوتی پہناؤO {15:23} اور پَلے ہُوئے بچھڑے کو لا کر ذبح کرو تاکہ ہم کھا کر خُوشی منائیںO {15:24} کیونکہ میرا یہ بیٹا مُردہ تھا O اب زِندہ ہُؤا O کھو گیا تھا O اب مِلا ہے O پس وہ خُوشی منانے لگےO {15:25} لیکن اُس کا بڑا بیٹا کھیت میں تھا O جب وہ آ کر گھر کے نزدِیک پہنچا تو گانے بجانے اور ناچنے کی آواز سُنیO {15:26} اور ایک نَوکر کو بُلا کر دریافت کرنے لگا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟O {15:27} اُس نے اُس سے کہا تیرا بھائی آ گیا ہے اور تیرے باپ نے پَلاہُؤا بچھڑا ذبح کرایا ہے کیونکہ اُسے بھلا چنگا پایاO {15:28} وہ غُصّے ہُؤا اور اندر جانا نہ چاہا مگر اُس کا باپ باہر جا کر اُسے منانے لگاO {15:29} اُس نے اپنے باپ سے جواب میں کہا دیکھ اِتنے برسوں سے مَیں تیری خِدمت کرتا ہُوں اور کبھی تیری حُکم عدُولی نہیں کی مگر مُجھے تُو نے کبھی ایک بکری کا بچّہ بھی نہ دِیا کہ اپنے دوستوں کے ساتھ خُوشی مناتاO {15:30} لیکن جب تیرا یہ بیٹا آیا جِس نے تیرا مال متاع کسبِیوں میں اُڑا دِیا تو اُس کے لِئے تُو نے پَلا ہُؤا بچھڑا ذبح کرایاO {15:31} اُس نے اُس سے کہا بیٹا! تُو تو ہمیشہ میرے پاس ہے اور جو کُچھ میرا ہے وہ تیرا ہی ہےO {15:32} لیکن خُوشی منانا اور شادمان ہونا مُناسِب تھا کیونکہ تیرا یہ بھائی مُردہ تھا O اب زِندہ ہُؤا کھویا ہُؤا تھا O اب مِلا ہےO {i16:1} مُعاملہ شناس مُنتظم {16:1} پِھر اُس نے شاگِردوں سے بھی کہا کہ کِسی دَو لت مند کا ایک مُختار تھا O اُس کی لوگوں نے اُس سے شِکایت کی کہ یہ تیرا مال اُڑاتا ہےO {16:2} پس اُس نے اُس کو بُلا کر کہا کہ یہ کیا ہے جو مَیں تیرے حق میں سُنتا ہُوں؟ اپنی مُختاری کا حِساب دے کیونکہ آگے کو تُو مُختار نہیں رہ سکتاO {16:3} اُس مُختار نے اپنے جی میں کہا کہ کیا کرُوں؟ کیونکہ میرا مالِک مُجھ سے مُختاری چِھینے لیتا ہے O مِٹّی تو مُجھ سے کھودی نہیں جاتی اور بِھیک مانگنے سے شرم آتی ہےO {16:4} مَیں سمجھ گیا کہ کیا کرُوں تاکہ جب مُختاری سے مَوقُوف ہو جاؤُں تو لوگ مُجھے اپنے گھروں میں جگہ دیںO {16:5} پس اُس نے اپنے مالِک کے ایک ایک قرض دار کو بُلا کر پہلے سے پُوچھاکہ تُجھ پر میرے مالِک کا کیا آتا ہے؟O {16:6} اُس نے کہا سَو من تیل O اُس نے اُس سے کہا اپنی دستاویز لے اور جلد بَیٹھ کر پچاس لِکھ دےO {16:7} پِھر دُوسرے سے کہا تُجھ پر کیا آتا ہے؟ اُس نے کہا سَو من گیہُوں O اُس نے اُس سے کہا اپنی دستاویز لے کر اسّی لِکھ دےO {16:8} اور مالِک نے بے اِیمان مُختار کی تعرِیف کی اِس لِئے کہ اُس نے ہوشیاری کی تھی کیونکہ اِس جہان کے فرزند اپنے ہم جِنسوں کے ساتھ مُعاملات میں نُورکے فرزندوں سے زِیادہ ہوشیار ہیںO {16:9} اور مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ ناراستی کی دَولت سے اپنے لِئے دوست پَیدا کرو تاکہ جب وہ جاتی رہے تو یہ تُم کو ہمیشہ کے مسکنوں میں جگہ دیںO {16:10} جو تھوڑے میں دِیانت دار ہے وہ بُہت میں بھی دِیانت دار ہے اور جو تھوڑے میں بددِیانت ہے وہ بُہت میں بھی بددِیانت ہےO {16:11} پس جب تُم ناراست دَولت میں دِیانت دار نہ ٹھہرے تو حقِیقی دَولت کَون تُمہارے سپُرد کرے گا؟O {16:12} اور اگر تُم بیگانہ مال میں دِیانت دار نہ ٹھہرے تو جو تُمہارا اپنا ہے اُسے کَون تُمہیں دے گا؟O {16:13} کوئی نَوکر دو مالِکوں کی خِدمت نہیں کر سکتا کیونکہ یا تو ایک سے عداوت رکھّے گا اور دُوسرے سے مُحبّت یا ایک سے مِلا رہے گا اور دُوسرے کو ناچِیز جانے گا O تُم خُدا اور دَولت دونوں کی خِدمت نہیں کر سکتےO {i16:14} یِسُوع کے چند مقُولے (متّی ۵‏:۳۱‏-۳۲؛ ۱۱‏:۱۲‏-۱۳؛ مرقس ۱۰‏:۱۱ -۱۲) {16:14} فریسی جو زر دوست تھے اِن سب باتوں کو سُن کر اُسے ٹھٹّھے میں اُڑانے لگےO {16:15} اُس نے اُن سے کہا کہ تُم وہ ہو کہ آدمِیوں کے سامنے اپنے آپ کو راست باز ٹھہراتے ہو لیکن خُدا تُمہارے دِلوں کو جانتا ہے کیونکہ جو چِیز آدمِیوں کی نظر میں عالی قدر ہے وہ خُدا کے نزدِیک مکرُوہ ہےO {16:16} شرِیعت اور انبِیا یُوحنّا تک رہے O اُس وقت سے خُدا کی بادشاہی کی خُوشخبری دی جاتی ہے اور ہر ایک زور مار کر اُس میں داخِل ہوتا ہےO {16:17} لیکن آسمان اور زمِین کا ٹل جانا شرِیعت کے ایک نُقطہ کے مِٹ جانے سے آسان ہےO {16:18} جو کوئی اپنی بِیوی کو چھوڑ کر دُوسری سے بیاہ کرے وہ زِنا کرتا ہے اور جو شخص شَوہر کی چھوڑی ہُوئی عَورت سے بیاہ کرے وہ بھی زِنا کرتا ہےO {i16:19} دَولت مند آدمی اور لعزر {16:19} ایک دَولت مند تھا جو ارغوانی اور مہِین کپڑے پہنتااور ہر روز خُوشی مناتا اور شان و شوکت سے رہتا تھاO {16:20} اور لعزر نام ایک غرِیب ناسُوروں سے بھرا ہُؤا اُس کے دروازہ پر ڈالا گیا تھاO {16:21} اُسے آرزُو تھی کہ دَولت مند کی میز سے گِرے ہُوئے ٹُکڑوں سے اپنا پیٹ بھرے بلکہ کُتّے بھی آ کر اُس کے ناسُور چاٹتے تھےO {16:22} اور اَیسا ہُؤا کہ وہ غرِیب مَرگیا اور فرِشتوں نے اُسے لے جا کر ابرہا م کی گود میں پُہنچا دِیا اور دَولت مند بھی مُؤا اور دفن ہُؤاO {16:23} اُس نے عالَمِ اَرواح کے درمِیان عذاب میں مُبتلا ہو کر اپنی آنکھیں اُٹھائِیں اور ابرہا م کو دُور سے دیکھا اور اُس کی گود میں لعزر کوO {16:24} اور اُس نے پُکار کر کہا اَے باپ ابرہا م مُجھ پر رحم کر کے لعزر کو بھیج کہ اپنی اُنگلی کا سِرا پانی میں بِھگو کر میری زُبان تر کرے کیونکہ مَیں اِس آگ میں تڑپتا ہُوںO {16:25} ابرہا م نے کہا بیٹا! یاد کر کہ تُو اپنی زِندگی میں اپنی اچھّی چِیزیں لے چُکا اور اُسی طرح لعزر بُری چِیزیں لیکن اب وہ یہاں تسلّی پاتا ہے اور تُو تڑپتا ہےO {16:26} اور اِن سب باتوں کے سِوا ہمارے تُمہارے درمِیان ایک بڑا گڑھا واقِع ہے O اَیسا کہ جو یہاں سے تُمہاری طرف پار جانا چاہیں نہ جا سکیں اور نہ کوئی اُدھر سے ہماری طرف آ سکےO {16:27} اُس نے کہا پس اَے باپ! مَیں تیری مِنّت کرتا ہُوں کہ تُو اُسے میرے باپ کے گھر بھیجO {16:28} کیونکہ میرے پانچ بھائی ہیں تاکہ وہ اُن کے سامنے اِن باتوں کی گواہی دے O اَیسا نہ ہو کہ وہ بھی اِس عذاب کی جگہ میں آئیںO {16:29} ابرہا م نے اُس سے کہا اُن کے پاس مُوسیٰ اور انبِیا تو ہیں O اُن کی سُنیںO {16:30} اُس نے کہا نہیں اَے باپ ابرہا مO ہاں اگر کوئی مُردوں میں سے اُن کے پاس جائے تو وہ تَوبہ کریں گےO {16:31} اُس نے اُس سے کہا کہ جب وہ مُوسیٰ اور نبِیوں ہی کی نہیں سُنتے تو اگر مُردوں میں سے کوئی جی اُٹھے تو اُس کی بھی نہ مانیں گےO گُناہ (متّی ۱۸‏: ۶‏-۷، ۲۱‏-۲۲؛ مرقس ۹‏: ۴۲) {17:1} پِھر اُس نے اپنے شاگِردوں سے کہا یہ نہیں ہو سکتا کہ ٹھوکریں نہ لگیں لیکن اُس پر افسوس ہے جِس کے باعِث سے لگیں! O {17:2} اِن چھوٹوں میں سے ایک کو ٹھوکر کِھلانے کی بہ نِسبت اُس شخص کے لِئے یہ بہتر ہوتا کہ چکّی کا پاٹ اُس کے گلے میں لٹکایا جاتا اور وہ سمُندر میں پھینکا جاتاO {17:3} خبردار رہو! اگر تیرا بھائی گُناہ کرے تو اُسے ملامت کر O اگر تَوبہ کرے تو اُسے مُعاف کرO {17:4} اور اگر وہ ایک دِن میں سات دفعہ تیرا گُناہ کرے اور ساتوں دفعہ تیرے پاس پِھر آ کر کہے کہ تَوبہ کرتا ہُوں تو اُسے مُعاف کرO {i17:5} اِیمان {17:5} اِس پر رسُولوں نے خُداوندسے کہا ہمارے اِیمان کو بڑھاO {17:6} خُداوند نے کہا کہ اگر تُم میں رائی کے دانے کے برابر بھی اِیمان ہوتا اور تُم اِس تُوت کے درخت سے کہتے کہ جڑ سے اُکھڑ کر سمُندر میں جا لگ تو تُمہاری مانتاO {i17:7} نَوکر کا فرض {17:7} مگر تُم میں سے اَیسا کَون ہے جِس کا نَوکر ہل جوتتا یا گلّہ بانی کرتا ہو اَور جب وہ کھیت سے آئے تو اُس سے کہے کہ جلد آ کر کھانا کھانے بَیٹھ؟O {17:8} اور یہ نہ کہے کہ میرا کھانا تیّار کر اور جب تک مَیں کھاؤُں پِیُوں کمر باندھ کر میری خِدمت کر O اُس کے بعد تُو خُود کھا پی لینا؟O {17:9} کیا وہ اِس لِئے اُس نَوکر کا اِحسان مانے گا کہ اُس نے اُن باتوں کی جِن کا حُکم ہُؤا تعمِیل کی؟O {17:10} اِسی طرح تُم بھی جب اُن سب باتوں کی جِن کا تُمہیں حُکم ہُؤا تعمِیل کر چُکو تو کہو کہ ہم نِکمّے نَوکر ہیں O جو ہم پر کرنا فرض تھا وُہی کِیا ہےO یِسُوع دَس آدمِیوں کو شِفا دیتاہے {17:11} اور اَیسا ہُؤا کہ یروشلِیم کو جاتے ہُوئے وہ سامر یہ اور گلِیل کے بِیچ سے ہو کر جا رہا تھاO {17:12} اور ایک گاؤں میں داخِل ہوتے وقت دس کوڑھی اُس کو مِلےO {17:13} اُنہوں نے دُور کھڑے ہو کر بُلند آواز سے کہا اَے یِسُو ع! اَے صاحِب! ہم پر رحم کرO {17:14} اُس نے اُنہیں دیکھ کر کہا جاؤ O اپنے تئِیں کاہِنوں کو دِکھاؤ اور اَیسا ہُؤا کہ وہ جاتے جاتے پاک صاف ہو گئےO {17:15} پِھر اُن میں سے ایک یہ دیکھ کر کہ مَیں شِفا پا گیا بُلند آواز سے خُدا کی تمجِید کرتا ہُؤا لَوٹاO {17:16} اور مُنہ کے بَل یِسُو ع کے پاؤں پر گِر کر اُس کاشُکر کرنے لگا اور وہ سامری تھاO {17:17} یِسُو ع نے جواب میں کہا کیا دَسوں پاک صاف نہ ہُوئے؟ پِھر وہ نَو کہاں ہیں؟O {17:18} کیا اِس پردیسی کے سِوا اَور نہ نِکلے جو لَوٹ کر خُدا کی تمجِید کرتے؟O {17:19} پِھر اُس سے کہا اُٹھ کر چلا جا O تیرے اِیمان نے تُجھے اچھّا کِیا ہےO {i17:20} خُدا کی بادشاہی کی آمد (متّی۲۴‏:۲۳‏-۲۸، ۳۷‏-۴۱) {17:20} جب فریسیوں نے اُس سے پُوچھا کہ خُدا کی بادشاہی کب آئے گی؟ تو اُس نے جواب میں اُن سے کہا کہ خُدا کی بادشاہی ظاہِری طَور پر نہ آئے گیO {17:21} اور لوگ یہ نہ کہیں گے کہ دیکھو یہاں ہے یا وہاں ہے! کیونکہ دیکھو خُدا کی بادشاہی تُمہارے درمِیان ہےO {17:22} اُس نے شاگِردوں سے کہا وہ دِن آئیں گے کہ تُم کواِبنِ آدم کے دِنوں میں سے ایک دِن کو دیکھنے کی آرزُو ہو گی اور نہ دیکھو گےO {17:23} اور لوگ تُم سے کہیں گے کہ دیکھو وہاں ہے! یا دیکھو یہاں ہے! مگر تُم چلے نہ جانا نہ اُن کے پِیچھے ہو لیناO {17:24} کیونکہ جَیسے بِجلی آسمان کی ایک طرف سے کَوند کر دُوسری طرف چمکتی ہے وَیسے ہی اِبنِ آدم اپنے دِن میں ظاہِر ہو گاO {17:25} لیکن پہلے ضرُور ہے کہ وہ بُہت دُکھ اُٹھائے اور اِس زمانہ کے لوگ اُسے رَدّ کریںO {17:26} اور جَیسا نُوح کے دِنوں میں ہُؤا تھا اُسی طرح اِبنِ آدم کے دِنوں میں بھی ہو گاO {17:27} کہ لوگ کھاتے پِیتے تھے اور اُن میں بیاہ شادی ہوتی تھی O اُس دِن تک جب نُوح کشتی میں داخِل ہُؤا اور طُوفان نے آ کر سب کو ہلاک کِیاO {17:28} اور جَیسا لُوط کے دِنوں میں ہُؤا تھا کہ لوگ کھاتے پِیتے اور خرِید و فروخت کرتے اور درخت لگاتے اور گھر بناتے تھےO {17:29} لیکن جِس دِن لُوط سدُوم سے نِکلا آگ اور گندھک نے آسمان سے بَرس کر سب کو ہلاک کِیاO {17:30} اِبنِ آدم کے ظاہِر ہونے کے دِن بھی اَیسا ہی ہو گاO {17:31} اُس دِن جو کوٹھے پر ہو اَور اُس کا اسباب گھر میں ہو وہ اُسے لینے کو نہ اُترے اور اِسی طرح جو کھیت میں ہو وہ پِیچھے کو نہ لَوٹےO {17:32} لُوط کی بِیوی کو یاد رکھّوO {17:33} جو کوئی اپنی جان بچانے کی کوشِش کرے وہ اُسے کھوئے گااور جو کوئی اُسے کھوئے وہ اُس کو زِندہ رکھّے گاO {17:34} مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اُس رات دو آدمی ایک چارپائی پر سوتے ہوں گےO ایک لے لِیا جائے گا اور دُوسرا چھوڑ دِیا جائے گاO {17:35} دو عَورتیں ایک ساتھ چکّی پِیستی ہوں گی O ایک لے لی جائے گی اور دُوسری چھوڑ دی جائے گیO {17:36} ]دو آدمی جو کھیت میں ہوں گے ایک لے لِیا جائے گا اور دُوسرا چھوڑ دِیا جائے گا[O {17:37} اُنہوں نے جواب میں اُس سے کہا کہ اَے خُداوند! یہ کہاں ہو گا؟ اُس نے اُن سے کہا جہاں مُردار ہے وہاں گِدھ بھی جمع ہوں گےO {i18:1} بیوہ اور قاضی کی تمثِیل {18:1} پِھر اُس نے اِس غرض سے کہ ہر وقت دُعا کرتے رہنا اور ہِمّت نہ ہارنا چاہیے اُن سے یہ تمثِیل کہی کہO {18:2} کِسی شہر میں ایک قاضی تھا O نہ وہ خُدا سے ڈرتا نہ آدمی کی کُچھ پروا کرتا تھاO {18:3} اور اُسی شہر میں ایک بیوہ تھی جو اُس کے پاس آ کر یہ کہا کرتی تھی کہ میرا اِنصاف کر کے مُجھے مُدّعی سے بچاO {18:4} اُس نے کُچھ عرصہ تک تو نہ چاہا لیکن آخِر اُس نے اپنے جی میں کہا کہ گو مَیں نہ خُدا سے ڈرتا اور نہ آدمِیوں کی کُچھ پروا کرتا ہُوںO {18:5} تَو بھی اِس لِئے کہ یہ بیوہ مُجھے ستاتی ہے مَیں اِس کااِنصاف کرُوں گا O اَیسا نہ ہو کہ یہ بار بار آ کر آخِر کو میرا ناک میں دَم کرےO {18:6} خُداوند نے کہا سُنو! یہ بے اِنصاف قاضی کیا کہتا ہےO {18:7} پس کیا خُدا اپنے برگُزِیدوں کا اِنصاف نہ کرے گا جو رات دِن اُس سے فریاد کرتے ہیں؟ اور کیا وہ اُن کے بارے میں دیر کرے گا؟O {18:8} مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ وہ جلد اُن کا اِنصاف کرے گاO تَو بھی جب اِبنِ آدم آئے گا تو کیا زمِین پر اِیمان پائے گا؟O {i18:9} فریسی اور محصُول لینے والے کی تمثِیل {18:9} پِھر اُس نے بعض لوگوں سے جو اپنے پر بھروسا رکھتے تھے کہ ہم راستباز ہیں اور باقی آدمِیوں کو ناچِیز جانتے تھے یہ تمثِیل کہیO {18:10} کہ دو شخص ہَیکل میں دُعا کرنے گئے O ایک فریسی O دُوسرا محصُول لینے والاO {18:11} فریسی کھڑا ہو کر اپنے جی میں یُوں دُعا کرنے لگا کہ اَے خُدا! مَیں تیرا شُکر کرتا ہُوں کہ باقی آدمِیوں کی طرح ظالِم بے اِنصاف زِناکار یا اِس محصُول لینے والے کی مانِند نہیں ہُوںO {18:12} مَیں ہفتہ میں دو بار روزہ رکھتا اور اپنی ساری آمدنی پر دَہ یکی دیتا ہُوںO {18:13} لیکن محصُول لینے والے نے دُور کھڑے ہو کر اِتنا بھی نہ چاہا کہ آسمان کی طرف آنکھ اُٹھائے بلکہ چھاتی پِیٹ پِیٹ کر کہا اَے خُدا! مُجھ گُنہگارپر رحم کرO {18:14} مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ یہ شخص دُوسرے کی نِسبت راست باز ٹھہر کر اپنے گھر گیا کیونکہ جو کوئی اپنے آپ کو بڑا بنائے گا وہ چھوٹا کِیا جائے گا اور جو اپنے آپ کو چھوٹا بنائے گا وہ بڑا کِیا جائے گاO {i18:15} یِسُوع چھوٹے بچّوں کو برکت دیتا ہے (متّی ۱۹‏:۱۳‏-۱۵؛ مرقس ۱۰‏:۱۳‏-۱۶) {18:15} پِھر لوگ اپنے چھوٹے بچّوں کو بھی اُس کے پاس لانے لگے تاکہ وہ اُن کو چُھوئے اور شاگِردوں نے دیکھ کر اُن کو جِھڑکاO {18:16} مگر یِسُو ع نے بچّوں کو اپنے پاس بُلایا اور کہا کہ بچّوں کو میرے پاس آنے دو اور اُنہیں منع نہ کرو کیونکہ خُدا کی بادشاہی اَیسوں ہی کی ہےO {18:17} مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو کوئی خُدا کی بادشاہی کو بچّے کی طرح قبُول نہ کرے وہ اُس میں ہرگِز داخِل نہ ہو گاO {i18:18} ایک دَولتمند آدمی (متّی ۱۹‏:۱۶‏-۳۰؛ مرقس ۱۰‏:۱۷‏-۳۱) {18:18} پِھر کِسی سردار نے اُس سے یہ سوال کِیا کہ اَے نیک اُستاد! مَیں کیا کرُوں تاکہ ہمیشہ کی زِندگی کا وارِث بنُوں؟O {18:19} یِسُو ع نے اُس سے کہا تُو مُجھے کیوں نیک کہتا ہے؟ کوئی نیک نہیں مگر ایک یعنی خُداO {18:20} تُو حُکموں کو تو جانتا ہے O زِنا نہ کر O خُون نہ کر O چوری نہ کر O جُھوٹی گواہی نہ دے O اپنے باپ کی اور ماں کی عِزّت کرO {18:21} اُس نے کہا مَیں نے لڑکپن سے اِن سب پر عمل کِیا ہےO {18:22} یِسُو ع نے یہ سُن کر اُس سے کہا ابھی تک تُجھ میں ایک بات کی کمی ہے O اپنا سب کُچھ بیچ کر غرِیبوں کو بانٹ دے O تُجھے آسمان پر خزانہ مِلے گا اور آ کر میرے پِیچھے ہو لےO {18:23} یہ سُن کر وہ بُہت غمگِین ہُؤا کیونکہ بڑا دَولت مند تھاO {18:24} یِسُو ع نے اُس کو دیکھ کر کہا کہ دَولت مندوں کا خُدا کی بادشاہی میں داخِل ہونا کَیسا مُشکل ہے! O {18:25} کیونکہ اُونٹ کا سُوئی کے ناکے میں سے نِکل جانا اِس سے آسان ہے کہ دَولت مند خُدا کی بادشاہی میں داخِل ہوO {18:26} سُننے والوں نے کہا تو پِھر کَون نجات پا سکتا ہے؟O {18:27} اُس نے کہا جو اِنسان سے نہیں ہو سکتا وہ خُدا سے ہو سکتا ہےO {18:28} پطر س نے کہا دیکھ ہم تو اپنا گھر بار چھوڑ کر تیرے پِیچھے ہو لِئے ہیںO {18:29} اُس نے اُن سے کہا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ اَیسا کوئی نہیں جِس نے گھر یا بِیوی یا بھائِیوں یا ماں باپ یا بچّوں کو خُدا کی بادشاہی کی خاطِر چھوڑ دِیا ہوO {18:30} اور اِس زمانہ میں کئی گُنا زِیادہ نہ پائے اور آنے والے عالَم میں ہمیشہ کی زِندگیO {i18:31} یِسُوع تِیسری بار اپنی مَوت کا ذکر کرتاہے (متّی ۲۰: ۱۷‏-۱۹؛ مرقس ۱۰‏:۳۲‏-۳۴) {18:31} پِھر اُس نے اُن بارہ کو ساتھ لے کر اُن سے کہا کہ دیکھو ہم یروشلِیم کو جاتے ہیں اور جِتنی باتیں نبِیوں کی معرفت لِکھی گئی ہیں اِبنِ آدم کے حق میں پُوری ہوں گیO {18:32} کیونکہ وہ غیر قَوم والوں کے حوالہ کِیا جائے گااور لوگ اُس کو ٹھٹّھوں میں اُڑائیں گے اور بے عِزّت کریں گے اور اُس پر تُھوکیں گےO {18:33} اور اُس کو کوڑے ماریں گے اور قتل کریں گے اور وہ تِیسرے دِن جی اُٹھے گاO {18:34} لیکن اُنہوں نے اِن میں سے کوئی بات نہ سمجھی اور یہ قَول اُن پر پوشِیدہ رہا اور اِن باتوں کا مطلب اُن کی سمجھ میں نہ آیاO {i18:35} یِسُوع ایک اندھے بھکاری کو شِفا دیتا ہے (۲۰‏:۲۹‏-۳۴؛ مرقس ۱۰‏:۴۶‏-۵۲) {18:35} جب وہ چلتے چلتے یریحُو کے نزدِیک پہنچا تو اَیسا ہُؤا کہ ایک اندھا راہ کے کنارے بَیٹھا ہُؤا بِھیک مانگ رہا تھاO {18:36} وہ بِھیڑ کے جانے کی آواز سُن کر پُوچھنے لگا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟O {18:37} اُنہوں نے اُسے خبر دی کہ یِسُو ع ناصری جا رہا ہےO {18:38} اُس نے چِلاّ کر کہا اَے یِسُو ع اِبنِ داؤُد مُجھ پر رحم کرO {18:39} جو آگے جاتے تھے وہ اُس کو ڈانٹنے لگے کہ چُپ رہے مگر وہ اَور بھی چِلاّیا کہ اَے اِبنِ داؤُد مُجھ پر رحم کرO {18:40} یِسُو ع نے کھڑے ہو کر حُکم دِیا کہ اُس کو میرے پاس لاؤ O جب وہ نزدِیک آیا تو اُس نے اُس سے یہ پُوچھاO {18:41} تُو کیا چاہتا ہے کہ مَیں تیرے لِئے کرُوں؟ اُس نے کہا اَے خُداوند یہ کہ مَیں بِینا ہو جاؤںO {18:42} یِسُوع نے اُس سے کہا بِینا ہو جا O تیرے اِیمان نے تُجھے اچّھا کِیاO {18:43} وہ اُسی دَم بِینا ہو گیا اور خُدا کی تمجِید کرتا ہُؤا اُس کے پِیچھے ہو لِیا اور سب لوگوں نے دیکھ کر خُدا کی حَمد کیO {i19:1} یِسُوع اور زکّائی {19:1} وہ یریحُو میں داخِل ہو کر جا رہا تھاO {19:2} اور دیکھو زکّا ئی نام ایک آدمی تھا جو محصُول لینے والوں کا سردار اور دَولت مند تھاO {19:3} وہ یِسُو ع کو دیکھنے کی کوشِش کرتا تھا کہ کَون سا ہے لیکن بِھیڑ کے سبب سے دیکھ نہ سکتا تھا O اِس لِئے کہ اُس کا قَد چھوٹا تھاO {19:4} پس اُسے دیکھنے کے لِئے آگے دَوڑ کر ایک گُولر کے پیڑ پر چڑھ گیا کیونکہ وہ اُسی راہ سے جانے کو تھاO {19:5} جب یِسُو ع اُس جگہ پُہنچا تو اُوپر نِگاہ کر کے اُس سے کہا اَے زکّا ئی جلد اُتر آ کیونکہ آج مُجھے تیرے گھر رہنا ضرُور ہےO {19:6} وہ جلد اُتر کر اُس کو خُوشی سے اپنے گھر لے گیاO {19:7} جب لوگوں نے یہ دیکھا تو سب بُڑبُڑا کر کہنے لگے کہ وہ تو ایک گُنہگار شخص کے ہاں جا اُتراO {19:8} اور زکّا ئی نے کھڑے ہو کر خُداوند سے کہا اَے خُداوند دیکھ مَیں اپنا آدھا مال غرِیبوں کو دیتا ہُوں اور اگر کِسی کا کُچھ ناحق لے لِیا ہے تو اُس کو چَوگُنا ادا کرتا ہُوںO {19:9} یِسُو ع نے اُس سے کہا آج اِس گھر میں نجات آئی ہے O اِس لِئے کہ یہ بھی ابرہا م کا بیٹا ہےO {19:10} کیونکہ اِبنِ آدم کھوئے ہُوؤں کو ڈُھونڈنے اور نجات دینے آیا ہےO {i19:11} اَشرفِیوں کی تمثِیل ( متّی ۲۵‏:۱۴‏-۳۰) {19:11} جب وہ اِن باتوں کو سُن رہے تھے تو اُس نے ایک تمثِیل بھی کہی O اِس لِئے کہ یروشلِیم کے نزدِیک تھا اور وہ گُمان کرتے تھے کہ خُدا کی بادشاہی ابھی ظاہِر ہُؤا چاہتی ہےO {19:12} پس اُس نے کہا کہ ایک امِیر دُور دراز مُلک کو چلا تاکہ بادشاہی حاصِل کر کے پِھر آئےO {19:13} اُس نے اپنے نَوکروں میں سے دس کو بُلا کر اُنہیں دَس اشرفیاں دِیں اور اُن سے کہا کہ میرے واپس آنے تک لین دین کرناO {19:14} لیکن اُس کے شہر کے آدمی اُس سے عداوت رکھتے تھے اور اُس کے پِیچھے ایلچِیوں کی زُبانی کہلا بھیجا کہ ہم نہیں چاہتے کہ یہ ہم پر بادشاہی کرےO {19:15} جب وہ بادشاہی حاصِل کر کے پِھر آیا تو اَیسا ہُؤا کہ اُن نَوکروں کو بُلا بھیجا جِن کو روپیہ دِیا تھا O تاکہ معلُوم کرے کہ اُنہوں نے لین دین سے کیا کیا کمایاO {19:16} پہلے نے حاضِر ہو کر کہا اَے خُداوندتیری اشرفی سے دس اشرفیاں پَیدا ہُوئِیںO {19:17} اُس نے اُس سے کہا اَے اچھّے نَوکر شاباش! اِس لِئے کہ تُو نِہایت تھوڑے میں دِیانت دار نِکلا اب تو دَس شہروں پر اِختیار رکھO {19:18} دُوسرے نے آ کر کہا اَے خُداوند تیری اشرفی سے پانچ اشرفیاں پَیدا ہُوئِیںO {19:19} اُس نے اُس سے بھی کہا کہ تُو بھی پانچ شہروں کا حاکِم ہوO {19:20} تِیسرے نے آ کر کہا اَے خُداوند دیکھ تیری اشرفی یہ ہے جِس کو مَیں نے رُومال میں باندھ رکھّاO {19:21} کیونکہ مَیں تُجھ سے ڈرتا تھا O اِس لِئے کہ تُو سخت آدمی ہے O جو تُو نے نہیں رکھّااُسے اُٹھا لیتا ہے اور جو تُو نے نہیں بویا اُسے کاٹتا ہےO {19:22} اُس نے اُس سے کہا اَے شرِیر نَوکر مَیں تُجھ کو تیرے ہی مُنہ سے مُلزم ٹھہراتا ہُوں O تُو مُجھے جانتا تھاکہ سخت آدمی ہُوں اور جو مَیں نے نہیں رکھّااُسے اُٹھا لیتا اور جو نہیں بویا اُسے کاٹتا ہُوںO {19:23} پِھر تُو نے میرا روپیہ ساہُوکار کے ہاں کیوں نہ رکھ دِیا کہ مَیں آ کر اُسے سُود سمیت لے لیتا؟O {19:24} اور اُس نے اُن سے کہا جو پاس کھڑے تھے کہ وہ اشرفی اُس سے لے لو اور دَس اشرفی والے کو دے دوO {19:25} (اُنہوں نے اُس سے کہا اَے خُداوند اُس کے پاس دَس اشرفیاں تو ہیں)O {19:26} مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ جِس کے پاس ہے اُس کو دِیا جائے گا اور جِس کے پاس نہیں اُس سے وہ بھی لے لِیا جائے گا جو اُس کے پاس ہےO {19:27} مگر میرے اُن دُشمنوں کو جِنہوں نے نہ چاہا تھا کہ مَیں اُن پر بادشاہی کرُوں یہاں لا کر میرے سامنے قتل کروO {i19:28} یروشلِیم میں شاہانہ داخلہ (متّی ۲۱‏:۱‏-۱۱؛ مرقس ۱۱‏:۱‏-۱۱؛ یُوحنّا ۱۲: ۱۲‏-۱۹) {19:28} یہ باتیں کہہ کر وہ یروشلِیم کی طرف اُن کے آگے آگے چلاO {19:29} جب وہ اُس پہاڑ پر جو زَیتُو ن کا کہلاتا ہے بَیت فگے اور بَیت عَنِیا ہ کے نزدِیک پُہنچا تو اَیسا ہُؤا کہ اُس نے شاگِردوں میں سے دو کو یہ کہہ کر بھیجاO {19:30} کہ سامنے کے گاؤں میں جاؤ اور اُس میں داخِل ہوتے ہی ایک گدھی کا بچہّ بندھا ہُؤا مِلے گا جِس پر کبھی کوئی آدمی سوار نہیں ہُؤا O اُسے کھول لاؤO {19:31} اور اگر کوئی تُم سے پُوچھے کہ کیوں کھولتے ہو؟ تو یُوں کہہ دینا کہ خُداوند کو اِس کی ضرُورت ہےO {19:32} پس جو بھیجے گئے تھے اُنہوں نے جا کر جَیسا اُس نے اُن سے کہا تھا وَیسا ہی پایاO {19:33} جب گدھی کے بچّہ کو کھول رہے تھے تو اُس کے مالِکوں نے اُن سے کہا کہ اِس بچّہ کو کیوں کھولتے ہو؟O {19:34} اُنہوں نے کہا کہ خُداوندکو اِس کی ضرُورت ہےO {19:35} وہ اُس کو یِسُو ع کے پاس لے آئے اور اپنے کپڑے اُس بچّہ پر ڈال کر یِسُو ع کو سوار کِیاO {19:36} جب جا رہا تھا تو وہ اپنے کپڑے راہ میں بِچھاتے جاتے تھےO {19:37} اور جب وہ شہر کے نزدِیک زَیتُو ن کے پہاڑ کے اُتار پر پُہنچا تو شاگِردوں کی ساری جماعت اُن سب مُعجِزوں کے سبب سے جو اُنہوں نے دیکھے تھے خُوش ہو کر بُلند آواز سے خُدا کی حمد کرنے لگیO {19:38} کہ مُبارک ہے وہ بادشاہ جو خُداوند کے نام سے آتا ہے O آسمان پر صُلح اور عالَمِ بالا پر جلال! O {19:39} بِھیڑ میں سے بعض فریسیوں نے اُس سے کہا اَے اُستاد! اپنے شاگِردوں کو ڈانٹ دےO {19:40} اُس نے جواب میں کہا مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اگر یہ چُپ رہیں تو پتّھر چِلاّ اُٹھیں گےO {i19:41} یِسُوع یروشلِیم پر روتا ہے {19:41} جب نزدِیک آ کر شہر کو دیکھا تو اُس پر رویا اور کہاO {19:42} کاش کہ تُو اپنے اِسی دِن میں سلامتی کی باتیں جانتا! مگر اب وہ تیری آنکھوں سے چُھپ گئی ہیںO {19:43} کیونکہ وہ دِن تُجھ پر آئیں گے کہ تیرے دُشمن تیرے گِرد مورچہ باندھ کر تُجھے گھیر لیں گے اور ہر طرف سے تنگ کریں گےO {19:44} اور تُجھ کو اور تیرے بچّوں کو جو تُجھ میں ہیں زمِین پر دے پٹکیں گے اور تُجھ میں کِسی پتّھر پر پتّھر باقی نہ چھوڑیں گے اِس لِئے کہ تُو نے اُس وقت کو نہ پہچانا جب تُجھ پر نِگاہ کی گئیO {i19:45} یِسُوع ہَیکل میں جاتا ہے (متّی ۲۱: ۱۲‏-۱۷؛ مرقس۱۱‏:۱۵‏-۱۹؛ یُوحنّا ۲‏:۱۳‏-۲۲) {19:45} پِھر وہ ہَیکل میں جا کر بیچنے والوں کو نِکالنے لگاO {19:46} اور اُن سے کہا لِکھا ہے کہ میرا گھر دُعا کا گھر ہو گا مگر تُم نے اُس کو ڈاکُوؤں کی کھوہ بنا دِیاO {19:47} اور وہ ہر روز ہَیکل میں تعلِیم دیتا تھا مگر سردار کاہِن اور فقِیہہ اور قَوم کے رئِیس اُس کے ہلاک کرنے کی کوشِش میں تھےO {19:48} لیکن کوئی تدبِیر نہ نِکال سکے کہ یہ کِس طرح کریں کیونکہ سب لوگ بڑے شَوق سے اُس کی سُنتے تھےO {i20:1} یِسُوع کے اِختیار پر اِعتراض (متّی ۲۱: ۲۳‏-۲۷؛ مرقس ۱۱: ۲۷‏-۳۳) {20:1} اُن دِنوں میں ایک روز اَیسا ہُؤا کہ جب وہ ہَیکل میں لوگوں کو تعلِیم اور خُوشخبری دے رہا تھا تو سردار کاہِن اور فقِیہہ بزُرگوں کے ساتھ اُس کے پاس آ کھڑے ہُوئےO {20:2} اور کہنے لگے کہ ہمیں بتا O تُو اِن کاموں کو کِس اِختیار سے کرتا ہے یا کَون ہے جِس نے تُجھ کو یہ اِختیار دِیا ہے؟O {20:3} اُس نے جواب میں اُن سے کہا کہ مَیں بھی تُم سے ایک بات پُوچھتا ہُوں O مُجھے بتاؤO {20:4} ےُوحنّا کا بپتِسمہ آسمان کی طرف سے تھا یا اِنسان کی طرف سے؟O {20:5} اُنہوں نے آپس میں کہا کہ اگر ہم کہیں آسمان کی طرف سے تو وہ کہے گا تُم نے کیوں اُس کا یقِین نہ کِیا؟O {20:6} اور اگر کہیں کہ اِنسان کی طرف سے تو سب لوگ ہم کو سنگسار کریں گے کیونکہ اُنہیں یقِین ہے کہ ےُوحنّا نبی تھاO {20:7} پس اُنہوں نے جواب دِیا ہم نہیں جانتے کہ کِس کی طرف سے تھاO {20:8} یِسُوع نے اُن سے کہا مَیں بھی تُمہیں نہیں بتاتا کہ اِن کاموں کو کِس اِختیار سے کرتا ہُوںO {i20:9} تاکِستان کے ٹھکیداروں کی تمثِیل (متّی ۲۱: ۳۳ -۴۶؛ مرقس ۱۲: ۱‏-۱۲) {20:9} پِھر اُس نے لوگوں سے یہ تمثِیل کہنی شرُوع کی کہ ایک شخص نے تاکِستان لگا کر باغبانوں کو ٹھیکے پر دِیا اور ایک بڑی مُدّت کے لِئے پردیس چلا گیاO {20:10} اور پَھل کے مَوسم پر اُس نے ایک نَوکر باغبانوں کے پاس بھیجا تاکہ وہ تاکِستان کے پَھل کا حِصّہ اُسے دیں لیکن باغبانوں نے اُس کو پِیٹ کر خالی ہاتھ لَوٹا دِیاO {20:11} پِھر اُس نے ایک اَور نَوکر بھیجاO اُنہوں نے اُس کو بھی پِیٹ کر اور بے عِزّت کر کے خالی ہاتھ لَوٹا دِیاO {20:12} پِھر اُس نے تِیسرا بھیجا O اُنہوں نے اُس کو بھی زخمی کر کے نِکال دِیاO {20:13} اِس پر تاکِستان کے مالِک نے کہا کہ کیا کرُوں؟ مَیں اپنے پیارے بیٹے کو بھیجُوں گا O شاید اُس کا لِحاظ کریںO {20:14} جب باغبانوں نے اُسے دیکھا تو آپس میں صلاح کر کے کہا یِہی وارِث ہے O اِسے قتل کریں کہ مِیراث ہماری ہو جائےO {20:15} پس اُس کو تاکِستان سے باہر نِکال کر قتل کِیا O اب تاکِستان کا مالِک اُن کے ساتھ کیا کرے گا؟O {20:16} وہ آ کر اُن باغبانوں کو ہلاک کرے گا اور تاکِستان اَوروں کو دے دے گا اُنہوں نے یہ سُن کر کہا خُدا نہ کرےO {20:17} اُس نے اُن کی طرف دیکھ کر کہا O پِھر یہ کیا لِکھا ہے کہ جِس پتّھر کو مِعماروں نے رَدّ کِیا وُہی کونے کے سِرے کا پتّھر ہو گیا؟O {20:18} جو کوئی اُس پتّھر پر گِرے گا اُس کے ٹُکڑے ٹُکڑے ہو جائیں گے لیکن جِس پر وہ گِرے گا اُسے پِیس ڈالے گاO {i20:19} خراج دینے کی بابت سوال ( متّی ۲۲‏:۱۵‏-۲۲؛ مرقس ۱۲‏:۱۳‏-۱۷) {20:19} اُسی گھڑی فقِیہوں اور سردار کاہِنوں نے اُسے پکڑنے کی کوشِش کی مگر لوگوں سے ڈرے کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ اُس نے یہ تمثِیل ہم پر کہیO {20:20} اور وہ اُس کی تاک میں لگے اور جاسُوس بھیجے کہ راست باز بن کر اُس کی کوئی بات پکڑیں تاکہ اُس کو حاکِم کے قبضہ اور اِختیار میں دے دیںO {20:21} اُنہوں نے اُس سے یہ سوال کِیا کہ اَے اُستاد ہم جانتے ہیں کہ تیرا کلام اور تعلِیم درُست ہے اور تُو کِسی کی طرف داری نہیں کرتا بلکہ سچّائی سے خُدا کی راہ کی تعلِیم دیتا ہےO {20:22} ہمیں قَیصر کو خراج دینا روا ہے یا نہیں؟O {20:23} اُس نے اُن کی مَکّاری معلُوم کر کے اُن سے کہاO {20:24} ایک دِینار مُجھے دِکھاؤ O اُس پر کِس کی صُورت اور نام ہے؟ اُنہوں نے کہا قَیصر کاO {20:25} اُس نے اُن سے کہا پس جو قَیصر کا ہے قَیصر کو اور جو خُدا کا ہے خُدا کو ادا کروO {20:26} وہ لوگوں کے سامنے اُس قَول کو پکڑ نہ سکے بلکہ اُس کے جواب سے تعجُّب کر کے چُپ ہو رہےO {i20:27} مُردوں کی قِیامت کی بابت سوال (متّی ۲۲‏:۲۳‏-۳۳؛ مرقس ۱۲: ۱۸‏-۲۷) {20:27} پِھر صدُوقی جو کہتے ہیں کہ قِیامت نہیںہوگی اُن میں سے بعض نے اُس کے پاس آ کر یہ سوال کِیا کہO {20:28} اَے اُستاد مُوسیٰ نے ہمارے لِئے لِکھا ہے کہ اگر کِسی کا بیاہا ہُؤا بھائی بے اَولاد مَر جائے تو اُس کابھائی اُس کی بِیوی کو کر لے اور اپنے بھائی کے لِئے نسل پَیدا کرےO {20:29} چُنانچہ سات بھائی تھے O پہلے نے بِیوی کی اور بے اَولاد مَر گیاO {20:30} پِھر دُوسرے نے اُسے لِیا اور تِیسرے نے بھیO {20:31} اِسی طرح ساتوں بے اَولاد مَر گئےO {20:32} آخِر کو وہ عَورت بھی مَر گئیO {20:33} پس قِیامت میں وہ عَورت اُن میں سے کِس کی بِیوی ہو گی؟ کیونکہ وہ ساتوں کی بِیوی بنی تھیO {20:34} یِسُو ع نے اُن سے کہا کہ اِس جہان کے فرزندوں میں تو بیاہ شادی ہوتی ہےO {20:35} لیکن جو لوگ اِس لائِق ٹھہریں گے کہ اُس جہان کو حاصِل کریں اور مُردوں میں سے جی اُٹھیں اُن میں بیاہ شادی نہ ہو گیO {20:36} کیونکہ وہ پِھر مَرنے کے بھی نہیں اِس لِئے کہ فرِشتوں کے برابر ہوں گے اور قِیامت کے فرزند ہو کر خُدا کے بھی فرزند ہوں گےO {20:37} لیکن اِس بات کو کہ مُردے جی اُٹھتے ہیں مُوسیٰ نے بھی جھاڑی کے ذِکر میں ظاہِر کِیا ہے O چُنانچہ وہ خُداوندکو ابرہا م کا خُدا اور اِضحا ق کا خُدا اور یعقُو ب کا خُدا کہتا ہےO {20:38} لیکن خُدا مُردوں کا خُدا نہیں بلکہ زِندوں کا ہے کیونکہ اُس کے نزدِیک سب زِندہ ہیںO {20:39} تب بعض فقِیہوں نے جواب میں اُس سے کہا کہ اَے اُستاد تُو نے خُوب فرمایاO {20:40} کیونکہ اُن کواُس سے پِھر کوئی سوال کرنے کی جُرأت نہ ہُوئیO {i20:41} مسِیح مَوعُود کے بارے میں سوال ( متّی ۲۲: ۴۱‏-۴۶؛ مرقس ۱۲‏:۳۵‏-۳۷) {20:41} پِھر اُس نے اُن سے کہا مسِیح کو کِس طرح داؤُد کا بیٹا کہتے ہیں؟O {20:42} داؤُد تو زبُور میں آپ کہتا ہے کہ خُداوند نے میرے خُداوند سے کہا میری د ہنی طرف بَیٹھO {20:43} جب تک مَیں تیرے دُشمنوں کو تیرے پاؤں تلے کی چَوکی نہ کر دُوںO {20:44} پس داؤُد تو اُسے خُداوند کہتا ہے پِھر وہ اُس کا بیٹا کیوں کر ٹھہرا؟O {i20:45} یِسُوع فقِیہوں کے خِلاف خبر دار کرتا ہے (متّی ۲۳: ۱‏-۳۶؛ مرقس ۱۲: ۳۸ -۴۰) {20:45} جب سب لوگ سُن رہے تھے تو اُس نے اپنے شاگِردوں سے کہاO {20:46} کہ فقِیہوں سے خبردار رہنا جو لمبے لمبے جامے پہن کر پِھرنے کا شَوق رکھتے ہیں اور بازاروں میں سلام اور عِبادت خانوں میں اعلیٰ درجہ کی کُرسِیاں اور ضِیافتوں میں صدر نشِینی پسند کرتے ہیںO {20:47} وہ بیواؤں کے گھروں کو دبا بَیٹھتے ہیں اور دِکھاوے کے لِئے نماز کو طُول دیتے ہیں O اِنہیں زِیادہ سزا ہو گیO {i21:1} ایک بیوہ کا نذرانہ (مرقس ۱۲‏:۴۱‏-۴۴) {21:1} پِھر اُس نے آنکھ اُٹھا کر اُن دَولت مندوں کو دیکھا جو اپنی نذروں کے رُوپَے ہَیکل کے خزانہ میں ڈال رہے تھےO {21:2} اور ایک کنگال بیوہ کو بھی اُس میں دو دَمڑیاں ڈالتے دیکھاO {21:3} اِس پر اُس نے کہا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ اِس کنگال بیوہ نے سب سے زِیادہ ڈالاO {21:4} کیونکہ اُن سب نے تو اپنے مال کی بُہتات سے نذر کا چندہ ڈالا مگر اِس نے اپنی ناداری کی حالت میں جِتنی روزی اُس کے پاس تھی سب ڈال دیO {i21:5} یِسُوع ہَیکل کی بربادی کی پیشین گوئی کرتا ہے (متّی ۲۴‏:۱‏-۲؛ مرقس ۱۳‏:۱‏-۲) {21:5} اور جب بعض لوگ ہَیکل کی بابت کہہ رہے تھے کہ وہ نفِیس پتّھروں اور نذر کی ہُوئی چِیزوں سے آراستہ ہے تو اُس نے کہاO {21:6} وہ دِن آئیں گے کہ اِن چِیزوں میں سے جو تُم دیکھتے ہو یہاں کِسی پتّھر پر پتّھر باقی نہ رہے گا جو گِرایا نہ جائےO {i21:7} مُصیِبتیں اور ایذائیں (متّی ۲۴‏:۳‏-۱۴؛ مرقس ۱۳: ۳ -۱۳) {21:7} اُنہوں نے اُس سے پُوچھا کہ اَے اُستاد! پِھر یہ باتیں کب ہوں گی؟ اور جب وہ ہونے کو ہوں اُس وقت کا کیا نِشان ہے؟O {21:8} اُس نے کہا خبردار! گُمراہ نہ ہونا کیونکہ بُہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ وہ مَیں ہی ہُوں اور یہ بھی کہ وقت نزدِیک آ پُہنچا ہے O تُم اُن کے پِیچھے نہ چلے جاناO {21:9} اور جب لڑائِیوں اور فسادوں کی افواہیں سُنو تو گھبرا نہ جانا کیونکہ اُن کاپہلے وَاقِع ہونا ضرُور ہے لیکن اُس وقت فوراً خاتِمہ نہ ہو گاO {21:10} پِھر اُس نے اُن سے کہا کہ قَوم پر قَوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کرے گیO {21:11} اور بڑے بڑے بَھونچال آئیں گے اور جابجا کال اور مری پڑے گی اور آسمان پر بڑی بڑی دہشت ناک باتیں اور نِشانِیاں ظاہِر ہوں گیO {21:12} لیکن اِن سب باتوں سے پہلے وہ میرے نام کے سبب سے تُمہیں پکڑیں گے اور ستائیں گے اور عِبادت خانوں کی عدالت کے حوالہ کریں گے اور قَیدخانوں میں ڈلوائیں گے اور بادشاہوں اور حاکِموں کے سامنے حاضِر کریں گےO {21:13} اور یہ تُمہارا گواہی دینے کا مَوقع ہو گاO {21:14} پس اپنے دِل میں ٹھان رکھّو کہ ہم پہلے سے فِکر نہ کریں گے کہ کیا جواب دیںO {21:15} کیونکہ مَیں تُمہیں اَیسی زُبان اور حِکمت دُوں گا کہ تُمہارے کِسی مُخالِف کو سامنا کرنے یا خِلاف کہنے کا مقدُور نہ ہو گاO {21:16} اور تُمہیں ماں باپ اور بھائی اور رِشتہ دار اور دوست بھی پکڑوائیں گے بلکہ وہ تُم میں سے بعض کو مَروا ڈالیں گےO {21:17} اور میرے نام کے سبب سے سب لوگ تُم سے عداوت رکھّیں گےO {21:18} لیکن تُمہارے سَر کا ایک بال بھی بِیکا نہ ہو گاO {21:19} اپنے صبر سے تُم اپنی جانیں بچائے رکھّو گےO {i21:20} یِسُوع یروشلِیم کی بربادی کی پیشین گوئی کرتا ہے (متّی ۲۴‏:۱۵‏-۲۱؛ مرقس ۱۳: ۱۴‏-۱۹) {21:20} پِھرجب تُم یرُوشلِیم کو فَوجوں سے گِھرا ہُؤا دیکھو تو جان لینا کہ اُس کا اُجڑ جانا نزدِیک ہےO {21:21} اُس وقت جو یہُودیہ میں ہوں پہاڑوں پر بھاگ جائیں اور جو یروشلِیم کے اندر ہوں باہر نِکل جائیں اور جو دیہات میں ہوں شہر میں نہ جائیںO {21:22} کیونکہ یہ اِنتِقام کے دِن ہوں گے جِن میں سب باتیں جو لِکھّی ہیں پُوری ہو جائیں گیO {21:23} اُن پر افسوس ہے جو اُن دِنوں میں حامِلہ ہوں اور جو دُودھ پِلاتی ہوں! کیونکہ مُلک میں بڑی مُصیِبت اور اِس قَوم پر غضب ہو گاO {21:24} اور وہ تلوار کا لُقمہ ہو جائیں گے اور اسِیر ہو کر سب قَوموں میں پُہنچائے جائیں گے اور جب تک غَیر قَوموں کی مِیعاد پُوری نہ ہو یروشلِیم غَیر قَوموں سے پامال ہوتارہے گاO {i21:25} اِبنِ آدم کی آمد (متّی ۲۴‏:۲۹‏-۳۱؛ مرقس ۱۳‏:۲۴‏-۲۷) {21:25} اور سُورج اور چاند اور سِتاروں میں نِشان ظاہِر ہوں گے اور زمِین پر قَوموں کو تکلِیف ہو گی کیونکہ وہ سمُندر اور اُس کی لہروں کے شور سے گھبرا جائیں گیO {21:26} اور ڈر کے مارے اور زمِین پر آنے والی بلاؤں کی راہ دیکھتے دیکھتے لوگوں کی جان میں جان نہ رہے گی O اِس لِئے کہ آسمان کی قُوّتیں ہِلائی جائیں گیO {21:27} اُس وقت لوگ اِبنِ آدم کو قُدرت اور بڑے جلال کے ساتھ بادِل میں آتے دیکھیں گےO {21:28} اور جب یہ باتیں ہونے لگیں تو سِیدھے ہو کر سر اُوپر اُٹھانا اِس لِئے کہ تُمہاری مَخلصی نزدِیک ہو گیO {i21:29} انجِیر کے درخت سے سبق ( متّی۲۴‏:۳۲‏-۳۵؛ مرقس ۱۳‏:۲۸‏-۳۱) {21:29} اور اُس نے اُن سے ایک تمثِیل کہی کہ انجِیر کے درخت اور سب درختوں کو دیکھوO {21:30} جُونہی اُن میں کونپلیں نِکلتی ہیں تُم دیکھ کر آپ ہی جان لیتے ہو کہ اب گرمی نزدِیک ہےO {21:31} اِسی طرح جب تُم اِن باتوں کو ہوتے دیکھو تو جان لو کہ خُدا کی بادشاہی نزدِیک ہےO {21:32} مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تک یہ سب باتیں نہ ہو لِیں یہ نسل ہرگِز تمام نہ ہو گیO {21:33} آسمان اور زمِین ٹل جائیں گے لیکن میری باتیں ہرگِز نہ ٹلیں گیO {i21:34} چوکس رہنے کی ضرُورت {21:34} پس خبردار رہو O اَیسا نہ ہو کہ تُمہارے دِل خُمار اور نشہ بازی اور اِس زِندگی کی فِکروں سے سُست ہو جائیں اور وہ دِن تُم پر پھندے کی طرح ناگہاں آ پڑےO {21:35} کیونکہ جِتنے لوگ تمام رُویِ زمِین پر مَوجُود ہوں گے اُن سب پر وہ اِسی طرح آ پڑے گاO {21:36} پس ہر وقت جاگتے اور دُعا کرتے رہو تاکہ تُم کو اِن سب ہونے والی باتوں سے بچنے اور اِبنِ آدم کے حضُور کھڑے ہونے کا مقدُور ہوO {21:37} اور وہ ہر روز ہَیکل میں تعلِیم دیتا تھا اور رات کو باہر جا کر اُس پہاڑ پر رہا کرتا تھا جو زَیتُو ن کا کہلاتا ہےO {21:38} اور صُبح سویرے سب لوگ اُس کی باتیں سُننے کو ہَیکل میں اُس کے پاس آیا کرتے تھےO {i22:1} یِسُوع کے خِلاف سازش (متّی ۲۶: ۱‏-۵؛ مرقس ۱۴‏:۱‏-۲؛ یُوحنّا ۱۱: ۴۵‏-۵۳) {22:1} اور عِیدِ فطِیر جِس کو عِیدِ فَسح کہتے ہیں نزدِیک تھیO {22:2} اور سردار کاہِن اور فقِیہہ موقع ڈُھونڈ رہے تھے کہ اُسے کِس طرح مار ڈالیں کیونکہ لوگوں سے ڈرتے تھےO {i22:3} یہُوداہ یِسُوع کو دھو کے سے پکڑوانے پر مُتفق ہوتاہے (متّی ۲۶: ۱۴‏-۱۶؛ مرقس ۱۴: ۱۰‏-۱۱) {22:3} اور شَیطان یہُودا ہ میں سمایا جو اِسکریوتی کہلاتا اور اُن بارہ میں شُمار کِیا جاتا تھاO {22:4} اُس نے جا کر سردار کاہِنوں اور سِپاہیوں کے سرداروں سے مشورَہ کِیا کہ اُس کو کِس طرح اُن کے حوالہ کرےO {22:5} وہ خُوش ہُوئے اور اُسے رُوپَے دینے کا اِقرار کِیاO {22:6} اُس نے مان لِیا اور مَوقع ڈُھونڈنے لگا کہ اُسے بغَیر ہنگامہ اُن کے حوالہ کر دےO {i22:7} یِسُوع فَسح کا کھانا کھانے کی تیّاری کرتاہے ( متّی ۲۶‏:۱۷‏-۲۵؛ مرقس ۱۴: ۱۲‏-۲۱؛ یُوحنّا۱۳: ۲۱‏-۳۰) {22:7} اور عِیدِ فطِیر کا دِن آیا جِس میں فَسح ذبح کرنا فرض تھاO {22:8} اور یِسُو ع نے پطر س اور یُوحنّا کو یہ کہہ کر بھیجا کہ جا کر ہمارے کھانے کے لِئے فَسح تیّار کروO {22:9} اُنہوں نے اُس سے کہا تُو کہاں چاہتا ہے کہ ہم تیّار کریں؟O {22:10} اُس نے اُن سے کہا دیکھو شہر میں داخِل ہوتے ہی تُمہیں ایک آدمی پانی کا گھڑا لِئے ہُوئے مِلے گا O جِس گھر میں وہ جائے اُس کے پِیچھے چلے جاناO {22:11} اور گھر کے مالِک سے کہنا کہ اُستاد تُجھ سے کہتا ہے وہ مہمان خانہ کہاں ہے جِس میں مَیں اپنے شاگِردوں کے ساتھ فَسح کھاؤں؟O {22:12} وہ تُمہیں ایک بڑا بالاخانہ آراستہ کِیا ہُؤا دِکھائے گا O وہِیں تیّاری کرناO {22:13} اُنہوں نے جا کر جَیسا اُس نے اُن سے کہا تھا وَیسا ہی پایا اور فَسح تیّار کِیاO {i22:14} عشائ رباّنی (متّی۲۶‏:۲۶‏-۳۰؛مرقس۱۴‏:۲۲‏-۲۶‏؛۱-کُرِنتھِیوں ۱ ۱ : ۳ ۲ - ۲۵) {22:14} جب وقت ہو گیا تو وہ کھانا کھانے بَیٹھا اور رسُول اُس کے ساتھ بَیٹھےO {22:15} اُس نے اُن سے کہا مُجھے بڑی آرزُو تھی کہ دُکھ سہنے سے پہلے یہ فَسح تُمہارے ساتھ کھاؤُںO {22:16} کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اُسے کبھی نہ کھاؤُں گا جب تک وہ خُدا کی بادشاہی میں پُورا نہ ہوO {22:17} پِھر اُس نے پِیالہ لے کر شُکر کِیا اور کہا کہ اِس کو لے کر آپس میں بانٹ لوO {22:18} کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ انگُور کا شِیرہ اب سے کبھی نہ پِیُوں گا جب تک خُدا کی بادشاہی نہ آ لےO {22:19} پِھر اُس نے روٹی لی اور شُکر کر کے توڑی اور یہ کہہ کر اُن کو دی کہ یہ میرا بدن ہے جو تُمہارے واسطے دِیا جاتا ہے O میری یادگاری کے لِئے یہی کِیا کروO {22:20} اور اِسی طرح کھانے کے بعد پِیالہ یہ کہہ کر دِیا کہ یہ پِیالہ میرے اُس خُون میں نیا عہد ہے جو تُمہارے واسطے بہایا جاتا ہےO {22:21} مگر دیکھو میرے پکڑوانے والے کا ہاتھ میرے ساتھ میز پر ہےO {22:22} کیونکہ اِبنِ آدم تو جَیسا اُس کے واسطے مُقرّر ہے جاتا ہی ہے مگر اُس شخص پر افسوس ہے جِس کے وسِیلہ سے وہ پکڑوایا جاتا ہے! O {22:23} اِس پر وہ آپس میں پُوچھنے لگے کہ ہم میں سے کَون ہے جو یہ کام کرے گا؟O {i22:24} بڑا ہونے پر بحث {22:24} اور اُن میں یہ تکرار بھی ہُوئی کہ ہم میں سے کَون بڑا سمجھا جاتا ہے؟O {22:25} اُس نے اُن سے کہا کہ غَیر قَوموں کے بادشاہ اُن پر حُکومت چلاتے ہیں اور جو اُن پر اِختیار رکھتے ہیں خُداوندِنِعمت کہلاتے ہیںO {22:26} مگر تُم اَیسے نہ ہونا بلکہ جو تُم میں بڑا ہے وہ چھوٹے کی مانِند اور جو سردار ہے وہ خِدمت کرنے والے کی مانِند بنےO {22:27} کیونکہ بڑا کَون ہے؟ وہ جو کھانا کھانے بَیٹھا یا وہ جو خِدمت کرتا ہے؟ کیا وہ نہیں جو کھانا کھانے بَیٹھا ہے؟ لیکن مَیں تُمہارے درمِیان خِدمت کرنے والے کی مانِند ہُوںO {22:28} مگر تُم وہ ہوجو میری آزمایشوں میں برابر میرے ساتھ رہےO {22:29} اور جَیسے میرے باپ نے میرے لِئے ایک بادشاہی مُقرّر کی ہے مَیں بھی تُمہارے لِئے مُقرّر کرتا ہُوںO {22:30} تاکہ میری بادشاہی میں میری میز پر کھاؤ پِیو بلکہ تُم تختوں پر بَیٹھ کر اِسرا ئیل کے بارہ قبِیلوں کا اِنصاف کرو گےO {i22:31} یِسُوع پیشین گوئی کرتا ہے کہ پطرس میرا اِنکار کرے گا (متّی۲۶‏:۳۱‏-۳۵؛مرقس۱۴‏:۲۷‏-۳۱؛ یُوحنّا ۱۳‏:۳۶‏-۳۸) {22:31} شمعُون! شمعُو ن! دیکھ شَیطان نے تُم لوگوں کو مانگ لِیا تاکہ گیہُوں کی طرح پھٹکےO {22:32} لیکن مَیں نے تیرے لِئے دُعا کی کہ تیرا اِیمان جاتا نہ رہے اور جب تُو رجُوع کرے تو اپنے بھائِیوں کو مضبُوط کرناO {22:33} اُس نے اُس سے کہا اَے خُداوند! تیرے ساتھ مَیں قَید ہونے بلکہ مَرنے کو بھی تیّار ہُوںO {22:34} اُس نے کہا اَے پطر س مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں کہ آج مُرغ بانگ نہ دے گا جب تک تُو تِین بار میرا اِنکار نہ کرے کہ مُجھے نہیں جانتاO {i22:35} بٹوا ، جھولی اور تلوار {22:35} پِھر اُس نے اُن سے کہا کہ جب مَیں نے تُمہیں بٹوے اور جھولی اور جُوتی بغَیر بھیجا تھا کیا تُم کِسی چِیز کے مُحتاج رہے تھے؟ اُنہوں نے کہا کِسی چِیز کے نہیںO {22:36} اُس نے اُن سے کہا مگر اب جِس کے پاس بٹوا ہو وہ اُسے لے اور اِسی طرح جھولی بھی اور جِس کے پاس نہ ہو وہ اپنی پوشاک بیچ کر تلوار خرِیدےO {22:37} کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ یہ جو لِکھا ہے کہ وہ بدکاروں میں گِنا گیا اُس کا میرے حق میں پُورا ہونا ضرُور ہے O اِس لِئے کہ جو کُچھ مُجھ سے نِسبت رکھتا ہے وہ پُورا ہونا ہےO {22:38} اُنہوں نے کہا اَے خُداوند! دیکھ یہاں دو تلواریں ہیں O اُس نے اُن سے کہا O بُہت ہیںO {i22:39} یِسُوع کو ہِ زیتُون پر دُعا مانگتا ہے (متّی ۲۶: ۳۶ -۴۶؛ مرقس ۱۴: ۳۲‏-۴۲) {22:39} پِھر وہ نِکل کر اپنے دستُور کے مُوافِق زَیتُو ن کے پہاڑ کو گیا اور شاگِرد اُس کے پِیچھے ہو لِئےO {22:40} اور اُس جگہ پُہنچ کر اُس نے اُن سے کہا دُعا کرو کہ آزمایش میں نہ پڑوO {22:41} اور وہ اُن سے بمُشکِل الگ ہو کر کوئی پتّھر کا ٹپّہ آگے بڑھا اور گُھٹنے ٹیک کر یُوں دُعا کرنے لگا کہO {22:42} اَے باپ اگر تُو چاہے تو یہ پِیالہ مُجھ سے ہٹا لے تَو بھی میری مرضی نہیں بلکہ تیری ہی مرضی پُوری ہوO {22:43} اور آسمان سے ایک فرِشتہ اُس کو دِکھائی دِیا O وہ اُسے تقوِیت دیتا تھاO {22:44} پِھر وہ سخت پریشانی میں مُبتلا ہو کر اَور بھی دِل سوزی سے دُعا کرنے لگا اور اُس کا پسِینہ گویا خُون کی بڑی بڑی بُوندیں ہو کر زمِین پر ٹپکتا تھاO {22:45} جب دُعا سے اُٹھ کر شاگِردوں کے پاس آیا تو اُنہیں غم کے مارے سوتے پایاO {22:46} اور اُن سے کہا تُم سوتے کیوں ہو؟ اُٹھ کر دُعا کرو تاکہ آزمایش میں نہ پڑوO {i22:47} یِسُوع کی گِرفتاری (متّی ۲۶: ۴۷‏-۵۶؛ مرقس ۱۴: ۴۳‏-۵۰؛ یُوحنّا ۱۸: ۳‏-۱۱) {22:47} وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ دیکھو ایک بِھیڑ آئی اور اُن بارہ میں سے وہ جِس کا نام یہُودا ہ تھا اُن کے آگے آگے تھا O وہ یِسُو ع کے پاس آیا کہ اُس کا بوسہ لےO {22:48} یِسُو ع نے اُس سے کہا اَے یہُودا ہ کیا تُو بوسہ لے کر اِبنِ آدم کو پکڑواتا ہے؟O {22:49} جب اُس کے ساتِھیوں نے معلُوم کِیا کہ کیا ہونے والا ہے تو کہا اَے خُداوند کیا ہم تلوار چلائیں؟O {22:50} اور اُن میں سے ایک نے سردار کاہِن کے نَوکر پر چلا کر اُس کادہنا کان اُڑا دِیاO {22:51} یِسُو ع نے جواب میں کہا اِتنے پر کِفایت کرو اور اُس کے کان کو چُھو کراُس کواچّھا کِیاO {22:52} پِھر یِسُو ع نے سردار کاہِنوں اور ہَیکل کے سرداروں اور بزُرگوں سے جو اُس پر چڑھ آئے تھے کہا کیا تُم مُجھے ڈاکُو جان کر تلواریں اور لاٹِھیاں لے کر نِکلے ہو؟O {22:53} جب مَیں ہر روز ہَیکل میں تُمہارے ساتھ تھا تو تُم نے مُجھ پر ہاتھ نہ ڈالا لیکن یہ تُمہاری گھڑی اور تارِیکی کا اِختیار ہےO {i22:54} پطرس یِسُوع کا اِنکار کرتا ہے (متّی ۲۶: ۵۷‏-۵۸، ۶۹‏-۷۵؛ مرقس ۱۴‏:۵۳‏-۵۴، ۶۶‏-۷۲؛ یُوحنّا ۱۸‏:۱۲‏-۱۸، ۲۵‏-۲۷) {22:54} پِھر وہ اُسے پکڑ کر لے چلے اور سردار کاہِن کے گھر میں لے گئے اور پطر س فاصِلہ پر اُس کے پِیچھے پِیچھے جاتا تھاO {22:55} اور جب اُنہوں نے صحن کے بِیچ میں آگ جلائی اور مِل کر بَیٹھے تو پطر س اُن کے بِیچ میں بَیٹھ گیاO {22:56} ایک لَونڈی نے اُسے آگ کی رَوشنی میں بَیٹھا ہُؤا دیکھ کر اُس پر خُوب نِگاہ کی اور کہا یہ بھی اُس کے ساتھ تھاO {22:57} مگر اُس نے یہ کہہ کر اِنکار کِیا کہ اَے عَورت مَیں اُسے نہیں جانتاO {22:58} تھوڑی دیر کے بعد کوئی اَور اُسے دیکھ کر کہنے لگا کہ تُو بھی اُنہی مَیں سے ہے O پطر س نے کہا مِیاں مَیں نہیں ہُوںO {22:59} کوئی گھنٹے بھر کے بعد ایک اور شخص یقِینی طَور سے کہنے لگا کہ یہ آدمی بیشک اُس کے ساتھ تھا کیونکہ گلِیلی ہےO {22:60} پطر س نے کہا مِیاں مَیں نہیں جانتا تُو کیا کہتا ہے O وہ کہہ ہی رہا تھا کہ اُسی دَم مُرغ نے بانگ دیO {22:61} اور خُداوند نے پِھر کر پطر س کی طرف دیکھا اور پطر س کو خُداوندکی وہ بات یاد آئی جو اُس سے کہی تھی کہ آج مُرغ کے بانگ دینے سے پہلے تُو تِین بار میرا اِنکار کرے گاO {22:62} اور وہ باہر جا کر زار زار رویاO {i22:63} سپاہی یِسُوع کو مارتے اور ٹھٹھّوں میں اُڑاتے ہیں (متّی ۲۶: ۶۷‏-۶۸؛ مرقس ۱۴‏:۶۵) {22:63} اور جو آدمی یِسُو ع کو پکڑے ہُوئے تھے اُس کو ٹھٹّھوں میں اُڑاتے اور مارتے تھےO {22:64} اور اُس کی آنکھیں بند کر کے اُس سے پُوچھتے تھے کہ نبُوّت سے بتا تُجھے کِس نے مارا؟O {22:65} اور اُنہوں نے طعنہ سے اَور بھی بُہت سی باتیں اُس کے خِلاف کہِیںO {i22:66} یِسُوع کی صدرعدالت کے سامنے پیشی (متّی۲۶: ۵۹‏-۶۶؛ مرقس ۱۴: ۵۵‏-۶۴؛ یُوحنّا ۱۸: ۱۹‏-۲۴) {22:66} جب دِن ہُؤا تو سردار کاہِن اور فقِیہہ یعنی قَوم کے بزُرگوں کی مجلِس جمع ہُوئی اور اُنہوں نے اُسے اپنی صدرعدالت میں لے جا کر کہاO {22:67} اگر تُو مسِیح ہے تو ہم سے کہہ دے O اُس نے اُن سے کہا اگر مَیں تُم سے کہُوں تو یقِین نہ کرو گےO {22:68} اور اگر پُوچُھوں تو جواب نہ دو گےO {22:69} لیکن اب سے اِبنِ آدم قادِرِ مُطلق خُدا کی د ہنی طرف بَیٹھا رہے گاO {22:70} اِس پر اُن سب نے کہا پس کیا تُو خُدا کا بیٹا ہے؟ اُس نے اُن سے کہا تُم خُود کہتے ہو کیونکہ مَیں ہُوںO {22:71} اُنہوں نے کہا اب ہمیں گواہی کی کیا حاجت رہی؟ کیونکہ ہم نے خُود اُسی کے مُنہ سے سُن لِیا ہےO {i23:1} یِسُوع کی پِیلاطُس کے سامنے پیشی (متّی۲۷: ۱‏-۲، ۱۱‏-۱۴؛ مرقس ۱۵: ۱‏-۵؛ یُوحنّا ۱۸: ۲۸‏-۳۸) {23:1} پِھر اُن کی ساری جماعت اُٹھ کر اُسے پِیلاطُس کے پاس لے گئیO {23:2} اور اُنہوں نے اُس پر اِلزام لگانا شرُوع کِیا کہ اِسے ہم نے اپنی قَوم کو بہکاتے اور قَیصر کو خراج دینے سے منع کرتے اور اپنے آپ کو مسِیح بادشاہ کہتے پایاO {23:3} پِیلاطُس نے اُس سے پُوچھا کیا تُو یہُودِیوں کا بادشاہ ہے؟ اُس نے اُس کے جواب میں کہا تُو خُود کہتا ہےO {23:4} پِیلاطُس نے سردار کاہِنوں اور عام لوگوں سے کہا مَیں اِس شخص میں کُچھ قصُور نہیں پاتاO {23:5} مگر وہ اَور بھی زور دے کر کہنے لگے کہ یہ تمام یہُودیہ میں بلکہ گلِیل سے لے کریہاں تک لوگوں کو سِکھا سِکھا کر اُبھارتا ہےO {i23:6} یِسُوع کو ہیرودیس کے پاس بھیجا جاتاہے {23:6} یہ سُن کر پِیلاطُس نے پُوچھا کیا یہ آدمی گلِیلی ہے؟O {23:7} اور یہ معلُوم کر کے کہ ہیرود یس کی عمل داری کا ہے اُسے ہیرود یس کے پاس بھیجا کیونکہ وہ بھی اُن دِنوں یروشلِیم میں تھاO {23:8} ہیرود یس یِسُو ع کو دیکھ کر بُہت خُوش ہُؤا کیونکہ وہ مُدّت سے اُسے دیکھنے کا مُشتا ق تھا O اِس لِئے کہ اُس نے اُس کاحال سُنا تھا اور اُس کا کوئی مُعجِزہ دیکھنے کا اُمیدوار تھاO {23:9} اور وہ اُس سے بُہتیری باتیں پُوچھتا رہا مگر اُس نے اُسے کُچھ جواب نہ دِیاO {23:10} اور سردار کاہِن اور فقِیہہ کھڑے ہُوئے زور شور سے اُس پر اِلزام لگاتے رہےO {23:11} پِھر ہیرود یس نے اپنے سِپاہیوں سمیت اُسے ذلِیل کِیا اور ٹھٹّھوں میں اُڑایا اور چمک دار پوشاک پہنا کر اُس کو پِیلاطُس کے پاس واپس بھیجاO {23:12} اور اُسی دِن ہیرود یس اور پِیلاطُس آپس میں دوست ہو گئے کیونکہ پہلے اُن میں دُشمنی تھیO {i23:13} یِسُوع کو سزائے مَوت سُنائی جاتی ہے (متّی۲۷‏:۱۵‏-۲۶؛مرقس۱۵‏:۶‏-۱۵؛ یُوحنّا ۱۸‏:۳۹‏-۱۹‏:۱۶) {23:13} پِھرپیلا طُس نے سردار کاہِنوں اور سرداروں اور عام لوگوں کو جمع کر کےO {23:14} اُن سے کہا کہ تُم اِس شخص کو لوگوں کا بہکانے والا ٹھہرا کر میرے پاس لائے ہو اور دیکھو مَیں نے تُمہارے سامنے ہی اُس کی تحقِیقات کی مگر جِن باتوں کا اِلزام تُم اُس پر لگاتے ہو اُن کی نِسبت نہ مَیں نے اُس میں کُچھ قصُور پایاO {23:15} نہ ہیرود یس نے کیونکہ اُس نے اُسے ہمارے پاس واپس بھیجا ہے اور دیکھو اُس سے کوئی اَیسا فِعل سرزد نہیں ہُؤا جِس سے وہ قتل کے لائِق ٹھہرتاO {23:16} پس مَیں اُس کو پِٹوا کر چھوڑے دیتا ہُوںO {23:17} (اُسے ہر عِید میں ضرُور تھا کہ کِسی کو اُن کی خاطِرچھوڑ دے)O {23:18} وہ سب مِل کر چِلاّ اُٹھے کہ اسے لے جا اور ہماری خاطِر برابّا کو چھوڑ دےO {23:19} (یہ کِسی بغاوت کے باعِث جو شہر میں ہُوئی تھی اور خُون کرنے کے سبب سے قَید میں ڈالا گیا تھا)O {23:20} مگر پِیلا طُس نے یِسُو ع کو چھوڑنے کے اِرادہ سے پِھر اُن سے کہاO {23:21} لیکن وہ چِلاّ کر کہنے لگے کہ اِس کو مصلُوب کر مصلُوب! O {23:22} اُس نے تِیسری بار اُن سے کہا کیوں؟ اِس نے کیا بُرائی کی ہے؟ مَیں نے اِس میں قتل کی کوئی وجہ نہیں پائی O پس مَیں اِسے پِٹوا کر چھوڑے دیتا ہُوںO {23:23} مگر وہ چِلاّ چِلاّ کر سر ہوتے رہے کہ وہ مصلُوب کِیا جائے اور اُن کا چِلاّنا کار گر ہُؤاO {23:24} پس پِیلاطُس نے حُکم دِیا کہ اُن کی درخواست کے مُوافِق ہوO {23:25} اور جو شخص بغاوت اور خُون کرنے کے سبب سے قَید میں پڑا تھا اور جِسے اُنہوں نے مانگا تھا اُسے چھوڑ دِیا مگر یِسُو ع کو اُن کی مرضی کے مُوافِق سِپاہیوں کے حوالہ کِیاO {i23:26} یِسُوع کو مصلُوب کِیا جاتا ہے (متّی۲۷: ۳۲‏-۴۴؛ مرقس ۱۵: ۲۱‏-۲۳؛ یُوحنّا ۱۹: ۱۷‏-۲۷) {23:26} اور جب اُس کو لِئے جاتے تھے تو اُنہوں نے شمعُو ن نام ایک کُرینی کو جو دیہات سے آتا تھا پکڑ کر صلِیب اُس پر لا دی کہ یِسُو ع کے پِیچھے پِیچھے لے چلےO {23:27} اور لوگوں کی ایک بڑی بِھیڑ اور بُہت سی عَورتیں جو اُس کے واسطے روتی پِیٹتی تِھیں اُس کے پِیچھے پِیچھے چلِیںO {23:28} یِسُو ع نے اُن کی طرف پِھر کر کہا اَے یروشلِیم کی بیٹِیو! میرے لِئے نہ رو بلکہ اپنے اور اپنے بچّوں کے لِئے روO {23:29} کیونکہ دیکھو وہ دِن آتے ہیں جِن میں کہیں گے مُبارک ہیں بانجھیں اور وہ رحمِ جو باروَر نہ ہُوئے اور وُہ چھاتِیاں جِنہوں نے دُودھ نہ پِلایاO {23:30} اُس وقت وہ پہاڑوں سے کہنا شرُوع کریں گے کہ ہم پر گِر پڑو اور ٹِیلوں سے کہ ہمیں چُھپا لوO {23:31} کیونکہ جب ہرے درخت کے ساتھ اَیسا کرتے ہیں تو سُوکھے کے ساتھ کیا کُچھ نہ کِیا جائے گا؟O {23:32} اور وہ دو اَور آدمِیوں کو بھی جو بدکار تھے لِئے جاتے تھے کہ اُس کے ساتھ قتل کِئے جائیںO {23:33} جب وہ اُس جگہ پر پُہنچے جِسے کھوپڑی کہتے ہیں تو وہاں اُسے مصلُوب کِیا اور بدکاروں کو بھی ایک کود ہنی اور دُوسرے کو بائِیں طرفO {23:34} یِسُو ع نے کہا اَے باپ! اِن کو مُعاف کر کیونکہ یہ جانتے نہیں کہ کیا کرتے ہیں O اور اُنہوں نے اُس کے کپڑوں کے حِصّے کِئے اور اُن پر قُرعہ ڈالاO {23:35} اور لوگ کھڑے دیکھ رہے تھے اور سردار بھی ٹھٹّھے مار مار کر کہتے تھے کہ اِس نے اَوروں کو بچایا O اگر یہ خُدا کا مسِیح اور اُس کا برگُزِیدہ ہے تو اپنے آپ کوبچائےO {23:36} سِپاہیوں نے بھی پاس آ کر اور سِرکہ پیش کر کے اُس پر ٹھٹّھا مارا اور کہا کہO {23:37} اگر تُو یہُودِیوں کا بادشاہ ہے تو اپنے آپ کو بچاO {23:38} اور ایک نوِشتہ بھی اُس کے اُوپر لگایا گیا تھا کہ یہ یہُودِیوں کا بادشاہ ہےO {23:39} پِھرجو بدکار صلِیب پر لٹکائے گئے تھے اُن میں سے ایک اُسے یُوں طعنہ دینے لگا کہ کیا تُو مسِیح نہیں؟ تُو اپنے آپ کو اور ہم کو بچاO {23:40} مگر دُوسرے نے اُسے جِھڑک کر جواب دِیا کہ کیا تُو خُدا سے بھی نہیں ڈرتا حالانکہ اُسی سزا میں گرِفتار ہے؟O {23:41} اور ہماری سزا تو واجبی ہے کیونکہ اپنے کاموں کا بدلہ پا رہے ہیں لیکن اِس نے کوئی بے جا کام نہیں کِیاO {23:42} پِھر اُس نے کہا اَے یِسُو ع جب تُو اپنی بادشاہی میں آئے تو مُجھے یاد کرناO {23:43} اُس نے اُس سے کہا مَیں تُجھ سے سچ کہتا ہُوں کہ آج ہی تُو میرے ساتھ فِردَوس میں ہو گاO {i23:44} یِسُوع کی مَوت (متّی ۲۷: ۴۵‏-۵۶؛ مرقس ۱۵‏:۳۳‏-۴۱؛ یُوحنّا ۱۹: ۲۸‏-۳۰) {23:44} پِھر دوپہر کے قرِیب سے تِیسرے پہر تک تمام مُلک میں اندھیرا چھایا رہاO {23:45} اور سُورج کی رَوشنی جاتی رہی اور مَقدِس کا پردہ بیچ سے پھَٹ گیاO {23:46} پِھر یِسُو ع نے بڑی آواز سے پُکار کر کہا اَے باپ! مَیں اپنی رُوح تیرے ہاتھوں میں سَونپتا ہُوں اَور یہ کہہ کر دَم دے دِیاO {23:47} یہ ماجرا دیکھ کر صُوبہ دار نے خُدا کی تمجِید کی اور کہا بیشک یہ آدمی راست باز تھاO {23:48} اور جِتنے لوگ اِس نظّارہ کو آئے تھے یہ ماجرا دیکھ کر چھاتی پِیٹتے ہُوئے لَوٹ گئےO {23:49} اور اُس کے سب جان پہچان اور وہ عَورتیں جو گلِیل سے اُس کے ساتھ آئی تِھیں دُور کھڑی یہ باتیں دیکھ رہی تِھیںO {i23:50} یِسُوع کی تدفین (متّی۲۷‏:۵۷‏-۶۱؛ مرقس۱۵‏:۴۲‏-۴۷؛ یُوحنّا ۱۹: ۳۸‏-۴۲) {23:50} اور دیکھو یُوسف نام ایک شخص مُشِیر تھا جو نیک اور راست باز آدمی تھاO {23:51} اور اُن کی صلاح اور کام سے رضامند نہ تھا O یہ یہُودِیوں کے شہر اَرِمَتیہ کا باشِندہ اور خُدا کی بادشاہی کا مُنتظِر تھاO {23:52} اُس نے پِیلاطُس کے پاس جا کر یِسُو ع کی لاش مانگیO {23:53} اور اُس کو اُتار کر مہِین چادر میں لپیٹا O پِھر ایک قَبر کے اندر رکھ دِیا جو چٹان میں کُھدی ہُوئی تھی اور اُس میں کوئی کبھی رکھا نہ گیا تھاO {23:54} وہ تیّاری کا دِن تھا اور سبت کا دِن شرُوع ہونے کو تھاO {23:55} اور اُن عَورتوں نے جو اُس کے ساتھ گلِیل سے آئی تِھیں پِیچھے پِیچھے جا کر اُس قَبر کو دیکھا اور یہ بھی کہ اُس کی لاش کِس طرح رکھّی گئیO {23:56} اور لَوٹ کر خُوشبُودار چِیزیں اور عِطر تیّار کِیاO {i24:1} یِسُوع کا جی اُٹھنا (متّی ۲۸‏:۱‏-۱۰؛ مرقس ۱۶: ۱‏-۸؛ یُوحنّا ۲۰: ۱‏-۱۰) {24:1} سَبت کے دِن تو اُنہوں نے حُکم کے مُطابِق آرام کِیا O لیکن ہفتہ کے پہلے دِن وہ صُبح سویرے ہی اُن خُوشبُودار چِیزوں کو جو تیّار کی تِھیں لے کر قبر پر آئِیںO {24:2} اور پتّھر کو قبر پر سے لُڑھکا ہُؤا پایاO {24:3} مگر اندر جا کر خُداوند یِسُو ع کی لاش نہ پائیO {24:4} اور اَیسا ہُؤا کہ جب وہ اِس بات سے حَیران تِھیں تو دیکھو دو شخص برّاق پوشاک پہنے اُن کے پاس آ کھڑے ہُوئےO {24:5} جب وہ ڈر گئِیں اور اپنے سر زمِین پر جُھکائے تو اُنہوں نے اُن سے کہا کہ زِندہ کو مُردوں میں کیوں ڈُھونڈتی ہو؟O {24:6} وہ یہاں نہیں بلکہ جی اُٹھا ہے O یاد کرو کہ جب وہ گلِیل میں تھا تو اُس نے تُم سے کہا تھاO {24:7} ضرُور ہے کہ اِبنِ آدم گُنہگاروں کے ہاتھ میں حوالہ کِیا جائے اور مصلُوب ہو اور تِیسرے دِن جی اُٹھےO {24:8} اُس کی باتیں اُنہیں یاد آئِیںO {24:9} اور قبر سے لَوٹ کر اُنہوں نے اُن گیارہ اور باقی سب لوگوں کو اِن سب باتوں کی خبر دیO {24:10} جِنہوں نے رسُولوں سے یہ باتیں کہِیں وہ مریم مگدلینی اور یوأنہ اور یعقُوب کی ماں مریم اور اُن کے ساتھ کی باقی عَورتیں تِھیںO {24:11} مگر یہ باتیں اُنہیں کہانی سی معلُوم ہُوئِیں اور اُنہوں نے اُن کا یقِین نہ کِیاO {24:12} اِس پر پطر س اُٹھ کر قبر تک دَوڑا گیا اور جُھک کر نظر کی اور دیکھا کہ صِرف کفن ہی کفن ہے اور اِس ماجرے سے تعجُّب کرتا ہُؤا اپنے گھر چلا گیاO {i24:13} اِمّا ؤُس کی راہ پر ( مرقس ۱۶: ۱۲‏-۱۳) {24:13} اور دیکھو اُسی دِن اُن میں سے دو آدمی اُس گاؤں کی طرف جا رہے تھے جِس کا نام اِمّاؤُس ہے O وہ یروشلِیم سے قرِیباً سات مِیل کے فاصِلہ پر ہےO {24:14} اور وہ اِن سب باتوں کی بابت جو واقِع ہُوئی تِھیں آپس میں بات چِیت کرتے جاتے تھےO {24:15} جب وہ بات چِیت اور پُوچھ پاچھ کر رہے تھے تو اَیسا ہُؤا کہ یِسُو ع آپ نزدِیک آ کر اُن کے ساتھ ہو لِیاO {24:16} لیکن اُن کی آنکھیں بند کی گئی تِھیں کہ اُس کو نہ پہچانیںO {24:17} اُس نے اُن سے کہا یہ کیا باتیں ہیں جو تُم چلتے چلتے آپس میں کرتے ہو؟ وہ غمگِین سے کھڑے ہو گئےO {24:18} پِھر ایک نے جِس کا نام کلِیُپا س تھا جواب میں اُس سے کہا کیا تُو یروشلِیم میں ا کیلا مُسافِر ہے جو نہیں جانتا کہ اِن دِنوں اُس میں کیا کیا ہُؤا ہے؟O {24:19} اُس نے اُن سے کہا کیا ہُؤا ہے؟ اُنہوں نے اُس سے کہا یِسُو ع ناصری کا ماجرا جو خُدا اور ساری اُمّت کے نزدِیک کام اور کلام میں قُدرت والا نبی تھاO {24:20} اورسردار کاہِنوں اورہمارے حاکِموں نے اُس کو پکڑوا دِیا تاکہ اُس پر قتل کا حُکم دِیا جائے اور اُسے مصلُوب کِیاO {24:21} لیکن ہم کو اُمّید تھی کہ اِسرا ئیل کو مُخلصی یِہی دے گا اور علاوہ اِن سب باتوں کے اِس ماجرے کو آج تِیسرا دِن ہو گیاO {24:22} اور ہم میں سے چند عَورتوں نے بھی ہم کو حَیران کر دِیا ہے جو سویرے ہی قبر پر گئی تِھیںO {24:23} اور جب اُس کی لاش نہ پائی تو یہ کہتی ہُوئی آئِیں کہ ہم نے رویا میں فرِشتوں کو بھی دیکھاO اُنہوں نے کہا وہ زِندہ ہےO {24:24} اور بعض ہمارے ساتِھیوں میں سے قبر پر گئے اور جَیسا عَورتوں نے کہا تھا وَیسا ہی پایا مگر اُس کو نہ دیکھاO {24:25} اُس نے اُن سے کہا اَے نادانو اور نبِیوں کی سب باتوں کے ماننے میں سُست اِعتقادو! O {24:26} کیا مسِیح کو یہ دُکھ اُٹھا کر اپنے جلال میں داخِل ہونا ضرُور نہ تھا؟O {24:27} پِھر مُوسیٰ سے اور سب نبِیوں سے شرُوع کر کے سب نوِشتوں میں جِتنی باتیں اُس کے حق میں لِکھی ہُوئی ہیں وہ اُن کو سمجھا دِیںO {24:28} اِتنے میں وہ اُس گاؤں کے نزدِیک پُہنچ گئے جہاں جاتے تھے اور اُس کے ڈھنگ سے اَیسا معلُوم ہُؤا کہ وہ آگے بڑھنا چاہتا ہےO {24:29} اُنہوں نے اُسے یہ کہہ کر مجبُور کِیا کہ ہمارے ساتھ رہ کیونکہ شام ہُؤا چاہتی ہے اور دِن اب بُہت ڈھل گیا O پس وہ اندر گیا تاکہ اُن کے ساتھ رہےO {24:30} جب وہ اُن کے ساتھ کھانا کھانے بَیٹھا تو اَیسا ہُؤا کہ اُس نے روٹی لے کر برکت دی اور توڑ کر اُن کو دینے لگاO {24:31} اِس پر اُن کی آنکھیں کُھل گئِیں اور اُنہوں نے اُس کوپہچان لِیا اور وہ اُن کی نظر سے غائِب ہو گیاO {24:32} اُنہوں نے آپس میں کہا کہ جب وہ راہ میں ہم سے باتیں کرتا اور ہم پر نوِشتوں کا بھید کھولتا تھا تو کیا ہمارے دِل جوش سے نہ بھر گئے تھے؟O {24:33} پس وہ اُسی گھڑی اُٹھ کر یروشلِیم کو لَوٹ گئے اور اُن گیارہ اور اُن کے ساتِھیوں کو اِکٹھّا پایاO {24:34} وہ کہہ رہے تھے کہ خُداوند بیشک جی اُٹھا اور شمعُو ن کو دِکھائی دِیا ہےO {24:35} اور اُنہوں نے راہ کا حال بیان کِیا اور یہ بھی کہ اُسے روٹی توڑتے وقت کِس طرح پہچاناO {i24:36} یِسُوع اپنے شاگِردوں پر ظاہر ہوتا ہے (متّی ۲۸: ۱۶‏-۲۰؛ مرقس ۱۶: ۱۴‏-۱۸؛ یُوحنّا ۲۰: ۱۹‏-۲۳؛ اعمال ۱‏:۶‏-۸) {24:36} وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ یِسُو ع آپ اُن کے بِیچ میں آ کھڑا ہُؤا اور اُن سے کہا تُمہاری سلامتی ہوO {24:37} مگر اُنہوں نے گھبرا کر اور خَوف کھا کر یہ سمجھا کہ کِسی رُوح کو دیکھتے ہیںO {24:38} اُس نے اُن سے کہا تُم کیوں گھبراتے ہو؟ اور کِس واسطے تُمہارے دِل میں شک پَیدا ہوتے ہیں؟O {24:39} میرے ہاتھ اور میرے پاؤں دیکھو کہ مَیں ہی ہُوں O مُجھے چُھو کر دیکھو کیونکہ رُوح کے گوشت اور ہڈّی نہیں ہوتی جَیسا مُجھ میں دیکھتے ہوO {24:40} اور یہ کہہ کر اُس نے اُنہیں اپنے ہاتھ اور پاؤں دِکھائےO {24:41} جب مارے خُوشی کے اُن کو یقِین نہ آیا اور تعجُّب کرتے تھے تو اُس نے اُن سے کہا کیا یہاں تُمہارے پاس کُچھ کھانے کو ہے؟O {24:42} اُنہوں نے اُسے بُھنی ہُوئی مچھلی کا قتلہ دِیاO {24:43} اُس نے لے کر اُن کے رُوبرُو کھایاO {24:44} پِھر اُس نے اُن سے کہا یہ میری وہ باتیں ہیں جو مَیں نے تُم سے اُس وقت کہی تِھیں جب تُمہارے ساتھ تھا کہ ضرُور ہے کہ جِتنی باتیں مُوسیٰ کی تَورَیت اور نبِیوں کے صحِیفوں اور زبُور میں میری بابت لِکھی ہیں پُوری ہوںO {24:45} پِھر اُس نے اُن کاذِہن کھولا تاکہ کِتابِ مُقدّس کو سمجھیںO {24:46} اور اُن سے کہا یُوں لِکھا ہے کہ مسِیح دُکھ اُٹھائے گا اور تِیسرے دِن مُردوں میں سے جی اُٹھے گاO {24:47} اور یروشلِیم سے شرُوع کر کے سب قَوموں میں تَوبہ اور گُناہوں کی مُعافی کی مُنادی اُس کے نام سے کی جائے گیO {24:48} تُم اِن باتوں کے گواہ ہوO {24:49} اور دیکھو جِس کا میرے باپ نے وعدہ کِیا ہے مَیں اُس کو تُم پر نازِل کرُوں گا لیکن جب تک عالَم ِبالا سے تُم کو قُوّت کا لِباس نہ مِلے اِس شہر میں ٹھہرے رہوO {i24:50} یِسُوع آسمان پر اُٹھا یا جاتا ہے ( مرقس ۱۶: ۱۹‏-۲۰؛ اعمال ۱‏:۹‏-۱۱) {24:50} پِھر وہ اُنہیں بَیت عَنِیّاہ کے سامنے تک باہر لے گیا اور اپنے ہاتھ اُٹھا کر اُنہیں برکت دیO {24:51} جب وہ اُنہیں برکت دے رہا تھا تو اَیسا ہُؤا کہ اُن سے جُدا ہو گیا اور آسمان پر اُٹھایا گیاO {24:52} اور وہ اُس کوسِجدہ کر کے بڑی خُوشی سے یروشلِیم کو لَوٹ گئےO {24:53} اور ہر وقت ہَیکل میں حاضِر ہو کر خُدا کی حمد کِیا کرتے تھےO